راغب مراد آبادی
1918 - 2011
راغب مراد حسین آبادی کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ راغب تخلص کرتے تھے۔ 27 مارچ 1918ء (13 جمادی الثانی، 1336ھ) میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن مراد آباد تھا۔ بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ آپ نے السنہ شرقیہ کے کئی امتحان پاس کیے۔طبیہ کالج، دہلی سے طب کی سند بھی حاصل کی، مگرسرکاری ملازمت کو ذریعہ معاش بنایا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ ان کی شعری تربیت میں مولانا ظفر خاں کا ہاتھ ہے۔ انھوں نے جملہ اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ رباعی آپ کی سب سے زیادہ پسندیدہ صنف سخن ہے۔ تاریخ گوئی میں ان کو خاص ملکہ حاصل ہے۔ فی البدیہہ اشعار کہنے میں انھیں یدطولیٰ حاصل ہے۔ ان کی تصانیف کے چند نام یہ ہیں: ’ساغر صدرنگ‘، ’عزم وایثار‘، ’ضیائے سخن‘، ’رگ گفتار‘، ’مدحت خیر البشر‘، ’مکالمات جوش وراغب‘، ’ہمارا کشمیر‘، ’محنت کی ریت‘، ’بحضور خاتم الانبیا‘(رباعیات)۔ 18 جنوری، 2011ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ حکومت پاکستان نے ا ن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’’تمغۂ حسن کارکردگی ‘‘ سے نوازا۔