راغب مراد آبادی
اسیر ذات ہوں اپنے بدن کے اندر میں
اسیر ذات ہوں اپنے بدن کے اندر میں
رہائی قید عناصر سے پاؤں کیوں کر میں
گزر گئے کئی طوفاں قریب سے ہو کر
کھڑا ہوا سر ساحل ہوں کب سے ششدر میں
کسے عزیز نہیں اپنے بام و در لیکن
ہوا ہوں سوچ سمجھ کر ہی کچھ تو بے گھر میں
سفر میں رہ گئی شرم برہنگی میری
غبار راہ کی اوڑھے ہوئے ہوں چادر میں
تراشتا میں خود اپنے نئے نئے پیکر
کرم سے آپ کے ہوتا جو دست بت گر میں
مرے وجود کی حد ہی نہیں کوئی لیکن
یہ اور بات بظاہر نہیں سمندر میں
سفر حیات کا طے ہو رہا ہے اے راغبؔ
ہوا سوار عناصر کے جب سے رتھ پر میں