بیگمات کے آنسو
مرزا مغل کی بیٹی نرگس نظر، غدر 1857 میں جب باغی فوجوں نے بہادر شاہ ظفر کے مضبوط و بہادر لڑکے مرزا مغل کو اپنا کمانڈر انچیف بنا لیا اور مرزا مغل عملاً باغیوں کی سرداری کا کام انجام دینے لگے تو ایک دن انچاس انگریز عورت مرد بچے اور بوڑھے دہلی کے لال قلعہ میں باغی فوج کی شرارت سے قتل کئے گئے ۔ جس وقت ان انگریز مردوں، عورتوں اور بچوں کو دیوان خاص کے سامنے قتل کرنے کیلئے کھڑا کیا گیا ہے تو مرزا مغل اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہوئے مقتل کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اُس وقت اُن کی آٹھ برس کی لڑکی نرگس نظر بھی پاس کھڑی تھی۔ اُس نے جب دیکھا کہ انگریزوں کے بچے بھی قتل گاہ میں لاکر کھڑے کئے گئے اور ان بچوں نے بلبلا بلبلا کر رونا شروع کیا اور اُن کی مائیں گھٹنے ٹیک کر خدا سے دعا مانگنے لگیں اور اُنہوں نے اپنے بچوں کو چھاتی سے لگا کر زار و قطار رونا شروع کیا تو اُس وقت وہاں اور کوئی آدمی ایسا نہ تھا جس کی آنکھ سے آنسو جاری نہ ہوں۔ مرزا مغل کے چند مصاحب جو ان کے پاس کھڑے تھے خصوصاً اُن کی لڑکی نرگس نظر کے استاد مولانا عین اللہ صاحب آنکھوں میں آنسو بھر کر بولے: صاحب عالم یہ تو بڑی سفا کی کا کام ہے۔ عورتوں اور بچوں کا قتل کسی مذہب میں روا نہیں ہے اور اسلام نے تو سختی سے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ اللہ ! آپ فوج کو حکم دیجیے کہ وہ ان عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرے۔ مرزا مغل نے جواب دیا کہ بے شک یہ بڑے ظلم وستم کی بات ہے مگر فوج کے جاہل سپاہیوں اور غصہ میں بھرے ہوئے افسروں کو روکنا اور اس برے کام سے باز رکھنا آسان نہیں ہے۔ یہ لوگ بالکل جنگلی اور وحشی ہیں اور انگریزوں سے باغی ہونے کے بعد اتنے خود سر اور بے بہرہ ہو گئے ہیں کہ کسی شخص کا حکم نہیں مانتے جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں۔ مولانا عین اللہ صاحب نے کہا: صاحب عالم کو تو اُنہوں نے اپنا سپہ سالار بنا لیا ہے اور جہاں پناہ ظل سبحانی اعلیٰ حضرت بادشاہ سلامت کو یہ اپنا حکمران تسلیم کر چکے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ آپ کا یا آپ کے والد بادشاہ سلامت کا حکم نہ مانیں۔ آپ کو اس بات کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ان انگریز عورتوں اور بچوں کے رونے اور آہ وزاری کرنے سے آسمان وزمین کا نپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔مرزا مغل نے جواب دیا: مولانا میں اور میرے والد نام کے کھلونے بنا دیئے گئے ہیں ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ نہ میرا کوئی کہنا مانتا ہے نہ بادشاہ سلامت کا۔ جب یہ انگریز عورت مرد گرفتار ہو کر آئے تو میں نے اسی مصلحت کے تحت حضرت بادشاہ سلامت کے پاس بھجوا دیا تھا کہ کسی صورت سے ان عورتوں اور بچوں کی جان بچالوں مگر ان ظالم باغیوں نے قلعہ کے اندر بھی ان بیچارے انگریز مردوں اور عورتوں کو اپنی گرفت کے اندر رکھا اور بادشاہ سلامت کے اثر کو کسی طرح قبول نہ کیا۔ یہاں تک کہ جب میرے کہنے سے دو ایک مرتبہ بادشاہ سلامت نے مختلف کھانے ان بے کسی قیدیوں کو اپنے خاصے سے بھجوانے چاہے تو باغی مزاحم ہوئے اور وقت کے ساتھ ان قیدیوں کو کھانا دینے پر رضا مند ہوئے۔ اُن کا اُس وقت سے یہ خیال ہے کہ بادشاہ سلامت اور اُن کی اولاد انگریزوں سے ملی ہوئی ہے۔ چنانچہ ان کے اکثر منہ پھٹ سپاہیوں نے میرے اور جہاں پناہ کے منہ در منہ یہ کہا کہ ہم نے اپنی جانوں کو اور سارے گھر بار کو تباہی میں ڈال دیا ہے مگر آپ اس کی کچھ قدر نہیں کرتے اور بات بات میں انگریزوں کی رعایت کرتے ہیں۔ اگر آپ لوگ اس سے باز نہ آئے تو پہلے ہم آپ سب لوگوں کا تلوار سے صفایا کر دیں گے۔ مولانا تمہی انصاف کرو! ایسی جنگی اور وحشی فوج سے کیوں کر سفارش کی جاسکتی ہے۔ اگر اس وقت میں ان لوگوں کو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع کروں تو یہ پہلے مجھ کو اور میرے بچوں کو اسی مقام پر لے جا کر قتل کر دیں گے جہاں ان بیچارے انگریز قیدیوں کو ہلاکت کے ارادے سے لے کر گئے ہیں۔ مولانا عین اللہ صاحب نے فرمایا کہ صاحب عالم کی یہ مجبوری حق بجانب ہے مگر اسلام حکم دیتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کیلئے اپنی جان تک کی بھی کچھ پروانہ کرنی چاہیے۔ دنیا چند روزہ ہے۔ چلئے میرے ساتھ چلئے۔ میں خود جا کر ان باغیوں کو نصیحت کروں گا۔ مرزا مغل نے اس کا جواب تو نہ دیا مگر ان کے چہرے کے تذبذب اور سکوت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس خیال پر کچھ آمادہ ہیں۔ مگر قبل اس کے کہ وہ ایک لفظ اپنی زبان سے نکالتے ایک شخص نے جو مرزا کے مصاحبوں کے پیچھے کھڑا ہوا تھا دوڑ کر آیا،مولانا عین اللہ صاحب کی پیٹھ میں ایک چھری ماری اور اُلٹے قدموں یہ کہتا ہوا بھا گا کہ کافروں اور کافروں کے دوستوں کی یہ سزا ہے۔ مرزا مغل کے مصاحب اور خود مرزا، مولانا عین اللہ کو سنبھالنے لگے اور دو ایک آدمی قاتل کے پیچھے دوڑے تا کہ اُس کو گرفتار کریں مگر قاتل کوٹھے سے اُتر کر نیچے دوڑتا ہوا باغی سپاہیوں کے جھرمٹ میں جا کر چھپ گیا۔ چھری مولانا عین اللہ کے بائیں پہلو پر لگی تھی جس نے پسلیوں کو چیر کر گردوں کے دو ٹکڑے کر دیئے اور بیچارے مولانا گرتے ہی رحلت کر گئے اور ایک بات بھی اُن کے منہ سے نہ نکلنے پائی۔ نرگس نظر اگرچہ بچی تھی مگر اپنے استاد کا یہ حال دیکھ کر پہلے تو کچھ خوفزدہ ہوگئی اور اُس کے بعد ہائے مولوی صاحب کہہ کر رونا شروع کیا۔
باغی فوجیں بھاگ گئیں۔ انگریزی فوج نے دہلی فتح کر لی ۔ بہادر شاہ بادشاہ ہمایوں کے مقبرے میں گرفتار ہو گئے ۔ مرزا مغل، مرزا ابو بکر وغیرہ فاتح فوج کے ہاتھوں اسیر ہو کر قتل کر دیئے گئے۔ اُس وقت نرگس نظر اپنی والدہ کے ساتھ جو مرزا مغل کی ایک منظور نظر لونڈی تھی، بیل گاڑی میں سوار ہو کر جنگل میں جا رہی تھی۔ گاڑی میں نرگس نظر ایک اُس کی ماں اور ایک خانم نام کی ماما کل تین عورتیں تھیں اور دو مرد،مردوں میں ایک مرزا گھسیٹا تھے جن کی دور کی قرابت شاہ عالم بادشاہ سے ہوتی تھی اور دوسرے مرزا مغل کی ڈیوڑھی کے داروغہ قدرت خاں تھے ۔ گاڑی قطب صاحب کی درگاہ سے آگے بڑھ کر چھترپور کے قریب پہنچی تھی کہ سامنے سے چند سوار آتے نظر آئے۔ان لوگوں نے سمجھا کہ انگریزی فوج آگئی اس واسطے اُنہوں نے گاڑی کو راستہ سے بالکل ہٹا لیا اور چاہا کہ درختوں کی آڑ میں چھپ جائیں مگر گاڑی دس قدم بھی آگے بڑھنے نہ پائی تھی کہ سوار قریب پہنچ گئے اور اُنہوں نے گاڑی کو گھیر لیا۔ نرگس نظر نے دیکھا کہ ان سواروں میں وہ شخص بھی ہے جس نے مولانا عین اللہ کو شہید کیا تھا۔ اُس وقت اُس نے چپکے سے اپنی ماں کے کان میں کہا یہ انگریزی فوج نہیں ہے بلکہ باغی فوج ہے۔ سواروں نے گاڑی کو روک لیا اور کہا کہ جو کچھ مال تمہارے پاس ہو ہمیں دے دو۔ مرزا گھسیٹا نے ایک باغی سپاہی کو پہچان کر کہا کہ تم کو تو ہماری مدد کرنی چاہیے نہ کہ الٹا ہم کو لوٹو۔ اس پر مولانا عین اللہ کے قاتل نے کہا تم لوگ مدد کے قابل نہیں ہو کیونکہ تمہاری مخبریوں نے انگریزوں کو فتح دلوائی اور ہم کو بھاگنا پڑا۔ داروغہ قدرت خاں نے جواب دیا بالکل جھوٹ ہے۔ تمہی لوگوں نے ہماری اطاعت نہ کی اور اتنی بڑی طاقت کے باوجود
بھاگ کھڑے ہوئے اور ہمارا عیش و آرام اور گھر بار بر باد کر دیا۔ یہ فقرہ سن کر باغی بے تاب ہو گئے اور غضبناک ہو کر انہوں نے گاڑی بان اور مردوں پر تلواریں مارنی شروع کیں۔ چنانچہ مرزا گھسیٹا،داروغہ قدرت خاں اور گاڑی بان اسی جگہ مارے گئے اور بیچاری خانم بھی قدرت خاں کے بچانے میں تلوار کھا کر گر پڑی اور جان سے گئی۔ صرف نرگس نظر اور اُس کی ماں زندہ بچیں۔ باغیوں نے گاڑی کا سب اسباب لوٹ لیا یہاں تک کہ مقتولوں کے کپڑے بھی اُتار لیے۔ نرگس نظر کی والدہ کے پاس جتنا زیور تھا وہ بھی چھین لیا اور نرگس نظر کے کانوں میں اور گلے میں جو زیور تھا وہ بھی زبردستی اُتار لیا۔ اس کے بعد وہ آپس میں مشورے کرنے لگے کہ ان دونوں کو کون لے۔ ایک سوار نے کہا عورت جوان ہے اس سے میں شادی کروں گا اس کو مجھے دے دو اور اس کے عوض میں میرے حصے کا زیور لے لو۔ مولانا عین اللہ کا قاتل بولا اس لڑکی کو میں لوں گا کیونکہ میرے کوئی اولاد نہیں ہے۔ چنانچہ اس مشورے پر عمل کیا گیا اور نرگس نظر کی والدہ کو ایک سوار نے اپنے گھوڑے پر بٹھایا اور نرگس نظر کو مولانا عین اللہ کے قاتل نے اپنے گھوڑے پر سوار کر لیا۔ نرگس نظر اماں اماں کہہ کر رونے لگی تو نرگس نظر کی والدہ نے اُس سوار سے کہا کہ میری لڑکی کو بھی تو لے لے تا کہ ہم دونوں ایک جگہ رہیں۔ اس سوار نے کہا کہ میں بھرت پور کا رہنے والا ہوں اور وہاں تجھ کو لے کر جاؤں گا اور یہ سوار جس کے حصے میں تیری لڑکی آئی ہے سوہنہ ضلع گوڑگانوں کا رہنے والا ہے ۔ ہم آپس کی تقسیم کو بدلنا نہیں چاہتے۔ نرگس نظر کی والدہ نے کہا اللہ مجھ پر رحم کرے اور میری اکلوتی بچی کو مجھ سے نہ چھڑاؤ مگر ان ظالموں کو ذرا بھی رحم نہ آیا اور بھرت پوری سوار نرگس نظر کی والدہ کو لے کر بھرت پور چلا گیا اور مولانا عین اللہ کا قاتل نرگس کو لئے سو ہنہ پہنچ گیا۔
نرگس نظر کا بیان ہے کہ جب میری والدہ مجھ سے جدا ہو کر چلیں تو وہ اپنے بال نوچتی تھیں اور دھاڑیں مار مار کر روتی تھیں اور میں بھی اماں اماں کہ کر چیختی تھیں مگر ان کو ہم میں سے کسی کی فریاد پر رحم نہیں آتا تھا۔ مجھ کو جب تک اماں کا گھوڑا نظر آتا رہا اُن کو چیخ چیخ کر پکارتی رہی لیکن جب گھوڑا آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تو میں چپ ہوگئی ۔ سوہنہ میں پہنچ کر وہ شخص مجھ کو اپنے مکان میں لے گیا۔ وہ ذات کا گھوسی (گھاس کاٹنے والا) تھا۔ اُس کے گھر میں تین چار بھینسیں بندھی ہوئی تھیں۔ اُس کی بیوی نے جب مجھ کو دیکھا اور خاوند سے یہ سنا کہ وہ مجھ کو بیٹی بنانے کیلئے لایا ہے تو وہ بہت خوش ہوئی اور اُس نے مجھ کو بہت پیار و محبت سے اپنے پاس بٹھایا۔ آٹھ دن تک اُس گھوسن نے میری ایسی خاطر کی کہ میں اپنی ماں کی جدائی کے غم کو بھول گئی ۔ آٹھ دن کے بعد یکا یک انگریزی فوج آئی اور اُس نے میرے موجودہ باپ کو پکڑ لیا اور گھر کا تمام مال و اسباب ضبط کر کے لے گئی۔ مجھ کو میری گھوسن ماں نے بہت تسلی دی اور پڑوس کے ایک شخص کے ہاں چلی گئی۔ تین روز کے بعد ہم نے سنا کہ وہ گھوسی بغاوت کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور اُس کا تمام مال و اسباب نیلام ہو گیا۔ بیچاری گھوسن بھاگتے وقت کچھ نقدی اپنے ساتھ لے گئی تھی جس سے وہ دو سال تک اپنا گزارہ کرتی رہی اور میری دلداری میں اُس نے کسی قسم کی کمی نہ کی۔
ایک روز رات کو ہمارے گھر میں چور آئے اور اُنہوں نے میری گھوسن ماں کے گلے سے ہنسلی اُتارنی چاہی۔ گھوسن ماں کی کی آنکھ کھل گئی گئی اور اور اُس نے غل مچا دیا۔ اس پر چوروں نے گھوسن ماں کا گلہ گھونٹ ڈالا اور وہ بیچاری اس صدمہ سے مرگئی۔
گھوسن ماں کے مرنے کے بعد ایک دو دن تک مکان والوں نے مجھ سے کچھ نہ کہا بلکہ تسلی تشفی سے پیش آتے رہے۔ مگر تین دن کے بعد اس مکان والے کی بیوی نے کہا: اری تو دن بھر بیٹھی رہتی ہے کچھ کام کیوں نہیں کرتی ہمارے ہاں مفت کی روٹی نہیں ہے۔ خدمت کرے گی تو کھانے کو ملے گا۔ میں نے کہا: مجھے کام بتاؤ تم جو کہوگی میں وہی کروں گی۔ اُس عورت نے کہا: گھر میں جھاڑو دیا کر بھینسوں کا گوبر اُٹھایا کر اور اُن کے اُپلے تھاپا کر۔ میں نے جواب دیا: اپلے تھاپنے مجھ کو نہیں آتے جھاڑو میں نے کبھی نہیں دی یہ کام میں نے کبھی نہیں کئے۔ میں ہندوستان کے بادشاہ کی پوتی ہوں مگر خدا نے یہ وقت مجھ پر ڈالا ہے تو جو کام تم کہو گی وہی کروں گی۔دو چار دفعہ مجھ کو یہ کام کر کے بتاؤ نا تا کہ میں سکھ جاؤں ۔ وہ عورت بڑی نرم مزاج تھی۔ اُس نے جھاڑو دینی اور اُپلے تھاپنے سیکھا دیئے اور میں یہ کام کرنے لگی۔ ایک دن مجھ کو شدت کا بخار تھا اور اُس کی تکلیف کے سبب مجھ سے اُپلے نہ تھاپے گئے۔ اُس عورت کا خاوند گھر میں آیا اور مجھ کو پڑا ہوا دیکھا تو اُس نے میرے ایک ٹھوکر ماری اور کہا: دس بج گئے تو اب تک پڑی ہوتی ہے یہ لال قلعہ نہیں ہے گھوسی کا گھر ہے۔ اُٹھ کر بیٹھ اور گوبر تھاپ۔ گھوسی کے ٹھوکر مارنے سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں اُٹھ بیٹھی اور کہا: مجھ سے خطا ہو گئی میں ابھی گوبر تھاپتی ہوں۔چنانچہ میں نے اس بخار کی حالت میں جھاڑو بھی دی اور اُپلے بھی تھاپے۔ اُس وقت تو مجھے اتنی سمجھ نہ تھی۔ مگر آج جب مجھے اس مصیبت کا دھیان آتا ہے تو دل بےچین ہو جاتا ہے اور میں سوچتی ہوں کہ ان کم بخت ظالم باغیوں کی بدولت ہم لوگوں کو کیسی کیسی ببتا سہنی پڑی۔ ہم اُس محل کے رہنے والے تھے جس کے اندر کا تصور شاعروں سے عجیب و غریب نظمیں لکھواتا تھا اور جہاں یہ شعر لکھا ہوا تھا:
اگر زمیں پر کہیں بہشت ہے
تو وہ یہی ہے یہی ہے
مگر مصیبت نے یہ دن دکھا دیا کہ ہم محلوں سے نکل کر در بدر ٹھوکریں کھاتے پھرتے تھے اور رلتے تھے اور اپلے تھاپتے تھے ۔ دو سال اس مصیبت میں گزرے۔ آخر میں گھوسی نے اپنے بھائی کے ساتھ میری شادی کر دی جہاں میری ساری عمر بسر ہوئی ۔ میں نے گھوسیوں کی زندگی میں جان بوجھ کر بھی قلعہ اور اس کی بادشاہی کا خیال نہیں کیا، مگر میں مجبور تھی کہ دل ہر روز بچپن کا وقت یاد دلاتا تھا اور سوتے میں بھی دیکھا کرتی تھی کہ میرے والد میرزا مغل مسند پر بیٹے ہیں۔ میں اُن کے زانو پر سر رکھ کر لیٹی ہوں،لونڈیاں چنور ہلا رہی ہیں اور دنیا مجھ کو بہشت کا ٹکڑا معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب آنکھ کھلتی تھی تو ٹوٹے ہوئے چھپر،ایک چکی،ایک چرخا چکی اور تین چارپائیوں کے سوا گھر میں کچھ بھی نظر نہ آتا تھا۔
اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا تم مرزا مغل کی بیٹی نرگس نظر ہو؟ تو میں صاف کہہ دوں گی کہ نہیں، میں تو ایک غریب گھوسن ہوں کیونکہ آدمی کی ذات وہی کہ جس ذات کے کام کرتا ہو۔
مصنف: خواجہ حسن نظامی
1878-1955