مولانا عبد الرحمن جامی نے اپنی مثنوی "سلامان و ابسال" میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک کرد کوه و صحرا سے کسی بڑے شہر میں آیا۔ یہاں آیا تو دیکھا کہ انسانوں کا سمندر ہے جو سڑکوں پر چاروں
طرف بہہ رہا ہے۔ کرد نے یہ سماں دیکھا تو گھبرا گیا اور سوچنے لگا کہ اگر میں اس بھیڑ میں ملا جلا تو
یقینا گم ہو جاؤں گا اس لیے ضروری ہے کہ اپنی شناخت باقی رکھنے کے لیے کوئی ایسا نشان مقرر
کروں کہ اگر گم بھی ہو جاؤں تو اس نشان کے ذریعے خود کو پہچان سکوں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک کدو سے راستے میں پڑا ہوا نظر آیا ۔ اس نے کدو اٹھایا اور اپنے پیر سے باندھ لیا تا کہ اپنی پہچان کر سکے۔ ایک مرد دانا اُدھر سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ ایک کرد پاؤں سے کدو باندھے چلا جا رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بات کی تہ تک پہنچ گیا اور اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ کچھ دور جاکر کرد رک گیا اور ایک جگہ سونے کے لیے لیٹ گیا۔ جب کرد سو گیا تو مرد دانا قریب آیا اور کرد کے پاؤں سے کدو کھول کر اپنے پاؤں میں باندھ لیا اور وہیں لیٹ گیا۔ کرد جب بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ کدو کسی اور کے پاؤں میں بندھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گیا اور آواز دی کہ اے شخص میں اپنے معاملے میں حیران و پریشان ہوں ۔ اُٹھ اور مجھے بتا کہ یہ میں ہوں یا یہ تو ہے۔ اگر یہ میں ہوں تو یہ کدو تیرے پاؤں میں کیسے بندھا ہوا ہے اور اگر یہ تو ہے تو پھر میں کہاں ہوں؟
این منم یا تو نمی دانم درست
گرمنم چوں ایں کہ و ہر پائے تست
در توئی ایں سن کجایم کیستم
در شماری من نیایم چیستم
یہی مسئلہ جو اُس وقت کردِ سادہ کے سامنے تھا یہی مسئلہ آج تہذیبی، فکری اور ادبی سطح پہ ہمیں در پیش ہے۔ ہم نے بھی آج اپنی شناخت گم کر دی ہے اور فکر و خیال کی بھیڑ میں یہ پوچھ رہے ہیں کہ اگر یہ تو ہے تو پھر میں کہاں ہوں ؟ اور اسی وجہ سے ہم آج ذہنی و فکری سطح پر بے سمت اور بے جہت ہیں۔ لفظ بغیر معنی کے مہمل ہے اور مہمل وہ ہے جس کے کوئی معنی نہ ہوں۔ اپنے ادب کو دیکھیے تو اس وقت یہ مہمل بے مقصدیت کا شکار ہے۔ اس کی روح میں کوئی ایسی معنویت نہیں ہے جس سے فرد اور معاشرے کے بنیادی سوالوں کا جواب مل رہا ہو۔ وہ جواب جس سے فرد و معاشرے میں شعور پیدا ہوتا ہے ۔ وہ شعور جس سے فکری زندگی کا بیج پھوٹتا ہے اور فکر میں جہت پیدا ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ادب عام طور پر فرد اور معاشرے سے مخاطب نہیں ہے۔ فکشن ابلاغ کے راستے سے کٹ کر علامت اور تجریدیت کی طرف چلا گیا ہے جہاں وہ اپنی بے معنویت کو " بظاہر معنویت" کے پردے میں چھپا رہا ہے۔ شاعری کو دیکھئے تو فکر و خیال کی سطح پر وہ ایک گہرے بحران اور الجھاووں کا شکار ہے۔ اس میں چٹکلے بازی تو نظر آتی ہے لیکن معنی نظر نہیں آتے۔ وہ معنی جس سے شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ شعور جس سے زندگی آگے کی طرف بڑھتی ہے ۔ اس وقت ایک ایسا سناٹا ہے کہ جس میں حرکت کا عمل بند سا ہو گیا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں انسانی و معاشرتی اقدار، صداقتوں کی تلاش اور زندگی کی معنویت دریافت کرنے کی کوشش بھی نظر نہیں آتی ۔ ہمارا ادب اجتماعی رشتوں سے کٹ گیا ہے اور ادیب تخلیق کے کرب میں مبتلا رہنے کے بجائے آسائش کے لطف کی تلاش میں دن رات سرگردان ہے۔ یہی مقصد اولی ہے اور ادب اسی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ممکن ہے یہ باتیں سن کر آپ میں سے کچھ لوگ ناراض ہو جائیں لیکن جب ادب و فکر میں منفی رجحانات داخل ہو جائیں تو ان کی نشان دہی کرنا اور انھیں رد کرنا ضروری ہو جاتاہے۔ میرا یہ عمل بھی اسی خلوص نیت پر مبنی ہے۔ اس منفی رجحان کی ذمہ دار آج کی نسل نہیں ہے۔ اس کام کا آغاز ۱۹۵۸ء میں ہوا تھا۔ ۱۹۵۸ء والی نسل نے ادب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا عمل شروع کیا اور آج کی نسل اسی فصل کو، جو پک کر تیار ہو گئی ہے، کاٹ رہی ہے۔ اس وقت میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس صورت حال کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں تاکہ آج کی نسل، جسے زندگی کا بہت لمبا سفر ابھی طے کرنا ہے، ان رجحانات اور رویوں کو رد کر کے اس راستے کو اپنائے جس پر چل کر ہم ادب کے ذریعے بنیادی سوالوں کو اٹھا کر ان کے جواب کی تلاش کے سفر پر روانہ ہو سکیں تا کہ ادب پھر اس شعور کے پیدا کرنے کا سبب بن سکے جو ادب کا ہمیشہ سے منصب رہا ہے اور جس سے فرد اور معاشرے کی نہ صرف تقدیر بدل جاتی ہے بلکہ زندگی کو آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ جس سے تاریخی شعور پیدا ہوتا ہے۔
وہ شعور جس سے ذہن بدلتا ہے اور انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے دور کے ادب کا مربوط مطالعہ کیجئے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ وہ ادب نہیں ہے جس میں اپنے زمانے کی روح کار فرما ہوتی ہے اور جس سے ہم زمانے کو پہچانتے ہیں۔ یہ ویسا ادب بھی نہیں ہے جیسا وہ ہو سکتا تھا یا ہونا چاہیے تھا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ادب، زندگی کے دھارے پر بہتے ہوئے، سچائیوں کے اظہار سے پیدا ہوتا ہے۔ گویا ادب زندگی کا اور اس زندگی کی سچائیوں کا اظہار کرتا ہے جن کا ادیب و شاعر کی حیثیت سے، آپ نے تجربہ اور مشاہدہ کیا ہے۔ مصلحتیں اور منافقتیں تو تخلیق ادب کی دشمن ہیں ۔ ۱۹۵۸ء کے بعد سے عام طور پر ہمارا ادیب تعلقات عامہ کے راستے پر چل پڑا ہے اور اپنا معاشرتی درجہ بڑھانے کے لیے ادب کو استعمال کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب اور فکر و خیال اب منزل نہیں بلکہ محض شہرت حاصل کرنے اور زندگی کی زیادہ سے زیادہ آسائشیں اور معاشرتی رتبے بٹورنے کا وسیلہ بن گئے ہیں اور یہ رجحان یقیناً ایسا ہے جو ادب اور فکر و خیال کا سفاک دشمن ہے ۔ اس صورت حال میں ویسا ہی ادب پیدا ہو گا جیسا ہو رہا ہے۔ یہ وہ صورت حال ہے جو اَتائی (سوڈو) دانشوروں کو بہت راس آتی ہے ۔
ایزرا پاونڈ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "سچا اور سنجیدہ فن کار قدر شناسی سے اتنا ہی بے نیاز ہوتا ہے جتنا کوئی سنجیدہ سائنس دان ہوتا ہے۔ اَتائی فن کار سنجیدہ فن کار سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں اور اَتائی فن کار تعلقات عامہ کے ذریعہ وہ انعامات بھی حاصل کر لیتا ہے جو دراصل سنجیدہ فن کار کو ملنے چاہئیں ۔ یہ فطری بات ہے کہ اَتائی فن کار کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ حقیقی فن کار اور اَتائی فن کار میں تمیز نہ ہونے دے " یہ صورت ہر دور میں نظر آتی ہے لیکن سب ادیبوں کا جب یہی مقصد حیات بن جائے تو اس سے ادب کی وہ حالت ہو جاتی ہے جو اس وقت ہمارے ادب کی ہے۔ اس وقت ادیبوں کو اور نہ معاشرے کو اتنی فرصت ہے کہ وہ زندگی میں فکر و خیال کی اہمیت کو فی الحقیقت محسوس کر سکے یا کرا سکے ۔ زر پرستی کی ایک دوڑ ہے جس میں سب شریک ہیں اور فکر و خیال کے ساتھ ادب کا بیج بھی مر رہا ہے۔ معاشرہ اسی لیے سستی تفریحات سے دل بہلانے میں مصروف ہے اور ادیب بہترین آسائشوں کے حصول میں لگا ہوا ہے اور میں مولانا جامی کی طرح پوچھ رہا ہوں کہ یہ میں ہوں یا یہ تو ہے ۔ اگر یہ تو ہے تو پھر میں کہاں ہوں۔
تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی