Skip to content
William Wordsworth

شیطان صاحب

William Wordsworth
شیطان صاحب

زیدان صاحب نے لائبریری میں مشاعرہ جمارکھا تھا۔ اس لئے مجبوراً مجھے ڈرائنگ روم کا رخ کرنا پڑا۔ میں آج کسی سے ملنا نہ چاہتا تھا۔ نوکروں کو تاکید کر دی تھی کہ وہ ہر آنے والے کو بحسن و خوبی ٹال دیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ میں "دانتے کا جنم" پڑھ رہا تھا۔ مجھے افسوس تھا کہ دنیا کے جھمیلوں میں پڑ کر ایک ایسی فنکارانہ تخلیق سے اب تک محروم رہا۔ لہذا میں نے انتقاماً یہ طے کر لیا تھا کہ جب تک کتاب ختم نہ ہو جائے گی دنیا والوں کی صورت نہ دیکھوں گا۔ شعرائے کرام کی آوازیں ڈرائنگ روم تک پہنچ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر تک تو جھنجھلاتا رہا، مگر کتاب کھولتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا جیسے سب کے سب ”دانتے کے جنم" میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیئے گئے ہوں۔ نہ جانے کب تک پڑھتا رہا. اچانک ایک عدد زور دار" آداب عرض ہے" سے چونک پڑا ڈرائنگ روم میں ایک اجنبی کا اتنا پر اسرار داخلہ میرے لئے اگر موت نہیں تو کم از کم غش کھا جانے کا پیغام ضرور تھا۔ میں جھنجھلا کر کھڑا ہو گیا، قبل اس کے کہ میرا ہاتھ آنے والے کی گردن میں ہو میری نظریں اس کے سر پر ترچھی رکھی ہوئی فیلٹ ہیٹ پر پڑیں مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا ڈرائنگ روم میں ایک ایسا اجنبی جس نے ہیٹ نہ اتاری ہو بہت ہی بھیانک چیز تھی. 
جب میں آکسفورڈ میں تھا تو میں نے ایسی بد ارواح کے بہت سے قصے سنے تھے۔ جنہیں اس وقت یاد کر کے میرا دل ڈوبنے لگا تھا۔ معاف کیجئے گا، میں نے آپ کو پہچانا نہیں " میں نے کانپتے ہوئے بدقت کہا، دوسرے ہی لمحے میں اجنبی کا ملاقاتی کارڈ میرے ہاتھ میں تھا۔ جس پر سنہری حرفوں میں لکھا ہوا تھا۔ "شیطان". 
لا حول ولا، 
ٹھہریے ٹھہریے"وہ گھبرا کر بولا "، یہ کیا بد مذاقی؟ میں اس وقت ایک مغربی طرز کے ملاقاتی کمرے میں ہوں، کسی خانقاہ یا مدرسے میں نہیں، میں تو آپ کو ترقی پسند سمجھا تھا۔ "
میں شرمندہ ہوں. وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اجازت طلب کئے بغیر صوفے پر نیم دراز ہو گیا. 
کون سی کتاب پڑھ بات تھے؟ " اس نے کتاب اٹھاتے ہوئے کہا۔ ” اوہ دانتے کا جنم" اس نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ مجھے پھر شرمندہ ہو جانا پڑا. 
”اس سے زیادہ لُچّر کتاب " آج تک لکھی ہی نہیں گئی " وہ اپنی ہیٹ فرش پر رکھتے ہوئے بولا۔
میں نے چاہا کہ الجھ پڑوں مگر اس کی آنکھ سے نکلتی ہوئی ایک عجیب قسم کی برقی رونے میرا گلا گھونٹ دیا۔ میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے محسوس کیا کہ میرا حلق بھی خشک ہو چکا ہے ہونٹ کانپے مگر آواز نہ نکل سکی۔
جھک مارا ہے دانتے نے، وہ دوبارہ بولا۔ محض اپنی محبوبہ کو جنت میں دکھانے کے لئے اتنا بکھیڑا کیا ہے ".
بات تو بڑے پتے کی کی تھی ظالم نے، دل ہی دل میں قائل ہو جانا پڑا۔" مگر یقین نہیں آتا کہ آپ؟" میں نے ہکلا کر ملاقاتی کارڈ کی طرف اشارہ کیا۔
یقین تو آپ کی ماما حوا اور بابا آدم کو بھی نہیں آتا تھا، " اس نے مسکرا کر کہا. 
جی ہاں، میں سمجھتا ہوں. غالباً آپ کو میرے جسم پر ریشمی سوٹ گراں گزار رہا ہے. 
” جی نہیں"
فرینچ کٹ ڈاڑھی شبہ میں ڈال رہی ہے ؟" اس نے استفہامیہ انداز میں کہا.
"یہ بھی نہیں" 
"پھر؟"
" آپ کے پیر"
کیا مطلب؟ 
بچپن میں سنا کرتا تھا کہ آپ کے پنجے پیچھے ہوتے ہیں اور ایڑیاں آگے، "بکواس ہے" اس نے آہستہ سے کہا۔ ” آپ حضرات کی نانیوں اور دادیوں نے مجھے خوب دل کھول کر بد نام کیا ہے۔
ارے! آپ کو کیونکر معلوم ہوا، میں نے حیرت سے کہا. 
دراصل یہ بات مجھے نانی جان ہی سے معلوم ہوئی تھی۔ 
آپ پھر بھول رہے ہیں کہ میں شیطان ہوں، شیطان صاحب نے زور دار قہقہہ لگایا۔
سگریٹ، میں نے سگریٹ کیس بڑھایا۔
نو تھینکس، میں مصری سگریٹ پیتا ہوں یہ کہہ کر شیطان صاحب نے اپنے سگریٹ کیس سے سگریٹ نکالا اور ہونٹوں میں دبا کر سلگاتے ہوئے بولے،
اس سگریٹ سے بہتر دنیا میں کوئی اور سگریٹ ہی نہیں۔
ممکن ہے، میں نے سگریٹ سلگاتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا۔
ایک بات عرض کروں، میں نے کہا۔
فرمائیے ۔ فرمائیے. 
مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں نے خواہ مخواہ آپ کو بدنام کر رکھا ہے. میں نے کہا، آپ تو بہت اچھے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ خیر آدمی تو نہ بنائے مجھے۔ وہ بیزاری سے بولے۔ "اگر اچھا نہیں تو اتنا برا بھی نہیں ہوں۔ میں نے ابھی تک بہت ہی ٹھوس قسم کی اصلاحی خدمات انجام دی ہیں۔ یہ بڑی بڑی شاندار مِلیں، لمبی چوڑی کشادہ سڑکیں، یہ جگمگاتی ہوئی راتیں، یہ تہذیب، یہ تمدن، یہ سب میری کاوشوں کا ہی نتیجہ ہیں۔
میں نے قائل ہو جانے والے انداز میں سر ہلایا۔
بھائی آپ افسانے بہت اچھے لکھ لیتے ہیں، شیطان صاحب نے یک لخت گفتگو کا رنگ بدل دیا۔
ذرہ نوازی آپ کی، میں نے شرما کر کہا۔
بکواس ہے، شیطان صاحب جھنجھلائے۔
جی؟
”اگر خاکساری کا یہی حال رہا تو کوئی ٹکے کو بھی نہ پوچھے گا۔ اگر کامیاب قسم کے شاعر یا ادیب بننا چاہتے ہیں تو انانیت پیدا کیجئے، کسی کو خاطر میں نہ لائیے، سوچیے کم اور لکھئے زیادہ  بات کم کیجئے گالیاں زیادہ بکیے، اگر دوسرے رسائل آپ کے مضامین نہ چھاپیں تو خود ایک عدد رسالہ نکال ڈالئے، ٹھوس قسم کا بلند پایہ
ادبی رسالہ، تجارت نہ کیجئے ادب کی خدمت کیجئے. کیا سمجھے؟ اور چائے منگواؤں آپ کے لئے، میں نے مرعوب ہو کر کہا۔ ” جی نہیں شکریہ " ہاں تو میں یہ کہنے والا تھا کہ آپ بڑے بد مذاق معلوم ہوتے ہیں، آپ کے گھر میں مشاعرہ ہو رہا ہے اور آپ دانتے سے سر مار رہے ہیں. آپ کے بھائی زیدان بڑے عمدہ آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ کیا کیا شاعر جمع کئے ہیں۔ میں ابھی لائبریری ہی سے آرہا ہوں۔ ایک نہایت خوب رو لڑکا لہک لہک کر پڑھ رہا تھا۔
ہے تری چشم کرم بزم امارت کی مکین 
تو غریب کا خدا ہرگز نہیں ہرگز نہیں 
کیا شعر کہا ہے ظالم نے۔ نہ ہوا بہادر شاہ کا زمانہ ورنہ اسے جگت استاد بنوا دیتا خیر، ہاں تو مجھے آپ کا نام بالکل پسند نہیں آخر یہ طغرل فرغان کیا بَلا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں۔ اگر آپ نے میری ہدایت پر عمل کیا تو خود بخود آپ طغرل شیطان ہو جائیں گے. دیکھئے یہ اعزاز پہلے پہل صرف آپ کو عطا کر رہا ہوں ورنہ میں نے خود اپنی زبان سے آج تک کسی کو شیطان نہیں کہا۔ وجہ یہ ہے کہ میں اپنے حریف کا وجود نہیں برداشت کر سکتا۔ مجھے فخر ہے کہ اس وسیع کائنات میں صرف میں ہی ایک شیطان ہوں. آج تک کسی نے میرا نام اپنانے کی ہمت نہیں کی۔ اتنا کہہ کر شیطان صاحب نے سامنے والی تصویر پر نگاہیں جما دیں۔ میری آنکھوں میں عقیدت کے آنسو ناچ رہے تھے۔ میں نے ہچکی روکتے ہوئے گلو گیر آواز میں کہا، پیرو مرشد ایک بات، آرڈر...آرڈر "شیطان صاحب زور سے چینے" اور میں سہم کر ان کی صورت تکنے لگا۔
اب ہم پیر و مرشد نہیں ہیں، شیطان صاحب چٹکیوں سے پتلون کی کریز درست کرتے ہوئے بولے۔ ”یور آرنرر کہیے ہور آرنر". 
میں پھر شرمندہ ہو گیا۔
وو بات دراصل یہ ہے کہ میں ہکلایا، میں میں یہ پوچھنا چاہتا تھا۔ کک...کک کبھی آپ نے کسی سے مم مم محبت بھی کی ہے۔
شیطان صاحب نے مجھے بری طرح گھور کر دیکھا۔ اناڑی ہی سمجھتے ہیں کیا آپ مجھے، شیطان صاحب تیزی سے بولے، دن رات مجھے اس وسیع کائنات کی چولیں ہلانی پڑتی ہیں۔ آپ نے مجھے افیونی سمجھ رکھا ہے کیا؟ اگر میں محبت وحبت کے جھگڑے میں پڑ جاؤں تو یہ دنیا ایک دن بھی نہ چل سکے. ہاں میں محبت کرنا سکھاتا ضرور ہوں، کیا سمجھے. بھئی مجھے تھوڑا بہت ہر ایک کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اگر میں محبت کرنا نہ سکھاؤں تو یہ بیچارے شمس العلماء کیا کھائیں۔
شیطان صاحب نے رک کر دوسرا سگریٹ سلگایا اور ایک مجھے بھی پیش کیا۔ سگریٹ نہایت نفیس تھا۔ میرا دل چاہا کہ بے اختیار شیطان صاحب کے قدموں پر گر کر جان بحق تسلیم ہو جاؤں، ہر کش پر عقیدتوں کا جوش بتدریج بڑھ رہا تھا۔ آپ تو خوب سیر سپاٹے کرتے ہونگے۔  میں نے سگریٹ کا طویل کش لے کر کہا۔
شیطان صاحب اچانک کچھ مضحل ہو گئے۔ ٹھنڈی سانس لے کر آہستہ آہستہ بولے، آپ کا خیال غلط ہے۔ میں ۱۸۵۷ء سے ہندوستان ہی میں مقیم ہوں .... ہندوستان سے میری مراد نیم بر اعظم ہے۔ ۱۸۵۷ء کے غدر میں پہلی بار میرے دل میں بٹوارے کا خیال پیدا ہوا تھا۔ شکر ہے کہ آج میں دونوں ممالک کو خوش حال دیکھ رہا ہوں. ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ ۱۸۵۷ء سے لے کر اب تک ہندوستان میں مقیم ہوں۔ اس درمیان میں مجھے صرف دوبار مغربی ممالک کی طرف جانا پڑا۔ ایک بار ۱۹۱۴ء میں گیا تھا اور دوسری بار ۱۹۳۹ء میں. ۱۹۱۴ء کے بعد جب ہندوستان واپس آیا تو مجھے اپنی غیر حاضری پر سخت تأسّف ہوا کہ اتنے عرصہ کی محنتوں پر پانی پڑ گیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ہندو مسلم شانے سے شانہ ملائے جلیاں والا باغ کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ قریب تھا کہ غش کھا جاؤں۔ جلیاں والا باغ میں بڑی بڑی مشین گنیں دیکھ کر قدرے اطمینان ہوا مگر صاحب توبہ کیجئے، بھلا وہ سیلاب رکھنے والا تھا۔ بہر حال میں اس قدر دل شکستہ ہوا کہ امرتسر میں چپٹے کی دوکان کر لی اور اس میں شبہ نہیں کہ مرچوں کی تیزی کی وجہ سے دوکان چل نکلی۔ مگر بھلا ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں میری طبیعت کہاں لگتی ہے۔ کئی بار دل چاہا کہ دوکان وغیرہ لٹا کر سنیاس لے لوں۔ مگر پھر خیال آیا کہ مرچیں آہستہ آہستہ اپنا کام کر رہی ہیں۔ جلد بازی اچھی نہیں، جی ہاں آپ حضرات نے مجھے جلد باز مشہور کر رکھا ہے، کیا مثل کہتے ہیں آپ لوگ؟ جی جلد کام شیطان کا دیر کام رحمان کا " مانتے ہیں آپ کہ نہیں مگر میں جلد باز نہیں ہوں کتنے عرصہ کے بعد یہاں کے لوگوں کو راہ راست پر لایا ہوں، سچ پوچھئے تو اس کام میں دیر لگنے کی ایک وجہ اور بھی ہوئی، ایک لنگوٹی باز بوڑھا بری طرح میرے کاموں میں ٹانگ اڑا دیا کرتا تھا کہ میرے ایک شاگرد نے اس کا کام ہی تمام کر دیا۔ ورنہ معلوم نہیں ابھی اور کتنے دن مجھے زچ کرتا. بہر حال جب میں نے دیکھ لیا کہ پھوڑا پک کر تیار ہو گیا ہے تو میں نے نشتر اٹھایا یعنی دکان چھوڑ چھاڑ ۱۹۴۷ء میں ایک اخبار نکال دیا، وہ وہ ایڈیٹوریل لکھے کہ بس مزہ ہی تو آگیا۔ صرف اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ کئی عدد نئی جماعتیں بھی قائم کر دیں۔ لیڈر بنانے کا ایک کارخانہ بھی کھولا، خیر کہاں تک اپنے منہ میاں مٹھو بنوں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔ ہاں تو اس بکواس کا مطلب یہ ہے کہ میں بہت ہی عدیم الفرصت واقع ہوا ہوں ۔ جب سے دنیا آباد ہوئی آج تک سیر سپاٹے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس میں شبہ نہیں کہ گھومتا پھرتا رہتا ہوں۔ مگر جب تک یکسوئی دماغ نہ حاصل ہو تفریح تفریح نہیں کہلاتی کیا سمجھے؟
اتنا سمجھ گیا ہوں کہ اب شاید ساری زندگی اور کچھ نہ سمجھ سکوں۔ بہت اچھے، شیطان صاحب لہک کر بولے  واقعی آپ سمجھ دار معلوم ہوتے ہیں۔
آپ پھر شرمندہ کر رہے ہیں مجھے۔ میں نے لجاتے ہوئے کہا۔ پھر وہی حماقت، شیطان صاحب گرجے. جب کوئی آپ کی تعریف کرے خاکساری کے بجائے، مونچھوں پر تاؤ دیا کیجئے۔ میرا ہاتھ بے اختیار مونچھوں کی طرف جا کر نا کام واپس آیا اور میں کچھ جھینپ سا گیا۔ شیطان صاحب مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے بولے، کوئی بات نہیں کوئی بات نہیں، مونچھوں پر تاؤ دینے سے میری مراد یہ ہے کہ جب کوئی آپ کی تعریف کرے تو فخر سے سینہ تان لیا کیجئے۔ تعریف کرنے والے کی طرف منہ سکوڑ کر اس انداز سے دیکھئے جیسے وہ چھوٹے منہ سے بڑی
بات کہہ رہا ہو۔ کیا سمجھے؟ میں صرف مسکرا دیا۔ اس پر شیطان صاحب نے مجھے اس انداز سے دیکھا جیسے 
ابھی کچھ اور ٹھونک بجا کر پرکھنا باقی رہ گیا ہو۔ 
یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آج کل آپ کا کیا مشغلہ ہے؟ میں نے دیا سلائی سے دانت کھتیرتے ہوئے پوچھا۔ فی الحال ایک عدد ادبی رسالہ نکال رہا ہوں...غالباً ابھی تک آپ نے پرچہ نہیں دیکھا۔ "شیطان صاحب نے اپنا چرمی بیگ ٹٹولتے ہوئے کہا" بھئی میں نے سوچا کہ روز کے دھندے تو ہوتے ہی رہیں گے، لگے ہاتھوں کچھ ادبی خدمات بھی سرانجام دے لوں...دیکھئے یہ رہا ماہنامہ 
"ہڑبونگ" ٹائیٹل کتنا دیدہ زیب ہے، اس گرانی کے زمانے میں ایسا شاندار پرچہ شاید آپ کو کہیں نظر نہ آئے ہڑبونگ کا آئنده شماره "چل پکار نمبر" ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا ہے نا معیاری رساله؟"
بہت اونچا، میں نے ورق گردانی کرتے ہوئے کہا۔
بات یہ ہے کہ میں کچھ زیادہ وقت نہ دے سکا ورنہ اور زیادہ شاندار ہوتا۔ شیطان صاحب چرمی ہینڈ بیگ کے تسمے چڑھاتے ہوئے بولے۔ 
ایک بات ذرا قابل اعتراض ہے. میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا، اشتہارات ضرورت سے زیادہ نظر آ رہے ہیں. 
یہی تو خاص بات ہے، شیطان صاحب چہکے۔ غریبوں کے اشتہارات مفت چھاپے جاتے ہیں۔
صرف یہی نہیں ایک خامی اور بھی ہے۔ وہ کیا؟ "شیطان صاحب چیں بہ چیں ہو کر بولے۔ کوئی مشہور لکھنے والا نظر نہیں آتا۔
کون سے سرخاب کے پر لگے ہوتے ہیں۔ مشہور لکھنے والوں میں، شیطان صاحب نے بیزاری سے کہا. میں تو گدڑی میں لعل تلاش کیا کرتا ہوں۔ اگر میں نے نئے لکھنے والوں کو نہ ابھارا تو ممکن ہے میرا مشن ہی فیل ہو جائے۔ مجھے تو در اصل ان حضرات کو نیچا دکھاتا ہے جو خود کو لیکاک، سوئیفٹ اور برنارڈ شا کا ہم پایہ سمجھے بیٹھے ہیں کیا سمجھے؟ 
آپ؟
"بالکل ٹھیک میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں"۔
پھر وہی لغویت ... بھئی آخر کب تک احساس کمتری کا شکار رہیں گے، "اوہ پھر بھول گیا "۔ میں نے اکڑ کر کہا۔ "شیطان صاحب آپ جھک مارتے ہیں، میرے اعتراضات اپنی جگہ اٹل ہیں"۔
ویل ڈن ویل ڈن، شیطان صاحب پُرجوش انداز میں چیخے۔ بہت اچھے اب کبھی نہ بھولئے گا"۔
" شیطان صاحب "۔ میں نے شاگردانہ انداز میں کہا ”اگر آپ کے پاس شہرت حاصل کرنے کا کوئی مجرب نسخہ ہو تو عنائت فرمائیے". 
ضرور ضرور، شیطان صاحب خوش ہو کر بولے۔ "مجرب اور ساتھ ہی ساتھ سہل الاصول بھی، ہزاروں بار کا آزمایا ہوا سو فیصدی کامیاب نسخہ سنیے." مشہور ہونا ہے تو شراب پی کر بھوک بھوک چلائیے، لڑکیوں کی عصمت خراب کر کے سماج کو گالیاں دیجئے، مزدوروں کی مزدوری ہضم کر کے سرمایہ داری کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیجئے، فقیروں کو دھتکار کر سگریٹ کا پیکٹ خریدتے ہوئے اپنے ساتھی سے کہیے "آہ غریب ہندوستان" بیوی کی کھال کھینچ کر بھس بھر دیجئے اور بقیہ زندگی طوائفوں کے سیوک بن کر گزاریئے کیا سمجھے؟
مگر...مگر،
میں سمجھ گیا، شیطان صاحب نے خیالات میں گم ہو کر سر ہلایا۔ آپ یہی کہنا چاہتے ہیں نا کہ لوگ اعتراضات کی بھر مار کر دیں گے۔ سنئے اس کا بھی جواب ہے،" اگر کوئی کچھ اعتراض کرے تو فوراً اپنے چہرے پر زلزلے کے آثار پیدا کر کے کہہ دیجئے کہ تالیوں کا کیچڑ چاٹے بغیر ایک اچھا فنکار ہونا قطعی نا ممکن ہے۔ فنکار صرف وہی ہو سکتا ہے جس نے زندگی کے ہر پہلو کو قریب سے دیکھا ہو۔ اس وقت تک فنکار ہونا قطعی نا ممکن ہے جب تک کم از کم ایک بار لفنگوں کے ہاتھوں تاجپوشی عمل میں
نہ آجائے، کیا سمجھے؟"
آج پہلی بار اچھی طرح سمجھ میں آیا ہے " میں نے کہا ” مگر یہ تو فرمائیے کہ آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے۔ 
ہڑبونگ کے چل پکار نمبر کے لئے افسانہ لینے آیا ہوں۔
درست، مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی عرض کروں گا کہ میں بلا معاوضہ ایک سطر بھی نہیں لکھتا۔
معاوضہ! شیطان صاحب اس طرح اچھلے گویا کرسی نے ڈنک مار دیا ہو۔
ذرا جلدی سے لاحول پڑھیے، میں اب یہاں ایک سیکنڈ بھی نہیں ٹھہر سکتا آپ تو میرے بھی چچا نکلے۔
یہ کہہ کر شیطان صاحب نے کھڑکی سے چھلانگ لگائی اور دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بہت دور تک فضائے بسیط میں تیرتے چلے گئے۔ 

تحریر: ابنِ صَفی 


Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR