Skip to content
William Wordsworth

سعود عثمانی کی نعتیہ شاعری

William Wordsworth
سعود عثمانی کی نعتیہ شاعری

سعود عثمانی عصر حاضر کے معروف شعرا میں شامل ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے شعری سفر میں انھوں نے بیان کی شائستگی اور اظہار کے قرینے کے ساتھ وادی حرف و سخن میں قدرے نرم روی سے اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ سعود عثمانی معاصر شعری تناظر کے ان لوگوں میں ہیں جو دائیں بائیں کے شور وشغب سے بے نیاز اپنی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ اس رویے کا اظہار صرف انھی تخلیق کاروں کے ہاں ہوتا ہے جنھیں اپنی سمت سفر کی درستی کا احساس اور اپنی منزل مقصود پر اعتبار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ خارجی سہاروں سے نہیں، بلکہ اپنی تخلیقی پیش رفت اور اپنے کام کی بنیاد پر اپنے ادبی وجود کا اثبات کرتے ہیں۔ یہی ایک جینوئن تخلیق کار کا طرز عمل ہوتا ہے۔

اگر چہ اس سے پہلے بھی سعود عثمانی نے حمد و نعت کے پیرائے کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا ہے، اور ان کے ہاں نعت گہری وابستگی کے جذبے اور مذہبی شعور کے ساتھ ساتھ ادبی لطافت کی حامل رہی ہے۔ تاہم اب جو ان کا نعتیہ کلام یک جا سامنے آیا ہے تو اس کی کیفیت ہی کچھ اور محسوس ہوتی ہے۔ یہاں جذبے کا دفور اور دل و جاں کی وارفتگی کا نظارہ دیدنی ہے۔ ہے۔ سعود عثمانی کی نعت میں ذاتی اور اجتماعی حزن، وصل و ہجر کے دونوں رنگوں سے آراستہ عشق رسول ﷺ کی اثر آفرینی ، اس نسبت خاص سے وجود کی معنویت اور کائنات سے اپنا رشتہ، زندگی کی حقیقت، انسان کا ضابطۂ حیات، تاریخ میں ابھرتا انسانی قد و قامت، روح کا احوال، جذبے کی وسعت اور احساس کی گہرائی ایسے عناصر اس طرح ہمارے سامنے آتے ہیں کہ قاری سعود عثمانی کی نعت کو پڑھتے پڑھتے خود بخود اس کے تخلیقی تجربے اور جذبے کے وفور میں شامل ہو جاتا ہے۔ یوں مطالعے کا یہ عمل اس کے لیے اپنے حال کو جاننے اور اپنے احساس کو سمجھنے کا اہم ترین وسیلہ بن جاتا ہے. 

جن لوگوں نے اردو نعت کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ہمارے ادب کا یہ ایک ایسا باب ہے جس میں فکر و معنی کا ایک انوکھا اور بے حد دل پذیر جہان متشکل ہوا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں اسلوب کی ندرت اور اظہار کی لطافت کے بھی ایسے نمونے یہاں ملتے ہیں کہ جو فن کی معراج کہے جاسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اردو نعت کے جو مکاتب فکر وفن نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان میں سے ایک تو وہ ہے جس کا انداز اور مزاج روایتی ہے۔ اس نعت میں جذبہ سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ اسے عوامی لب و لہجے کی نعت بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس مزاج سخن کی نعت اپنے خاص موضوعات اور اظہار کا ایک الگ قرینہ رکھتی ہے۔ دوسرا مکتب فکر وفن وہ ۔ فن وہ ہے جس میں جذبے کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ نکات بھی ملتے ہیں، بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض شعرا کے ہاں فلسفے کے ساتھ دوسرے علوم سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس نعت کا انداز و اسلوب اپنی شناخت کے جدا گانہ حوالے رکھتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اردو کے نعت گو شعرا میں ایک بڑی اور قابل توجہ تعداد ایسے تخلیق کاروں کی ہے جو اس دوسرے حلقے میں شمار ہوں گے۔ سعود عثمانی کا تعلق بھی نعت کے ثانی الذکر طبقے سے ہے۔ اس کے ہاں جذبے کی فراوانی اور عشق کے والہانہ پن کے ساتھ اپنے عہد کے انسانی، اخلاقی ، فکری اور کائناتی مسائل اور موضوعات بھی نعت کے پیرائے میں بیان ہوئے ہیں۔ لہذا اس کی نعت میں ہمیں ادب کا عصری شعور کارفرما نظر آتا ہے۔ اسی شعور کے تحت اس کی نعت میں ہمیں ایک طرف استغاثہ کے مضامین ملتے ہیں تو دوسری طرف ذات و کائنات کا رشتہ بھی اپنی نوعیت آشکارا کرتا نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں نعت سعود عثمانی کے لیے عرض حال کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور حیات انسانی کی تفہیم کا وسیلہ تھی۔ میرے لیے یہ بات ذاتی طور پر خوشی اور طمانیت کا باعث ہے کہ غزل کا ایک مضبوط شاعر اور عصری شعری منظر نامے کا ایک اہم نام اقلیم نعت کی طرف آیا ہے اور سرور کونین ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت اس طرح لایا ہے کہ اس کے جذبے اور فکر دونوں کی کیفیت اس میں سموئی ہوئی ہے۔ یہ کہنا بر حل ہوگا کہ سعود عثمانی کی نعت معاصر اردو نعت کے اہم سرمائے میں بامعنی اضافہ ہے۔ ایک ایسا اضافہ جو عام قارئین کے لیے لطف قرأت بھی رکھتا ہے اور اہلِ نظر کےلیے فکر کے فروغ کا سامان بھی۔ 

تحریر: صبیح رحمانی 

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR