Skip to content
William Wordsworth

صحیح ادبی رویہ

William Wordsworth
صحیح ادبی رویہ


ممتاز اصحاب کے انٹرویو ہمارے ہاں برسوں سے کیے جارہے ہیں لیکن طاہر مسعود نے اس صنف جدید کے کینوس کو نہ صرف وسیع کیا ہے بلکہ انٹرویو دینے والوں سے ان کے دل کی بات کہلوا کر اس ہنر کو فن بنا دیا ہے۔ انھوں نے انٹرویو سے پہلے ضروری تیاری کی ہے تاکہ اس شخص کے کاموں سے واقف ہو کر گفتگو کی جاسکے۔ اس کتاب کے سارے انٹرویو کو جب میں نے ایک ساتھ پڑھا تو یوں محسوس ہوا کہ اس کتاب سے نہ صرف انٹرویو دینے والے کے مزاج، شخصیت اور خیالات سے اچھی واقفیت ہو جاتی ہے بلکہ گذشتہ پچاس سال کے اہم واقعات ، تحریکیں، نظریات اور مسائل بھی اس کتاب میں یکجا ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو اس کتاب کو اہم بنا دیتی ہے۔ اب تو خیر ادبی گروہ بندی کی نوعیت بدل گئی ہے لیکن آج سے بیس پچیس سال پہلے تک ادبی قربتوں کا سبب ذاتی نہیں بلکہ نظریاتی ہوتا تھا۔ ہم خیال لوگ اکٹھا ہو جاتے تھے اور ان میں ذاتی مفاد کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا ۔ طاہر مسعود نے جب فیض احمد فیض سے اس قسم کا سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی ذات کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور نہ اسے مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنی ذات کے لیے کسی سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیں۔ کوئی اصول یا نظریے کی بات ہو تو اس پر بحث کی جا سکتی ہے، کیوں کہ بحث کرنے کا جواز موجود ہے لیکن اگر کوئی ذاتی اعتراض ہو اور آپ اس کا اسی شدت سے جواب دیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ معترضین کی سطح پر اتر گئے ہیں" (ص ۲۴ ) یہی وہ صلح ہے جو ایک بڑے آدمی کی ذہنی سطح ہونی چاہئیے اور اب تک ہمارے بڑے ادیب اسی سطح کو برقرار رکھتے آئے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں نیا دور کے تازہ شمارے میں محمد حسن عسکری صاحب کے خطوط شائع ہوئے ہیں اور ان میں بھی یہی پہلو ملتا ہے کہ عسکری صاحب کی ترقی پسندوں سے جنگ ذاتی نہیں بلکہ نظریاتی تھی۔ ممتاز شیریں کے نام ایک خط مورخہ ۱۴ راگست ۱۹۴۸ء میں انھوں نے لکھا کہ "ہمارے ہاں بعض عناصر ایسے بھی ہیں جو کلچر اور ادب کا نام لے کر سیاسی یا ذاتی فائد سے حاصل کرنا چاہتے ہیں حالاں کہ ان کی ادبی سرگرمیاں صفر کے برابر ہیں۔ ہمیں اس ذہنیت سے بھی اپنے آپ کو پاک رکھنا ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو مخالفت کے جوش میں ترقی پسندوں کو جیل بھیجوانا چاہتے ہیں۔ جس دن منٹو کو اور مجھے پتہ چلا کہ حکومت ترقی پسندوں کی نگرانی کر رہی ہے اس دن سے ہم نے ارادہ کر لیا کہ کم سے کم ہم دونوں ترقی پسندوں کے خلاف نہیں لکھیں گے بلکہ منٹو نے تو اپنا ایک مضمون بھی واپس منگا لیا۔ ہماری ادبی بحثیں الگ ہیں۔ ہم انھیں ادب میں پچھاڑنا چاہتے ہیں۔ پولیس کی مدد سے نہیں۔ ہم اپنی حکومت کے لیے بھی جاسوسوں کا کام نہیں کر سکتے بلکہ اگر حکومت نے ادبی سرگرمیوں کی بنا پر کسی ادیب کو گرفتار کیا تو سب سے پہلے ہم احتجاج کریں گے"۔ 
انیان در شماره ۷۹-۸۰ ص ۲۹۳)

یہ وہ زاویۂ نظر تھا جو ایک سچے اور بڑے ادیب ہی کا انداز نظر ہو سکتا ہے اور یہی انداز نظر ہمیں فیض کے انٹرویو اور حسن عسکری کے خطوط میں نظر آتا ہے۔ ادب و فکر کی سطح پر ہمارے اختلاف ذاتی نوعیت کے ہر گز نہیں ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ادب میں، چوں کہ ذاتیات کا مسئلہ سب سے اہم ہو گیا ہے، اخلاص کی خوشبو مرگئی ہے اور ادب کا اثر بے اثر ہو گیا ہے۔ 

مندا ہے حسن و عشق کا بازار آج کل 
لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل 


فیض احمد فیض ادب کے تعلق سے اسی لیے پارٹی لائن کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ سیاست سے عملاً علیحدہ رہتے ہوئے اس سے ذہنی اور جذباتی تعلق رکھنا ایک بات ہے اور سیاست میں عملی طور پر شامل ہونا بالکل دوسری بات .... ادب اور شاعری کا قاعدہ تو صرف اس حد تک ہے کہ زندگی کی چند بنیادی قدریں ہیں جن کی حفاظت کرنی چاہیے۔ نیکی ، انسان دوستی ، صداقت کا تحفظ ادیبوں اور شاعروں کا اولین فریضہ ہے اور جن سیاسی کارروائیوں پر ان کا اطلاق ہوتا ہے اس حد تک جد و جہد بھی کرنی چاہیے ۔ جہاں تک کسی پارٹی یا جماعت میں شامل ہو کر ان کے قواعد کی پابندیوں کا تعلق ہے شاعر و ادیب پر ان کی پابندی لازمی نہیں ہے۔ (ص ۲۵) یہی وہ زاویہ نظر ہے جو ہمارے دور کے ادبیوں کو اپنانا چاہیے۔ اس میں ادب کا بھی بھلا ہے اور تخلیقی سرگرمیوں کا بھی۔ ایک جگہ فیض احمد فیض نے شاعری اور صحافت کا فرق نہایت خوب صورتی سے واضح کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "شاعری اور صحافت میں بس اتنا فرق ہے کہ صحافت میں جمالیاتی پہلو نہیں ہوتا۔ جمالیات کو آپ ابلاغ میں شامل کر لیں تو ادب بن جاتا ہے اور جمالیات کو خارج کر دیں تو صحافت بن جاتی ہے"۔ (ص ۳۰)
اسی قسم کی بات سلیم احمد نے اپنے انٹرویو میں کہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں کسی بھی اسلامی ریاست میں غیر مقصدی ادب کے وجود کو قبول کیا جاسکتا ہے تو سلیم احمد نے کہا کہ "جو ادیب مقصدی ادب پیش کرنا چاہتے ہیں وہ مقصدی ادب پیش کریں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا لیکن جو لوگ ایسا مقصد نہیں رکھتے ان کا ادب بھی ادب ہو گا اور انھیں پیش کرنے کا حق ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ میرے نزدیک پاکستان جیسی اسلامی ریاست میں ایسے ادب کی تخلیق کی گنجائش ہے جو ریاست کے مقاصد کو پورا نہ کرتا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ میری غزل ریاست پاکستان کے کسی مقصد کو پورا نہیں کرتی لیکن اس کے باوجود وہ اہم اور وقیع ہے کیوں کہ اس کی سچائیاں میرے نفس کی سچائیاں ہیں اور اس میں میرے ایسے تجربات تخلیق کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ غرض یہ سمجھ لینا کہ ادب یقینا ریاست کے مقاصد کے تابع ہونا چاہیے یہ کہنے کے مترادف ہے کہ ادب کو سیاسی، معاشی اور ریاست کی دیگر ضروریات کے مترادف ہونا چاہیے" (ص ۔ ۵۰)
یہاں میں نے ایک زاویے سے ادب کے بارے میں تین اہم ادیبوں کا نقطہ نظر بیان کیا ہے اور آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ تینوں نے مختلف سیاق و سباق کے باوجود ادب کی ماہیت کے تعلق سے ایک سی باتیں کہی ہیں اور یہی وہ اندازِ نظر ہے جو ایک ادیب کا ہونا چاہیے۔ اس کتاب کو ہر اس شخص کو دل لگا کر پڑھنا چاہیے جو بڑا ادیب بننا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے بڑے معاصرین کی رائے سے ادب کے بارے میں صحیح رویہ اختیار کر سکے۔

(۵) اگست (۶۱۹۸۵)

تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی


Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR