Skip to content
William Wordsworth

نعتیہ ادب کی ایک اہم دستاویز

William Wordsworth
نعتیہ ادب کی ایک اہم دستاویز

مذہبی ادب کا مطالعہ کسی بھی زبان اور کسی بھی سماج کے تناظر میں کیا جائے، اس حقیقت کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ اس میں عقیدت کا عنصر ہی سب سے نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ایسی کوئی بے جا بات بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ مذہبی احساسات کا اظہار چاہے جتنی بھی آزادی کے ساتھ کیا جائے اور جس بھی پیرائے میں کیا جائے، وہ عقیدت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ انسانی سائیکی نے ہمیشہ مذہب کو اسی انداز سے قبول کیا ہے۔ اس حقیقت کا ثبوت قدیم ترین تہذیبوں کے ادب کے مطالعے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تہذیبیں جن کا تذکرہ اب خود اساطیر کے زمرے میں آتا ہے، ان میں بھی ہمیں مذہب کی حیثیت عقیدت ہی سے متعین ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اسی عقیدت کے گہرے اور عقلیت پسندی سے عاری اثرات کے ردِّعمل میں مارکس نے مذہب کو افیون گردانا تھا اور نطشے نے اسے حقیقت سے فرار کہا تھا۔ ہم بے شک ان خیالات سے اتفاق نہ کریں، لیکن— جب بھی ہم مذہبی ادب خاص طور پر شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُس میں تخیل کی کارفرمائی عام تخلیقی ادب اور شاعری کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی شاعری مروّجہ انداز اور مخصوص خیالات سے کام لیتی ہے۔ یہاں مثال کے طور پر انگریزی کے شاعر جون ڈن کا نام پیش کیا جاسکتا ہے، جس کے ہاں اظہار کی قدرت اور بیان کا سلیقہ تو موجود ہے، لیکن تخیل کی جست نہیں ہے۔ یہ بات میں اُس کی مذہبی شاعری کے بارے میں کررہا ہوں اور اب وہ اسی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ 
اردو شاعری میں مروّجہ مذہبی ادبی اصناف، مثلاً حمد، نعت، سلام، منقبت، مرثیہ وغیرہ کے مطالعے میں صرف ایک مرثیہ ہے جو ہمیں استثنائی حیثیت کا حامل نظر آتا ہے اور ہم اس میں تخیل کی زرخیزی اور اظہارِ بیاں کے اسالیب کو بڑی کامیابی سے بروئے کار دیکھتے ہیں۔ اصل میں مرثیے کے موضوع کی گہرائی اور انسانی صورتِ حال سے اس کے تعلق کی بنیاد پر مذہبی شاعری ہونے کے باوجود اسے وہی آزادی اور وسعت نصیب ہوئی ہے جو ادبِ عالیہ سے مخصوص سمجھی جاتی ہے۔ یہ مرثیے کی انفرادیت ہے۔ اور ایسا بے وجہ نہیں ہے، لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے، اس لیے ہم اسے چھوڑتے ہیں۔ ہماری دیگر مذہبی اصناف میں ایسی آزادی اور وسعت نظر نہیں آتی۔ یہ میری ذاتی رائے ہے، اس سے کچھ لوگ اختلاف بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم چند ہفتے پہلے مجھے ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس نے مجھے اپنے مذہبی ادب بالخصوص نعتیہ ادب کے بارے میں نئے پہلوؤں سے غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ کتاب ہے ’’اردو نعت کی شعری روایت— تعریف، تاریخ، رُجحانات، تقاضے‘‘ اور کتاب مرتب کی ہے معروف نعت خواں اور نعت نگار صبیح رحمانی نے۔ 
اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جو اس کے توسیعی عنوان میں درج ہیں، یعنی تعریف، تاریخ، رُجحانات اور تقاضے۔ میرا خیال ہے کہ صرف اتنا بتا دینے سے اس کتاب کی معنوی وسعت اور فکری دبازت کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان ابواب کے بارے میں کچھ تھوڑی سے گفتگو ضرور کی جائے۔ اس کتاب کے یہ چار ابواب دراصل موضوعِ زیرِ بحث کا چار جہتوں سے مکمل احاطہ کرتے ہیں۔ پہلا باب نعت کے حدود، اسالیب، موضوعات اور افکار کا تعین کرتا ہے۔ دوسرا باب اردو نعت کی تاریخ پر سیر حاصل روشنی ڈالتا ہے۔ تیسرا باب اس موضوع کے نمایاں عناصر اور افکار سے بحث کرتا ہے اور چوتھے باب میں نعت کے آئندہ کے امکانات، اسے درپیش صورتِ حال اور اس کی بقا کے تقاضوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ کم سے کم اپنے مطالعے کی حد تک تو یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس سے پہلے نعت اور مطالعۂ نعت کے ضمن میں ایسا موضوعاتی تنوع رکھنے اور اتنے فکری مباحث کا احاطہ کرنے والی کتاب میری نظر سے آج تک نہیں گزری۔ 
سارتر کہتا ہے کہ کوئی بھی ادبی تنقید چاہے وہ کسی مسئلے کے بارے میں ہو، چاہے کتاب کے بارے میں ہو یا پھر کسی فرد کے بارے میں، اس وقت تک لائقِ اعتنا نہیں ہوسکتی، جب تک کہ وہ اپنے موضوع کی فلسفیانہ جہات کا احاطہ نہیں کرتی۔ اس کے نزدیک فلسفے کے بغیر ادبی تنقید میں نہ تو گہرائی آسکتی ہے اور نہ وہ کوئی نئی روشنی ہمیں عطا کرسکتی ہے۔ سارتر کے اس کڑے اصول کا اطلاق اگر ہم اپنی تنقید پر کریں تو اس کا ایک خاصا بڑا حصہ ویسے ہی متروک ہوجائے گا اور قابلِ مطالعہ نہیں رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر ادیب اور نقاد اپنے ادب اور شاعری سے تو سروکار رکھتے ہیں، لیکن وہ فلسفے کے چکر میں پڑنے سے کتراتے ہیں۔ چلیے، تخلیقی ادیب اور شاعر کو تو پھر بھی مارجن دیا جاسکتا ہے، لیکن نقاد کا تو فلسفے کے بغیر کام ہی نہیں چل سکتا۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بہت کم نقاد ایسے ہیں جو فلسفیانہ نظریات اور مباحث سے دل چسپی رکھتے ہوں اور انھیں اپنی ادبی تنقید میں استعمال بھی کرتے ہوں۔ زیرِ مطالعہ کتاب میں بھی صرف چند ایک ناقدین کے مقالات میں فلسفیانہ اندازِ نظر ملتا ہے۔ تاہم اس بات کی داد اس کتاب کے مرتب کو ضرور دی جانی چاہیے کہ ان میں بیشتر مقالات کا انتخاب ایک معیار اور کسوٹی پر کیا گیا ہے۔ چناںچہ اس کتاب کے اکثر مضامین ایسے ہیں جو اپنے موضوع کو ابھارنے اور اس کے لیے ایک واضح مطالعاتی زاویۂ نگاہ فراہم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مضمون محمد حسن عسکری کا ہے جو بہ ظاہر لکھا تو محسن کاکوروی کے بارے میں گیا ہے، لیکن نقاد نے اپنی گفتگو میں ایسے پہلوؤں کو سمیٹ لیا ہے جن کا اطلاق پوری نعتیہ شاعری، بلکہ میں تو یہ کہوں گاکہ پوری مذہبی شاعری پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ نکتہ دیکھیے: 
ژونگ کے نزدیک Archetypes بہ راہِ راست کبھی ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ ثانوی اور اشتقاقی شکلوں میں۔ اسی طرح Arhetype کا بہ راہِ راست تجربہ غیر شخصی اور غیر ذاتی چیز ہے۔ اس لیے    ّفنی اظہار کی گرفت میں نہیں آتا۔ بڑے سے بڑے مصور نے بھی اگر ایسے تجربے کو تصویر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے تو تصویر ہمیشہ بے جان رہی ہے۔    ّفنی اظہار کامیاب اس وقت ہوتا ہے جب شاعر بہ ذاتِ خود Archetype کو بیان کی قید میں لانے کی کوشش نہ کرے، بلکہ اس سے اپنا ایک شخصی اور ذاتی رشتہ قائم کرے اور اس رشتے کو اظہار کا موقع دے۔ یعنی جو مقام صوفیوں کے نزدیک اعلیٰ ترین ہے، وہاں پہنچ کر شاعری نہیں ہوسکتی۔ البتہ جب عارف عارضی طور سے ہی سہی رُوبہ تنزل ہو اس وقت البتہ شعر کہہ سکتا ہے۔ اسی لیے بعض لوگوں کے نزدیک تصوف اور شاعری ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
شعر کہنا روحانی تنزل کی علامت ہو یا ترقی کی، بعض لوگوں کے لیے یہ حرکت ایسی ہی ضروری بن جاتی ہے جیسے سانس لینا اور ہر قسم کے تجربے کو جسم اور شکل عطا کرنے کی ترغیب کہیں بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ 
اس رائے پر سوالات اُٹھائے جاسکتے ہیں، بحث کی جاسکتی ہے اور اس ضمن میں قدیم و جدید ادب سے مثالیں بھی حاصل کی جاسکتی ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محمد حسن عسکری نے ایک ایسا نکتہ اٹھایا ہے جو مذہبی شاعری اور اس کے پیچھے کام کرنے والے احساس کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ہمیں ایک نیا پہلو فراہم کرتا ہے۔ محمد حسن عسکری واقعی بڑے نقاد تھے۔ اس کتاب میں مجید امجد، ممتاز حسن، جمال پانی پتی اور ڈاکٹر ابوالخیر کشفی کے مقالات بھی گہری بصیرت کے حامل ہیں اور نعت کے حوالے سے بعض ایسی اہم باتیں سامنے لاتے ہیں جنھیں تنقیدِ نعت ہی کے لیے نہیں، بلکہ ہماری ادبی تنقید کے لیے بھی فکر و فراست کی اعلیٰ مثالوں کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ آپ یہاں پہلے جمال پانی پتی کے مضمون سے ایک اقتباس دیکھیے: 
شعوری یا غیر شعوری طور پر جدید مغربی تہذیب کے لادینی اور غیرروایتی اثرات کی زد میں آنے والے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح یہ بھی وہی لوگ ہیں جو انسان کے بارے میں جدید مغرب کے مادّی اور عقلی فلسفوں اور انسان پرستی ـ(Humanism) جیسی تحریکات کے زیرِ اثر کائنات میں انسان سے اوپر کسی چیز کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اس لیے یہ بات کہ پیغمبر انسان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی فطرت میں ایک ایسے ماورائی عنصر کا حامل بھی ہوتا ہے جو اسے دوسرے تمام انسانوں سے ممتاز کرکے ان سے اوپر اٹھا دیتا ہے، ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے نعتیہ کلام سے نعت گوئی میں ایک ایسی روش بھی چل نکلی ہے جو نعت کے بنیادی مزاج اور روایت کی نفی کرتی ہے۔ اس روش کو بعض لوگوں نے سیکولر نعت کا نام دیا ہے۔ 
جمال پانی پتی نے اپنے اس مضمون میں جدید مغربی فلسفوں اور اُن کے اپنے ادب پر اثرات کے ضمن میں بہت نکتہ آفریں بحث کی ہے اور بڑی وضاحت کے ساتھ اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ وہ محمد حسن عسکری اسکول کے نقاد ہیں اور انھی افکار کے زیرِ اثر ہیں۔ میں عسکری اسکول سے واضح اختلاف رکھتا ہوں، لیکن اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہماری تنقید میں فکر و فلسفہ سے استفادہ سب سے زیادہ اسی اسکول کے نقادوں نے کیا ہے۔ میں نے اس سے پہلے بھی جمال پانی پتی کے جو مضامین پڑھے ہیں، ان سے اندازہ ہوا ہے کہ وہ بہت تفصیل اور حوالوں کے ساتھ اپنا مقدمہ بناتے اور بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ مندرجۂ بالا اقتباس ہی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اپنے مضمون میں کس نوعیت کے مباحث کا احاطہ کیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نعت کے حوالے سے کہی گئی یہ بات ہمارے پورے ادبی مزاج کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ 
اب ذرا ابوالخیر کشفی کے مضمون سے یہ اقتباس دیکھیے: 
بعض اصناف کا رشتہ ان کی ہیئت سے نہیں، بلکہ موضوع سے ہے۔ یوں نعت ایک مستقل صنفِ سخن ہے۔ نازک تر اور نہایت قیمتی نکتہ یہ ہے کہ نعت ہر ہیئت یا فارم (form) میں لکھی جا سکتی ہے۔ یوں ہر صنف، صنفِ نعت کے حکم میں داخل ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سرورِ کائنات a کی مدح و ستائش کے کتنے ہی پہلو ہیں اور ہر صنف اپنی خصوصیات کی بنا پر کسی ایک پہلو اور مدح کے کسی ایک رُخ کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ 
اس اقتباس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نقاد کا ذہن اپنے مرکزی خیال کے بارے میں کتنا صاف ہے اور اُس کو بیان کرتے ہوئے وہ کتنی آسانی اور یقین کے ساتھ اپنے نکتۂ نظر کو پیش کررہا ہے۔ یہ رویہ دراصل کسی نقاد کے تنقیدی شعور کو ہی سامنے نہیں لاتا، بلکہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس تنقیدی شعور کی تعمیر میں نقاد کا تخیل اور معتقدات بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اصل میں وہ چاہے محمد حسن عسکری ہوں، چاہے ابوالخیر کشفی یا جمال پانی پتی، ایسے نقاد جب نعت پر یا مذہبی ادب پر قلم اٹھاتے ہیں تو وہ اپنے موضوع کی مخصوص حدود میں قید نہیں رہتے، بلکہ اس موضوع کے مطالعے کے لیے پورا ادبی اور سماجی تناظر پیشِ نظر رکھتے ہیں اور اس پر بات کرتے ہوئے آفاقی ادب کی اقدار اور فلسفوں اور نظریات کو بھی اپنے نکتۂ نظر کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے ہاں بڑے تناظر میں مباحث سامنے آتے ہیں جو معنویت کا وسیع دائرہ بناتا ہے۔ 
ان اقتباسات اور مباحث سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نعتیہ روایت کی تنقید کے حوالے سے مرتب کی گئی اسی کتاب میں کتنے بڑے بڑے ادبی مسائل اور فکر کو مہمیز دینے والے مباحث کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ تاہم اپنی گفتگو کے اختتام سے پہلے میں اس کتاب میں شامل ایک اور مضمون کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مضمون نے مجھے حیرت میں ڈال دیا کہ کیا اردو شاعری کا مطالعہ اِس پہلو سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ مضمون ہے ’’نعت اور اردو کی شعری تہذیب‘‘، اور نقاد ہیں مبین مرزا۔ یہ ایک بہت مختلف مضمون ہے۔ کم سے کم میرے مطالعے میں اس نوع کی بحث— کیا مرثیہ، کیا حمد و نعت کسی حوالے سے نہیں گزری۔ مبین مرزا کا مطالعہ بہت غیر معمولی طور پر وسیع ہے، اس کا اندازہ مجھے پہلے بھی کئی بار ان کے تنقیدی مقالات سے ہوا ہے، لیکن اِس موضوع پر تو انھوں نے جن پہلوؤں سے گفتگو کی ہے، وہ قابلِ رشک ہے۔ میں ادب میں مذہبی رجحان کے خلاف نہیں ہوں، لیکن ذاتی طور پر میں ادب کے مذہب سے رشتے کو لازمی اور اہم نہیں سمجھتا۔ ادب انسانیت کے حوالے کو بنیاد بناتا ہے، اس لیے میری رائے میں ادب سیکولر ہوتا ہے۔ وہ مذہبی جذبات کو پیش تو ضرور کرسکتا ہے، لیکن عقائد کا پابند نہیں ہوسکتا۔ میرے نظریات کے برعکس مبین مرزا نے اردو شاعری کی بنیاد میں روحانی اور مذہبی عناصر کو جس طرح کارفرما دکھایا ہے، وہ میرے لیے بالکل نیا اور حیران کن نکتہ ہے۔ جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا کہ میں ادب اور مذہب کے رشتے کو بالکل نہیں مانتا، بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ مذہب ادب کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ میں مبین مرزا کی اس بحث کے حوالے سے ایک الگ مضمون لکھنا اور اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، اس لیے یہاں زیادہ گفتگو سے اجتناب کررہا ہوں۔ البتہ اس بات کا اعتراف ضرور کررہا ہوں کہ مبین مرزا نے اس مقالے کو جس طرح نکتہ در نکتہ اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ اردو میں dialectical criticism کا بہت نادر نمونہ ہے۔ ایسے مضامین اردو میں بہت کم لکھے گئے ہیں۔ 
جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اس کتاب میں بہت معیاری مقالات جمع کیے گئے ہیں، لیکن ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی (محرکاتِ نعت)، ظہیر غازی پوری (نعتیہ شاعری کے لوازمات)، حافظ محمد افضل فقیر (نعت کا مثالی اسلوب) اور پروفیسر محمد فیروز شاہ (نعت میں جدید طرزِ احساس) خاصے کم زور مضامین ہیں اور ایسے وقیع انتخاب میں ان کی شمولیت بے جواز نظر آتی ہے۔ البتہ پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر ریاض مجید اور ناصر عباس نیر کے مضامین مختصر ہیں، لیکن ان میں ایسے نکات ضرور ملتے ہیں جو قاری کے لیے اس موضوع کی بہتر تفہیم کا ذریعہ بنتے ہیں۔ خاص طور پر سحر انصاری نے ڈگلس ایڈمز کے حوالے سے بہت کام کی بات کہی ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ نعتیہ ادب کے مطالعے کے ضمن میں یہ کتاب ایک ایسے نصاب کا درجہ رکھتی ہے جو طالب علموں اور اساتذہ دونوں کو فکر و نظر کا ایک گراں قدر سرمایہ فراہم کرتی ہے اور میں شمس الرحمن فاروقی کے اس قول سے پورا اتفاق کرتا ہوں کہ ’’یہ کتاب نعت کے ہر طالبِ علم، خصوصاً نعت پر تحقیقی اور تنقیدی کام کرنے والے کے لیے ناگزیر حوالہ تادیر رہے گی۔‘‘ 
٭٭٭

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR