Skip to content
William Wordsworth

غزلیاتِ غالبؔ کی زمینوں پر نعت گوئی

William Wordsworth
غزلیاتِ غالبؔ کی زمینوں پر نعت گوئی

و رفعنالک ذکرک کے الٰہی فرمان و اعلان کے مطابق حضرت محمدکا ذکر مقدس ازل سے ابد تک جاری ہے۔ ہر زماں اور ہر زباں اس سے منور و معطر ہے۔ اظہار کے جتنے لسانی و سائل اور تحریر و تقریرکے جتنے پیرایے اور اسالیب ہیں، ان سب میں اس ذکر کی جلوہ نمائی اور جمال افروزی ہے۔۔۔ عشق محمدی سے سرشار اور جوہر ایجاد و تخلیق سے معمور طبائع اس ذکر جمیل کے لیے نئے نئے اور اچھوتے اچھوتے پہلو تلاش کرتی ہیں اور مداحین رسالت کی فہرست میں اپنا نام درج کراتی ہیں۔۔۔ اور حسب توفیق و استعداد عقیدت کے شگوفہ و گل اس بہارستان نبوت کی نذر کرتی ہیں۔۔۔

اس سلسلہ تذکار کی ایک خوش نما روایت یہ ابھری کہ شعرا کی غزلوں سے مصرع ہائے طرح لے کر ان پر نعتیں کہی جائیں۔۔۔ یا ان کی پوری غزل کو زمین قرار دے کر اس میں نعت کی گل کاری کی جائے یا بہ توفیق الٰہی کسی شاعر کی ایک سے زیادہ غزلوں پر نعت کے لیے طبع آزمائی کی جائے۔ اہل ہمت و عزیمت نے اس سے آگے قدم اُٹھایا اور ۶۳ یا ۹۲ غزلوں کی زمینوں پر نعتیں کہیں پھر یہ خوش گوار و خوش آئند روایت اس طرح برگ و بار لائی کہ الاماشاء اللہ کسی مشہور و معروف استاد کے تمام دیوان غزل کو نعت کی’’گل زمین ‘‘ بنا ڈالا۔۔۔

اردو میں اس روایت کا مرکز و محور غالبؔ کا دیوان غزل رہا ہے۔۔۔ یہ ہمارے نزدیک غالبؔ کی خوش طالعی ہے کہ وہ اس شرف و سعادت کا نقطہ ارتکاز ہے اور شعرائے نعت گو کا یہ عمل خود غالبؔ کی فنی اور معنوی حیات میں ایک خداداد سلسلہ برکات ہے۔۔۔

غالبؔ بجائے خود اور بذات خود ایسا شاعرہے جس کی شاعری اپنے اختصاص کے سبب زندہ سے زندہ تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور اس کا یہ شعر اس کی پیشین گوئی کا مصداق بن گیا ہے۔۔۔

کوکبم را در عدم اوج قبولی دادہ اند

شہرت شعرم بہ گیتی بعد من خواہد شدن

اور ’’شہرت شعر ‘‘ کی یہ کیسی مقدس، مبارک، مشرف اور سعید صورت ہے کہ اس کی غزلوں کی زمینیں اس کی بحور اس کے قوافی اور ردیفیں نعت کے انوار و تجلیات میں ملفوف ہورہی ہیں۔۔۔ غالبؔ کی غزل کو اس کے پیرائے اسلوب اور غزلیہ فضاکے مدنظر نعت کے سانچے میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کی مشکلات ان سے پوچھیے جو اس وادی دشوار سے گزرے ہیں۔ غالبؔ عجیب اور حیرت انگیز ردیفیں اختیار کرتا ہے اور (بظاہر) ایسا نظام قوافی لاکر ان ردیفوں سے مربوط کرتا ہے جن کو سامنے پاکر کوئی نعت گو شاعر یقینا خود کو خاصے امتحان میں محسوس کرتا ہے اور پھر توفیق خداوندی ہی اس کو منزل تک پہنچاتی ہے ۔۔۔ مثلاً غالبؔ کے طلسم خانہ غزلیات اور عجائب کدۂ شاعری سے چند قافیہ و ردیف کے تلازمات دیکھئے:

کار فرما جل گیا۔ بال عنقا جل گیا + صد دل پسند آیا مشکل پسند آیا+ دفتر کھلا۔ گنجینہ گوہر کھلا+ خمیازہ تھا۔ اندازہ تھا۔ آب بقا موج شراب۔ بال کشا موج شراب + بال و پر درد دیوار ۔ پیشتر ۔ در و دیوار خار آتش۔ روئے نگار آتش + زبانی شمع۔ بدگمانی شمع + وارستگی کی شرم۔ بے کسی کی شرم + رسا باندھتے ہیں۔ ہوا میں باندھتے ہیں + رہ گزر میں خاک نہیں۔ گھر میں خاک نہیں + دکھا کہ یوں۔ بتاکہ یوں + سیمتن کے پانو + بود چراغ کشتہ ہے۔ دود چراغ کشتہ ہے +مانی مانگے، ریشہ دوانی مانگے + اعتبار نغمہ ہے۔ جوئبار نغمہ ہے + متاع جلوہ ہے۔ اختراع جلوہ ہے + برائے خندہ ہے۔ قفائے خندہ ہے +

غالبؔ کی یہ اور ایسی ہی بہت سی امتحان گاہیں ہیں جن سے مداحین رسالت کو گزرنا پڑتاہے۔ پھر ایک اور اعتبار سے دیکھئے کہ یہ نظام قوافی اور یہ ردیفیں بہت حد تک غزل اور تغزل کے مزاج اور فضا کے مطابق ہیں ان میں جذباتی سرمسیتوں اور لغزش ہائے رندانہ کی بہت گنجائشیں ہیں اور معاملات عشق کی گونا گوں کیفیتوں کے لیے ایسے التزامات نہایت سازگار ہیں۔ لیکن انہیں نعت کی ادب گاہوں میں لانا اور ان میں تقدس مآب نعتیں کہنا بہ ظاہر محالات کی مد میں آتا ہے۔۔۔ محبوب ہائے مجازی کا سروساماں محبوب خدا اور ممدوح الٰہی کے لیے کہاں زیبا ہے لیکن یہ حقیقتاً نعت گو شعرا کی عالی ہمتی قدرت فن اور خصوصاً عشق محمدی کی برکات ہیں کہ یہ لائق تحسین شعرا اس بحر مواج کی طوفاں خیزیوں سے گزر کر بہ عافیت ساحل مراد تک پہنچتے ہیں۔۔۔ ویسے بھی غالبؔ کی پرواز خیال کے ساتھ ہم پرواز ہونا اور آفاق بلند میں اس کا ساتھ دینا آسان کام نہیں اور پھر اس کی فضائے تغزل میں داخل ہوکر وہاں سے نعت کے ارفع آفاق میں بال کشا ہونایقینا ’’ اعجاز فکر و فن‘‘ ہی کہلایا جاسکتا ہے۔۔۔

اب ہم ان سعید شعرائے نعت کا ذکر کرتے ہیں جنہوںنے غزلیات غالبؔ کی زمینوں کو نعت گوئی کے لیے برتا ہے۔ ہمارے علم و خبر کے مطابق تادم تحریر ان کے اسمائے گرامی مع تصانیف یہ ہیں:

ساجد اسدی              پیامبر مغفرت           ۱۹۷۵ء    تمام غزلوں پر نعتیہ مجموعہ 

راغب مراد آبادی     مدحت خیرالبشر     ۱۹۷۹ء    ۶۳ غزلوں پر نعتیں 

ابرارکرتپوری          مدحت     ۱۹۹۲     ۹۲ نعتیں 

ایاز صدیقی             ثنائے محمد              ۱۹۹۳ء    ۹۲ نعتیں

بشیر حسین ناظم       جمال جہاں فروز    ۱۹۹۸ء   تمام غزلیات غالبؔ پر نعتیں مع ایک حمد۔

ساجد اسدی کی تصنیف کے دو نام ہیں۔ پیامبر مغفرت (جس سے سن عیسوی میں تاریخی نام نکلتا ہے ۱۹۷۵ء) اور مخزن نعت مقبول ( تاریخی نام سال ہجری ۱۳۹۵ھ ) بزم احباب اسدی نے اسے کراچی سے شائع کیا ہے۔ 

ِِساجد اسدی آغاز میں کہتے ہیں: ’’ ابتدا میں تو کچھ پتا نہ چلا لیکن جب سنگلاخ زمینیں آئیں تو بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا مگر میری ہمت اور غیرت نے گوارا نہ کیا کہ بڑھا ہوا قدم پیچھے ہٹایا جائے۔۔۔ میں نے ایک سال کی مدت میں مرزا صاحب کی تمام غزلوں پر نعتیں لکھ دیں۔ اس التزام کے ساتھ کہ کوئی زمین نہیں چھوڑی ‘‘ (ص ۴)

ساجد اسدی کی زباں سلیس اور بیان دل کش ہے۔ اور عشق رسول کے گداز نے ان کے اس عمل میں تاثیر پیدا کی ہے۔ ان کے یہاں یہ سعی غالب ہے کہ وہ قریب قریب نعت و ثنا کے تمام مروّج و متداول موضوعات پر عمدہ شعر کہتے ہیں : مثلاً

سرکار دو عالم کا ہے اُسوہ مرے آگے

اللہ سے ملنے کا ہے رستہ مرے آگے

مجھ کو تو بڑا عید کے دن سے بھی ہے وہ دن

جب ہوگا نبیؐ کا مرے، روضہ مرے آگے

 راغبؔ مراد آبادی کی مدحت خیرالبشر ۱۹۷۹ میں سفینہ اکیڈمی کراچی نے مطبع ایجوکیشنل پریس سے شائع کی۔

آغاز میں غالبؔ کا فارسی شعر درج ہے:

غالبؔ ثنائے خوا جہ بہ یزداں گزاشتم

کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

اس کے مقابل راغبؔ نے یہ شعر کہا ہے:

راغب ثنائے خواجہ شنیدہ ام

شعرش دلیل عظمت و شان محمد است

آغاز میں ڈاکٹر ابوالخیر کشفی، پروفیسر منظور حسین شور، الحاج عبدالحبیب احمد کے تعارفی مضامین اور خود راغب صاحب کے چند کلمات درج ہیں۔ کتاب کے آخر میں قرآن و احادیث کے حوالے درج ہیں۔

ڈاکٹر ابوالخیر کشفی فرماتے ہیں: ’’اس مجموعے کی نعتیہ غزلوں کے اشعار بھی اردو غزلوں کے اشعار کی طرح منفرد حیثیت رکھتے ہیں لیکن جس طرح ایک اچھی غزل اپنی ایک فضا رکھتی ہے، وہی فضا ان نعتیہ غزلوں میں بھی موجود ہے۔‘‘ (ص ۲۴)

ـٰـپروفیسر منظور حسین شور کے بہ قول :’’ان نعتوں کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ راغب صاحب نے جس مشکل گو اور مشکل پسند شاعر کی زمینیں اپنی نعتوں کے لیے منتخب کی ہیں اس کی زبان میں اظہار مطالب سے اس طرح عہدہ برآنظر آتے ہیں کہ مطالب کی نوعیت کے ساتھ زبان کی ریزہ کاری اور بیان کی رنگینی سے ہر نعت نکھرتی چلی جاتی ہے‘‘۔۔۔(ص۳۳)

راغب مراد آبادی کی شاعری میں خیال کی پاکیزگی، سنجیدہ اور متین اسلوب، زبان کی سلاست اور بیان کی روانی ملتی ہے حمد و نعت میں بھی ان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں اور اپنی سعی وریاضت سے انہوں نے ان اصناف میں معنوی اضافہ کیا ہے۔ اسلامی روح اور عشقِ رسولa کی نعمت سے خدا نے انہیں نوازا ہے۔ حمد و نعت میں ان کا بیش بہا سرمایہ ہنوز چار تصانیف پرمشتمل ہے۔ مدحت خیرالبشر (۱۹۷۹) مدحِ رسول ( ۱۹۸۳) بحضور خاتم الانبیا (۱۹۸۵) اور بدر الدجی ( ۱۹۹۱)۔ ( مدحت خیرالبشر میں انھوں نے غالبؔ کی ۶۳ غزلوں پر نعتیں کہی ہیں۔ غالبؔ کی مصرعوں کی تضمین نہیں کی صرف زمینوں کو برتا ہے اور اس انوکھے اور عمدہ تجربے کے حوالے سے نعت گوئی میں خوشگوار اـضافہ کیا ہے۔ ان کے بعض اشعار میں آیات و احادیث کی تفہیم ملتی ہے۔ 

بقول کشفی صاحب ’’ وہ مقصد بعثت اور عالم انسانیت پر حضورa کے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے اتباع اسوئہ حسنہ کے فیوض و برکات کو شاعرانہ زبان میں بیان کرتے ہیں۔‘‘ مثلاً:

سیرت خیرالوریٰ سے سیکھ لے وہ خدوخال

جس کے دل میں شوق ہو قرآن کی تفسیر کا

عقل انسانی احاطہ کر نہیں سکتی کبھی

داعی اسلام کے احسان عالمگیر کا

ابرار کرتپوری کی ’’مدحت ‘‘ ۹۲ نعتوں پر مشتمل ہے۔ اسے غالبؔ اکیڈمی نئی دہلی نے ۱۹۹۲ء میں شائع کیا۔

ابوالفیض سحر اپنے تعارفی مضمون میں کہتے ہیں:’’یوں تو غالبؔ کی زمینیں اپنی مشکل پسندی اور اختراعی شکوہ کی وجہ سے بھی اہم رہی ہیں اور اسی وجہ سے بھی سخنوری کے کمال کے امتحان کی کسوٹی اور اساس بھی قرار پاتی ہیں۔ اسی رویے اور رجحان نے شاید ابرار کرتپوری کو اپنے سحر میں لے لیا اور ابرار صاحب نے بڑی خوبی اور فنی مہارت اور ندرت کلامی سے غالبؔ کی ہر طرح کی چھوٹی بڑی زمینوںمیں نعتیں کہی ہیں۔ بلاشبہ یہ ان کے کمال ہنر مندی کی دلیل بھی ہے۔‘‘ (ص ۶)

ِِکتاب کے آغاز میں ورفعنالک ذکرک کے حوالے سے قرآنی آیات کا اندراج ہے اور نعت گوئی کی ضرورت اور اہمیت واضح کی گئی ہے۔ حضور کا شجرہ مبارک ہے۔ اسمائے مبارک درج ہیں ارشادات عالیہ، چالیس احادیث، شاعری اور رسول اکرم کے عنوانات سے مفید نثری تحریریں ہیں۔ چند شعرائے عرب کے نعتیہ اشعار شامل تصنیف کیے گئے ہیں۔ چند اردو شعرا کی نعتیں درج ہیں اور کتاب میں ص ۴۷ سے ص ۱۴۳ تک ابرار کرتپوری کا نعتیہ کلام موجود ہے۔

ابرار کرتپوری کی نعتیہ شاعری میں عقیدت کی سرشاری اور صداقت کی تاثیر موجود ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فضائل اور مکارم اخلاق کا بیان حضورa کے ارشادات و تعلیمات کا ابلاغ اور حضورa کی نبوت کی عالم انسانیت پر برکات کا ذکر ہے۔ حاضری اور زیارت کی آرزو اور ذوق عقیدت کے مضامین نمایاں ہیں۔ بیان میں سادگی اور دل کشی کے اجزا ہیں، مثلاً:

معرفت آپ کی ہے واقف یزداں ہونا

بخت امت کا ہوا صاحب ایماں ہونا

رحمت و خیر دو عالم ہیں ہمارے آقا

ان کی ہر بات میں ہے خیر کا امکاں ہونا

ایاز صدیقی کی نعتیہ تصنیف ثنائے محمد ۱۹۹۳میں روحانی آرٹ پریس ملتان سے شائع ہوئی۔ یہ ۹۲ نعتوں پر مشتمل ہے۔۔۔ جہاں تک نعت گوئی کے اسلوب کا تعلق ہے، صدائوں کے ہجوم میں ایاز صدیقی کی آواز سب سے الگ، سب سے یکتا اور سب سے منفرد سنائی دے گی۔۔۔ لفظوں کا چنائو اور شعر میں ان کا قرینہ معنوی،لفظی تراکیب کی ایجاد جس سے نئی معنویت کی خوب صورت پیکر تراشی ہوتی ہے۔۔۔ ان کی نعت کا رشتہ حسن روایت سے بھی مستحکم ہے اور عصری تقاضوں کے مطابق موضوعاتی اور اسلوبیاتی جمال سے بھی بہرہ ور۔۔۔ نیز مستقبل میں ہماری نعت فکر و اظہار کا جو پیرایہ اختیار کرے گی اس کے امکانات بھی ان کے یہاں جھلملاتے ہیں۔ ایاز صدیقی نے غالبؔ کی غزلوں پر نعتیں کہیں تو گویا اپنی پرواز کے لیے ایک الگ فضا کا تعین کر لیا وہ فضائے نعت میں اُڑے ہیں اور بڑی شان سے اُڑے ہیں۔ انھوںنے کامیاب نعتیں کہیں۔ ہم ان کی اس خصوصیت کا لازماً ذکر کریںگے، انھوںنے غالبؔ کے جس مصرع غزل پر گرہ لگائی یعنی اس کی تضمنین کی اسے اس طرح نعت کے سانچے میں ڈھالا کہ غالبؔ کے غزلیہ مصرع کا مزاج ہی بدل گیا۔۔۔ دو تین مثالیں دیکھیے:

آقا نے مجھ کو دامن رحمت میں لے لیا

میں ورنہ ہرلباس میں ننگ وجود تھا

نبیؐ کے ہجر میں رونا بھی عین راحت ہے

مری نگاہ میں ہے جمع و خرج دریا کا

مشاطگیٔ باغ جہاں آپ ہی سے ہے

بے شانہ صبا نہیں طرہ گیاہ کا

اسی انداز کا حسن و جمال ایاز صدیقی کی تمام نعتوں سے جلوہ فشاں ہے۔

بشیر حسین ناظم کی نعتیہ تصنیف جمال جہاں فروز ۱۹۹۸ء میں فریدیہ پرنٹنگ پریس کراچی نے چھاپی۔ یہ غالبؔ کے تمام دیوان غزل پرکہی گئی نعتوں کا مجموعہ ہے۔

بشیر حسین ناظم کے نعتیہ اسلوب کی ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ وہ زبان اردو میں فارسی اور خصوصاً عربی کا الفاظ تراکیب لفظی اور اصطلاحات کو شعوری سطح پر داخل کر رہے ہیں اور انھیں اردو کے شعری مزاج کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کا یہ لفظیاتی نظام اصل میں زبان اردو کا لسانیاتی توسیعی منصوبہ ہے۔ جس کے وسیلے سے وہ عربی اور فارسی جیسی اہم زبانوں کو ہمارے دینی اور تہذیبی احیاکے لیے استعمال کر رہے ہیں وہ شعوری طور پر ہمیں یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہمیں اپنے ادب کے اسالیب اور اظہارات میں خصوصاً عربی کے لائق تحلیل اجزا کو ضرور جذب کر لینا چاہیے تاکہ ایک طرف تو اردو و سعت پزیر ہو اور اس کے اظہاری امکانات میں اضافہ ہو اور دوسری طرف بحیثیت ہم مسلمان اپنی دینی زبان سے رابطہ بحال کرسکیں۔ ان کے نعتیہ اسلوب میں اردو کے ساتھ ساتھ عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت اور وفور ہے لیکن ان کا سلیقہ شعری اس غضب کا ہے کہ دونوں بلکہ تینوں زبانوں کے الفاظ ان کے مزاج شعری میں پوری طرح ممزوج ہوجاتے ہیں۔ ان کے فن اور فکرو خیال کی اساس علمی ہے اور ان کے یہاں اول سے آخر تک عالمانہ شعور کی اساس پر ادبی اسلوب کا تلازمہ ملتا ہے۔۔۔ رہی موضوعات، مضامین کی بات، ان کی نعتیں تنوع سے مالا مال ہیں، مثلاً:

نہ پوچھ مجھ سے مرے مطمح تمنا کا

کی اس کی ذات ہے مصدر دم مسیحا کا

 جو مستوار شراب لقائے احمدؐ ہیں

چلا نہ ان پہ کبھی سحر جام و صہبا کا

اب ہم یہ چاہیں گے کہ غالبؔ کی ایک غزل کے حوالے ان پانچ شعرا کی نعتوں کے پانچ پانچ اشعار درج کریں تاکہ جہاں ایک جانب غالبؔ کی زمین میں ان کی فلک پیمائیاں ہمارے سامنے آسکیں وہیں ہم ان کے اپنے اسالیب اور طرز ہائے کلام کا مشاہدہ کرسکیں:

غالبؔ کی غزل: نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا۔

ساجد اسدی:

ہے درخشاں ایک پہلو یہ مری تقدیر کا

واسطہ ہے ان کی رحمت سے مری تقصیر کا

خواب میں دیکھا تھا جاتا ہوں مدینے کی طرف

منتظر مدت سے ہوں اس خواب کی تعبیر کا

لکھ دیا قسمت میں میری عشق محبوب خدا

ہوں بہت ممنون منت کا تب تقدیر کا

جاں لبوں پر آگئی ہے، لیجیے اب تو خبر

یا رسولؐ اللہ اب یارا نہیں تاخیر کا

خواب ہی میں اس کو دکھلا دیجیے جلوہ حضورؐ

وقت آخر آگیا ہے ساجد دل گیر کا

راغب مراد آبادی :

مدحت خیر البشرؐ اعجاز ہے تحریر کا

یہ بھی اک انداز ہے قرآن کی تفسیر کا

سیرت خیر الوریٰؐ کے دیکھ لے وہ خد و خال

جس کے دل میں شوق ہو قرآن کی تفسیر کا

زلزلے کیا قلعہ اسلام سے ٹکرائیں گے

سنگ بنیاد آپ نے رکھا ہے اس تعمیر کا

جو بہ ہر انداز ہوں، شایان شان مصطفیؐ

لفظ ایسے ڈھونڈنا لانا ہے جوئے شیر کا

بھیجتا ہوں روز و شب راغب محمدؐ پر درود

مل گیا قرآن میں نسخہ مجھے اکسیر کا

ابرار کرتپوری:

ارتقا کا، روشنی کا، خواب کا، تعبیر کا

دین احمدؐ راستہ ہے سر بسر تعمیر کا

آئیے اب چاند تاروں پر کمندیں ڈال دیں

آیۂ قرآں میں ہم کو حکم ہے تسخیر کا

عظمت انساں بھی ہے معراج کی بے مثل شب

اور کمال ارتقا سائنس کی تدبیر کا

آپ کے کردار کا سکہ جما ہے ہر طرف

دو جہاں میں غلغلہ ہے خلق کی تاثیر کا

بھیجتا ہے خالق اکبر محمدؐ پر درود

ہے علم اونچا مرنے سرکار کی توقیر کا

ایاز صدیقی:

ِِِِِِِِِِِِِِِِمعجزہ ہے آیہ والنجم کی تفسیر کا

ایک اک نقطہ ستارہ ہے مری تحریر کا

 

کب مجھے بلوائیںگے آقا حریم قدس میں

خواب ہستی منتظر ہے جلوہ تعبیر کا

آہ غم دل سے اٹھی اور باب رحمت کھل گیا

میں نے دیکھا ہے یہ منظر آہ کی تاثیر کا

جنت خواب تمنا ہے مدینے کا خیال

شہر رنگ و بو علاقہ ہے مری جاگیر کا

خاک ہو کر راہ طیبہ میں بکھر جائوں ایاز

یہ حسیں رخ ہے مری تخریب میں تعمیر کا

بشیر حسین ناظم :

 غلغلہ ہے ہر طرف اس حسن عالم گیر کا

مصدر و مطلع ہے جو آفاق کی تنویر کا

نغمہ صل و سلم ہے ضیائے قلب و جاں

بسملہ تزئین و غارہ ہے رخ تحریر کا

پی لیا میں نے بلیٰ کے بعد خم تنعیت کا

ہمسر کیواں ہوا کوکب مری تقدیر کا

خطرہ اہلاک دنیا ٹل گیا ان کے طفیل

ورنہ ساماں ہو چکا تھا خلق کی تدمیر کا

دید رخسار نبیؐ سے جان میں جاں آگئی

میں تھا ناظم عکس بس دیوار کی تصویر کا

      نوٹ :               ڈاکٹر عاصی کرنالی کا یہ مضمون ’’نعت رنگ‘‘ شمارہ ۱۲ میں شائع ہونے والے گوشۂ غالبؔ کے لئے لکھا گیا تھا جو اکتوبر ۲۰۰۱ء میں طباعت کے مراحل سے گزرا۔ اُس وقت سے اب تک غزلیاتِ غالبؔ کی زمینوں میں شائع ہونے والے مجموعہ نعت میں دو اہم اضافہ ہوئے ہیں۔

                               (۱) ’’شہِ لولاک‘‘ از امان خان دل ، مطبوعہ ۲۰۰۶ء، ناشر : نعت ریسرچ سینٹر، کراچی                                   (۲) ’’جوآقا کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں‘‘ ریاض ندیم نیازی، ۲۰۱۵ء، ماورا بکس، لاہور (ص ر)


تحریر: ڈاکٹر عاصی کرنالی

 

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR