نعت پر اپنے مضامین میں، میں نے اکثر یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ جب بھی شاعر محدود سے لامحدود کی طرف سفر کرتا ہے تو وہ حمد اور نعت کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اکثر تو شاعر کو خود بھی اپنے اس سفر کی خبر نہیں ہوتی۔
’’گنجینۂ معنی کا طلسم‘‘ میں حضرت احسان دانش کے ایک شعر کے حوالے سے یہ بات کہی گئی ہے اور غالب کے اس شعر کے حوالے سے بھی کہ:
زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
ماضی کی طرح آج بھی زیادہ تر نعتیں غزل کی صنف اور ہیئت میں کہی جا رہی ہیں۔ اس کے اسباب پر بھی راقم الحروف گفتگو کرچکا ہے۔ میری معروضات ’’نعت رنگ‘‘ کے شماروں اور مختلف نعتیہ مجموعوں پر میرے مقدمات اور پیش لفظ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو غزل کی ایمائیت اور اشاریت بھی ہے جو حرفِ دل کی ادائیگی کے لیے اسالیب تراشی ہے۔ غزل کو اردو شاعری کی ’’آبرو‘‘ کہا گیاہے۔ غزل کو ’’حیات و کائنات کا ہمہ گیر اور کل شناس آئینہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ذرا سا تامل کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ غزل کی تفہیم کے لیے نہایت تربیت یافتہ اور مہذب ذہن درکار ہے اور دوسری طرف غزل اپنی اوّلین سطح پر ہر پڑھنے والے کے لیے کچھ نہ کچھ معانی اور مفہوم رکھتی ہے۔ یہ وہ در ہے جہاں سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ بعض حضرات شاید اس مضمون میں میری تفہیم کو تسلیم نہ کریں اور میری تاویلات کو میرے عقیدے کا نتیجہ قرار دیں مگر وہ اس نکتے کو بھی سامنے رکھیںکہ میں نے جو کچھ عرض کیا ہے، شاعروں کی پوری شخصیت، ذہنی پس منظر اور زندگی کی روشنی میںعرض کیاہے اورساتھ ہی غزل کی ایمائیت اور رموزکا پورا احترام بھی ملحوظ رکھا ہے۔
اچھی غزل ایک اکائی اور وحدت ہوتی ہے۔ آپ غالب کی کسی غزل کو لے لیجیے اور بات صرف غالب تک محدود نہیں ہے، کسی بھی بڑے یا اچھے شاعر کی غزل کو لے لیجیے اور اس کے اشعار کی ترتیب بدل دیجیے یقینا غزل کی وحدت متاثر ہوگی اور یہ اکائی ٹوٹ جائے گی یا مجروح ہوگی۔ پھر غزل کی اس گیرائی اور گرفت کو کیا نام دیا جائے کہ اس کا ہر شعر ایک اکائی اور وحدت ہوتا ہے۔ غزل کے ایک شعر میں بڑے تجربے یوں سمٹ آتے ہیں جس طرح آسمان آنکھ کی پتلی میں سما جاتا ہے۔ آنکھ اور آسمان کے استعارے کو بدلنا چاہیں تو یوں کہہ لیں:
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند
غزل کے اشعار ایک وحدت ہونے کی وجہ سے ذات کی پہنائیوں میں بھی اپنے آپ کو دہراتے ہیں اور خلوت و جلوت میں ہونٹوں پر آجاتے ہیں۔ کبھی آدمی اپنے آپ کو شعر سناتا ہے اور کبھی محفلِ یاراں میں اپنے تجربے اور اپنی کیفیت میں دوسروں کو شریک بناتا ہے۔
نبی اکرم سے مسلمان کا رشتہ بہت سادہ، بہت پیچیدہ، بہت ہمہ جہت ہے۔ وہ ہمہ جہت رشتہ بھی زندگی کی واحد جہت بن جاتا ہے۔ روح کی وادیوں میں آپ کا نام گونجتا رہتا ہے۔ کبھی صلوٰۃ و سلام میں، درود کے تسلسل میں، کبھی اسم گرامی خود ہی درود بن جاتا ہے۔
رکھتے ہوئے قدم مری آنکھوں پہ کیوں دریغ
رُتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
(غالب)
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
(غالب)
تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ
تیرے پیمانے میں ہے ماہِ تمام اے ساقی
(اقبال)
دلوں کو فکر دوعالم سے کردیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
(حسرت موہانی)
ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک
ہر حرف تمنا ترے قدموں کی صدا ہے
(فیض)
اس دل میں رہ چکی ہے تمنا گناہ کی
یہ دل ترے خیال کے قابل نہیں رہا
(جمیل نقوی)
اوپر جو شعر درج کیے گئے ہیں ان میں حضرت ختم المرسلین کا کوئی نام استعمال نہیں کیا گیا ہے لیکن معنوی قرائن، لامحدود کی طرف سفر، شعر کا خیال اور شاعر سے ہماری واقفیت ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ یہ نعت کے شعر ہیں۔ ’’ورق تمام ہوا‘‘۔۔۔ غالب نے یہ شعر تجمل حسین خاں کے لیے اپنی مدحیہ غزل میں کہا تھا مگر یہ ملبوس شعری، خاں صاحب کے قد سے کہیں بڑا تھا اور یوں زبانِ خلق نے اس شعر کو نعت کا شعر بنایا۔ اسی غزل کا ایک اور شعر تو آپ نے ذکرِ رسولِ اعظم کی محفلوں میں اکثر مقررین کی زبان سنا ہوگا:
زباں پہ بارِ خدا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
بے چارے تجمل حسین خاں اس شعر کا مصداق کب ہوسکتے تھے، اسی لیے ہمارے اجتماعی ذوقِ شعری نے اس شعر کو خراجِ تحسین کا وسیلہ اور ذریعہ بنا کر سرکارِدوعالم کی بارگاہِ عالیہ میں پہنچا دیا اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھیے گا کہ شاعر جو کچھ کہتا ہے خود اس پر اس کے مکمل معانی منکشف نہیں ہوتے۔
غالب نے اردو غزل کے حدود کی توسیع کی اور اردو غزل کو زندگی کا قدِ آدم آئینہ بنا دیا۔ اس آئینے کا جوہر ذکرِ فخرِ نبیٔ آدمؑ ہے۔ غالب کی ذہنی اور فکری دنیا کی تعمیر اسی ذات سے ہوئی ہے۔ غالب نے مرتبۂ نبوت کو جس طرح سمجھا اور اپنے ایک فارسی شعر میں بیان کیا ہے اس کی کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری۔ صنفِ نعت کا وسیع مطالعہ رکھنے والوں سے بھی میں نے سوال کیا مگر وہ بھی کسی ایسے شعر کی نشان دہی نہ کرسکے جو غالب کے اس شعر کے مقابل پیش کیا جاسکے:
تیر قضا ہر آئینہ از ترکشِ حق است
لیکن کشودِ آں ز کمانِ محمدؐ ست
قضا کا، تقدیر کا، امر کا ہر تیر اللہ کے ترکش سے چلتا ہے لیکن محمد رسول اللہ کی کمان سے۔۔۔ یہاں حضور ادارۂ نبوت کے نمائندہ بن جاتے ہیں۔ یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اس میں ہر واقعے کے ساتھ سبب اور علت وابستہ ہوتا ہے، ہاں مگر جب اللہ چاہے تو یہ سبب بھی درمیان سے ہٹ جاتا ہے۔ دنیا میں انسان کی تقدیر کی اصلاح اور تعمیر کا کام رسولوںکے ذریعے ہوتا ہے اور حضورa تو قیامت تک کے لیے زندہ ذریعہ اور وسیلہ ہیں۔
غالب کے اس شعر سے سورۃ النجم کی آیت ذہن میں آجاتی ہے:
فکان قاب قوسین او ادنیٰ
اگرچہ یہ جبریل امین علیہ السلام اور رسولِ امین کی قربت کا ذکر ہے۔ مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ جبریلؑ وحیٔ الٰہی کی ترسیل کا سب سے اہم وسیلہ تھے۔ جبریلؑ اپنی صورتِ اصلیہ میں سرورِ دنیا و دیں کے اتنے قریب آگئے کہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔ اس اظہار کے ساتھ عربوں کی ایک عادت، روایت اور رسم وابستہ ہے۔ جب دو شخص انتہا درجے کی قربت اور اتحاد آپس میں قائم کرنا چاہتے تھے تو اس کے اظہار کے لیے اپنی کمانوں کے چلوں کو ملا لیتے تھے۔ یوں سمجھئے کہ دو کمانوں سے ایک تیر چلائے جانے کا امکان حقیقت بن جاتا۔ جبریلؑ امیں کی یہ قربت حق تعالیٰ اور نبیٔ محترم کے قرب کا استعارہ ہے۔
’’کارِجہاں‘‘ کے سلسلے میں اللہ اور رسول کی قربت اور ہم کاری دوسرے استعاروں کی مدد سے بھی قرآن حکیم میں پیش کی گئی ہے، مثلاً:
وما رمیت اذ رمیت والکن اللّٰہ رمی (سورۃ الانفال: آیت۱۷)
جب معرکۂ بدر گرم تھا تو جبریلؑ امیں کے کہنے سے حضور نے مٹی اور کنکروں کی تین مٹھیاں کفار کے لشکر کی طرف پھینکیں اور ان مٹھیوں کی مٹی اور کنکر اس طرح پھیلے کہ دشمنوں میں سے کوئی ایک فرد ایسا نہ رہا جس کی آنکھوں اور چہروں پر یہ کنکر اور یہ مٹی نہ پڑی ہو۔ اس معجزے سے دشمن کی صفیں منتشر ہوگئیں، ان کے قدم اُکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔
غالب کا یہ شعر اللہ اور رسول کے اسی اتحاد، اسی رشتے، رفیقِ اعلیٰ اور اس کے رفیق کے اسی تعلق کی دستاویز ہے۔ فارسی میں غالب کی باضابطہ نعتیں موجود ہیں جن میں سے اُس نعت کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ہے جس کے ایک شعر پر گفتگو آپ نے ملاحظہ کی۔ آج ہمارے معاشرے میں فارسی کا ذوق ختم ہوجاتا جا رہا ہے اور فارسی کی تعلیم کی طرف کم توجہ دی جا رہی ہے مگر غالب کی یہ فارسی غزل ہمارے عام آدمی کے لیے بھی اجنبی نہیں اور ہمارے نزدیک یہ بات دربارِ رسالت میں اس کی مقبولیت کا اشارہ ہے:
واعظِ حدیث سایۂ طوبیٰ فرو گزار
کایں سخن ز سروِ روانِ محمدؐ ست
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐ ست
اردو میں غالب نے کوئی باضابطہ نعت نہیں کہی، لیکن ان کی غزلیں سیّدالابرار شہِ دوسرا کا ذکر اپنے دامن میں رکھتی ہیں۔ غالب کے خطوط اور فارسی کلام ان کی شخصیت پر دین کے اثرات کا آئینہ دار ہیں۔مسائلِ تصوف کو اپنے فن سے اعلیٰ درجے کی شاعری مںی ڈھالنے پر غالب کو ناز تھا۔ تصوف کے زیرِاثر غالب تجلیٔ رب اور ظہورِ کائنات کے مسائل پر غور کرتے ہوئے وجودِ مصطفوی کو ظہور کا سبب قرار دیتے ہیں:
منظور تھی یہ شکل، تجلی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رُخ سے ظہور کی
جنت کے موضوع پر غالب کے شعر ضرب المثلی کے درجے پر پہنچ چکے ہیں۔ شوخیٔ اندیشہ، فردوس اور دوزخ کے درمیان ہر ’’حد‘‘ اور ’’خط‘‘ کو مٹانے کے درپے نظر
آتی ہے:
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں یارب
سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
لیکن غالب جنت کے منکر نہیں، اس دنیا کے رند کو اُس دنیا میں بھی رحمتِ حق کی بنا پر شراب ملنے کی اُمید تھی۔ مگر غالب کے نزدیک جنت کی معنویت اسی صورت میں اُبھر کر سامنے آسکتی تھی کہ وہ کسی کی جلوہ گاہ ہو۔ غالب نے دعائیہ انداز میں یہ مضمون باندھا ہے۔ یہ ندرتِ اُسلوب کی مثال ہے ورنہ اسے یقین تھا کہ جنت جلوہ گاہِ مصطفویa ہونے کی وجہ سے ہی اہلِ ایمان کے لیے جنت ہے:
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
لیکن خدا کرے وہ تری جلوہ گاہ ہو
عہدِ غالب میں بھی میلادالنبی مسلمانوں کا اہم جشن اور تہوار تھا۔ حضور کی ولادت اور تشریف آوری اُس عہد کے بہت سے شاعروں کا موضوع تھی۔ میلاد ناموں کے علاوہ شعری مجموعوں میں بھی ایسا کلام نظر آتا ہے۔ مرزا کا ایک شعر ہمیں ۱۲؍ربیع الاوّل کی صبح کا بیان معلوم ہوتا ہے:
یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
کہ غیر جلوۂ گل، رہ گزر میں گرد نہیں
غالب کے نفسِ گرم کی حدت سے لفظ پگھل کر اپنے معانی روشن اور ظاہر کردیتے ہیں۔ غالب کا دعویٰ ہے کہ جو لفظ ان کے اشعار میں آتا ہے وہ گنجینۂ معنی کا طلسم بن جاتا ہے۔ غالب نے خونِ جگر کے ایک ایک قطرے ہی کا حساب نہیں دیا، انھوںنے جو لفظ بھی شعر میں استعمال کیا اس کا حساب بھی اپنی معنویت اور فنی کمال کی صورت میں دیا ہے۔اگریہ کسی اور’’محبوب‘‘کی آمد کا ذکر ہوتا تو غالب ’’بہشتِ شمائل‘‘ کے الفاظ استعمال نہ کرتے، ’’بہارِ شمائل‘‘ یا ایسا ہی کوئی دوسرا اظہار ہمیں اس شعر میں ملتا ہے اور یہ رہ گزر تاریخ اور زندگی کی رہ گزر ہے۔ ’’جلوۂ گل‘‘ میں اس صبح سعادت آثار کی تمام کیفیت سمٹ آئی ہے ورنہ تاریخ کی رہ گزر جلوۂ گل اور خاک دونوں کا بہ یک وقت نظارہ پیش کرتی رہی ہے۔
غالب کی نہایت مشہور اور نمائندہ غزل ہے ’’نہیں ہوں میں‘‘ جس کے کئی شعر دہرائے جاتے ہیں۔۔۔ گفتگو میں، تنقیدوں میں، مطالعۂ غالب میں اور ہماری تنہائیوں میں:
کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں میں
اس غزل میں تین شعروں میں سرکارِ ختمی مرتبت سے تخاطب ہے۔ اس نکتے کو غالب نے ہمارے لیے حل کیا۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ یہ تخاطب کس سے ہے اور غالب نے جواب میں سوال کرنے والے سے سوال کیا کہ آخر وہ کون ہے جس کی نظروں میں لعل و زمرد و زر و گوہر کی کوئی وقعت نہیں تھی، جس نے فقر کو اپنا فخر قرار دیا۔ وہ کون تھا جس نے مہر و ماہ پر قدم رکھا اور اس کا یہ شرف معراج کہلایا۔ وہ کون تھا کہ آسمان کو جس کی قدم بوسی کی سعادت حاصل ہوئی۔ شعر ملاحظہ ہوں۔ نعتیہ ادب میں ایسی کوئی چیز تلاش کرنا، فعل رائگاں ہوگا۔ غالب کی عظمت اور انفرادیت غزل کے ان نعتیہ اشعار میں نمایاں ہے:
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
رکھتے ہوئے قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رُتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کے لیے
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
یہ لہجہ، شاہِ دوراں اور سلطانِ مدینہ سے یہ قربت، وقار و تمکنت کے ساتھ دل گرفتگی کا یہ اظہار۔۔۔ کہیں اور کیوں ملنے لگا؟ اتنا ظرف کس میں ہوگا۔ غالب اپنے اُمتی رسول ہونے پر ہمیشہ نازاں رہے اور اس سے زیادہ سچا ناز اور کون سا ہوگا۔ اسمِ پاک محمد سے وہ ہر بند دروازے کے کھل جانے پر یقین رکھتے تھے:
اس کی اُمت میںہوں میں، میرے بھی رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہ کے غالب گنبد بے در کھلا