غالبؔ کی اُردو شاعری میں  مضامین نعت کا فقدان

غالبؔ کی اُردو شاعری میں مضامین نعت کا فقدان

غالبؔ نے اپنے چھوٹے سے اردو دیوان میں شعر یاتی کائنات بنائی جس کو دُنیا نے سراہا اور اس کے پیچیدہ شعروں کو سمجھنے کی کوشش کیں جو آج بھی جاری ہیں۔ غالبؔ کے دیوان میں غزل کے شعروں میں نعتیہ مضامین بھی کہیں کہیں سے ڈھونڈ نکالے لیکن وہ شعر تمام اہل فکر و نظر کے لیے نعت کے نہیں ہیں۔ ظاہر ہے غالبؔ نے بالقصد کم ازکم اردو میں کوئی نعت کہی ہی نہیں۔راقم الحروف نے اس موـضوع پر سوچا توایک عجیب منظر نامہ بنا۔ میں وہی منظرنامہ حوالۂ قرطاس کرنا چاہتا ہوں۔

غالبؔ کی فکری روش کے حوالے سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ کم ازکم دہریانہ تھا، بلکہ توحید وجودی کا اس قدر قائل تھا کہ اپنی ہستی کو وہم اور عالم کے وجود کو حلقہء دام خیال سمجھتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ غالبؔ شرک فی الوجود سے ہمیشہ بچتا رہا۔ اس کے علاوہ غالبؔ کی نثری تحریروں میں حب رسالت کے شواہد بھی ملتے ہیں۔ فارسی نعت بھی غالبؔ کے تصور رسالت کو بے داغ ظاہر کرتی ہے۔ اردو غزل کے مطلع کے طور پر جو ایک شعر غالبؔ سے ہوا ہے وہ اتنا بھرپور اور بھاری بھر کم ہے کہ حقیقت محمدیہ  پر اس سے بہتر شعر شاید ہی کوئی ہو۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیے اور میرے بیان کی صداقت پر غور کیجیے:

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

قسمت کھلی ترے قدورخ سے ظہور کی

لیکن مطلع کہنے کے باوجود غالبؔ نے نعت نہیں کہی بلکہ دوسرے شعر ہی سے وہ غزل کی سطح پر آگیا۔ حالاںکہ تخلیقی ذہن رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ شعرا اگر نعتیہ مضمون سے مطلع کہتے ہیں تو مقطعے تک نعت ہی کہتے ہیں۔مطلع کے علاوہ اگر غزل کے کسی شعر میں نعتیہ مضمون بندھ ہوجاتا ہے تو ضروری نہیں کہ اگلے اشعار بھی نعت ہی کے ہوں۔ لیکن غالبؔ اتنا بھرپور مطلع کہنے کے باوجود نعت کہنے کا موڈ نہیں بنا سکا۔

اس رویے سے غالبؔ کے تخلیقی منہاج کی یہ کم زوری سامنے آتی ہے کہ وہ حبِ رسالت کے جذبے کو جزو ہنز بنانے سے قاصر تھا اسی لیے اس نے قافیے کی سہولت اور مضـمون کی بے ارادہ بنت کو کم ازکم نعتیہ مضامین کی حد تک غزل میں آمد ہی کو کافی سمجھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟۔۔۔ اس کیوں کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ذرا دور جانا ہوگا۔

غالبؔ رند مشرب تھا اور رند مشرب لوگ عموماً خود کو احساس گناہ سے نہیں بچاپاتے ہیں اس لیے اگر وہ شاعر پیشہ ہوتے ہیں تو مذہبی حوالوں سے کم کم ہی اپنے شعروںکو سجاتے ہیں؟ لیکن غالبؔ تو توحید ی مضامین بہت باندھتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ اللہ کے معاملے میں غالبؔ بے باک ہے اور رسول کے معاملے میں احساس گناہ سے حد درجہ مغلوب؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ غالبؔ وحدۃالوجودی تھا اور اپنے اور کائنات کے وجود ہی کو معدوم جانتا تھا۔ اپنی نفی کرکے جب وہ رب تعالیٰ کا اثبات کرتاتھا تو اس پر وجد طاری ہوجاتاتھا اور وہ ازخود رفتگی کی کیفیت میں فلسفہ بولنے لگتا تھا جو اس کی شاعری کا بنیادی مواد ہونے کی وجہ سے اس کی تخلیقی دانش کا حصہ بن جاتاتھا اور اسے شعر کہنے میں اور شعر کو اپنا مخصوص لہجہ دینے میں کوئی دقت نہیں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ توحیدی (اور بالخصوص وحدۃالوجودی فکر جس کا ویدانت سے گہرا سمبندھ ہے)مضامین بیان کرنے میں غالبؔ کو اپنے مخصوص لہجے اور اپنے تخلیقی مزاج سے ہٹنا نہیں پڑتا تھا، چناںچہ اس میدان میں اس کا توسن فکرسرپٹ دوڑتا تھا۔

محولہ بالا تناظر کو پیش نظر رکھ کر جب ہم غالبؔ کا اردو دیوان کھولتے ہیں تو یہ دیکھ کر کچھ حیرانی ہوتی ہے کہ جس دیوان میں نعت رسول  کو بالارادہ موضوع بنانے کے شواہد معدوم ہیں اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کئی قصیدے موجود ہیں۔ تو کیا غالبؔ نعوذ باللہ حضرت علیؓ کو کوئی مذہبی شخصیت نہیں سمجھتا تھا یاخدانخواستہ وہ حـضرت علیؓ کو جناب رسالت مآب پر کسی قسم کی فوقیت دیتاتھا؟ ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ جی ہاں نہ تو وہ حضرت علیؓ کو کوئی غیرمذہبی شخصیت سمجھتا تھا اور نہ ہی علیؓ کو نبی علیہ السلام پر ترجیح دیتا تھا۔ معاملہ یہ تھا کہ غالبؔ ولایت عامہ اور ولایت خاصہ کا فرق جانتا تھا اور ولایت عامہ میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بہت اونچے مقام پر فائز جانتا اور مانتا تھا۔۔۔ اورخود کو بھی کسی نہ کسی درجے میں ولایت عامہ میں شامل سمجھتا تھا لہذا حضرت علی ؓ کی منقبت کہتے ہوئے وہ عرفانیات میں اپنے احوالی تجربات یاواردات کو تخلیقی رو سے ہم آہنگ کرنے میں سہو لت محسوس کرتا تھا اور یوں حضرت علیؓ کی منقبت اس کے فن کا جزو بن جاتی تھی۔

میری ان باتوں کی تفہیم ذرا مشکل محسوس ہوگی اگر غالبؔ کے تخلیقی مزاج کے حوالے سے یہ بنیادی بات زیر بحث نہ آئی کہ غالبؔ کا تخلیقی رویہ کیا تھا؟ تو جناب یہ جاننے کے لیے بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے محض یہ سمجھ لیجیے کہ غالبؔ نہ توبیانیہ (Narrative) شاعری کا قائل تھا اور نہ روش عام پر چلنا اس کا شیوہ تھا۔ غالبؔ نے

حتیٰ الوسع یہ کوشش کی تھی کہ اس کے دیوان میںیک رخا شعر نہ رہ جائے اس نے بیش تر ایسے ہی شعر دیوان میں رکھے جن کے ایک سے زیادہ معانی برآمد ہوتے ہوں اور جن میں غالبؔ کا مخصوص آہنگ اپنے بھرپور انداز سے سمویا ہوا محسوس کیا جاسکے۔ یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ ایک بیانیہ شعر کا انتساب اپنی ذات سے ہونے کے امکانات کے اندیشے کو بھانپ کر ہی اس نے ’’اسد‘‘ سے ’’ غالبؔ ‘‘ ہونے کے بارے میں سوچا اور اس سوچ پر عمل کیا تھا۔ قاضی عبدالجمیل جنون کو لکھے ہوئے غالبؔ کے خط کا اقتباس ملاحظہ ہو: ’’سنیے، اکثر ایسا ہوتاہے کہ اور کی غزل میرے نام سے لوگ پڑھ دیتے ہیں۔ چناں چہ انھی دنوں میں ایک صاحب نے مجھے آگرے سے لکھا کہ یہ غزل بھیج دیجیے: ع اسد اور لینے کے دینے پڑے ہیں

ِِِِِِِِِِِِِِِِِمیں نے کہا لا حول ولاقوۃ۔ اگر یہ کلام میرا ہو تو مجھ پر لعنت۔ اسی طرح زمانۂ سابق میں ایک صاحب نے میرے سامنے یہ مطلع پڑھا:

اسد اس جفا پر بتوں سے وفا کی

مرے شیر، شاباش رحمت خداکی٭۱

میں نے سن کر عرض کیا صاحب، جس بزرگ کا یہ مطلع ہے اس پر بقول اس کے رحمت خدا کی اور اگر میرا ہو تو مجھ پر لعنت۔ اسد اور ’’شیر ‘‘ اور ’’بت ‘‘اور’’ خدا ‘‘ اور جفا ‘‘ اور ’’وفا‘‘ میری طرزگفتار نہیں ہے۔

اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صنائع بدائع اور لفظی رعایتوں کی بھر مار سے کوئی یک رخا اور محض بیانیہ شعر کہنا نہ تو غالبؔ کا شیوہ تھا اور نہ ہی ایسی شاعری سے اس کی طبیعت کو کوئی مناسبت تھی۔ ایسے ہی اشعار کی اپنی ذات سے نسبت کا اس نابغہ ء روز گار ہستی پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اپنا تخلص ہی بدل دیا۔ غالبؔ کی انفرادیت پسندی صرف فنی معاملات تک محدود نہ تھی بلکہ اس نے اپنا حلیہ تک عام لوگوں کے حلیے سے جدا رکھنے کی شعوری کوششیں کیں۔ مرزا حاتم علی بیگ مہر کو غالبؔ نے لکھا۔۔۔’’اس بھونڈے شہر (دہلی ) میں ایک وردی ہے عام۔ ملا، بساطی، نیچہ بند، دھوبی، سقا بھٹیارہ، جولاہا ، کنجڑا، منہ پر داڑھی، سرپر بال۔ فقیر نے جس دن داڑھی رکھی، اسی دن سر منڈوایا ‘‘۔٭۲

ان مختصر حوالوں سے غالبؔ کی عام زندگی میں عوامی سطح سے خود کو ممیز کرنے کی آرزو اور شاعرانہ لحاظ سے اپنا علیحدہ تشخص منوانے کا شدید جذبہ جھلکتا ہے۔ اس شاعرانہ حسیت کے ساتھ وہ عشق رسول کو کس طرح اپنے لہجہ ء خاص میں شعری پیکر دے سکتاتھا؟ جب کہ اس طرح کی کوششیں عوام میں زیادہ تھیں اور مستند شعرا نے بھی نعت کو محض حصول سعادت کے لیے چند شعروں سے آگے نہیں بڑھایا تھا۔

عوامی حلیہ بیان کرتے ہوئے غالبؔ نے ملا کا ذکر جس حقارت سے کیاہے اس کا اندازہ محولہ بالا خط کے اقتباس سے ہوجاتا ہے۔ ایک شعربھی ملاحظہ ہو

نہ ہم پیا لگیٔ زاہداں بلائے بود

خوش است، گرمے بیغش خلاف شرع نبی است

(اچھا ہوا کہ شراب شرع نبوی کے خلاف ہے ورنہ زاہدوں کے ساتھ بیٹھ کرپینا عذاب ہو)٭۳ شرع نبوی کے بارے میں ایسے خیالات رکھنے والا شخص جناب رسالت مآب کے بارے میں جب کسی ارتجالی اور وقتی قافیہ پیمائی کے جذبے کے تحت کوئی نعت کا شعر کہتا بھی ہے تو وہ ایک ٹھٹھول سے زیادہ نہیں ہوتا۔ مشاہدہ ء حق کی گفتگو ’’بادہء وساغر کہے بغیر ‘‘ نہ کر سکنے کا اعلان کرنے والا نعت کا شعر بھی اس طرح کہتا ہے:

کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میں 

 یہ سوئِ ظن ہے ساقیٔ کوثر کے باب میں ٭۴

اس شعر میں عربی کے لفظ شراب (شربت۔ مشروب ) کو اردو کی شراب(نشہ آور اور بدبودار رقیق شئے) سے ملا کر تجنیس لفظی کے مزے لینے کے عمل نے استحفاف رسالت کی صورت پیدا کر دی۔

غالب نے شریعت کا اکثر جگہ مضحکہ اڑایا ہے مثلاً:

 ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیریں

ہاں منھ سے مگر بادۂ نوشینہ کی بو آئے٭۵

اس شعر کی اہل ادب چاہے کتنی ہی داددیں لیکن شریعت کا پاس و لحاظ کرنے والے اسے شریعت کی توہین ہی سمجھتے ہیں۔

ایسی صورت احوال میں ہمیںغالبؔ کی غزلوں میں وارد ہونے والے ان اشعار کا مطالعہ اور انتساب ’’ نعت‘‘ کے ذیل میں کرتے ہوئے ذرا سے تامل کی ضرورت ہے، مثلاً تجمل حسین خان کے قصیدے میں موجود اس شعر کو اہل ادب بڑے خلوص سے نعت کا شعر سمجھتے ہیں لیکن قرائن یہ کہتے ہیں کہ یہ شعر تجمل حسین خاں ہی سے منسوب تھا۔

زباں پہ بار خدا یا یہ کس کانام آیا؟

کہ میرے نطق نے بو سے مری زباں کے لیے

اس شعر میں ’’تجمل ‘‘ کی ادائیگی کے حوالے سے ہونٹوں کابو سے کی سی شکل اختیار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ اور بوسے کا لفظ غالبؔ نے کہیں بھیErotic sense  یاErotic Reference کے سوا بیان ہی نہیں کیا ہے، مثلاً:

بوسے کو پوچھتا ہوں میں

منھ سے مجھے بتا کہ یوں٭۶

لے تو لو سوتے میں اس کے پاوں کا بوسہ مگر

ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا٭۷

وغیرہ وغیرہ۔

شاعری کی اور بات ہے جس میں ہر خیال تخلیقی عمل کاحصہ نہیں بن سکتا۔ لیکن نثر میں جن خیالات کا اظہار کیا جاتاہے وہ ترسیل خیال اور ابلاغ کے شعور ہی کے ساتھ کیا جاتاہے۔ لہٰذا اس میں نہ تو شاعری کی طرح ایجاز ہوتاہے اور نہ تقلیل الفاظ کے باعث پیدا ہونے والا ابہام اور نہ شعری اسلوب سے وجود میں آنے والی پیچیدگی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی کے نظریات کی چھان پھٹک کے لیے نثر ہی زیادہ موزوں ہوتی ہے۔ غالبؔ نے نثر میں جناب رسالت مآب کے مقام و مرتبے کے بارے میں جہاں جہاں بات کی ہے، وہ بڑی واضح ہے جس کے مطالعے سے مقام نبوت کے ضمن میں غالبؔ کے صحیح خیالات تک رسائی ممکن ہے۔ برہان دکنی کی’’قاطع برھان ‘‘ کے حوالے سے غالبؔ نے لکھا۔۔۔ ’’آب دہ دست درباب الف ممدودہ اسم حضرت ختم المرسلین صلوٰۃاللہ علیہ، قرار دادہ است وایں لفظیست در غایت رکاکت صفت لفظ۔ (ترجمہ: آب دہ دست الف ممدودہ کے ذیل میں حـضرت ختم المرسلین صلوٰۃ اللہ علیہ کا نام نامی قرار دیا ہے اور یہ لفظ نہات درجہ رکیک لفظ ہے) پس غالبؔ منع کرتا ہے برہان دکنی کوکہ لفظ رکیک آں حضرت کے حق میں صرف نہ کر۔۔۔ عرف میں آبدست کس عضو کے غسالے کو کہتے ہیں؟ ہم تو اتنا پوچھ کر چپ ہورہتے ہیں۔ پس ’’آب دہ دست ‘‘ اور ’’دست آب دہ ‘‘ کے معنی وضو کرانے والا ہاتھ دھلانے والا،آب بہ معنی رونق اور دست بہ معنی مسند کا یہاں ادخال محض جہل اور صرف اہمال۔۔۔ یہ تو میرا قول ہے کہ ’’آب دہ دست رسالت‘‘ رسول کو کہ سکتے ہیں۔ ایک بے ادب فقط ’’آب دہ دست ‘‘ کہتاہے اور ہم منہ تکتے ہیں۔ منشی سعادت علی کو نہ علم، نہ فہم۔ اس نے اس قباحت کو نہ جانا، میرزا رحیم صاحب ! افسوس کی بات ہے تم نے اس بیان خاص میں’’قاطع برھان ‘‘ والے کے قول کو کیوں کر مانا؟ ہے ہے سراسر بے پردہ اشرف الانبیا علیہ وآلہ والسلام کی تذلیل اور توہین ہے اور جو پیغمبر کو ایسا کہے، وہ مجموع اہل اسلام کے نزدیک مرتد اور مردود وبے دین ہے۔ بلکہ مخالفین بھی، جو مسلمان پیمبر کو برا کہے، اس کو برا جانیں گے، یقین ہے۔ پس پیمبر کا ’’آب دہ دست ‘‘ نام رکھنے والامورد لعنۃ اللّٰہ وملائکۃ والناس اجمعین ہے۔‘‘٭۸

اس عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ غالبؔ کے دل میں مقام رسالت بہت بلند تھا اور وہ حضور رسالت پناہ کے القاب و آداب میں لفظوں کا بلا استکراہ استعمال ضروری جانتا تھا اور اس ضمن میں بے احتیاطی کرنے والے کو موجب ملامت گردانتاتھا۔

’’سراج المعرفت ‘‘ مولفہ سید رحمت اللہ خاںبہادر، کے دیباچے میں غالبؔ نے لکھا ’’حق یوں ہے کہ حقیقت ازروئے مثال ایک نامہ ، درہم پیچیدہ وسربستہ ہے کہ جس کے عنوان پر لکھا ہے ’’ لاموثر فی الوجود الااللہ ‘‘ اور خط میں مندرج ہے ’’لاموجود الا اللہ ‘‘اور اس خط کالانے والا اور اس راز کا بتانے والا وہ نامہ آورہے کہ جس پر رسالت ختم ہوئی۔۔۔ ’’ختم نبوت کی حقیقت اور اس معنی غامض کی صورت یہ ہے کہ مراتب توحید چار ہیں: آثاری و افعالی و صفاتی و ذاتی۔ انبیائے پیشین صلوٰت اللہ علیٰ نبیناو علیہم، اعلان مدارج توحید سہ گانہ پرمامور تھے، خاتم الانبیا کو حکم ہوا کہ حجاب تعینات اعتباری اُٹھا دیں اور حقیقت نیرنگیٔ ذات کو صورت ’’الان کما کان‘‘ میں دکھا دیں۔اب گنجینۂ معرفت خواص اُمت محمدیہa کا سینہ ہے اور کلمہ لاالٰہ الااللہ مفتاح باب گنجینہ ہے۔ زہے خامیٔ عامۂ مومنین کی کہ وہ اس کلام سے صرف نفی شرک فی العبادۃ مراد لیتے ہیں اور نفی شرک فی الوجود، جو اصل مقصود ہے، وہ ان کی نظر میں نہیں۔ جب لا الٰہ الا اللہ کے بعد محمد رسول اللہ کہیںگے، اس سے اسی توحید ذاتی کے اعتقاد کی قدم گاہ پر آرہیں گے۔یعنی ہمارے اس کلمہ سے وہ مراد ہے جو خاتم الرسلa کا مقصود تھا۔ یہی حقیقت ہے شفاعت محمدی کی اور معنی ہیں رحمۃ للعالمین ہونے کے اور اسی مقام سے ناشی ہے ندائے روح فزائے ’’قال لاالہٰ الااللّٰہ دخل الجنہ‘‘۔۔۔۔قلم اگرچہ دیکھنے میں دو زبان ہے، لیکن وحدت حقیقی کاراز دان ہے۔ گفتگوئے توحید میں وہ لذت ہے کہ جی چاہتا ہے،کوئی سو بار کہے اور سو بار سنے ۔نبی کی حقیقت ذوجہتین ہے: ایک جہت خالق کہ جس سے اخذ فیض کرتا ہے اور ایک جہت خلق،جس کو فیض پہنچاتاہے:

نبیؐ را دو وجہ است ولجوئے خلق

یکے سوئے خالق، یکے سوئے خلق

بداں وجہ از حق بود مستفیض !

بدیں وجہ برخلق باشد مفیض

یہ جو صوفیہ کا قول ہے الولایہ افضل من النبوۃمعنی اس کے صاف ازروئے انصاف یہ ہیں کہ ولایت نبی کی کہ وہ وجہ الی الحق ہے، افضل ہے نبوت سے کہ وہ وجہ الی الخلق ہے۔ نہ یہ کہ ولایت عام افضل ہے نبوت خاص سے، جس طرح نبیa مستفیض ہے حضرت الوہیت سے، اسی طرح ولی مستنیرہے انوار نبوت سے ۔ مستنیر کی تفضیل منیر پر اور مستفیض کی ترجیح مفیض پر ہر گز معقول اور عقلا کے نزدیک مقبول نہیں۔ اب وہ ولایت کہ خاصۂ نبی تھی، نبوت کے ساتھ منقطع ہوگئی، مگر وہ فروغ کہ اخذکیا گیا ہے مشکوٰۃ نبوت سے، ہنوز باقی ہے۔ نقل و تحویل ہوتی چلی آتی ہے اور چراغ سے چراغ جلتا چلاجاتاہے اور یہ سراج ایزدی ظہور صبح قیامت تک روشن رہے گا اور اب اسی کا نام ولایت اور یہی مشعل طریق ہدایت ہے۔‘‘٭۹

غالبؔ کے خطوط اور دیباچے کے اقتباس سے جو نکات برآمد ہوئے وہ آسان زبان میں اس طرح مختصر کیے جا سکتے ہیں:

۱۔            غالبؔ کسی ایسے لفظ کا نبی کی ذات سے انتساب پسند نہیں کرتے تھے جس میں معناً ذم کا پہلو نکلتا ہو۔ (ملاحظہ ہو ’’برہان قاطع‘‘ کی بحث)

۲۔            توحید کے معنی غالبؔ کے نزدیک وہی تھے جو وحدۃ الوجودی فکر کے صوفیا کے نزدیک تھے یعنی وجود صرف اللہ ربّ العزت کا ہے اور جو کچھ نظر آتا ہے یہ اعتباری ہے اصلاً ہے نہیں۔

۳۔            غالبؔ کے خیال میں سب سے بڑا شرک، شرک فی الوجود (یعنی اللہ کے علاوہ بھی کسی شئے کے وجود کو ماننا) تھا۔

۴۔            نبوت کی دو جہتیں ہیں: جہت خالق کے ساتھ نبی خالق سے اخذ فیض کرتا ہے۔۔۔ اور جہت مخلوق کے حوالے سے اخذ شدہ فیض کو خلق تک پہنچاتا ہے، یعنی وہ خالق اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہے۔

۵۔            غالب کے نزدیک نبی کی جہت خالق ’’ولایت خاصہ‘‘ ہے اور چوںکہ اس جہت کا تعلق خالق سے ہے اس لیے یہ جہت، جہت خلق یعنی ’’نبوت‘‘ سے افضل ہے۔

۶۔            نبی کی جہت خلق ’’ختم نبوت‘‘ کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔

۷۔            نبی کی جہت خالق یعنی ’’ولایت خاصہ‘‘ بھی نبی کے ساتھ ہی مختتم ہوئی لیکن اسی صفت ولایت کی عام جہت قیامت تک موجود رہے گی یعنی ’’ولایت عامہ‘‘ تا قیام قیامت جاری رہے گی۔

ان نکات کی روشنی میں ہم اُن قصائد کا مطالعہ کریں جو غالب نے حضرت علی

رضی اللہ عنہ کی شان میں کہے ہیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ ولایت کے استمرار (continuity) کے تصور نے یہ قصائد کہلائے ہیں۔۔۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ولایت کے استمرار میں غالبؔ نے سب سے بلند مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے اور نچلے کسی نہ کسی درجے میں اس نے اپنی ذات کو بھی ولایت کا مصداق پایا ہے۔ حضرت علیؓ کے قصائد میں جو فکری بلندی اور اسلوب کی نادرہ کاری ہے وہ اسی تداخل (personal involvement) کے باعث ہے۔ اس کی مثالیں بھی ملاحظہ فرما لیجیے:

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتاخودبیں

نقش معنی ہمہ خمیازۂ عرض صورت

سخن حق ہمہ پیمانۂ ذوق تحسیں!

عشق بے ربطیٔ شیرازۂ اجزائے حواس

وصل زنگار رخ آئینۂ حسن یقیں

جس قسم کے مضامین غالبؔ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منقبت میں باندھے ہیں اور جس سرشاری کا مظاہرہ کیاہے، نعت میں اس کی گنجائش نہیں تھی اسی لیے اس نے اردو میں کوئی نعت نہیں کہی اور فارسی میں بھی یہ کہ کربری الذمہ ہوگیا:

غالبؔ ثنائے خواجہؐ بہ یزداں گزاشتیم

کآں ذات پاک مرتبہ دان محمدؐ است٭۱۱

معلوم ہوا کہ حساس شعرا جب تک کسی مضمون کو اپنی ذات کے اندر سمو کر شعر کا جزو بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کریں، اس موضوع پر شعر کہنے سے اجتناب برتنے ہیں، کیوںکہ اس طرح وہ محض بیانیہ شاعری کر سکتے ہیں جس کی سطح عام ذہنی سطح سے بلند ہونا محال ہوتاہے اور جو تخلیقی سطح کی وہ بلندی نہیں چھو سکتی جو اعلیٰ شاعری کاطرہ امتیاز ہے غالبؔ چوںکہ شاعری کا ایک بلند آدرش رکھتاتھا اور اپنے شاعرانہ خیال (poetic perception) سے ہرگز ادھر اُدھر نہیں ہونا چاہتا تھا، اس لیے اس نے غزلوںمیں کہیں کہیں بلا ارادہ نعتیہ مضامین کی بنت ہی کوکافی جانا،نعت کہنے کی شعوری کوشش نہیں کی۔ غالبؔ اگر اس طرح کی کوشش کرتاتو کامیاب شاعری کے موقع کم تھے۔ بیانیہ شاعری تو غالبؔ سے ایک سہرے میں نہ نبھ سکی تھی۔ شہزادہ جواں بخت کے سہرے کی سرگزشت، غالبؔ کی ناکامی کی منہ بولتی تصویر پیش کرتی ہے۔خالص اردو شاعری کے معاملے میں ذوق، غالبؔ سے بہت آگے تھا دونوں سہروں کو پڑھ کر اس بات کی صداقت پر یقین ہو ہی جاتاہے۔٭۱۲ حقیقت یہ ہے کہ غالبؔ کے لیے خالص اردو میں (ترسیل خیال اور اپنی فکر کے بھرپور ابلاغ کے شعور کے ساتھ) شاعری کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ شاید اسی کمزوری کو چھپانے کے لیے اس نے یہ کہا تھا:

فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ

بگزر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگ من است 

حواشی

٭۱۔ خطوط غالبؔ مرتبہ غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور (ص ۴۳۷۔۴۳۸)

٭۲۔ ایضاً ص ۱۹۴۔

٭۳۔ شرح غزلیات غالبؔ فارسی، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم،،، پیکیجز لمیٹڈ، لاہور، جلد اوّل (ص۴۴۳)

٭۴۔ نوائے سروش (مکمل دیوان غالبؔ مع شرح )،غلام رسول مہر،شیخ غلام علی اینڈسنز، لاہور ۔ (ص۔ ۷۲۰)

٭۵۔ ایضاً(ص۵۳۸)

٭۶۔ ایضاً (ص۳۹۸)

غنچۂ ناشگفتہ کو دُورسے مت دکھاکہ یوں

بو سے کو پوچھتا ہوں میں، منھ سے مجھے بتا کہ یوں

٭۷۔ ایضاً (ص۱۰۴)

٭۸۔ محولہ بالا نمبر۱۔(ص۵۵۸۔۵۵۹)

٭۹۔ ایضاً (۵۶۵۔۵۶۶)

٭۱۰۔ محولہ ( ۴) بالادیوان غالبؔ، (ص۔۷۵۷)

٭۱۱۔ شرح فارسی محولا بالا۔۔(۳)۔۔۔۔، (ص۔۲۲۷)

٭۱۲۔                      خوش ہواے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا

                              باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا

               (غالبؔ)

                              اے جواں بخت مبارک ترے سر پر سہرا

                              آج ہے یمن وسعادت کا ترے سر سہرا

(ذوقؔ)

دونوں سہرے محمد حسین آزاد کی کتاب’’ آب حیات ‘‘ (شیخ محمد بشیر اینڈ سنز، لاہور۔۔۔ص ۵۰۲۔۵۰۳) میں ملا حظہ کیے جاسکتے ہیں۔ اسی سہرے میں وارد ہونے والی تعلی کے جواب میں ذوق نے سہرا کہا تھا اور غالبؔ نے وہ مشہور معذرت نامہ لکھا تھا جس میں یہ شعر تھا:

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری

کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

یہ معذرت نامہ بھی آب حیات کے محولہ نسخے میں ص ۵۰۴ پر درج ہے۔ 


تحریر: عزیز احسن

 

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR