شاعری کا دار و مدار دیگر لوازمات کے علاوہ علم اور تخئیل پر ہوتا ہے۔ یہی سب سے اہم اور باہم پیوست ہیں۔ علم میں جتنی گہرائی ہوگی تخئیل میں اتنی ہی بلندی ہوگی۔ اس اعتبار سے ہمارے مقبول شاعروں کا جائزہ لیا جائے تو غالب ایک ممتاز اور منفرد مقام پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بعض اشعار کو ناقابلِ فہم قرار دیا جاتا ہے اس میں قصور غالب کا نہیں ہماری نارسائی کا ہے۔ وہ اپنی فکر اور اپنے خیال کی سطح سے اتر کر شاعری کرنا گوارا نہیں کرتے۔ ہم اپنی ذہنی سطح کو بلند کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
غالب نے غزل کے مزاج کو پوری طرح سمجھا ہے اس کے صنفی لوازمات کا احساس کیا ہے ان کی کامل پاس داری کے ساتھ شاعری کی ہے۔ غزل واضح اظہار کا ذریعہ نہیں ہے اس میں رمزیت اور ایمائیت کے پردوں میں بات کی جاتی ہے۔ شاعر کے ہاں کبھی یہ پردے مہین ہوتے ہیں کبھی دبیز! غالب نے دونوں انداز روا رکھے ہیں جہاں پردے مہین ہیں وہاں گویا انھوں نے دوسروں کے لیے شعر کہے ہیں جہاں پردے دبیز ہیں وہاں وہ اپنے ذوق کی تسکین اور ذہنی افتاد کو ملحوظ رکھ کر شعرکہتے ہیں۔ یہ بات غالب کی محدود نہیں لیکن ان کی شاعری کا غالب عنصر علم کی پیاس بجھانے، ذوق کی تسکین کرنے اور اسے اپنی ذہنی افتاد سے کام لینے کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ غزل کا اچھا اور بڑا شاعر وہ ہے جو خود کلامی کے انداز میں شعر کہتا ہے۔
ایسے شاعر فن کی پابندیوں سے بغاوت کرتے ہیں لفظ کو لغات کی قید سے آزاد کرتے ہیں۔ لفظ کے معنی سے پرواہ نہیں کرتے، انھیں نئی نئی معنویت دیتے ہیں گویا ان میں تازہ روح پھونکتے ہیں۔ خود کلامی میں لہجہ دھیما، الفاظ نرم لیکن مفہوم کبھی بھرپور اور کبھی تشنہ ہوتا ہے۔ انھیں عناصر سے غزل مزین ہوتی ہے تشنہ مفہوم کی رعایت سے فقرہ ایجاد ہوا کہ ’’شعر کے معنی بطن شاعر میں ہوتے ہیں‘‘ یوں تو یہ بات درست معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صاحب علم اور صاحب ذوق جو شاعر کے مزاج شاعری سے واقف ہوتا ہے وہ مفہوم تک تھوڑی سی توجہ کے بعد پہنچ جاتا ہے جس شاعری کی شناخت جن انفرادی خصوصیات سے متعین ہوجاتی ہے وہی تشنگی کو دور کرنے اور معنی و مفہوم کی گہرائی تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ برصغیر کے ان شاعروں میں جنھوں نے اردو اور فارسی میں درجۂ کمال کی شاعری کی ہے ان میں غالب ایسا شاعر ہے جس کے کلام کی شرح اساتذۂ فن نے کی ہے کسی دوسرے بڑے شاعر کے کلام کی شرحیں اتنی تعداد میں نہیں ہیں۔ حالی، نظم طباطبائی، بیان یزدانی، حسرت، نیاز اور فرمان جیسے سخن فہم اور شاعر کے مزاج شناس اہل علم نے توضیح و تشریح میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔ ان کے درمیان اختلاف رائے ہے لیکن اس لیے نہیں کہ ایک نے درست سمجھا دوسرا قاصر رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کے فہم کی رسائی جہاں تک ہوئی اسی کے مطابق اس نے شعر فہمی کا حق ادا کیا۔ شارح کی فہم کا دار و مدار بھی اس کے علم اور افتاد طبع پر ہوتا ہے۔ غالب کے بعض اشعار پر شارحین نے ناقابل فہم اور مبہم کی مہریں ثبت کر دی ہیں ان کی وجوہ یہی ہیں ایک یہ کہ شاعر نے خودکلامی میں مفہوم کو غیرمکمل چھوڑ دیا ہو۔ مکمل مفہوم اس کے ذہن میں موجود لیکن الفاظ اس کو گرفت میں لینے کے نااہل ہوتے ہیں اس طرح بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایسے میں ضرورت ہوتی ہے کہ شاعر کے مزاج کے مطابق محذوت کے لیے مفروضات کا سہارا لیا جائے دوسری وجہ شعر کو شاعر کے مزاج کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرنے کے بہ جائے شعر کو اپنے مزاج کے رنگ میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات عام ہے کہ مجاز کے شعر تو حقیقت کی طرف اور حقیقت کے اشعار کو مجاز کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے۔ اسے چاہے غزل کا حسن سمجھا جائے یا خامی لیکن یہ کیفیت عام ہے اس کے لیے پہلے تو شاعر کے مزاج کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے اور دوسرے ایک ایک لفظ پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اشارہ مجاز کی طرف کر رہے ہیں یا حقیقت کی طرف۔ ان دو باتوں کے علاوہ قاری کی افتادِ طبع اس کی حقیقی رہنمائی کرتی ہے جس کیفیت میں وہ شعر پڑھتا ہے اس کے مطابق مفہوم اس کے ذہن میں ابھرتا ہے۔ ایک خاص کیفیت میں اگر ایک شعر مجاز کا معلوم ہوتا ہے دوسری خاص کیفیت میں حقیقت کا معلوم ہوتا ہے (بہ شرط یہ کہ الفاظ واضح رہ نمائی نہ کررہے ہوں) ہر دو صورتوں میں قاری درست ہے اسی طرح حمد و نعت ہی ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں حمد میں نعت کا قیاس ہوتا ہے اور نعت پر حمد ہونے کا گمان۔
ان تمہیدی جملوں میں، میں نے اپنی فہم کے مطابق شعر گوئی اور سخن فہمی کے بنیادی اصولوں کی طرف اشارے کیے ہیں آئندہ مباحث میں ان کو پیش نظر رکھا جائے تو شاید بات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
غالب چاہے مشروط دعویٰ کریں یا غیرمشروط انھیں ولی باور کرنا ممکن نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ وہ ملحد نہ تھے موحد تھے، وہ کافر نہ تھے، گنہ گار تھے۔ ان کو عام انسانوں کی طرح غلطیوں کا خوگر سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ ان کو گنہ گار ہونے کا اعتراف تھا اگرچہ گناہ کا جواز تھا اور نہ ان پر اصرار تھا۔ اگر اشعار میں کہیں بے اعتدالی اور بے راہ روی کا گمان بھی ہوتا ہے اس کی حیثیت شاعرانہ شوخی سے زیادہ نہیں۔ وہ مے نوشی کے عادی اور اس کا اعتراف اشعار میں بھی کرتے ہیں اس معاملے میں ایک گو نہ بے خودی کا ناقابل قبول جواز بھی پیش کرتے ہیں۔ ان لغزشوں کے باوجود ان کا دل صاف تھا وہ روح کی گہرائیوں سے وجود خداوندی کے قائل اور اس کے وحدت پر ایمان رکھتے تھے۔ وہ رسول پاک کی تقدیس اور عظمت کے بھی قائل تھے۔ ان دونوں موضوعات پر اردو میں کم لیکن فارسی میں زیادہ اشعار ملتے ہیں۔ حمد ہو یا نعت ہر ایک میں ان کا مخصوص لہجہ اور دوسروں سے مختلف زاویۂ نگاہ ہے۔ جو اس سطح پر رہ کر فکر کی گتھیاں سلجھاتا ہوکہ:
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہر بات اسی سطح سے کرے گا۔ ہمارے شاعر عموماً احد اور احمد کے فرق کو مٹانے کے درپے رہتے ہیں جو نہ تو ایمان کے نقطۂ نظر سے اورنہ شاعری کے اصول سے قابل قبول ہے غالب نے خدا اور رسول کی قربتوں کے ساتھ ان کے جدا ہونے کا حال جس خوب صورتی سے ادا کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
فارسی کی ایک نعت کے تمام اشعار خدا اور رسول کی مرتبہ شناسی کے موضوع پر ہیں جن میں ایمان کی حرارت بھی ہے اور فکر و بیان کی صلابت بھی۔ کہتے ہیں:
حق جلوہ گر ز طرز بیان محمد است
آرے کلام حق بہ زبان محمد است
(طرز بیان محمد میں حق کا جلوہ ہے۔کلام حق زبان محمد سے ادا ہوا ہے) شعر میں ذومعنویت ہے حق کا اشارہ ذات خداوندی کی طرف بھی ہے اور ابدی و آفاقی ہر سچائی کی طرف بھی۔ قرآن، کلام اللہ ہے جو حضرت محمد کی زبان سے ادا ہوا اور رسول کے ہر قول میں خدا کا ہی جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ آپ نے دنیا کو سچائی کے ان اقدار سے روشناس کروایا جو ازل سے ہیں اور ابد تک رہیںگے جن کے حصار میں یہ پوری کائنات ہے۔ کم لفظوں میں بھرپور مفہوم ادا کرنا ہی بلاغت کی شان ہے جو اس شعر سے واضح ہے۔ اسی نعتیہ غزل میں کہتے ہیں:
آئینہ دار پرتو مہر است ماہتاب
شان حق آشکار، ز شان محمد است
سائنس سے ثابت ہے کہ چاند کی روشنی اس کی اپنی نہیں۔ وہ سورج کی روشنی کی آئینہ دار ہے یعنی چاند کی روشنی کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آئینہ کے درخشاں ہونے کا یہ حال ہے تو آئینہ میں جس کا عکس ہے اس کی درخشانی کا کیا حال ہوگا۔ اس مثال کو جس کا مشاہدہ روز کا معمول ہے، پیش کرتے ہوئے غالب نے ذات رسول کو مثل چاند اور ذات خداوندی کوآفتاب قرار دیا ہے اس مثال سے ہر دو کے رتبے کا بھی تعین ہوجاتا ہے اور باہم تعلق کا بھی! نور دونوں میں یکساں ہے ایک میں بہ صورت ذات و کمال ہے دوسرے میں اس سے اکتساب کی حالت عیاں ہے۔ نور کا اشتراک بھی ہے ذات میں دوئی بھی ہے۔ اسی بات کو دوسرے انداز میں پیش کیا ہے:
تیر قضا برآئینہ در ترکش حق است
اماکشاد آں ز کمان محمد است
(تیر قضا تو حق (خدا) کے ترکش میں ہے جبکہ یہ تیر کمان محمد سے چلتا ہے)
اس کا لفظی مفہوم تو یہ ہوگا کہ جو حکم خداوندی ہے اس کی تعمیل و تکمیل ذاتِ محمد سے ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں خدا اور رسول کی رضا میں فرق نہیں۔ رضائے الٰہی رضائے رسول ہے۔
ذاتِ حق تعالیٰ میں رتبۂ رسالت مآب کا کیا ہے اس کے لیے عام طور پر جس حدیث قدسی کا حوالہ دیا جاتا ہے اسی کو بلیغ انداز میں غالب نے بھی موزوں کیا ہے۔
احد اور احمد کے درمیان مرتبہ کے فرق کا لحاظ کرتے ہوئے ایک کے ترکش میں تیر قضا کے ہونے اور دوسرے کی کمان سے چلنے کے بیان سے قربت و دوری یکساں طورپر واضح ہوگئی ہے اور ایمان پرکوئی زد بھی نہیں پڑی۔ ایک اور موقع پر اسی حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا ہے:
احد جلوہ گر باشیون و صفات
نبی محو حق چوں صفت عین ذات
اس سے بڑھ کر نکتہ دانی اس شعر میں ہے:
زہے شکوہ تو کاندر طراز صورت تو
زخود برآمدن صورت آفریں پیدا ست
حضور کی شان و شوکت کے کیا کہنے۔ آپ کی صورت کو سنوارنے میں
صورت گر اپنے آپ سے باہر آگیا گویا۔ آپ کی صورت اور صفات سے صورت گر کی صفات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
حضورکی ذات میں اللہ تعالیٰ کے نور کے ظہور کے غالب بھی قائل ہیں اسی لیے کہا ہے
منظور تھی یہ شکل، تجلی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اپنی نعتیہ فارسی غزل میں جس کا ذکر ہورہا تھا غالب نے اظہار کے پیرائے بدل بدل کر نعت گوئی کا حق ادا کیا ہے۔ایک عام مضمون کو اپنے خاص رنگ میں یوں کہا ہے:
دانی اگر بہ معنی لولاک وا رسی
خود ہر چہ از حق است از آنِ محمد است
لولاک‘‘ کا اشارہ لولاک لما خلقت الافلاک کی طرف ہے۔ ارشاد خداوندی ہے کہ حضرت محمد نہ ہوتے تو خالق نے افلاک کو ہی پیدا نہ کیا ہوتا۔ گویا ذات رسول پاک سبب تخلیق کائنات ہے۔ حق تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ نبی کریم کے پاس ہے۔
انسان کا یہ وطیرہ ہے کہ جو چیز اس کو عزیز ہوتی ہے حسب موقع وہ اس کی قسم کھاتا ہے۔۔۔ یہی رویہ ذات پاک نے اختیار کیا ہے اور حضرت محمد کی قسم کھا کر ثابت کر دیا کہ آپؐ ہی خداوند تعالیٰ کے لیے عزیز ترین تھے۔
ہر کس قسم بد انچہ عزیز است می خورد
سوگند کردگار بجان محمد است
ہمارے شاعر اپنی محبوب ہستی کی بلند قامتی کا ذکر کرتے اور اسے سرو سے بلند تر قرار دیتے ہیں۔ غالب نے حضورa کے قامت کی بلندی کا ذکر راست نہیں بلکہ اشارتی انداز میں کیا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ
واعظ حدیث سایہ طوبیٰ فر و گزار
کاینجا سخن ز سرو رواں محمد است
شاعر واعظ سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ ’’ یہ کیا سایۂ طوبیٰ کا ذکرلے بیٹھو ہو طوبیٰ کی حیثیت کی کیا بات کرتے ہو یہاں تو حضرت محمد کے سر رواں کی بات ہورہی ہے۔‘‘ کس قدر بلیغ انداز بیان ہے کہ معلوم عظمت کی نفی کرکے مقابلہ میں ایسی ہستی کو پیش کیا جائے کہ جس کی عظمت اس سے بھی برتر ہو۔
حضورکی قدرت اس سے بھی عیاں ہے کہ جوکام تمام مخلوق کے لیے حد امکان سے باہر ہے وہ آپ کی انگلی کی معمولی جنبش سے وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ اس قدرت کو لوگ معجزہ کہتے ہیں۔
بنگر دو نیمہ گشتنِ ماہ تمام را
کاں نیمہ جنبشے ز بنان محمد است
حضور کے جسم اطہر پر ایک ایسا نشان تھا جسے مہرنبوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا نشان آپؐ کے لیے خاص تھا اس کی انفرادیت ہی اس کی عظمت ہے لیکن عظمت بالذات نہیں ہے بلکہ حضورa کی نسبت سے اس کی عظمت بنی اور عزت و توقیربنی ہے۔
شاعر حضور کی توصیف کے لائق اپنے آپ کو نہیں پاتا اور کارِعظیم کو
خدائے تعالیٰ کے لیے چھوڑ دیتا ہے:
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذات پاک، مرتبہ دان محمد است
حقیقت یہ ہے کہ وہی توصیف کا حق ادا کرسکتا ہے جو کسی کا مرتبہ دان ہو حضور کا مرتبہ دان اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ انسان آپ کے مرتبہ کے بارے میں اپنے قیاس سے کام لیتے ہیں اور قیاس کی پہنچ حقیقت بلندی تک نہیں پہنچ سکتی۔
غالب کے ذہن میں معراج کا واقعہ اسی طرح چھایا رہا کہ جب بھی انھوں نے حضور کا خیال کیا آپ کے قدم زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر نظر آئے کبھی تو فارسی میں کہا:
چوں بپوئی بہ زمیں، چرخ زمیں تو شود
خوش بہشتے ست کہ کس راہ نشیں تو شود
جب آپؐ زمین پر چلتے ہیں تو آسمان اُتر کر آپ کے لیے زمین بن جاتا ہے اور آپؐ کی رہ گزر میں بیٹھنے والے خود کو بہشت میں باور کرتے ہیں۔ یہ اعزاز آسمان کو میسر ہوا کہ اس نے آپ کی قدم بوسی کی۔ وہ اس پر جتنا بھی ناز کرے کم ہے۔ غالب نے اپنی ذات اور فکر کو کبھی آسماں سے کمتر نہیں سمجھا لیکن افسوس کیا تو اس بات پر کہ آسمان کو تو اجازت قدم بوسی کی عطا ہوئی اور شاعر آسماں کے برابرہونے کے باوجود اس سعادت سے محروم رہا۔
کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے
کیا آسماں کے برابر نہیں ہوں میں
اسی طرح حسن تعلی سے کام لیتے ہوئے مزید کہا ہے:
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
رکھتے ہو قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
رتبہ ہی مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہوں میں
غالب کے ذہن پر معراج کا واقعہ اس قدر مسلط رہا کہ وہ اس مثال کو منظر رکھ کر کسی نہ کسی طور حصول بلندی کے خواہش مند رہتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں:
منظر ایک بلندی پر اور بنایا چاہیے
سرحد ادراک سے پرے ہو آشیاں اپنا
یا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا
تو معراج کا واقعہ ہی اس کا محرک ہوتا ہے۔
حضور ذات کے اعتبار سے بشر اور صفات کے لحاظ سے فوق البشر تھے وہ انسانوں کے لیے نمونہ تھے۔ صالحین کا یہ فرض ہے کہ وہ حضور کے درجات تک تو نہیں پہنچ سکتا کہ وہ عطائے الٰہی تھے لیکن اس کو کیا کہیے کہ آرزوئوں اور تمنائوں پر قدغن نہیں لگائی جاسکتی۔ اگر غالب کی آرزو اور خواہش سرحد ادراک سے پرے آشیاں بنایا چاہتی ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں
غالب کا ایک مشہور شعر ہے
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش کف پا پایا
شارحین، اقبال کے اس شعر کو اس کی وضاحت کے لیے پیش کرتے ہیں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیؐ سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
لیکن میری رائے میں ’’دشت امکان‘‘ کو ’’ایک نقش پا‘‘ بتلا کر غالب نے ’’گردوں‘‘ کی اہمیت کی نفی کردی، ’’دشت امکاں‘‘ کے حصار میں سارے ’’گردوں‘‘ آجاتے ہیں جو نگاہ بشر کے حد میں ہیں یا اس سے پرے ہیں۔ غالب کے خیال میں آدم کا جنت سے نکل کر دشت امکان میں پہلا قدم رکھنا ایک تجربہ تھا جس کا نتیجہ یہ معلوم ہوا کہ یہ عالم رنگ و بو اپنی تمام وسعتوں کے باوجود فانی اور حقیر ہے اس کی حیثیت اور اہمیت ’’نقش کف پا‘‘ سے زیادہ نہیں۔ اب ابن آدم کی تمنا دوسرے قدم کی خواہش مند ہے صرف تعین منزل کی ضرورت ہے یہ اشارہ یا تو حیات مابعد الموت کی طرف ہوسکتا ہے یا سرحد ادراک سے پرے یعنی معراج کی طرف! میرا ذہن معراج کی طرف رہنمائی کرتا ہے غالب حیات مابعدالموت کے قائل ہونے کے باوجود اس کی طرف کم ہی مائل ہوتے ہیں۔
غالب نے اس شعر میں ’’دشت امکاں‘‘ کو یک کف پا کا درجہ دے کر اس کی اہمیت سے انکار کردیا ایک دوسرے شعر میں وہ جنت کو بھی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں، کہتے ہیں:
یا تمنائے من از خلد بریں نہ گزشتے
یا خود امید گہے درخور آں می بایست
(یا تو میری تمنا خلد بریں سے آگے نہ جاتی یا پھر اس بلند تمنا کے مناسب کوئی بلند اُمیدگاہ ہونی چاہیے تھی) اس بلند امیدگاہ کا اشارہ معراج سے ملتا جلتا کوئی رُتبہ حاصل کرنا ہے جو خدا کے روبہ رو پہنچادے۔
وہ اپنی قوت تخئیل کی پرواز کے لیے کوئی اور استعارہ استعمال نہیں کرتے سوائے معراج کے!
اینک زدہ ام بال تقاضاز دو مصرع
تا مژدۂ معراج و ہم سعی بیاں را
جس غزل کا یہ شعر ہے اس کے کئی اشعار کو نعتیہ ہی سمجھا جاتا ہے اگرچہ ان میں اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ہے، مثلاً:
جستیم سراغ چمن خلد بہ مستی
درگرد خرام تو، رہ افتاد گماں را
(ہم عالم مستی میں خواہ مخواہ چمن خلد کی تلاش میں تھے کہ اچانک خیال آیا کہ ان کے عالم خرام میں اڑی ہوئی گرد ہوائے خلد سے کم نہیں ہے)
غالب کے ذہن میں جنت کا تصور کسی نہ کسی طور حضور کی ذات سے وابستہ ہے۔ وہ آپ کے سراپا کا ذکر کرتے ہیں تو عام انداز بیان سے ہٹ کر آپ کو بہشت شمائل کہتے ہیں جیسے:
یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے
کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں گرد نہیں
اوراس کبھی اس مقام فضیلت کوجنت ماننے سے انکارکردیتے ہیںجس میںآپ کاجلوہ نہ ہو:
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف سب درست
لیکن خدا کرے وہ تری جلوہ گاہ ہو
اے خاک درت قبلہ جان و دل غالب
کز فیض تو پیرایہ ہستی است جہاں را
(آپؐ کے در کی مستی غالب کے لیے جان و دل کا قبلہ ہے۔ کیوںکہ آپؐ کے فیض سے ہی ہستی کائنات کی رونق ہے)
بر امت تو دوزخ جاوید حرام است
حاشا کہ شفاعت نہ کنی سوختگاں را
آپؐ کی امت پر دوزخ جاوید حرام ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ آپؐ اپنی اُمت کے افراد کو شفاعت کے ذریعے چلنے سے نہ بچالیں۔
حضور کا شافع محشر ہونامسلمانوں کا جزو ایمان ہے ایک قیاس یہ ہے روزِ قیامت حضور شفاعت کے لیے موجود ہوںگے اور جس جس کو اپنی امت میں شامل سمجھیںگے اس کے گناہ معاف کروا کر دوزخ کے دروازے اس پر بند کروادیںگے ایک قیاس یہ بھی ہے کہ ملحد ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل رہیںگے۔ گنہ گاروں کو ان کے گناہوں کی شدت کے لحاظ سے سزائیںہوںگی اور جب دوزخ میں خاص مدت کے گزرنے کے بعد ان کی روح کی کثافت دُور ہوجائے گی تو وہ دوزخ سے نکال لیے جائیںگے جبکہ غالب کا کہنا ہے کہ اگر حضور کی امت کا کوئی فرد دوزخ میں ڈال دیا جائے گا تو آپ اس کا آتش جہنم میں جلنا گوارہ نہیں کریںگے آپ کی شفاعت کام آئے گی اور اُمتی جلنے سے بچ جائے گا۔
حضور کی ذاتِ گرامی اس قدر قابلِ احترام ہے کہ خدا سے ہی آپؐ کی
مرتبہ شناسی اور توصیف کا حق ادا ہوسکتا ہے جو آپ کو پہنچاننے کی خواہش کرے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے ’’مئے مشاہدۂ حق‘‘سے سرشارہو۔یعنی خداشناسی سے محمد شناسی اور محمد شناسی سے خدا شناسی کا حق ادا ہوسکتا ہے اسی بات کو غالب نے اپنے انداز میں یوں بیان کیا ہے
مذاق مشرب فقر محمدی داری
مے مشاہدۂ حق نیوش و دم درکش
آپؐ کی عظمت اور بلند منزلت ظاہر کرنے کے لیے غالب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اگر آپؐ احرام باندھے کعبے کا رخ کریں تو کعبہ بھی ’’فرش سیاہ‘‘ کا احرام باندھے آپؐ کی طرف قدم بڑھائے گا۔
تا تو بہ عزم حرم ناقہ فگندی بہ راہ
کعبہ ز فرش سیاہ مرد مک احرام شد
مرد مک احرام سے مراد آنکھ کی پتلی کو احرام بنا لینا ہے۔
جب حضور نے حرم کا ارادہ کرکے اپنی اونٹنی کو چلایا تو کعبہ نے اپنے فرش سیاہ سے آنکھ کی پتلی کا کام لیا اسے احرام بناکر آپؐ کے استقبال کے لیے بڑھا۔
اس شعر میں ایسا واضح اشارہ نہیں ہے کہ اسے حضورa سے متعلق سمجھا جائے۔ اس نوع کے اشعار کے سلسلہ میں کئی امور کو ملحوظ رکھنا پڑے گا۔
پہلا امر یہ کہ غزل کا مجموعی مزاج کیا ہے۔ اگر اکثر اشعار مجاز کے مضامین سے ہٹ کر ہیں تو ایسے شعر کو مجاز کا نہ سمجھا جائے۔
دوسرے الفاظ خودرہنمائی کرتے ہیں۔شعرکامجموعی تأثرمستعمل الفاظ کامرہونِ منّت ہوتا ہے جس سے اہل ذوق بآسانی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ محولہ بالا شعر خود کہہ رہا ہے کہ کعبہ کا احرام باندھ کر پیش قدمی کرنا کسی محبوب مجازی یا دنیاوی شخصیت کے لیے نہیں ہوسکتا۔ یہ کیفیت دنیا کی معزز ترین شخصیت کی طرف ذہن کی رہنمائی کرتی ہے اور ایک مسلمان شاعر کے قلم سے لکھے جانے کے بعد معزز ترین شخصیت کے تعین میں کوئی دُشواری باقی ہیں رہتی۔
تیسری بات پڑھنے والے کا ذوق اور اس لمحہ کی کیفیت ہے جس میں اس نے شعر پڑھا یا سنا ہے پاکیزہ ذہن لوگ شریفانہ خیالات رکھتے ہیں اور شعر کے مفہوم کو اس کے مطابق سمجھتے ہیں لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ الفاظ ان کے خیال کی تائید کررہے ہوں۔ اگر شعر میں چوڑیوں اور پائل کی جھنکار، لطف ہم آغوشی اور اس قسم کی باتیں ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کو کسی مقدس اور قابل تعظیم شخصیت کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
شعر کے معنوں میں صرف شاعر کی ذات، اشعار کے الفاظ اور لب و لہجہ کو ہی دخل نہیں ہوتا بلکہ قاری کی وقتی ذہنی کیفیت یا موڈ کو بھی دخل ہوتا ہے ایک خاص موڈ میں جو شرپسند آنا ہے ضروری نہیں کہ موڈ کی تبدیلی کے بعد پسند کی وہی کیفیت ہو۔ قاری کو یہ حق ملناچاہیے کہ وہ شعر کو اپنے مزاج کے مطابق معنی دے۔اس پرکسی کواعتراض کاحق نہیں۔
غالب کے مزید چند اشعار پیش کرنے کی جرأت بے جا نہیں ہوگی جن کو پڑھ کر ہمارا ذہن انہیں نعتیہ باور کرنے پر مائل ہو۔
بے وجہ در رھت نیست از پا فتاد ن من
بر دیدہ می نشانم، در ہر قدم، قدم را
غالب نے چلتے چلتے بار بار گرجانے کی توجیح یہ پیش کی ہے کہ وہ دراصل ان قدموں کو آنکھوں پر بٹھانا چاہتے ہیں جو آپ کی چلی ہوئی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس کیفیت کا اندازہ وہ کرسکتے ہیں جو حضور کی محبت اور عقیدت دل میں لیے مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں گھومے پھرے ہوں۔
خوش است دعویٰ آرائش سرو دستار
ز جلوۂ کف خاکے کہ نقش پا دارد
جس خاک پر آپؐ کے نقش پا ہوں اس کا نظارہ ہی ہمارے سر اور دستار کی آرائش و زینت کا سامان ہے۔
بہ گلہائے بہشتم مژدہ نتواں داد در راہش
من و خاکے کہ از نقش کف پائے نشاں دارد
آپ کے راستے پر چلتے ہوئے باغ بہشت کے پھولوں کی خوش خبری کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ میں تو بس اس خاک کا گرویدہ ہوں جن پر آپ کے نشان کف پا ہوں۔
ممکن ہے یہ شعر کسی کے ذہن کو محبوب مجازی کے کف پا کی تعظیم کا احساس دلائے۔ صوفی غلام مصطفی تبسم جیسے سخن فہم نے اسے محبوب حقیقی کی طرف منسوب کیا ہے حالاںکہ ’’نشان کف پا‘‘ سے اس طرف خیال جا ہی نہیں سکتا۔ لیکن صوفی صاحب کی تردید کی اس لیے گنجائش پیدا نہیں ہوتی۔ جس کیفیت میں انھوں نے شعر کو سمجھنے کی سعی کی اس کیفیت نے ان کی رہنمائی ’’محبوب حقیقی‘‘ کی ہوگی۔
سخت اصولوں سے پرکھا جائے تو غالب کو ’’نعت گو‘‘ شعرا کے حلقے میں شامل نہیں کیا جا سکتا کیوںکہ انھوںنے اس صنف پر باقاعدہ طبع آزمائی نہیں کی ہے۔ ان کی غزلوں میں چیدہ چیدہ نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔ فارسی میں ایک غزل ایسی ہے جسے نعتیہ غزل کہا جا سکتا ہے باوجود اس کے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ وہ دل اور روح کی گہرائیوں سے توحید اور آںحضرتa کی رسالت کے قائل تھے اور ان دونوں امور کو ایمان اور شفاعت کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے انداز ہوتا ہے کہ وہ دو معاملوں میں یقین کی منزل پر تھے ایک:
شعر غالب نبود و می و نگویم ولے
تو و یزداں نتواں گفت کہ الہامے ہست
(غالب کے اشعار وحی تو نہیں ہیں اور نہ ہم یہ کہتے ہیں لیکن اللہ کی قسم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ اشعار الہام ہیں)
اور دوسرے
اس کی اُمت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شے کے غالب گنبد بے در کھلا
تحریر: پروفیسر شفقت رضوی