Skip to content
William Wordsworth

غالبؔ کے فارسی کلام میں نعت

William Wordsworth
غالبؔ کے فارسی کلام میں نعت


غالبؔ شعر و سخن کے سرگم سے واقف اور ساتوں سروں سے مکمل آگاہ تھا بلکہ اپنے ساز سخن سے کئی راگ امیر خسرو کی طرح ایجاد کیے تھے، یہ سات سروں کی بات عجیب ہے سارے عالم پر یہ عہد محیط ہے، غالب اس تخلص کے اعداد کو ہی دیکھئے۔ غ کے ہزار الف کا ایک، لام کے تیس اور ب کے دو جملہ ایک ہزار تینتیس جس کا مجموعہ سات ہے۔ شاید ڈاکٹر سہیل بخاری بھی اس فن کے موسیقار ہوں جنھوں نے ’’غالب کے سات رنگ‘‘ تصنیف فرمائی۔ ہفت آسمان، ہفت سیارگان، قوس و قزح کے سات رنگ، کعبہ کے سات طواف، صفا مروہ کی سات دوڑ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس پتھر پر حکم ربی سے عصا مارا اس سے پانی کے سات چشمے پھوٹے، اس عدد کی تفصیل بہت ہے۔ غالب کے کلام میں حسن اور کمال کی یک جائی نے جس ادبی قوس و قزح کے رنگ بنائے یہ ان کے اپنے عدد کا کمال تھا۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کلام میں موسیقیت رچی بسی ہوئی ہے۔ اس موضوع پر تفصیل سے بہت جلد میرا تحقیقی مقالہ، غالب کی نعتیہ شاعری ’’منظر عام پر آپ جیسے محب اور پُرخلوص احباب کی دعاؤں کے نتیجہ میں آنے والا ہے جو غالب کے سر ساگر سے روشناس کرائے گا جس کی ہرتان دیپک ہے۔

غالب کی نعتیہ شاعری پر تحقیق اور پھر اس پر تنقید کا جو حق ادا ہونا تھا بصد افسوس کہتا ہوں کہ نہ ہوسکا۔ غالب کی نعتیہ شاعری کا مرحلہ بعد کا ہے ماقبل نعتیہ ادب پر ہی کیا کام ہوا اردو ادب میں میلاد ناموں کا سفر جنوبی ہند سے شروع ہوا، میں محمد حسین المعروف خواجہ بندہ نواز گیسودراز کا عہد ہے جو حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلیؒ کے خلیفہ مجاز ہیں یعنی نعتیہ ادب کی تاریخ اردو غزل کی تاریخ سے قدیم ہے۔ پانچ سو سال کا طویل عرصہ ہے شمالی ہند میں گیسوئے اردو کو سنوارنے کی جدوجہد جس طرح نظر آتی ہے نعتیہ ادب کا میدان ایسی ہی کوششوں سے یکسر خالی ہے، یہ تصور کن کا ہے، معذرت کے ساتھ وہ اس عہد کے مولوی ہوں جنھیں دعویٰ علم تھا یا وہ نقادان سخن ہوں جن کے ہاتھوں میں تخلیقی ادب کے موتی تولنے کا ترازو تھا۔ آج کا نقاد تین صدیوں سے بھی قبل کی نعتیہ شاعری جو میلاد ناموں کی قباء زیب تن کرکے منظر پر آئی، اعتراض کی بوچھاڑ کرتا نظر آتا ہے لیکن اس عہد میں جب اس کی اصلاح کا وقت تھا، ان نقائص علمی و ادبی پر نہ کسی پیر پارسا کی نظر گئی، نہ ہی شیوخان ادب کی، ایسی علمی ادبی کس مپرسی کے ماحول میں کسی نے دست گیری کی تو وہ اس عہد کا تصوف تھا، حیرت کی بات ہے کہ زبان و بیان کے گیسو سنوارنے کا آغاز شمالی ہند سے ہوا۔ لیکن یہاں بھی نعتیہ ادب سے کسی میں لگاؤ نہیں پایا جاتا۔

غالب کی غزل کے حسن بیان کا پہلا دریچۂ تعارف حالیؔ نے کھولا۔ اس تنقید یا تبصرے کا آغاز حالی کا مرہون منت ہے جس کے بعد آزاد، شبلی اور اس عہد کے نقاد کی کڑیاں آج ہمارے عہد کے نقادان ادب کی کثیر تعداد سے جا ملتی ہے۔ اردو، فارسی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں اتنا کام ہوا ہے کہ حیرت کا مقام ہے اس حیرت کا سبب آئندہ سطور میں آرہا ہے، غالب پر جتنا کام ہوا ہے آج سے بہت پہلے عروس البلاد کراچی کی مشہور و معروف ادبی شخصیت پروفیسر سحر انصاری نے اس کی تفصیل افکار کے غالب نمبر میں پیش کی ہے، یہ سلسلہ ڈیڑھ سو سال سے جاری ہے اور غالب کے کلام بلاغت نظام کی فصاحت،

معنی آفرینی اور اس کے کلام کی جملہ خوبیوں پر لکھنے والوں کی تعداد کا شمار مشکل ہے، غالب اس طرح نقادان ادب کی فکری استعداد اور صلاحیتیوں پر چھایا ہوا ہے کہ اس کی مخصوص تراکیب اور اختراع پسندی بعض اہلِ قلم کی تصانیف کا عنوان بن گئی۔ علامہ اقبال کی ’’بالِ جبریل‘‘ ، سجاد انصاری کی محشر خیال اور رشید احمد صدیقی کی ’’گنجہائے گراں مایہ‘‘ کی طرح، عزیز حامد مدنی، فیض احمد فیض، فراق گورکھ پوری، عبدالعزیز خالد، عبادت بریلوی، کنھیالال کپور اور نہ جانے کتنے اہل فکر و نظر نے اپنے فکری سرمایہ کو جب قرطاس پر لایا تو عنوان غالب کی مخصوص ترکیب ہی کو بنایا۔ ’’نقش فریادی‘‘، ’’دست تہ سنگ‘‘، ’’لذت سنگ‘‘، ’’گویا دبستاں کھل گیا‘‘، ’’دشت امکاں‘‘، ’’خون جگر ہونے تک‘‘ ’’شہر آرزو‘‘، ’’چند تصویر بتاں‘‘، ’’سحر ہونے تک‘‘، ’’سنگ وحشت‘‘، ’’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے‘‘، ’’درد چراغ محفل‘‘، ’’خانہ زنجیر‘‘، ’’کاغذی ہے پیرہن‘‘ اور ایسی لاتعداد تراکیب غالب کے اشعار سے تبرکاً لیں۔ شاید علامہ اقبال نے اس میں پہل کی کہ وہ حکیم الامت تھے۔ غالب نے کہا

تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام

تیری رفتار قلم جنبش بال جبریل

اور واپس اپنے اس جملہ کی طرف آتا ہوں جو پہلے رقم ہوا کہ ’’حیرت کا مقام ہے‘‘ کہ علما کی کثیر تعداد میں جن میں ایسے بزرگ بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنی اغراض کے لیے انگریز کی شان میں قصیدہ پیش کیا کہ تھانہ بھون میں ریلوے اسٹیشن نہیں تھا اس غرض کے لیے جو قصیدہ لکھا اس میں گلبرٹ صاحب کے لیے مشکل کشا کا لفظ ایک جید عالم نے تحریر کیا۔ لیکن افسوس کہ ان پیران پارسا اور شیوخانِ ادب کی خانقاہ تحقیق میں نعتیہ شاعری کو شرف باریابی نہ مل سکا جس کے نتیجہ میں ہمارا روحانی ادب اپنے ماضی میں مفلسی کا آئینہ دار نظر آتا ہے۔

ہندو تہذیب کے ملے جلے ردّ عمل کے نتیجہ میں اس عہد کے میلاد ناموں میں صنمیات کا جو حصہ شامل ہوگیا وہ تمام شاعری پر حاوی نہیں یہ بات میری تحقیق میں خال خال ہے لیکن اسی خال کو لے کر آج کا نقاد بال کی کھال جو نکال رہا ہے اسے ہم مشرب ماضی کے تنقید نگاروں سے زیادہ باز پرس کرنا چاہیے۔ اس فقیر نے میلاد ناموں کے حوالوں سے اپنی تصنیف ’’نعتیہ ادب میں تنقید اور مشکلات تنقید‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے اور یہ بات دلائل کے ساتھ پایۂ ثبوت کو پہنچائی ہے کہ اگر اردو غزل کی طرح نعتیہ شاعری جس کا آغاز جنوبی ہند سے میلاد ناموں کی صورت میں ہوا، تنقید کی مقراض چلائی جاتی تو اس عہد کی یہ روح پرور اور ایمان افروز نعتیہ شاعری آج کے تنقید نگار حضرات کو نشانہ بازی کی اجازت نہ دیتی۔ یہ بات یوں کہہ کر بھی ٹالی نہیں جا سکتی کہ نعتیہ ادب اتنا قدیم ہے کہ اس عہد میں ادب میں تنقید کا رجحان نہیں تھا۔ اپنے مقالہ ’’تنقید اور مشکلات تنقید‘‘ میں ایسی کم زور باتوں کا مکمل رد کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ تنقید کا عمل تخلیق کے ساتھ ساتھ شروع ہوجاتا ہے اور بعض مفکرین ادب نے بجا خیال پیش کیا کہ بسا اوقات تخلیق سے پہلے تنقید کا عمل ہوتا ہے جو تخلیق کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اب اگر اس نظریہ کو جو ناقابل تردید ہے، درست مان کر غالب کی نعتیہ شاعری پر عمل تحقیق و تنقید کا جائزہ لیں تو اس دفتر کا پہلا صفحہ بھی مکمل نہیں ہوسکا۔

میں صبیح رحمانی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جس کی محنت، لگن اور جذبہ نے عروس البلاد کراچی کے اہل قلم کا سر فخر سے بلند کردیا جن کی نعتیہ ادب پر تنقیدی تحریریں اپنی قبولیت اور شہرت کے لیے ملک کی جغرافیائی حدود عبور کر چکی ہیں۔ محترم صبیح رحمانی اس گوشہ نشین کو مجبور کرتے ہیں کہ جو کام خاموشی سے کر رہا ہوں اسے منظر عام پر لانے میں تکلف نہ برتیں ورنہ

زحمت احباب نتواں داد غالب بیش ازیں

ہرچہ می گوئیم بہر خویش می گوئیم ما

(غالبؔ)

یا پھر یوں سمجھئے

غالب ہے ادیب، ان کا کرم، میرے سخن پر

مقصود نہ شہرت ہے نہ دعویٰ مرے آگے

(ادیبؔ)

ایک مصور جو مصوری کے کمال میں اپنا جواب یا ثانی نہیں رکھتا وہ دلدادۂ حسنِ فطرت اور کمال فن جس جانب رخ کرے گا اس کی فنی صلاحیتیں قدم بہ قدم اس کے ساتھ چلیں گی، وہ کمہار اور دامن کہسار کی تصویر کشی کرے۔ چمن زاروں اور آبشاروں کی خموشی اور شور تلاطم کو پیکر عطا کرے، تاج محل کا عکس جمنا کے شفاف پانی پر بنائے یا بوڑھے کسان کو ہل چلا کر خوشۂ گندم کی پرورش کرتے دکھائے، اس کا فن اس کے جذبات و احساسات کی تصاویر بناتا جائے گا۔ غالب، کیا صرف حسن و عشق کی داستان یا اپنی ذات پر گزرنے والی کرب پیہم کی کیفیات ہی کا نام ہے؟ اس کی مایوسیوں، مجبوریوں اور پشیمانیوں میں اس کا ذہن خالق حقیقی اور اس کے محبوب سے نسبت کو، امیدوں کو، اس کے ٹوٹے ہوئے حوصلوں کو بڑھاتا رہا ہے۔ بے شک غالب نے روایت سے بغاوت کی اور یہی بغاوت تھی جس نے اسے اوروں سے ممتاز کردیا، جس پہلو سے بھی اسے دیکھیں وہ اپنے عہد کے سخنوروں سے جدا ہے، الفاظ و معانی میں اس کی جدت طرازی کا مرغ بلند پرواز دام روایات میں نہ آسکا یہی صورت اس کے مذہبی جذبات کی بھی ہے اگرچہ اس کی شوخ کلامی اس کا طرۂ امتیاز ہے لیکن باخدا دیوانہ باش و بامحمدa ہوشیار کے اسلامی اصولوں کو نظر میں رکھ کر وہ ذات باری تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے تو اپنی شوخی سے باز نہیں آتا لیکن حد ادب کی بقا بھی زیب تن کیے ہوتا ہے۔ اپنے خالق کی بارگاہ میں بصد عجزو انکسار، اعتراف گنا اور خطاپوشی و درگذری کے لیے نغمہ سرا ہوتا ہے تو الفاظ میں وہی سحر انگیزی کے ساتھ شوخی میں جو کچھ کہتا ہے اس ڈھنگ سے کہنے والا ہمارے ادب میں کوئی دوسرا نظر نہیں آتا جو اسی طرح دیوانہ باشی کا مظاہرہ کرے۔ کون ایسا شاعر ہے جو اپنے خالق کی بارگاہ میں اپنی عقیدت کا نذرانہ لے کر حاضر نہ ہوا ہو، لیکن کوئی ایک تو بتایئے جو غالب پر سبقت لے جانا تو محال اس کے قدم بہ قدم چلے جس کا یہ عالم ہو کہ وہ مشاہدہ حق کی گفتگو بھی بادۂ ساغر کے بغیر نہ کرے۔

وہ اپنے پروردگار کے حضور پیش ہوتا ہے تو بے شمار تمہیدی کلمات، جو اس کی

سخن طرازی کا طرۂ امتیاز ہیں، کے بعد اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے محشر خیال سے ایک منظر روز حساب کا پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب سارے انسان جمع ہوں گے یعنی جسم اور جان ایک مرتبہ پھر ہم آہنگ کر دیے جائیں گے اس وقت ان اصحاب کو جنھیں اپنے سرمایۂ آخرت پر ناز ہوگا وہ اپنے اپنے گہرہائے شہوار پیش کریں گے۔ وہ لوگ اپنے نور سے چشم جہاں کو روشن کریں گے۔ انھیں جگر گوشگاں کے ساتھ ساتھ کئی قسمت کے مارے بھی ہوں گے اور اس مجمع میں یہ سینہ فگار (غالب) بھی ہوگا، گردش روزگار کا مارا ہوا، جس کا بدن بسبب خوف اپنے سایہ سے بھی فرار ہوگا۔ دل اس کا غموں سے شکستہ اور داغ دار ہوگا۔ (غالب اپنی آپ بیتی کی تصویر اختصار سے اپنے رب کے حضور کس خوب صورتی سے پیش کرتا ہے)

بروزے کہ مردم شود انجمن

شود تازہ پیوند جاں ہا بتن

گہر ہائے شہوار پیش آورند

فروہیدہ کردار پیش آورند

(فروہیدہ بہ معنی درست کردار)

نرنوری کے ریزند و خرمن کنند

جہاں رابخود چشم روشن کنند

بہ ہنگامہ با ایں جگر گوشگاں

در آیند مشتے جگر توشگاں

درآں حلقہ من باشم و سینہ ای

زغم ہائے ایام گنجینۂ ای

تن از سایۂ خود ببیم اندروں

دل از غم بہ پہلو دو نیم اندروں

غالب جانتا ہے کہ جس کے حضور میں اپنا حال پریشان بیان کررہا ہوں وہ اپنی ذات و صفات میں عالم الغیب ہے۔ غالب نیکو کاروں اور عاصیوں کو جدا جدا کرکے دکھاتا ہے اس لیے کہ نیکو کار بہتر ہے وہ بندے جو اعمال صالح کے سبب بخشش و جنت کے حق دار ہوں گے یہ رحمت تیری پھر کن کی جانب جائے گی کن سے رحمت کی طلب گاری کی تمنا کرے گی اُس وقت یہ غالبؔ ہی تو ہوگا جو تیری رحمت کو جوش میں لائے گا۔ جب وہ کہے گا کہ میں نے دنیا میں رہ کر جو شب و روز گزارے اور جس طرح گزارے اب میں مستحق ہوگیا ہوں کہ مجھے میری اس بے کسی پر بخش دے کیا میرے بخشنے کے لیے میری درماندگی، مایوسی، بے کسی کافی نہیں ہے یہ میری حسرتوں کی مسلسل پامالی، محرومی و خستہ حالی تو ذرا دیکھ

ببخشای بر ناکسیہای من

تہید ست و در ماندہ ام وایٔ من

اتنا کہہ کر وہ اپنی شوخ مزاجی کو پیرہن ادب میں ملبوس کرتا ہے اور کہہ دیتا ہے:

بدوش ترازد منہ بار من

نسنجیدہ بگزار کردار من

یعنی میرے کردار پر یہ کیا بات ہوئی کہ اب میرے اعمال کو ترازو میں تولے گا۔ یہاں سے التجا کے ساتھ مکالمہ کا یک طرفہ انداز ہوگیا ہے۔ عبد و معبود کے درمیان عجیب انداز ہے اے پروردگار تونے غالب کو تمام عمر عیش و نشاط سے محروم رکھا، میری ہر تمنا میری ہر حسرت دم توڑ گئی ان سب کو تو کس طرح ترازو میں تولے گا۔ یہ ترازو تو اعمال کے لیے ہے جو بیش و کم کا حساب بتاتا ہے۔ پھر کہتا ہے کہ اگر مآل کار تیری مشیت کا یہی تقاضا ہے کہ بندہ سے اس کے اعمال کی پرسش کی جائے تو پھر غالب کو بھی کہنے کا یارا بخش دے کہ مجھے جو کہنا ہے میں بھی وہ کہہ دوں۔

وگر ہم چنیں است فرجام کار

کہ می باید از کردہ راندن شمار

مرا نیز یارائے گفتار دہ

چوگوئم برآں گفتہ زنہار دہ

فارسی زبان و بیان کی لطافتوں کے ساتھ خدائے قدوس کی بارگاہ میں مناجات کا یہ انداز اس کی انفرادیت کا آئینہ دار ہے۔ دیکھئے اب وہ اپنی مغفرت کی التجا کا رخ کس طرح بدلتا ہے کہتا ہے اے میرے رب مجھے اتنا بتا دے کہ میرے حصہ میں تیرے غضب کے سوا اور کیا تھا اوروں کا حاصل تو عمل تھا مگر میری ہستی کا پھل فقط الم ہی رہا اور اگر یہ سیلاب بلا تیری ہی جانب سے تھا تو پھر یہ اعمال کی پرسش آخر کیا ہے۔ اب مجھے رہائی دے کہ میں حسرت کا مارا ہوا ہوں اور دم سرد سے یخ بستہ۔ سمجھ لے کہ میری بخشش ہوگئی۔ گھانس کا ایک پر تھا جسے ہوا اڑا کر لے گئی۔

نہ من باخوداز ہر چہ سنجد خیال

ندارم بغیر از نشان جلال

اگر دیگراں رابود گفت و کرد

مرا مایۂ عمر رنجست و درد

چہ پرسی چوں آں درد ورنج از تو بود

غمی تازہ در ہر نورد از تو بود

فرو ہل کہ حسرت خمیر من است

دم سرد من زمہریر من است

(ز مہریر: وہ خطہ جہاں پانی جم کر سرد و یخ ہوجاتا ہے)

پھر وہ نہایت پرجوش انداز میں کہتا ہے کہ اگر مجھے دوزخ میں ڈال دیا گیا تو میرے جلنے سے جو دھواں ہوگا وہ تاریکیوں کو اور بڑھا دے گا ان تاریکیوں میں وہ آب بقا بھی نہ ہوگا جو خضرؑ کو ملا تھا۔ جرأت اظہار اور حد ادب کا امتزاج ان اشعار میں حسن بیان کی جان ہیں۔ کہتا ہے تجھے یہ خبر ہے کہ میں کافر نہیں ہوں اور یہ بھی تو جانتا ہے کہ سورج اور آذر کا پجاری نہیں ہوں یعنی کفر اور شرک سے پاک ہوں۔

ھمانا تو دانی کہ کافر ینم

پرستار خورشید و آزر ینم

نہ ہی میں نے اہرمن کی طرح کسی کا قتل کیا ہے اور نہ ہی راہزن کی طرح کسی کو لوٹا ہے۔

نہ کشتم کسے را باھر یمنی

نہ بردم کسے مایہ از رہزنی

یعنی کفر اور شرک وہ گناہ ہیں کہ جس کے ارتکاب کی معافی نہیں۔ قتل اور رہزنی وہ گناہ ہیں جو حق العباد کے زمرہ میں آتے ہیں اور ان کی بھی معافی نہیں۔ غالب نے ان میں سے کوئی گناہ نہیں کیا اور پھر کیا خوب شوخی ہے ملاحظہ کیجیے:

مگر مئے کہ آتش بگورم از وست

بہ ہنگامہ پرواز مورم از وست

من اندوہ گیں و مئے اندہ ربائی

چہ می کردم ای بندہ پرور خدایٔ

مگر یہ مئے جو میری محبوبہ جاودانی ہے تو جانتا ہے کہ میں کس قدر اندوہ گیں تھا اور یہ

مئے دلبربا اے بندہ پرور اگر نہ پیتا تو پھر کرتا بھی کیا۔ اپنی دکالت میں پہلے ان گناہوں سے اجتناب کا ذکر کیا جن کے ارتکاب سے معافی نہیں۔ شمار عصیاں سے برأت کی بات کہہ کر پھر بصد انداز شوخی و بصد ادب ’’دیوانہ باشی‘‘ کہ مئے نوشی یہی ایک میرا جرم ہے اور یہ بھی میری غمگینی کا رد عمل تھا۔ اب اس جرم سے نجات کے لیے کیسے کیسے عذر پیش کرتا ہے ملاحظہ کیجیے:

حساب مئی و را مش و رنگ و بوئے

زجمشید و بہرام و پرویز جوئی

کہ از بادہ تا چہرہ افروختند

دل دشمن و چشم بد سوختند

نہ از من کہ از تاب مئی گاہ گاہ

بدریوزہ رخ کردہ باشم سیاہ

نہ بستاں سرائی نہ میخانہ ای

نہ دستاں سرائی نہ جانا نہ ای

نہ رقص پری پیکراں بر بساط

نہ غوغائے رامش گراں در رباط

تمنائے معشوقۂ بادہ نوش

تقاضائے بیہودۂ مئے فروش

غالبؔ کہتا ہے کہ میری مے نوشی کا حساب لینا مشیت میں شامل ہے مگر کن سے لے جمشید سے لے، بہرام سے لے، خسرو پرویز سے حساب لے نہ یہ غالب کہ جس نے مانگ مانگ کر کبھی کبھار پی اور مفت میں اپنا چہرہ سیاہ کرلیا۔ میرا تو نہ خیاباں تھا نہ میخانہ میرا تھا جہاں نہ کوئی مہ لقا تھی جو داستاں سرائی کرتی نہ وہ محفل کہ جہاں پری پیکروں کا رقص ہوتا۔ میں تو ساری عمر تمنائے معشوقہ بادہ فروش میں رہا یا پھر (اُدھار لے کر کبھی پی لی) تقاضائے بے ہودۂ مے فروش میں رہا۔ ان اشعار کے بعد غالب نے اپنی حسرتوں اور تمناؤں کی پامالی کا جن لفظوں میں بیان کیا ہے وہ اسی کا کمال ہے جسے طوالت کے خوف سے نہیں دے رہا ہوں۔ یہاں ایک پہلو اُن التجاؤں اور مکالمہ کی یک طرفہ صورت میں اور بھی ہے غالب کہہ رہا ہے کہ جس کے حضور تو پیش ہوا ہے وہ عالم الغیب ہے اور اس سے تیری کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے کیا خبر تیری حسن گوئی اور بیباکی کے سبب وہ تجھ سے راضی ہوجائے اور دوسری بات یہ بھی کہ روز محشر سے پہلے تو تیری کوئی حسرت نہ نکلی اور تجھے اسی بات کا غم ہے آج ان مسرتوں کا ذکر کرکے اپنی یہ حسرت تو نکال۔ جن اشعار کو طوالت کے خوف سے پیش نہیں کیا ان کا خلاصہ پیش کرتا ہوں جس سے غالب کی حق گوئی کا اندازہ ہوگا۔

کہتا ہے جب شب ماہ ہوتی ہے افق پر جب جب گھٹائیں چھا جاتی ہیں تو میرا پیالہ اس موقع پر تہی ہوجاتا ہے جب بارشیں ہوتی ہیں تو محرومی کے سبب وہ خواہ شب ماہ ہو میرے لیے تاریک ہوجاتی ہے، جب چمن میں بہار آتی ہے تو میں مثل بے برگ و ساز دروازہ بند کرکے وقف نیاز ہوجاتا ہوں۔ دنیا میں مری ہستی ایسی گراں بار تھی گویا جسم میں میری جاں نہ تھی خار ہی خار تھے۔ پھر کس ادا کے ساتھ اپنے اعمال کو ترازو پہ تولے جانے کے خیال سے کہتا ہے کہ میرے دفتر اعمال میں جو بھی خطائیں رقم ہوئی ہیں ان کے مقابل ایک ایک حسرت بھی درج ہے جو بہت جاں گداز ہے اب تو ہی بتا کہ انصاف کیسے ہو یعنی میری خطاؤں سے میری حسرتیں زیادہ ہیں۔

بہر جرم کز روئے دفتر رسد

زمن حسرتی در برابر رسد

بفرمائی کایں واری چوں بود

کہ از جرم من حسرت افزوں بود

اس انداز بیان کو مندرجہ ذیل اشعار پر ختم کرتا ہوں جن میں وہ رحمت باری تعالیٰ کو جوش میں لانے کے لیے کیا کیا نہیں کہتا:

بدیں مویہ در روز امید و بیم

بگریم بد انساں کہ عرش عظیم

شود از تو سیلاب را چارہ جوئی

تو بخشی بداں گریہ ام آبروئی

وگر خون حسرت ھدر کردہ ای

زپاداش قطع نظر کردہ ای

گزشتم زحسرت، امیدیم ہست

سپید آب روئی سپیدیم ہست

کہ البتہ ایں رند نا پارسا

کج اندیشہ گبر مسلماں نما

پرستار فرخندہ منشور تست

ھوا دار فرزانہ ’’و خشور‘‘ تست

(’’وخشور‘‘ بہ معنی نبی کریم) (حسن اللغات فارسی)

ببند امید استواری فرست

بغالب خط رست گاری فرست

کہتا ہے کہ میرے جرموں سے اگر میری حسرت سوا ہے تو پھر مرے جیسے انسان کو عقوبت نہیں تلافی ملنی چاہیے، وگرنہ روز امید و بیم اس قدر گریہ کروں گا کہ عرش عظیم کہے گا کہ مجھے سیلاب سے بچا لہٰذا مجھے میرے اس انتہائی گریہ کے سبب بخش دے لیکن اگر تونے میری مسرتوں کا خون روا ہی رکھا ہے تو میں اپنی حسرت سے گزرا (گزشتم ز حسرت) تو، مجھے امید سحر تاب ہے کہ یہ رند ناپارسا جو مسلمان نما، کج اندیشہ گیر ہے یہ تیرے دین کا جان سے پرستار ہے اور رسول اللہ a کا ہوادار ہے یعنی عاشق ہے (ہوادار فرزانہ و خشورa تست) اب اس عطاء بند اُمید کو ثبات ہو اور غالب کو نجات کی تحریر پہنچے۔

یہ قول ہمارے ادب کا قیمتی جملہ ہے جو فارسی زبان کی لطافت کے ساتھ روحانی اقدار کا حوالہ ہے۔ ’’باخدا دیوانہ باش و با محمدa ہوشیار‘‘ اس قول کے دو جزو ہیں، غالب نے پہلے جزو میں دیوانہ باشی کے حصہ کو طاق اقوال سے اتار کر جس طرح برتا ہے وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ شوخی اور حد ادب کا امتزاج عجب انداز سے ہے۔ غالب کی فکر اور اس کی رسائی کو علامہ اقبال نے کچھ اس طرح خراج پیش کیا۔

فکر انساں پر تیری ہستی سے یہ روشن ہوا

ہے پرے مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

تھا سراپا روح تو، بزم سخن پیکر ترا

زیب محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا

(اقبالؒ)

غالبؔ کو خود اپنے حسن بیاں پر جو ناز تھا اس بابت اردو اور فارسی میں بہت کچھ کہا لیکن اپنے کلام پر حرف گیری بھی اس کو گوارا نہ تھی چناںچہ عجب انداز میں اس نے یہ بات ایک شعر میں کہی

لکھتا ہوں اسد سوزش دل سے سخن گرم

تا رکھ نہ سکے کوئی میرے حرف پہ انگشت

(غالبؔ)

جس پہلو سے وہ کسی واقعہ کو دیکھتا اور پھر جس انداز سے اسے پیش کرتا بہ قول اقبالؔ اس کے مرغ تخیل کی رسائی کا اعلیٰ نمونہ ہوتی۔ واقعہ طور کو ہی لیجیے بیش تر شعرا نے اس مضمون کو اپنی بساط فکر کے مطابق باندھا ہے اور ہر خیال نے دوسرے خیال پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے۔ غالب نے جس طرح اسے پیش کیا اس میں قرآنی آیات کے مفہوم کو بھی اپنے اندر جذب کیے ہوئے ہے اور ندرت بھی ساتھ ساتھ اپنا کمال کا جلوہ دکھا رہی ہے:

گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

(غالبؔ)

اب دیکھیے کہ اس شعر کا حسن یہ کہ اس کے دو طرح معنی لیے جا سکتے ہیں یعنی نہ ہم پر برق گرتی تھی نہ طور پر اور دوسرے معنی جو قریب تر ہیں کہ برق تجلی تو ہم پر گرنی چاہیے تھی نہ کے طور پر اور پھر دوسرے مصرعہ میں شوخی نمایاں ہے کہ ظرف قدح خوار دیکھ کر ہی بادہ دیا جاتا ہے بھلا طور اس کا متحمل کہاں ہوتا۔ یہ غالب کا اپنا شوخ انداز ہے، کرشمۂ قدرت پر نعوذ باللہ اعتراض نہیں۔ جیسا کہ اس نے ترازو پر اعتراض کیا جس میں اعمال تولے جاتے ہیں۔ وہ اپنے اشعار میں مفہوم تک رسائی کے لیے ذہانت کا امتحان لیتا ہے اور جستجو کی دعوت دیتا ہے۔ کہتا ہے

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی

(غالبؔ)

باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار کے دوسرے جزو کی جانب آتے ہیں۔  غالبؔ کی نعتیہ شاعری پر تحقیقی کا فقدان بھی ویسا ہے جیسا مجموعی نعتیہ ادب میں۔ پاسداران ادب نے اپنا فرض پورا کیا ہوتا تو آج عوامی سطح پر یوں کوئی نہ کہتا کہ غالب نے ایک ہی نعت کہی ہے۔ حق جلوہ گرز طرز بیان محمد است۔ غالب کی نعتیہ شاعری سے ناواقفیت کا یہ احساس عام، کن کوتاہیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

مجھے اس درد کی کسک شفیق الدین شارق کے سینہ میں محسوس ہوئی جب انھوں نے کہا

اگر غالب شناسوں میں سے کوئی صاحب چاہیں تو اس موضوع پر پوری ایک کتاب مرتب کرسکتے ہیں، غالب کی شاعری کا یہ پہلو بھی مناسب توجہ کے انتظار میں ہے، اس کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر جب اتنا کام ہوچکا ہے تو اس پہلو پر بھی ہوسکتا ہے۔

میدان شاعری کا وہ شہسوار، جس کے سخن معنی آفریں کا ایک ایک ٹکڑا بے مثال، گوہر آبدار، پرواز فکر میں فلک مدار جس کے مرغ تخیل کی رسائی پر حکیم الامت رطب اللسان، وہ جب اپنی فکر رساء کو بصد عقیدت اور محبت اور جذبات ایمانی کی کیفیتوں کے ساتھ مدحت ساقیٔ کوثر کو متوجہ کرے گا تو اس قدح خوار کے ساغر میں کیا کچھ نہ سمٹ آیا ہوگا جسے ہمارے ادب میں خاطر خواہ پیش کیا نہ جاسکا۔ اقلیم نعت کے پہلے شمارہ میں اس ناچیز کا مضمون ’’نعتیہ ادب میں تنقیدی جمود‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہ اپریل ۱۹۹۵ء کا ذکر ہے الحمدللہ مجذوب نعت کی اَن تھک، بے مثال مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں اس فقدان کے گرداب سے اہل تحقیق کو نکلتے دیکھ رہا ہوں۔ پانچ سال کا طویل عرصہ گزرا، غالب کی نعتیہ شاعری نہ صرف محروم تبصرہ بلکہ محروم تعارف تھی اب میرے شہر اور میرے وطن کے اہل قلم اپنے فرض کی ادائیگی میں سرگرم ہیں جن کے مضامین میری نظروں کے سامنے ہیں۔ غالب کی نعتیہ شاعری پر آئندہ چند ماہ میں میری تحقیق کتابی صورت میں ’’غالب کی نعتیہ شاعری‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر ان شا اللہ آئے گی ایک اندازہ ہے کہ ضخامت پانچ سو صفحات ہوگی۔ اس لیے میں نے اب تک جو کچھ یہاں پیش کیا وہ کافی سمجھتا ہوں لیکن جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں یہ شکوہ کرچکا ہوں کہ اہلِ ذوق اور اہل مطالعہ سے پوشیدہ نہیں لیکن غالب کی نعتیہ شاعری سے عوام الناس نابلد ہیں انھیں ذوق مطالعہ کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے اپنے اس مضمون اور اقلیم نعت کے توسط سے پیش کرتا ہوں۔ جو حضرات فارسی زبان کی شیرینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں انھیں بھی غالب کے نعتیہ کلام سے آگہی نہیں ہے اگر ہم غالب کی نعتیہ شاعری پر بھرپور تبصرہ کے جوہر بھی دکھائیں تو بات وہی آ جاتی ہے کہ وہ کلام آخر ہے کہاں۔ چند مصرعوں کو پیش کرکے شاعر کے کمال فن کا تعارف تو ممکن ہے لیکن قاری غالب کی نعت کہاں تلاش کرے کہ اس کے ذوق مطالعہ کی تسکین اور سیرابی ہو اس لیے میں اس خدمت کو تبصرہ سے زیادہ افضل خیال کرتے ہوئے ذوق مطالعہ رکھنے والے قارئین کو اس خزینہ گوہر نعت کا پتہ بتاتا ہوں۔

غالبؔ کے نعتیہ فارسی کلام کا تمام تر ذخیرہ ’’کلیات غالب‘‘ فارسی میں ہے ’’کلیات غالب‘‘ (فارسی) تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد کے صفحات ۵۱۲، دوسری جلد کے صفحات ۴۰۲، تیسری جلد کے صفحات ۴۲۳، ہیں۔ اس طرح یہ کلیات ۱۳۳۷ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ہر جلد کے آغاز میں کلام غالب پر تبصرہ بھی شامل ہے، لیکن تمام صفحات نعتیہ کلام پر مشتمل نہیں ان میں جہاں نعتیہ کلام ہے اس میں تلاش کی دشواری نہ ہو تفصیل پیش کرتا ہوں۔

جلد اوّل

         بر صفحہ    تاصفحہ      تعداد اشعار  زیر عنوان          مطلع

۱۔     ۲۴۵۲۵۲   ۵۷  نعت(مطلع: بنا میزد اے کلک قدسی صریر 

۲۔     ۳۵۳  ۳۳۷  ۲۸۱  معراج نامہ  بہ ہرجنبش از غیب نیر و پذیر

۳۔     ۲۹۳  ۳۰۴  ۱۲۸  ھمانا در اندیشۂ روزگار

                                   شبی بود سر جوش لیل و نہار

                                  بیان نموداریٔ شان نبوت / بعد حمد ایزدو نعت رسول 

                                  و ولایت کہ درحقیقت پر تو/ مینگارم نکتۂ چند از اصول

                                  نور الانوار حضرت الوہیت است

                                  ابتدا کے گیارہ شعر نعت کے ہیں بعدازاں

                                  اولیائے کرام کے فیضان بتوسط رسول کریم

                                  اس کی تفصیل فہرست کے آخر میں دوں گا

                                  کلمات طیبات        مطلع

۴۔     ۴۱۳  ۴۱۸  ۶۴    (تفصیل فہرست کے بعد)        (ھلہ ھاں اے دقیقہ اندیشاں

                                           حق پرستان و معدلت کیشاں)

                                           فاتحہ

۵۔     ۴۴۱  ۴۴۲  ۱۱    (واقعات کربلا پر آسمان سے شکوہ   (اے فلک! شرم از ستم برخاندان مصطفٰے

                                  جس کے ہر شعر کی ردیف ’’مصطفٰے ہے)         داشتی زیں پیش سر بر آستان مصطفٰے

۶۔     ۴۴۹  ۴۵۱  ۹ بند ہیں          خمسہ برغزل قدسیؒ  کیستم تابخردش آوردم بے ادبی

                                           قدسیاں تو در موقف حاجت طلبی

                                           رفتہ از خویش بدیں زمزمۂ زیر لبی

                                           مرحبا سید مکی مدنی العربی

                                           دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی

از جلد دوم

         از صفحہ    تاصفحہ      تعداد اشعار  زیر عنوان                   مطلع

۱۔   ۶۱۱،   ۶۵،    در نعت سید المرسلین   (مطلع اول میں ۳۷ شعر

                                                            مطلع ثانی میں ۲۸ شعر

                                                            مطلع اول : مرا د لیست بہ پس کوچۂ گرفتاری

                                                   کشادہ روی تر از شاھدان بازاری

                                                   مطلع ثانی: 

زہے ز حرف تو اندیشہ را مدد گاری

                                                   خرد بسایۂ شرعت زفتنہ زنہاری

۲۔     ۲۱    ۲۵        ۵۵         درنعت مصطفیٰ بشمول منقبت مرتضوی         مطلع : چوں تازہ کنم درسخن آئین بیاں را

                                  (تفصیل فہرست کے بعد)        آواز دہم شیوہ ربا ہم نفساں را

جلد سوم

۱۔     ۱۱۳  x            ۹نعت شریف          مطلع : حق جلوہ گرز طرز بیان محمد است

                                                   آری کلام حق بہ زبان محمد است

کلیات کی ان تین جلدوں میں ۵۵۹ اشعار ہیں حمدیہ کلام ان سے علاحدہ کر لیا گیا ہے ورنہ مجموعی تعداد اشعار سات سو سے تجاوز کر جاتی ہے۔

جلد اوّل میں زیر عنوان ’’بیان نمودارئ شان نبوت و ولایت کہ درحقیقت پرتو نورالانوار حضرت الوہیت است‘‘ اس طویل عنوان کے تحت مندرجہ بالا فہرست میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ۱۲۸ ۔ اشعار ہیں ان میں ابتدا کے گیارہ شعر خالصتاً نعت شریف کے ہیں بعدازاں اولیائے کرام کے فیضان کی بحث ہے جو رسول اللہa ہی کے حوالہ سے ہے۔ دُنیا کے انسانوں اور بھٹکی ہوئی مخلوق کی رہبری اور رہنمائی کے لیے نبیوں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا گیا۔ رحمت للعالمینa پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوا۔ لیکن مخلوق خداوندی کی ہدایت کے لیے قرآن کریم اور احادیث نبوی کی روشنی میں خلافت کا سلسلہ جاری ہوا اور جاری رہا تاوقتے کہ مشیت ایزدی سے خلافت بھی اختتام کو پہنچی۔ نبوت اور خلافت دونوں دراصل گمرہی، جبرو ظلم کرنے والی طاقتوں کے خلاف محاذ آرا رہے، ان کے بعد یہ سلسلہ اولیائے کرام کو سونپا گیا اور قیامت تک یہ اولیائے کرام اللہ کے حکم اور رسول اللہa کی اتباع و پیروی کرتے ہوئے جبر، ظلم، جہل اور استعماریت سے برسرپیکار رہیں گے۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے انھیں خاص شرف روحانیت بخشا ہے جس کی نسبت سے مخلوق خدا ان کے پاس جایا کرتی ہے۔ استعماریت اور جہل و جبر نظام سرمایہ داری کی گمراہیوں کے خلاف جمہوریت کے اصول اور قوانین خود استعمارپرستوں کے بنائے ہوئے ہیں خدا کا قانون قرآن ہے پھر رسول کی ذات ہے پھر صحابہ کی زندگی ہے پھر اہل بیت اور آلِ نبی ہیں پھر اولیائے کرام ہیں ان تمام سے اگر جمہوریت کے ساختۂ انسان قوانین متصادم ہوں تو برتری قانون خداوندی ہی کو دی جائے گی۔ ان باتوں کو نظر میں رکھ کر غالب کے ان اشعار پر غور کریں تو اس کی فکر اس کے نظریات اور اس کے عقیدہ کی واضح صورت سامنے آتی ہے وہ کہتا ہے کہ تونے اگر کسی ولی اللہ سے کچھ طلب کیا ہے وہ درحقیقت خدا سے ہی طلب کرنا ہے کہ جو کچھ طاقت ولی کی ہے وہ اس کی ذاتی نہیں بلکہ رب کریم نے اسے عطا کی ہے اور اسے یہ مرتبہ نور حق سے ملا ہے

ہر کہ او را نور حق نیرو فراست

ہرچہ ازوے خواستی از ہم خداست

بر لب دریا گر آبی خوردہ ای

آب از موج بجام آوردہ ای

آب از موج آید اندر جام تو

لیکن از دریابود آشام تو

ترجمہ: تونے جو کچھ اللہ کی بارگاہ کے مقبول بندے ولی سے طلب کیا وہ دراصل خدا سے طلبی ہے کہ ولی پر خدا مہربان ہے اور اس کے نور نے اسے نوازا ہے وہ تجھے نواز دے گا۔

تو اگر پیاسا دریا کے پاس گیا اور پانی پیا تو تیرے پیالے میں پانی دریا سے نہیں بلکہ موج دریا سے آیا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ غالب فلسفۂ وحدت الوجود کے آخر تک قائل رہے اسی مثنوی کا یہ شعر بہت مقبول ہوا جو ختم نبوت پر ہے۔

منشاء ایجاد ہر عالم یکیست

گر د صد عالم بود خاتم یکیست

اسی طرح جلد دوئم میں زیر عنوان ’’کلمات طیبات‘‘ میں جس کا مطلع ھلہ ھاں اے دقیقہ اندیشاں ہے اصحاب رسولa کی عظمت، بزرگی اور بلند مراتب و فضیلت بیان کی ہے اور جو ان کی عظمت کے قائل نہیں ہیں ان کو مخاطب کرکے کہا کہ اہل ایمان ہونے کے لیے ان کی محبت شرط ہے میں بہ طور نمونہ چند شعر پیش کرتا ہوں

دشمن جوہر نگاہ نہ ایم

منکر رویت الٰہ نہ ایم

رسم ما نیست نا سزا گفتن

کار ما نیست جز ثنا گفتن

خانہ زاد رسول و آل ویم

دشمن خصم و بدسگال ویم

خانہ زاد نبی و آل نبی

نکند با صحابہ بے ادبی

زاں کہ ایناں امین و داد گراند

با نبی ہم نشین و ھم سفراند

کیش بیگانگی رھا کردہ

بر نبی مال و جاں فدا کردہ

بولای نبی و عترت او

یافتہ ملک و دیں بدولت او

اس تعارف اور تعریفی کلمات کے بعد کہتا ہے

بد سگال صحابہ بے دین است

در خور صد ہزار نفرین است

کار اصحاب بیں و بد مثمر

حال ایشاں چوحال خود مثمر

گر ترا صرفۂ نکو کاریست

حب ایشاں طراز دینداریست

فکر بغض صحابہ سودا ئیست

خاطر کفر را سویدا ئیست

رفض ماخولیائی خام آرد

صید دیوانگی بدام آرد

یا تو گویم اگر یقیں داری

کاں بزرگاں زروی دین داری

خیر خواہ رسولؐ و آل ویند

عاشق جلوۂ جمال ویند

ان چودہ شعروں سے بہ خوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ غالبؔ اپنے عقائد میں کن باتوں کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا طرۂ امتیاز یہی ہے کہ بارگاہ خداوندی میں پیش ہو یا حلقۂ یاراں میں بلاخوف جو بات ایمان و عقیدہ کی ہے بیان کر جاتا ہے۔ ان اشعار کی تعداد بہت ہے طرز بیان میں سادگی اور استدلالی کیفیت کے ساتھ روانی اور سلاست بھی نمایاں ہے۔

اب ان گیارہ اشعار کا ذکر جو اگرچہ براہ راست نعت شریف کے نہیں لیکن کربلا میں امام عالی مقام پر جو گزری اس کا شکوہ فلک بیداد سے جن لفظوں میں کیا ہے وہ خود ایک شہ پارہ ہے جس کے ہر شعر کی ردیف 

مصطفیٰ ہے۔

یہ چند اشعار بطور حوالہ بھی اور بطور عقیدت بھی نذر قارئین کر رہا ہوں اس میں غالب نے جو کہا تھا کہ

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

اس دعوے کی دلیل یہ اشعار ہیں

اے فلک! شرم از ستم بر خاندان مصطفیٰؐ

داشتی زیں پیش سر برآستان مصطفیٰؐ

اے بمہرو ماہ نازاں ھیچ میدانی چہ رفت؟

از تو برچشم و چراغ دود مان مصطفیٰؐ

سایہ از سرو روان مصطفیٰؐ نفتد بخاک

ھاں ، چہ برخاک افگنی سروروان مصطفیٰؐ

گرمئی بازار امکاں خود طفیل مصطفیٰؐ است

ہیں چہ آتش میزنی اندر دکان مصطفیٰؐ

کینہ خواہی بیں کہ با اولاد امجادش کنی

آنچہ بامہ کردہ اعجاز بنان مصطفیٰؐ

نیک بنود گر تو برفرزند دل بندش رود

آنچہ رفت از مرتضیٰؑ بر دشمنان مصطفیٰؐ

یا تودانی مصطفیٰؐ را فارغ از رنج حسین؟

یا تو خواہی زیں مصیبت امتحان مصطفیٰؐ

یا مگر گاہی نہ دیدی مصطفیٰؐ را با حسینؑ

یا مگر ہر گز نہ بودی در زمان مصطفیٰؐ

آںحسینؑ است ایں کہ سودی مصطفیٰؐ چشمش برخ

بوسہ چوں باقی نہ ماندی در دہان مصطفیٰ

آںحسینؑ است ایںکہ گفتی مصطفیٰؐ ’’روحی فداک‘‘

چوں گزشتی نام پا کش بر زبان مصطفیٰؐ

قدسیاں رانطق من آوردہ غالب در سماع

گشتہ ام در نوحہ خوانی مدح خوان مصطفیٰ

جلد دوئم میں ہی بہ عنوان ’’نعت مصطفی بہ شمول منقبت مرتضوی‘‘ میں قلم کی جولانی، گوہر فشانی سیمائے بیانی کے شعر۔ یہاں صرف تین اشعار پر اکتفا کرتا ہوں

رقصد قلم بے خود و من خود زرہ مہر

برزہرہ فشانم اثر جنبش آں را

گوہر کدۂ راز بود عالم معنی

در لفظ گہر ریزہ بود وادیٔ آں را

لفظ کہن و معنی تو در ورق من

گوئی کہ جہانست و بہار است جہاں را

اپنی ان گزارشات کے آخر میں اس نعت کا حوالہ بھی ضروری سمجھتا ہوں جس کی فارسی داں اور فارسی زبان سے ناواقف حضرات میں یکساں مقبولیت ہے جس کا مطلع ہی عاشقان مصطفیa کے لیے آب حیات سے زیادہ معتبر ہے کہ عمر جاودانی عشق بخشتا ہے اور غالب کی حقیقی عظمت وہیں جلوہ گر ہے۔

حق جلوہ گرز طرز بیان محمدؐ است

آرے کلام حق بہ زبان محمدؐ است

اس نعت پر غالباً جتنا لکھا گیا ہے وہ کسی دفتر سے کم نہیں ہر ہر مصرعہ کی تشریح و تفسیر قرآن و حدیث کے حوالوں سے بھی کی گئی ہے اور شعری محاسن کے اعتبار سے بھی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تشنگی دور نہیں ہوئی اور اس پر مزید دفتر رقم ہوگا۔ میرا یہ مضمون طویل ہوگیا ہے اور مجھے احساس ہے کہ غالب کی اس شہرۂ آفاق نعت پر تبصرہ بھی ضروری ہے۔ چناںچہ میں اس ارادہ کو اپنی مجوزہ تصنیف ’’غالب کی نعتیہ شاعری‘‘ کے لیے جس پر شب و روز تحقیقی کام ہورہا ہے ملتوی کرتا ہوں البتہ مقطع پر

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم

کآں ذات پاک مرتبہ دان محمدؐ است

اظہار خیال کرتا ہوں یہ عجیب بات ہے کہ ایک صاحب علم نے مجھے اپنے اس خیال سے چونکا دیا کہ غالب چوںکہ نعت کا مرد میدان نہیں تھا اس نے اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے یہ شعر کہا ہے یقینا وہ یگانہ چنگیزی نہ تھا میرے عہد کا انسان تھا لیکن میری حیرت کا سبب کچھ اور نہیں تھا بلکہ یگانہ کے افکار کی عصر حاضر میں پیکر بشری میں ملاقات تھی۔ خیر اس نے جو کہا بقدر ہمت اوست حقیقت یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے علاوہ اردو زبان میں بھی دس بیس نہیں سیکڑوں شعرا نے اپنے اس عجز کا اظہار اپنے اپنے انداز سے کیا ہے۔ میری نظر سے جو اشعار گزرے ان میں سے چند پیش خدمت ہیں۔

کنوں گویم ثنا ہائے پیمبر

کہ مارا سوئے یزدانست رہبر

(گرگانیؔ)

یہاں فخرالدین گرگانی غالب کے برعکس کہتے ہیں کہ میں جو ثنائے پیمبر میں مصروف ہوں تو میری رہبری یزداں کر رہا ہے۔ لیکن انوری غالب کی طرح کہنا چاہتا ہے پھر بھی وہ اپنے آپ کو نااہل قرار دے کر کہتا ہے

سخن از شرح دین احمد گو

بے دلا، ابلہا و بے دُنیا

(انوریؔ)

البتہ حکیم خاقانی کے عجز میں زور کلام اور حسن بیان دونوں شامل ہیں

مرغے چنیں کہ دانہ و آبش ثنائے تست

مپسند کز نشیمن عالم کشد جفا

(خاقانیؔ)

اور فرید الدین عطار کہتے ہیں

اگر در نطق آیم تا قیامت

نیارم گفت یک و صفت تمامت

(عطارؔ)

خلاق المعانی کمال الدین اسمٰعیل کہتا ہے

دریائے مدحت تو ز پنہاوری کہ ہست

دروے شناوران سخن را گزار نیست

            (کمال الدین اسمٰعیل)

اور اب دیکھئے گلستان پند و بوستان سخن شیخ سعدی کی جانب فرماتے ہیں

تورا عز لولاک تمکیں بس است

ثنائے توطٰہٰ و یسٰیں بس است

چہ و صفت کند سعدیٔ نا تمام

علیک الصلوٰۃ اے نبی السلام

(سعدیؒ)

چار مصرعے سعدی ہی کے اور دیکھیے

چو دولت با یدم تمہید ذات مصطفیٰ گویم

کہ در در یوزہ صوفی گرد اصحاب کرم دارد

زیاں را درکش اے سعدی ز شرح علم او گفتن

تو در علمش چہ دانی باش تا فرد اعلم گردد

(سعدیؒ)

اور خواجہ ہمام تبریزی فرماتے ہیں

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب

یہ مصرع عام زد زبان اسی طرح سے ہے لیکن اصل شعر اس طرح ہے

ہزار بار بشستم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نام تو بردن مرا نمی شاید

اس نعت کا مطلع کچھ اس طرح ہے اور دیگر اشعار بھی اپنے قارئین کے علم میں حقیقی اضافہ کے لیے پیش کر رہا ہوں

دلم زعہدۂ عشقت بروں نمی آید

بجائے ہر سر موئے مرا دلے باید

رواں شود زلبم چشم ہائے آب حیات

چوں نام دوست مرا بر سر زباں آید

ہزار بار بشستم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نام تو گفتن مرا نمی شاید

اور مطلع اس طرح سے ہے

زہے خجستہ مباحے کہ وقت بیداری

ہمام روئے تو بیند چودیدہ بکشاید

                (خواجہ ہمام تبریزی)

بات جب نکلتی ہے تو اضافے بھی ہوتے جاتے ہیں زبان کو خواجہ ہمام تبریزی نے نعت رسولa میں دھونے کا جو خوب صورت لفظوں میں ذکر کیا ہے تو اسی انداز کو مرزاداراب بیگ نے جن کا تخلص جویا تھا اپنے انداز میں یوں کہا ہے

پاک تر از موج کوثر کن زبان خویشتن

ناتوانی بود زیں پس نعت سنج مصطفیٰؐ

(جویاتبریزی)

خواجہ جمال الدین سلمان ساوجی کہتا ہے

فکرم نمی رسد بصفاتت کہ وصف تو

بر دست و پائے عقل ز حیرت عقال یافت

فکر ہوائی بشریت کجا و کئے

در بارگاہ وصف ہوایت مجال یافت

جمال دہلوی کے اشعار کمال ادب و عجز ہیں اور غالب نے جو یہ کہہ کر کہ ’’آں ذات پاک مرتبہ دان محمد است‘‘ یزداں پر بات چھوڑ دی جمال دہلوی نے یہی بات کہی ضرور مگر غالب کے پہلے مصرعہ کے مقابل وہ پھر بھی مصروف ثناء ہے اور اس کا سبب بیان کرتا ہے۔ بہت خوب اشعار ہیں ملاحظہ کیجیے

زباں در وصف ذاتت گنگ و لالست

کہ وصف چوں توئی کر دن محال است

میان امتت از ہیچ ہیچم

چہ باشد من ؟ کہ در نعت تو پیچم

چوں نعتت می سراید ایزد پاک

چہ باشد در صفاتت زہرۂ خاک

و لیکن چوں من از خیل سگانم

ز اَو صافت چرا خاموش مانم

                    (جمال دہلوی)

عرفی شیرازی نے کیا خوب کہا

دعویٰ کن نعت لائق تو

رسوائے جہان آفرینش

دارد بہ عنایت تو عرفیؔ

حرفے ز زبان آفرینش

(عرفیؔ)

محمد حسین نظیری نے جو یہ شعر کہا ہے محسوس یہ ہوتا ہے کہ غالب نے اسی خیال کو اپنے مقطع میں سمو لیا ہے غالب نظیری سے بے حد متاثر بھی تھا اور اس کے کلام کے حوالہ سے شعر بھی کہے

خدا نعت محمد داند و بس

نیا ید کار یزداں از دگر بس

نظیری کا اس سے پہلا شعر بھی اسی ضمن میں بہت خوب ہے

بہ نعت مصطفیٰ نامیست نامم

کزیں معنی بہ یزداں ہم کلامم

(نظیریؔ)

اس سے قبل ہزار بار بشویم دہن زمشک گلاب کی بحث اور تصحیح میں مرزا جو یا کا

ہم معنی شعر پیش کیا تھا مرزا جویا کا ایک اور شعر سامنے آگیا تو نقل کرتا ہوں کہ وہ تو عام انسانوں کے لیے مشک و گلاب سے دہن شویٔ کی بات تھی لیکن جویاؔ نے اس شعر کو اور بلند کردیا ہے یہ کہہ کر کہ:

از ادب شوید دہن را خضر از ہفتاد آب

تا تواند برد نام نامیٔ آں پیشواء

(مرزاجویاؔ)

صاحب لولاک کا نام لینے سے پہلے عام آدمی تو کجا ادب کا قرینہ حضرت خضر ؑ کو بھی مجبور کرتا ہے کہ ایک نہیں دو نہیں ہفتاد آب سے اپنے دہن کو دھولیں۔ (ہفتاد بہ معنی۷۰)

میر سید علی مشتاق اصفہانی کہتا ہے۔ یہ جمال الدین اصفہانی اور کمال الدین اصفہانی سے مختلف شخصیت ہے) جس طرح گرگانی ہے زیاد بن محمد قمری گرگانی اور فخر الدین اسعد گرگانی)

کہ بوادئ ثنائے تو صد افلاطوں را

پائے اندیشہ بود با ہمہ سرعت ارجل

یوں میری نظر میں ان شعرا کا کلام بھی ہے جو عربی اور اردو میں اس خیال کو منفرد انداز میں پیش کر چکے ہیں لیکن میں حکیم قاآنی کے ان تین اشعار پر ختم کرتا ہوں جن میں قاآنی اپنے عجز کا یوں اظہار کرتا ہے

لیکن ترا مجال بیاں نیست در درود

لیکن ترا قبول سخن نیست در ثناء

دست دعا وسیع و سمند تو ناتواں

بام ثناء رفیع و کمند تو نارسا

گر رایت از مدیح شناسائی است و بس

خود راشناس تانہ کنی مدح نا سزا

                   (حکیم قاآنی)

اور اپنے ہی شعر کے مقابل غالب ایک اور منزل پہ اس طرح لب کشا ہوتا ہے

بہشت ریزدم از گوشۂ ردا کہ مرا

زخوان نعت رسولست زلہ برداری

سخن زمدح تو باید زخویش کز تعظیم

بصد ہزار زبانی ستودۂ باری

(غالبؔ)

اگرچہ غالب نے اپنی عقیدت اور رسولa سے اپنی بے پناہ محبت کے اظہار میں لاتعداد اشعار نظم کی صورت اردو اور فارسی میں کہے لیکن جب رسولa کا ایک ایسا نمونہ غالب نے اپنی نثر میں چھوڑا ہے جو یقینا اس کی نجات کا باعث بنے گا اور اہلِ جہان کو حب رسولa کا درس بن کر زبان و بیان کی تاریخ میں مہر و ماہ کی طرح روشن رہے گا۔ نواب علاؤ الدین احمد خاں علائی کو اپنے خط میں لکھتے ہیں

اگر مجھ کو دوزخ میں ڈالیں گے تو میرا جلانا مقصود نہ ہوگا بلکہ دوزخ کا ایندھن ہوئوں گا اور دوزخ کی آنچ کو تیز کروں گا تاکہ مشرکین اور منکرین نبوت مصطفوی اور امامت مرتضوی اس میں جلیں. 

                          از: ’’غالب کے خطوط‘‘ جلد اوّل

 

تحریر: ادیب رائے پوری

 

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR