فن تدوین ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا ہے اور اب تک اس کے اصول و ضوابط اس طور پر مدون نہیں ہو سکے کہ سب یکساں طور پر ان اصولوں پر عمل کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ املا، رموز اوقاف اور اصطلاحات تراجم کی طرح یہ مسئلہ بھی قومی سطح پر ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ معذرت کے ساتھ یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم مسائل کو سلجھانے کے بجائے الجھانے کا کام زیادہ تن دہی اور دل لگا کر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود قومی زبان کا مسئلہ بھی آج تک ہم نے وجہ بے وجہ اُلجھا رکھا ہے۔ یہ کون کہتا ہے کہ انگریزی زبان بین الاقوامی اور بڑی زبان نہیں ہے۔ یہ کون کہتا ہے کہ انگریزی زبان نہیں سیکھنی چاہیے۔ مسئلہ تو صرف اتنا سا ہے کہ قومی زبان، دفتری زبان اور ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال ہونا چاہیے تاکہ اظہار مدعا کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے اور ہم دفتر اور بیرون دفتر اپنی بات ہر سطح پر پہنچانے کی اہلیت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔ حاکم و محکوم کی درجہ بندی ختم ہو جائے، ہماری تخلیقی صلاحیتیں، قومی زندگی کی ہر سطح پر پروان چڑھنے لگیں اور ہم قومی یک جہتی کی منزل کی طرف گامزن ہو سکیں۔
لفظ تدوین عربی زبان کا لفظ ہے جو فارسی و اردو میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ تدوین کے معنی فارسی زبان میں "جمع نمودن و تالیف کردن" (منتخب اللغات ملا عبد الرشید) کے ہیں اور اردو زبان کی " نور اللغات میں بھی اس کے معنی " جمع کرنا، مرتب کرنا " بتائے گئے ہیں۔ انگریزی زبان میں اس کے لیے ایڈیٹنگ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ہیں کسی دوسرے کے کام کا طباعت کے لیے ایڈیشن تیار کرنا۔ یہ تو اس لفظ کے لغوی معنی تھے لیکن اب تدوین ایک ایسا فن بن گیا ہے جس میں بہت سی اور باتیں بھی شامل ہوگئی ہیں اور اس کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے۔ ہم فن تدوین کو تین قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
ا۔ نئی کتابیں یا تحریریں جب اشاعت کے لیے کسی ناشر یا مدیر کے پاس آتی ہیں تو وہ انھیں پڑھ کر یا پڑھوا کر اُن کے املا کو ٹھیک کراتا ہے۔ ان کے رموز اوقات کو درست کراتا ہے۔ حسب ضرورت پیرا گراف گھٹاتا یا پڑھاتا ہے۔ زبان و بیان کو صحیح و بہتر بناتا ہے۔ تکرار یا اعادہ کو دور کرتا ہے اور اسے اس صورت میں لے آتا ہے کہ قاری آسانی کے ساتھ بغیر کسی اُلجھن کے پڑھ سکے ۔ یہ فن تدوین ہے جس پر صاحب علم ایڈیٹر یا اچھا ناشر عمل کرتا ہے اور اس کام کے لیے فن تدوین کے ماہروں کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ یورپ و امریکہ کے اشاعتی اداروں سے ایسے ماہرین عام طور پر وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابوں یا رسائل و جرائد میں وہ پھر پٹرین نہیں پایا جاتا جو ہماری مطبوعات میں عام طور پر نظر آتا ہے۔ ایک ہی صفحہ پر ایک ہی لفظ کا املا دو طرح سے لکھا ہوا ملتا ہے۔ مواد کی تکرار صفحات کو سیاہ کر دیتی ہے۔ ترتیب و ربط نہ ہونے کی وجہ سے تحریر سے وہ اثر پیدا نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ اچھی تدوین تصنیف کے حُسن کو نکھار دیتی ہے۔ اہم اور کلاسیکی مطبوعہ کتابوں کا نیا ایڈیشن تیار کرنا تا کہ ایک طرف اس کتاب کا ایسا ایڈیشن تیار ہو جائے جو نہ صرف مستند ہو بلکہ مختلف ایڈیشنوں میں جو اختلاف پائے جاتے ہیں وہ بھی سامنے آجائیں۔ ساتھ ساتھ اس کے متن کی وضاحت کے لیے حواشی بھی دیے جائیں تاکہ قاری زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر کے کتاب سے مستفید ہو سکے۔ ان حواشی کے ذیل میں وضاحت، اختلاف، نقطہ نظر کی تشریح، املا، رموز اوقاف، پیراگراف، فرہنگ و غیره سب آجاتے ہیں مثلاً ڈاکٹر وحید قریشی کی مدون کتاب الطاف حسین حالی کا " مقدمہ شعر و شاعری " اسی ذیل میں آتے ہیں۔ کلیات سودا" مرتبہ ڈاکٹر شمس الدین صدیقی یا "کلیات جرات" مرتبہ ڈاکٹر اقتدا حسن بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ ایسی کتاب کو مرتب کرتے وقت صرف پہلے ایڈیشن اور مطبوعہ نسخوں کو ہی سامنے نہیں رکھا جاتا بلکہ مصنف کے زمانے یا قریب تر زمانے یا معتبر قلمی نسخوں کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ یہاں بھی تددین کا مقصد وہی ہے جس کا ذکر میں نمبر ایک کے ذیل میں کر چکا ہوں کہ کسی دوسرے مصنف کی کتاب کو اس طور پر مدون کر کے پیش کرنا تا کہ قاری مستند متن کے ساتھ کتاب سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے۔ تدوین کی تیسری قسم میں اُن مخطوطات کی تدوین آتی ہے جو پہلی بار شائع کرنے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی وہی عمل ہوتا ہے جو مطبوعہ کتابوں کی تدوین میں ہوتا ہے لیکن یہ کام زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ اعلیٰ معیار کی تدوین کے لیے سب سے پہلے ان سارے نسخوں کو دیکھا اور جمع کیا جاتا ہے جو موجود و معلوم ہیں۔ پھر مصنف کے اپنے ہاتھ کے نسخے کو یا ایسے نسخے کو جو مصنف کی نظر سے گزر چکا ہو یا مصنف کے قریبی دور کے نسخے کو بنیادی نسخے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی نقل تیار کی جاتی ہے پھر اس کا مقابلہ دوسرے نسخوں سے کر کے تعلیقات و اختلافِ نسخ تیار کیا جاتا ہے۔ حواشی لکھے جاتے ہیں۔ مصنف اور اس کے دور کا تعین کیا جاتا ہے اور وہ ساری ضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں جو اس مخطوطے کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کریں اور قاری اس تصنیف سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے۔ یہاں مرتب املا کو بھی خاص طور پر دیکھتا ہے، کتابت کی غلطیوں کی بھی نشان دہی کر کے درست کرتا ہے۔ متن میں جو الفاظ رہ گئے ہیں اگر نسخہ صرف ایک ہی ہے، تو انھیں بھی پورا کرتا ہے۔ اشعار یا حوالوں کے لیے متعدد کتابوں سے رجوع کرتا ہے ۔ یعین زمانہ کے لیے کتب تواریخ و سیر کو کھنگالتا ہے۔ اگر کسی مخطوطے کا ایک ہی نسخہ موجود و معلوم ہو تو مرتب تعلیقات و اختلافِ نسخ کی دیدہ ریزی سے تو ضرور بچ جاتا ہے لیکن اس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ باتیں میں نے ایک سانس میں ضرور کہہ دی ہیں لیکن ان میں سے ہر پہلو کے ایسے پے چیدہ مسائل ہیں جن پر تفصیل کے ساتھ بہت کچھ کہا جانا چاہیے۔ اس نوع کے مخطوطات کی تدوین کے سلسلے میں " دستور الفصاحت از حکیم سید احمد علی خان یکتا کی تصنیف کا ذکر کیا جاسکتا ہے جسے امتیاز علی خان عرشی نے مرتب کیا ہے۔ حکیم قدرت اللہ قاسم کا تذکرہ "مجموعہ نغز" مرتبہ حافظ محمود خان شیرانی یا تذکره مخزن نکات از قائم چاند پوری مرتبہ ڈاکٹر اقتدا حسن کو مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اردو زبان کی پہلی معلوم تصنیف " مثنوی کدم راؤ پدم راؤ " کا ذکر میں یہاں اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ اسے میں نے خود مرتب کیا ہے۔ مخطوطات کی تدوین کے سلسلے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں اور مخطوطات کو مرتب کرنے کے فن کے کیا اصول ہیں یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ایک الگ مقالے کی ضرورت ہے۔
فن تدوین کے بنیادی اصول تو کم و بیش یکساں ہیں لیکن نظم اور نثر کی کتابوں مخطوطات پر ان اصولوں کا اطلاق مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ تدوین اور تحقیق کا بھی چولی دامن کا ساتھ ہے تدوین بغیر تحقیق کے ممکن نہیں ہے۔ تدوین کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف صاحب علم ہو بلکہ متعلقہ علوم کی مختلف شاخوں پر بھی اچھی نظر رکھتا ہو۔ وہ ادب کی مختلف اصناف اور ان کی تاریخ سے بھی واقف ہو۔ لسانیات و قواعد زبان پر بھی نظر رکھتا ہو۔ اس دور کی تاریخ پر بھی عبور رکھتا ہو جس دور کے مخطوطے پر وہ کام کر رہا ہے اور وہ اس دور کے دوسرے مصنفوں سے بھی پوری طرح آگاہ ہو۔ قدیم وجدید املا، تذکیر و تانیث، متروک و مروج الفاظ سے بھی باخبر ہو۔ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ وہ کس نوع کے قارئین کے لیے یہ کام کر رہا ہے اور ان کو زیادہ سے زیادہ مطمئین کرنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ اسے قدیم دور کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کا بھی پورا اندازہ ہونا چاہیے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ پیراگراف کی کیا اہمیت ہے اور وہ کب اور کہاں قائم کیا جاتا ہے۔ کہاں اعراب لگانے کی ضرورت ہے۔ کہاں اوقاف کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ اسے یہ بھی معلوم ہو کہ حوالے کیسے دیے جاتے ہیں۔ دوسروں کی تصانیف کے اقتباسات کو کیسے واوین میں لکھنا چاہیے۔ مختصر اقتباس اور طویل اقتباسات کے حوالوں کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر اقتباس میں بیچ سے کوئی جملہ یا الفاظ چھوڑے ہیں تو نقطے لگا کر اسے کسی طور پر واضح کرنا چاہیے۔ ذہنی دیانت داری اور معروضی انداز نظر کام کے معیار کے لیے بنیادی شرط کا درجہ رکھتے ہیں۔ بیان کا ایجاز و اختصار بھی اس لیے ضروری ہے کہ اس سے تحریر صاف و شفاف اور ابلاغ اعلیٰ سطح پر آجاتا ہے۔ یہی صورت حال پی ایچ ڈی اور ایم فل کے مقالات کی ہے جو بغیر یکساں اصول کے مدون کیے جاتے ہیں اور اکثر مواد کا ایسا ڈھیر بن کر رہ جاتے ہیں جس پر تدوین کرنے والا کھڑا ہے اور تدوین کے اس بنیادی اصول کو رد کر رہا ہے جس کا بنیادی مقصد مسودہ کو قاری و طباعت کے لیے تیار کرنا ہے۔ ان مقالات کے لیے بھی اصول و ضوابط مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سب یکساں طور پر، ان کی افادیت کے پیش نظر ان پر عمل کریں۔ اس طرف بھی اہل علم اور اساتذہ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
۲۴ جون ۶۱۹۸۶
تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی