بچوں کا ادب
بچوں کے ادب کے سلسلے میں بات کرنے سے پہلے ایک بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ والدین عام طور پر اپنے بچوں کی پرورش اپنی خاندانی روایت ، اپنے مزاج ، اپنے خیالات و عقائد کے مطابق کرتے ہیں مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ اسی لیے مسلمان ہوتا ہے اور ہندو کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ اسی لیے ہندو ہوتا ہے۔ آخر یہ کیوں نہیں ہوتا کہ ہندو کے گھر پیدا ہونے والا بچہ مسلمان بن جائے ؟ جیسے یہ ایک حقیقت ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچوں کے ادب کا مسئلہ بھی اسی بات کا ایک پہلو ہے۔ اس صورت حال میں یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچے کو ایسی کتابیں پڑھنے کے لیے مہیا کریں جن سے ہمارے خیالات و عقائد کے مطابق اس کے ذہن کی نشو و نما ہو سکے۔ کچی عمر میں جب ہم اپنے بچوں کو ایسی کتابیں مہیا کرتے ہیں جو بحیثیت والدین ہمارے خیالات و عقائد کی نفی کرتی ہیں تو ہم دراصل اس عمل سے اسی شاخ کو کاٹ رہے ہوتے ہیں جس پر ہم کھڑے ہیں ۔ سارے معاشرے پر نظر ڈا لیے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ہم اپنے بچوں کو ایسی کتابیں مہیا کرتے ہیں جن سے ہم اسے وہ نہیں بنا پاتے جو دراصل اسے بنانا چاہتے ہیں۔ وہ کتابیں عمدہ کاغذ پر رنگ برنگی تصویروں کے ساتھ اچھی علی عبارت میں لکھی ہوئی ہر عمر کے بچوں کے لیے بازار میں عام طور
پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر بچہ کتاب نہ بھی پڑھے تو وہ صرف تصویروں سے لطف اندوز ہو کہ کتاب سے مانوس ہو جاتا ہے۔ یہ کتابیں ہم اچھی قیمت دے کر خریدتے ہیں۔ اس کے بر خلاف ہمارے مصنفوں کی کتابیں نہایت خراب کا غذ پر بغیر یا بے رنگ تصویروں کے ساتھ جب بازار میں نظر آتی ہیں تو انھیں والدین نہیں خریدتے اور یہ کتابیں بیرونی کتابوں کے مقابلے میں اسی لیے کم فروخت ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں بچوں کے باقاعدہ مصنف خال خال نظر آتے ہیں، جب کہ بیرونی زبانوں میں بچوں کے مصنفین الگ ہوتے ہیں جو بچوں کی نفسیات پر اپنی قوم کی تاریخ و مزاج پر اور عہد جدید کے تقاضوں سے اس طرح واقف ہوتے ہیں کہ ان کی کتابیں بچوں میں مقبول ہوتی ہیں۔ انھیں اپنی زبان پر پورا عبور حاصل ہوتا ہے۔ وہ عبارت میں کسی قسم کی غلطی نہیں کرتے اور ہر عمر کے بچوں کے ذخیرہ الفاظ کو سامنے رکھ کر اسی انداز سے کتابیں لکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں مصنفین عام طور پر باہر کی کتابوں کا چربہ اتارتے ہیں اور چربہ بھی اس انداز سے کہ اس میں نہ لطف بیان ہوتا ہے نہ لطف قصہ یہ میں عام طور پر بازار میں ملنے والی کتابوں کی بات کر رہا ہوں چند مخصوص کتابوں کی نہیں۔ ان کتابوں کا جو عام طور پر رکھی جارہی ہیں ہماری تہذیب سے ہماری تاریخ سے ہمارے ورثے سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا جیسا کہ ایک زمانے میں مشہور ہور تھا کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو ہو جاتا تھا اسی طرح ہمارے یہاں ناکام ادیب بچوں کا ادیب بن جاتا ہے ۔ میں نے اسی نقطہ نظر سے بچوں کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں اور مجھے اکثر محسوس ہوا ہے کہ عام طور پر تیسرے درجے کے لکھنے والے ایسی کتابیں تصنیف کر رہے ہیں جن سے بچوں کی پیدائشی ذہانت مجروح ہوتی ہے اور بچوں کی فطری صلاحیتیں نشو و نما نہیں پاتیں اور بڑے سوال تو کیا چھوٹے سوال بھی ان کے ذہن میں پیدا نہیں ہو پاتے۔
بچوں کے ادب کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ بچوں میں تخیل تجسس اور تحیر کو اُبھارے۔ یہ وہ بنیادی صفات ہیں جن پر ہمارے لکھنے والوں کو توجہ دینی چاہیے۔ دوسرا کام یہ ہے کہ وہ ایسی عبارت میں اپنی بات بیان کریں جو کم سے کم لفظوں میں آئینے کی طرح صاف و شفاف ہو جس میں زبان درست ہو، بیان چست اور دل چسپ ہو۔ ایسی کہانیاں لکھی جائیں جن کا اپنی تہذیب اپنے لوک ورثے اپنی روایت اپنی تاریخ سے گہرا تعلق ہو۔ ایسی کہانیاں جو بچوں کے تخیل کو نئی دنیاؤں کی طرف لے جائیں۔ ایسی دنیائیں جن کو دریافت کرنے کی طرف ان میں مہم جوئی کا جذبہ پیدا ہو۔ غور کیجیے تو آج کی نسل ہماری اپنی روایت سے بڑی حد تک کٹ چکی ہے۔ ہمارے قدیم ادب سے وہ نا واقف ہے۔ باہر کی زبانوں کے ادیب اپنے قدیم ادب کو طرح طرح سے بچوں کے لیے پیش کرتے ہیں جن سے ان میں اپنے ادب اپنی تہذیب سے گہری دل چسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً آج بھی اگر بچوں کے مصنفین اپنے قدیم ادب کو کھنگالیں تو انھیں بہت سی کتابوں کے لیے مواد میسر آئے گا۔ ایسا مواد جس سے بیچے گہری دلچسپی لیں گے۔ مثلاً انوار سہیلی، اخلاق محسنی، سیاست نامہ، الف لیلیٰ اور ان سب سے زیادہ تو طلسم ہوش رُبا میں ایسا مواد موجود ہے جس کے استعمال سے بچوں کے تخیل، تجسس اور تحریر کو نئی وسعتیں دی جا سکتی ہیں، جس سے ہم بچوں میں اپنے ادب و تہذیب سے گہری دل چسپی پیدا کر سکتے ہیں۔ کتنے مصنفین ہیں جنھوں نے بچوں کے لیے سفر نامے لکھے ہیں؟ کتنے مصنفین ہیں جنھوں نے جانوروں کے مشاہدات پر قلم اٹھایا ہے یا کائنات کی پُر اسرار وسعت کو موضوع بنایا ہے یا مہم جوئی کو مثبت انداز میں موضوع بنا کر پیش کیا ہے؟ کتنے مصنفین ہیں
جنہوں نے بچوں کے لیے علامتی کردار تخلیق کیے ہیں۔ ایسی بے شمار باتیں ہیں جو اس سلسلے میں کہی جا سکتی ہیں۔ اس وقت میں اس موضوع پر تفصیل سے کچھ نہیں کہنا چاہتا البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ ہمیں چاہیے کہ ہمارے بہترین لکھنے والے محنت کے ساتھ بچوں کے لیے لکھیں۔ وہ بچے جو ہمارے ہیں اور جو ہمارا مستقبل ہیں اور جو اس ملک عزیز کو وہ بنائیں گے جو ہم انھیں بنا رہے ہیں۔ اس طرح ناشروں کو چاہیے کہ وہ ہر عمر کے بچوں کے لیے کتابیں لکھوائیں اور انہیں اس طور سے شائع کریں کہ بچے ان کی طرف متوجہ ہوں۔ انھیں شوق سے پڑھیں۔ بچوں کو اتنی بڑی تعداد میں کتابیں پڑھنے کے لیے چاہئیں کہ اگر ہم سب مل کر لکھنے کا پروگرام بنائیں تو بھی ان کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتے۔ بچہ بہت تیزی سے کتابیں پڑھتا ہے۔ ایک کتاب عام طور پر دو چار دن میں پڑھ ڈالتا ہے اور پھر نئی کتاب کا طلب گار ہوتا ہے۔ اس کی ضرورت پوری کرنا ہمارا قومی و اخلاقی فرض ہے۔ اس وقت جو عام طور پر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بچپن سے اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی عادت نہیں ڈالتے۔ انھیں ضرورت کے مطابق کتابیں مہیا نہیں کرتے۔ ان میں کتابیں پڑھنے کا ذوق پیدا نہیں کرتے اور جب عمر نکل جاتی ہے تو ہم بچوں کی عادات مطالعہ پر مذاکروں کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس لیے اس وقت لکھنے والوں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ محنت سے، توجہ سے بچوں کے لیے کتابیں لکھیں بچوں کے لیے کتابیں لکھنا بڑوں کے لیے کتابیں لکھنے سے کم مشکل نہیں ہے اور ساتھ ہی ناشروں سے میری یہ درخواست ہے کہ وہ بچوں کی کتابیں بہت محنت و توجہ سے چھاپیں۔ اس میں منافع بھی ہے اور کار خیر کا عمل بھی۔ یہ ایک ایسا کام ہے جسے بغیر کسی تاخیر کے اب ہمیں فوراً شروع کرنا چاہیے۔ ایسی کتابیں ہر گز شائع نہ کریں جس سے معاشرے میں چور اچکوں، ڈاکوؤں، ظالموں، جابروں اور نفسیاتی مریضوں کا اضافہ ہو، جن سے ہماری اخلاقی قدری برباد ہوں اور جن سے ہمارے بچے خراب ہوں ۔
۲۱ مئی ۶۱۹۸۴
تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی