غالبؔ کی چلبلی اور شوخ طبیعت نے کشاکش حیات میں بھی انھیں سنجیدگی اور سنجیدہ روی سے دور رکھا۔ دُشوار اور کٹھن مراحل میں ان کی شگفتہ مزاجی ماحول میں بدمزگی پیدا نہیں ہونے دیتی تھی۔حتیٰ کہ مذہب جیسے حساس اور قشف آمیز مسئلہ میں بھی وہ مقشف اور سنجیدہ نظر نہیں آتے تھے۔چناںچہ غدر کے بعد باغی مسلمانوں کو انگریزوں نے مراعات سے محروم کردیا تھا تو ان میں غالبؔ کی بھی پنشن بند کر دی گئی تھی۔ پنڈت موتی لال میر منشی لفٹنٹی پنجاب نے غالبؔ سے اس معاملے میں تبادلہ خیال کیا تو غالبؔ کی غیر سنجیدہ طبیعت سے رہانہ گیا اور وہ فوراً کہہ اٹھے:
تمام عمر میں ایک دن شراب نہ پی ہوتو کافر اور ایک دفعہ نماز پڑھی ہو تو گنہ گار۔ پھر میں نہیں جانتا کہ سرکارنے کس طرح مجھے باغی مسلمانوںمیں شمار کیاہے؟
(حالی: ’’یادگار غالبؔ‘‘، علی گڑھ بلا مورخہ، ص ۷۲)
بادی النظر میں مذہب سے متعلق تآدب وتخلق سے عاری اس قسم کے فرمودات ونگارشات غالبؔ کی بدعقیدگی اور مذہب بیزاری کی دلیل فراہم کرتے ہیں،لیکن باب حیات غالبؔ کے روزنوں میںسے بغور وعمق مشاہدہ کیاجائے توان کی زندگی کے مذہبی گوشے میں اعمال کی بے سرو سامانی کے ساتھ ہی عقیدت کی شمع روشن دکھائی دیتی ہے۔ اس عقیدت میں اخلاص واستخلاص کی فراوانی توہے لیکن اندھاپن اور رسمیت نہیں۔ وہ قلب سے زیادہ عقل کو اپیل کرنے والی عقیدت کے روادار تھے اور روایات سے زیادہ درایات پر تکیہ کرتے۔ لاگ و لپٹ ان کی راہ اطاعت میں روڑا نہیں بنتے تھے اور نہ وہ انھیں پسند کرتے۔ اطاعت میں خلوص ان کے یہاں بندگی کا معیار تھا۔ ’’مئے وانگبیں‘‘ کی لالچ کو وہ صالح عمل کی کھوٹ اور نقلی پن سے تعبیر کرتے، اسی لیے وہ’’بہشت کو اُٹھا کر دوزخ میں جھونک دینے کے خواہش مند تھے۔ غالبؔ اپنے کو ’’آدھا مسلمان ‘‘ لیکن پکا موحد سمجھتے تھے۔ ’’ترک رسوم ‘‘ ان کاکیش اور ’’رہ و رسم ثواب‘‘ سے انحراف ان کا وطیرہ تھا۔’’مشاہدہ حق کی گفتگو ‘‘ وہ بغیر ’’بادہ وساغر ‘‘ کے نہیں کرتے۔ ’’وہ مسجد کے زیرسایہ خرابات ‘‘ اور ’’لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کرنہیں سکتی‘‘ کے قائل تھے۔لیکن وہی غالبؔ جن کا ’’ حلقہ دام خیال‘‘ عالم شاعری پر محیط ہے اور جن کی شاعری ’’گنجینہ معنی کا طلسم ‘‘ ہے جو اپنے وسعت بیان کی خاطر ’’تنگنائے غزل کے شاکی رہے ہیں، مذہب کے لق و دق میدان میں ان کی پرواز فکر اور اسپ قلم درماندہ وعاجز دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں مذہبی امور میں عملی سرد مہری کا بڑا احساس تھا۔ حالی نے جب ایک بار اس جانب توجہ دلائی تو کہنے لگے:
ساری عمر فسق وفجور میں گزری۔ نہ کبھی نماز پڑھی نہ روزہ رکھا۔ نہ کوئی نیک کام کیا۔ زندگی کے چند انفاس باقی رہ گئے ہیں۔ اب اگر چند روز بیٹھ کر یا ایما و اشارہ سے نمازپڑھی تو اس سے ساری عمر کے گناہوں کی تلافی کیوں کر ہوسکے گی۔ میں تو اس قابل ہوںکہ جب مروں، میرے عزیز اور دوست میرا منہ کالا کریں اور پھر شہر سے باہر لے جاکر کتوں اور چیلوں کو اور کوئوں کو کھانے کو (اگر وہ ایسی چیز کھانا گوارا کریں ) چھوڑ آئیں اگرچہ میرے گناہ ایسے ہیں کہ میرے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کیاجائے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ میں موحد ہوں۔
(بحوالہ:شاعر: غالبؔ ممبئی: فروری مارچ ۱۹۶۹ء ص ۸۷)
عجز کی یہ درماندگی غالبؔ کے سینہ میں گوشہ اخلاص کاپتا دیتی ہے۔ اسی اخلاص کا اثر تھا کہ وہ قوم مسلم کی تحقیرو ذلت کی کوئی بات سنتے توغم زدہ ہوجاتے۔ ایک وقت حالیؔ سے فرمانے لگے:
مجھ میں کوئی بات مسلمانی کی نہیں ہے، پھر میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں کی ذلت پر مجھ کو کیوں اس قدر رنج و تاسف ہوتا ہے۔
(حالیؔ: یادگار غالبؔ: علی گڑھ بلا مورخہ ص۷۱)
ان کی صلح کل طبیعت، روادارانہ جذبہ اور برادران وطن سے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ہر مذہب کا احترام غالبؔ اخلاص نیت کے ساتھ کرتے تھے۔اپنے احباب وتلامذہ کو دیوالی ہولی کی مبارک باد بھیجتے۔ نو روز اور کوسہ برنشین ( پارسیوں کی عید ) کے موقعوں پر دوستوں کی خوشیوں میںشریک ہوتے، اپنی اصنام خیالی کی بنا پر کعبہ سے بتوں کی نسبت تلاش کرتے اور قرآن حکیم کے ساتھ توریت، زبور،وید ، دساتیر، اوستا اور گروگرنتھ تک کی قسم کھاتے ۔اس وسیع المشربی نے تمام مذاہب کے لیے ان کے دل میں خلوص پیدا کردیا تھا اس لیے عصبیت انھیںچھو کے تک نہیں گئی تھی۔ ہاں! البتہ مجموعی قوم یا دین مبین کی بات آتی یا ادیان کی سچائی اور صدق وپارسائی پر گفتگو ہوتی تو ان کا جھکائو اکثر قوم مسلم و اسلام کی طرف ہی ہوتا۔ چناںچہ ایک خط میں تفتہ کو لکھتے ہیں:
بندہ پرور! میں تو بنی آدم کو مسلمان ہویا ہندو یا نصرانی عزیز رکھتا ہوں اور اپنا بھائی گنتا ہوں دوسرے مانے یا نہ مانے۔ باقی رہی وہ عزیزداری، جس کو اہل دنیا قرابت کہتے ہیں اس کو قوم اور ذات اور مذہب اور طریق شرط ہے۔
( غالب، مرتبہ خلیق انجم، ’’غالبؔ کے خطوط ‘‘ دہلی جلد اوّل ص ۳۱۷)
امتیاز، تفوق و تفصل سے عاری غالبؔ کے اس مذہبی میلان اور دینی رجحان نے اگرچہ امور دینیہ کو ان کی ظاہرہ عملی زندگی میں جگہ نہیں دی لیکن بہ باطن اسلام، خدا، نبی اور امام و خلفا کی عزت و توقیر بہ نیت خلوص ان کے دل میں گھر کر گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوںنے اگرچہ دنیا کے مقابلے میں دین کی باتیں شاذ ہی کی ہیں لیکن ان میں اخلاص و عقیدت کی جو گہرائی ہے اہل صدق و صفا کے اخلاص سے کم نہیں۔چناںچہ جہاں انھوںنے القاب و آداب سے معریٰ خطوط لکھنے کی طرز جدید کو رواج دیا وہاں بعد حمد خداوند اورنعت رسول خطوط لکھنے کی روایت کو اردومیںجاری کرنے کا سہرا بھی ان ہی کے سربندھتا ہے۔ صاحب عالم مار ہروی کے نام لکھے گئے خط کا آغاز غالبؔ یوں کرتے ہیں:
بعد حمد خداوند و نعت رسول، پہلے قبلہ روح رواں جناب صاحب عالم صاحب کو بندگی۔ (ایضاًجلدسوم ص۱۰۲۰)
علمائے کرام کے مکاتیب اور ملفوظات ہی میں اس طرح کا انداز تحریر پایا جاتا ہے۔ بہرحال!یہ طرز تحریر غالبؔ کے ایمان بااللہ اور حب رسول اللہ کا اظہار کرتی ہے۔یوں بھی حدیث رسول کی رو سے مومن کے کامل الایمان ہونے کے لیے عشقِ رسولaلازم ہے۔ اس معاملے میں حضرت محمد مصطفیٰ نے خود حضرت عمرؓ کو ٹوک دیاتھا۔ اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ مسلمان کے دل میں ایمان کے لیے عشق رسول کے لزوم کی نشان دہی کرتا ہے۔ غالبؔ کو دہری، رافضی، شیعہ، سنی، آدھا مسلمان جو کچھ کہا گیا ہو لیکن عشق رسول سے ان کا قلب منور تھا اور روح بالیدہ۔ نواب کلب علی خاں بہادر کو لکھے گئے ایک خط ( مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۸۶۶ء) میں غالبؔ نے اپنی برأت کا اظہار خدا اور رسول کی قسم کھاکر کیا ہے:
مجھے جناب الٰہی اور حضرت رسالت پناہی کی قسم! اگرچہ فاسق و فاجر ہوں مگر وحدانیت خدا اور نبوت خاتم الانبیا کا بہ دل معتقد اور بہ زبان معترف ہوں۔ خدا اور رسول، کی قسم جھوٹی نہ کھاوں گا۔
(ایضاًص ۱۲۳۵)
لگائے گئے الزام اور اس کی تردیدکے لیے غالبؔ نے خدا اور رسول کی قسم مذکورہ بالاحظ میں جس انداز سے کھائی ہے اس میں عقیدت کی بے انتہا گہرائی اور اخلاص کا عمق پایا جاتا ہے۔ عقیدت کی اس فراوانی اور بے ریا جذبہ خلوص نے غالب کو کافر ہونے سے بچالیا اور ایمان باللہ وحب رسول کے جذبۂ صادق نے انھیں تادم حیات موحد و محمدی بنائے رکھا۔
غالبؔ کی عملی زندگی اگرچہ سنتوں سے خالی تھی، لیکن عظمت رسول ان کے دل کی گہرائیوں میں مضبوط جمی ہوئی تھی۔ انھیں جب موقع ہاتھ آتا وہ اس عظمت کا برملا اظہار کردیتے۔ نواب کلب علی خاں سے غالبؔ کو امداد ملا کرتی تھی اس لیے وہ ہمیشہ نواب صاحب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے رہتے۔ سطور بالا میں ایک مثال ہم دیکھ چکے ہیں۔
۱۵؍ نومبر۱۸۶۷ء کے ایک مکتوب میں غالبؔ نے نواب صاحب کے لیے ایک دعائیہ قطعہ ۱۵ اشعار کا لکھا تھا۔ اس کے متعلق وہ رقم طراز ہیں کہ’’یہ دعا کا نیا طورہے۔‘‘ اس میں نواب صاحب کے’’ عمر طبیعی بہ دوام اقبال‘‘ اور ’’ دولت دیدار شہنشاہِ اُمم‘‘ سے سرفرازی کی دعا کی گئی ہے۔ واقعتا اقبال مندی اور عمر طبیعی آدمی کے لیے جتنی اہم ہے حضور پر نور سرکار دوعالم کا دیدار ان سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ عمر طبیعی اور اقبال مندی تو موت کے ساتھ ختم ہوجائیں گی،لیکن دیدار رسول سے مشرف ہوجانے سے دنیا و آخرت سنور جاتی ہے۔ احادیث میں رویتِ رسول کے بہت سارے فضائل وارد ہوئے ہیں اور ایسے خواب جن میں آپؐ کا دیدار ہوجائے رویائے صادقہ سے تعبیر کیے گئے ہیں۔ بہر کیف ! دیدار رسول کا شرف اپنے ممدوح کو حاصل ہوجائے اس کے لیے غالبؔ بارگاہ ایزدی میں یوں ملتجی ہیں:
یاخدا ! غالبؔ عاصی کے خداوند کو دے
دو وہ چیزیں کہ طلب گار ہے جن کا عالم
اولاً عمر طبیعی بہ دوام اقبال
ثانیاً دولت دیدارِ شہنشاہِ اُمم
(ایضاًص۱۲۵۲)
یہ دعائیہ اشعار جہاں نواب کلب علی خاں بہادر سے غالبؔ کی وابستگی اور انسیت کے مظہر ہیں اس سے کئی گنا زیادہ مدحت رسول کا حامل آخری مصرع پورے قطعہ کی روح کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے دکھائی دیتا ہے اور غالبؔ کی طبع حب رسول کا کاشف بھی۔
غالبؔ کا عشق رسول مومنانہ شان کا حامل ہے۔ ان کا یہ عشق جاں سپاری اور قربانی پر منتج ہوتا ہے، جس کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتے تھے حتیٰ کہ جب مضمحل قویٰ غالبؔ کے عناصر میں اعتدال نہیں رہا اور ضعف پیری نے انھیں شکن بستر بنا دیا تھا، تب بھی رسول عربیa کی خاطر فدائیت کا جذبہ ان کے یہاں عنفوان شباب پر تھا۔ ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں:
مشرک وہ ہیں جو مسیلمہ کو نبوت میں خاتم المرسلین کا شریک گردانتے ہیں۔۔۔ میں موحدخالص اور مومن کامل ہوں۔۔۔ انبیا سب واجب التعظیم اور اپنے اپنے وقت میں سب مفترض الطاعت تھے۔ محمد علیہ السلام پر نبوت ختم ہوئی۔ یہ خاتم المرسلین اور رحمۃللعالمین ہیں۔۔۔
ہاں! اتنی بات اور ہے کہ اباحت اور زندقہ کو مردود اور شراب کو حرام اور اپنے کو عاصی سمجھتا ہوں۔اگر مجھ کو دوزخ میں ڈالیں گے تو میرا جلانا مقصود نہ ہوگابلکہ دوزخ کا ایندھن ہوں گا اور دوزخ کی آنچ کو تیز کروں گا، تاکہ مشرکین اور منکرین نبوت مصطفوی اور امامت مر مرتضوی اس میں جلیں۔
(خط بنام نواب علاء الدین احمد خاں علاقی)
(غالبؔ (مرتبہ خلیق انجم)غالبؔ کے خطوط جلد اول ص۳۹۷)
اس خط میں شوخی ولطافت بیان بھی ہے اور محمدمصطفی کے تئیں عقیدت سے لبریز صبوئے الفاظ میں ندرت معنی کی شراب طہورا بھی۔ مذکورہ خط حضورکے تئیں غالبؔ کے جوش عقیدت میں صرف الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں بلکہ آپؐ کے متعلق ان کے قلم گوہر بار سے ٹپکے ہوئے الفاظ کے موتیوں میں جاں نثاری اور روح فدائی کی تابانی جلوہ گر ہے۔عقیدت کے یہ موتی انھوں نے عرق انفعال کے قطروں میں رولے ہیں جن کی وجہ سے ان کی تابش میں بلا کا اضافہ ہوا ہے۔ کچھ بعید نہیں (لا تقنطو فرمان خداہے۔) کہ شان کریمی ان موتیوں کو چن لے اور غالبؔ کی بخشش کے لیے انھیں قبول کر لے۔ آمین ثم آمین یاربّ العالمین۔
غالبؔ کے خطوط میں ایسے بہت سارے گوشے ہمیں نظر آتے ہیں جب انھوںنے روادارانہ نہیںعقیدت کے اندھے پن سے نہیں بلکہ روح کی عمیق گہرائیوں سے بے ساختہ اور برملا حضورکی عظمت با وقار کا اعتراف کیا اور نہ کرنے والوں کو متنبہ کیا۔ ان کی سرزنش کی۔ انھیں ٹوکا ، بلکہ للکارا اور لتھاڑا بھی ۔ ان کے خطوط کے تیور ہی سے ہم بھانپ لیتے ہیں کہ یہ بیانات رسمی نہیں ہوسکتے ، یہ تحریریں روایتی نہیں ہوسکتیں بلکہ الفاظ کے ایک پہلو سے آپؐ کی عظمت رسول کا بیان شعری پیکر میں ہوتا تو برائے شعر گفتن پر محمو ل کیا جاسکتا تھا لیکن یہاں تو معاملہ خطوط کاہے جو سراسرنجی ہوتے ہیں اور مکتوب نگار کا اندرون ان میں جھانکتا ہے۔ یہ وہ شیشہ ہیں جس سے صاحب نامہ کی باطنی کیفیات عکس ریز ہوتی ہیں اور جو دل میں ہوتاہے وہی قلم سے صفحہ خط پر ٹپکتا ہے۔ خطوط میں مکتوب نگار کے جذبات و احساسات کے پیکر تآدب وتخلق اور تصنع و تکلف کے دبیز ملبوسات سے عاری اپنی فطری حالت میں نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ وہ آئینہ ہوتے ہیں جس میں انسان ویسا ہی نظر آتا ہے جیسا کہ وہ ہوتاہے۔ پس غالبؔ کے خطوط میں عظمت رسولa کی جھلک ویسی ہی دکھائی دیتی ہے جیسی ان کے نگارخانہ دل میں بسی ہوئی ہے۔ وہ ادبی نکات کی توضیح یا اشعار کی تشریح بھی کرتے ہیں تو ایسے الفاظ سے جن سے اہانت رسول کے معنی نکلتے ہوں ان پر زبردست گرفت کرتے ہیں ایسے مواقع پر وہ شارح یا ناقد کی سختی کے ساتھ سرزنش کرتے ہیں۔ چناںچہ مرزا رحیم بیگ کے نام لکھے طویل خط میں غالبؔ نے ’’برہانِ قاطع ‘‘ اور ’’ساطع برہان‘‘ کے مرتبین کی ان آراء کی تردید کی ہے جن میں بعض فارسی تراکیب کو حضورکی صفات سے جوڑاگیا تھا، درآںحالے کہ ان تراکیب کے معنی سے شان رسول میں گستاخی کا پہلو نکلتاہے، مثلاً ’’برہان قاطع‘‘ کے مرتب نے خاقانی کے شعر میں لفظ آبدہ دست کے معنی کنایتہ حضورکی ذات کے لیے تھے اور لکھا تھا:
آبدہ دست بہ کسر دال ابجد وہائے ہوز اشارہ بہ حضرت رسول صلوٰۃ اللہ علیہ است خصوصاً و شخصی رانیز گوید کہ بزرگ مجلس بود و آرائش صدرو زینت ازباشد عموماً۔
اس کی تردید غالبؔ نے ’’قاطع برہان‘‘ میں یوں کی:
آبدہ دست ’’مرکب از‘‘ ’’ آب ‘‘ و ’’دہ‘‘ کہ صیغہ امراست از ’’دادن ‘‘ و ’’دست‘‘کہ با وجود معنی دیگر ’’مسند‘‘رانیز گویند، معنی ترکیبی رونق دہندہ مسند ہر آینہ تامسند رابہ طرف نبوت یا رسالت، یا ھدایت مضاف مضاف نگر دانند بہ مقام لغت فرد نیارند۔۔۔ نبینی کہ تنہا ’’ آبدہ دست‘‘ افادہ معنی شو بانندہ دست می کند وآں خود اہانتی است قبیح؟‘‘
غالبؔ کی اس تردید پر مرزا رحیم بیگ نے ’’قاطع برہان‘‘ میں غالبؔ کو خوب برا بھلا کہا تھا:
’’آبدہ دست‘‘ خدا نکندکہ ایں اعتراض ازجانب مرزاے من باشد کو رسودائی ہم چو من گفتہ باشد۔بہ خاطر داشت آں درج کتاب کرد ورنہ ایں کنایہ قابل اعتراض نیست۔
اس بحث میں بالآخر غالبؔ نے ایک طویل خط رحیم بیگ کو اردو میں لکھا۔ (غالباً اس سے زیادہ کوئی دوسرا طویل خط غالبؔ نے کسی کو بھی نہیں لکھا۔) اور اس میں اپنے عندیہ کو برملا پیش کیا۔ اس خط میں وہ رسول کی عظمت اور شان ارفع کو پیش نظر رکھتے ہوئے تراکیب الفاظ کی نحوی بحث دلائل دے کر کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
ؑؑعرف میں ’’آبدست‘‘ کسی عضو کے غسالہ کو کہتے ہیں۔۔۔ پس آبدہ دست اور دست آبدہ کے معنی وضو کروانے والا اور ہاتھ دھلانے والا۔ آب بمعنی رونق اور دست بمعنی مسند کا یہاں ادخال محض جہل اور صرف اہمال۔۔۔ سراسربے پردہ اشرف الانبیاء علیہ السلام کی تذلیل و توہین ہے اور جو پیغمبر کو ایسا کہے کہ وہ مجموع اہل اسلام کے نزدیک مرتد و مردود و بے دین ہے بلکہ مخالفین بھی جو مسلمان اپنے پیغمبر کو برا کہے اس کو برا جانیں گے یقین ہے۔ پس پیمبر کا ’’ آبدہ دست ‘‘ نام رکھنے والا مورد لعنت اللہ والملائکہ والناس اجمعین ہے۔
(ایضاًجلدچہارمص۱۴۸۴)
ٓٓآگے وہ خاقانی کے قطعہ کی وضاحت نحوی و صرفی ضابطوں کے تحت کرتے ہیں کہ اشعار کا صحیح مطلب اور شاعر کا عندیہ قارئین کے سامنے آجاتاہے۔فرماتے ہیں۔
خاقانی کے شعر لکھنے سے آپ کی کیا مراد ہے؟ یہ شعر قطعہ بند ہے اور اس کا پہلا شعر مجھ کو یاد ہے۔ پہلے پوچھتاہوںکہ ’’ دست آبدہ‘‘ کا فاعل اور ’’شین ‘‘ کا مرجع تم نے کس کو ٹھہرایا اور آںحضرت کا نشان اس میں بہ طریق مذکور یا مقدور کہاں پایا۔ جب اس مصرع کی رو سے ’’دست آبدہ مجاورانش‘‘ دست آبدہ پیغمبر کا نام قرار پایا تو دوسرے مصرع کے مطابق ’’ارزن دہ برج کبوترانش‘‘ کا خطاب بھی حضورپر صادق آیا۔
سبحان اللہ!جہاں مصطفی و مجتبیٰ و رحمۃ للعٰلمین و خاتم المرسلین آپؐ کے القاب ہیں وہاں ’’آبدہ دست‘‘ بھی آپ کا لقب ٹھہرا۔ مرزا جی ! میں ترک جاہل ہوں، بجا ہے اگر مجھ کو گالیاں ازروئے عتاب دوگے۔ خدا کے واسطے پیغمبرa کو کیا جواب دوگے؟ بندہ پرور! خاقانی کا شعر قطعہ بندہے اور اس شعر کا پہلا شعر یہ ہے:
ِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِروح از پئی آبروی خودرا
خلد از پئی رنگ و بوئی خودرا
دست آبدہ مجاور انش
ارزن دہ برج کبوتر انش
ہندی کی چندی غالبؔ سے سن لیجیے۔ روح اپنی افزائش آبرو کے واسطے وضو کا پانی دیتی ہے کعبہ کے مجاوروں کو اور خلد اخذ رنگ وبو کے واسطے دانہ کھلانا ادنیٰ خدمت ہے خدا کے واسطے مخدوم کونین کو خادم کہنا مدح ہے یا مذمت؟ ’’برہان قاطع‘‘ والا اگر یہ قباحتیں نہ سمجھا ہے تو احمق ہے اور اگر سمجھ کر لکھتا ہے تو کافرہے۔
(ایضاًص۱۴۸۵)
آگے اسی خط میں غالبؔ نے’’آب‘‘ بہ معنی ’’ رونق ‘‘ اور’’دست ‘‘ بہ معنی ’’مسند‘‘کے معنی لے کر خاقانی کے شعر کی تشریح کرنے والوں کی خبر لی ہے۔ بالخصوص رحیم بیگ کے تو خوب کان کھینچے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
تخت اور اورنگ سلاطین کے جلوس کے واسطے اور دسادہ اور مسند امرا کے جلوس کے واسطے موضوع ہے۔۔۔ انبیا خصوصاً سیّدالانبیا مسند پر کب بیٹھے تھے۔ ان کے غلاموں کو امارت ننگ اور زمزمہ الفقر و فخری بلند آہنگ ہے۔ میرے خداوند کا فرش حصیرنمد گلیم، ردائے صحابہ سطح خاک، میں مومن مجرم اپنے اس خداوند کو ۔۔۔ ’’آبدہ دست ‘‘ ’’وزینت بخش مسند ‘‘ کیوں کر سمجھوں؟بلکہ مجموع اہل اسلام بشرط فہم صحیح و طبع سلیم گوارا نہ کریںگے۔۔۔ اگر ’’آب‘‘ سے پانی اور ’’دست ‘‘ سے ہاتھ مراد لیں تو اس کو اسم پیمبر سمجھنا کتنی بے ادبی ہے اور اگر آب کو بہ معنی رونق اور ’’دست‘‘ سے ہاتھ مراد لیں تو اس کو پیمبر سمجھنا کتنی بے ادبی ہے اور اگر آب کو بہ معنی رونق اور دست کو بمعنی مسند مانیں تو بے الحاق لفظ نبوت و ہدایت حضرتa کو اس تر کیب کا مشارُ‘الیہ سمجھنا کیسی بوالعجبی ہے۔ (ایضاًص۱۴۸۷)
اس طرح غالبؔنے صاحبان’’برھان قاطع‘‘ اور’’ساطع برھان‘‘ کی تراکیب نحوی و معنوی کے درپردہ حضور پر نور کی تحقیروتوہین کرنے کی نیتوں کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ مرزا رحیم بیگ کو لکھا گیا یہ مکتوب اگرچہ سراسر علمی بحث پر مشتمل ہے اور اس میں فن اشتقاق اور فن لغت نویسی کی باریکیوں کو زیر بحث لایا گیاہے، لیکن غالبؔ نے اس بحث میں صرف الفاظ کے معنی اور مترادفات پر ہی روشنی نہیں ڈالی بلکہ زبان و الفاظ کے استعمال کے معاشرتی پہلو پر زیادہ زور دیا ہے کہ الفاظ کی اصل روح معاشرتی روایات سے وابستہ ہوتی ہے، الفاظ کے ڈھانچے تو کھوکھلے ہوتے ہیں۔ زبان کا سماجی سطح پر استعمال اس میں موجود الفاظ کی معنوی روح کو پیش نظر رکھ کر کیا جاتاہے اور ان معنوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو سماجی روایات کے منافی نہ ہوں۔ مذکورہ خط میں غالبؔ نے زبان و الفاظ کی تہذیبی روایت پر زور دے کر اس سے مستنبط معنی کو قبول کیا اور اس سے ہٹ کر دوسرے معنی کو رد کر دیا کہ فرہنگ نویسوں نے تہذیب و معاشرت سے ہٹ کر ان الفاظ کے معنی مرتب کیے ہیں جس کی وجہ سے توہین رسول ان الفاظ کے استعمال سے صادق آتی ہے۔
اس توضیح سے پتا چلتاہے کہ غالبؔ حب رسولa میں بڑے زود حس واقع ہوئے تھے اورعظمت رسول کے معاملے میں عقائد وہابیہ کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ وہ توہین رسولa اور تذلیل نبی کریمaکو ذرا بھی برداشت نہ کرتے۔’’قافلہ شد‘‘ کے معنی جب ’’برہان قاطع‘‘نے ’’قافلہ سالارفت ‘‘ یعنی ’’رحلت رسولa‘‘ لیے تو ان کا جذبہ عشق رسولa جوش میں آگیا۔ انھوںنے اس معنی میں ’’استہزا رسولa‘‘سمجھا اس لیے ’’برہان قاطع‘‘ اور ’’ساطع برہان ‘‘ کو مولانا فضل حق کی زبان میں یوں برا بھلا کہا۔
(کوئی) کہے کہ آپؐ کی ردا میلی ہے اگرچہ اس وقت میں ہو لیکن چوںکہ ایک گونہ سوئے ادب اور اہانت ہے۔ حاکم اہلِ اسلام کو چاہیے کہ اس قول کے قائل کو سزا دے۔(ایضاًجلدچہارمص۱۴۸۶)
عشقِ رسول میں غالبؔ کی سرشاری کا یہ عالم ہے کہ وہ اشعار کے معنی کو حضورa کی ذات وصفات یا آپؐ کی حیات طیبہ کے واقعات سے جوڑ دیتے ہیں۔ خاقانی کے قطعہ کی ایک مثال ہم اوپر دیکھ چکے ہیں۔اب یہ مثال بھی ملاحظہ کریں۔ منشی نبی بخش حقیرکے استفسار پر غالبؔ نے انھیں ۱۹؍ نومبر ۱۸۵۲ء کو ایک خط لکھا تھا جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:
ُؑؑآپ نے ایک بیت کے معنی پوچھے وہ سنیے:
تو گوئی مگر مہر زینہ زمیں
فروزاں فوہ بودپشت نگیں
یہ شعر شب معراج کی توصیف میں ہے کہ وہ شب ایسی روشن تھی کہ بہ سبب روشنی کے زمین ایسی چمکتی تھی کہ جیسے ڈانک سے نگینہ چمک جاتا ہے۔ آفتاب رات کو تحت الارض ہوتا ہے اور ڈانک نگینے کے تلے لگاتے ہیں اور نگینہ چمکتا ہے۔ اور نگینہ بقدر ڈانک کی چمکتا ہے پس جس نگیں کے نیچے آفتاب ڈانک ہوگا، وہ نگیں کتنا درخشاں ہوگا۔ ’’ فوہ ‘‘ فارسی لغت ہے بہ معنی،ڈانک کے۔
(ایضاًجلدسومص۱۱۱۵)
مندرجہ بالا خطوط کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ غالبؔ عشق رسول میں سرشار ہیں۔ ان کے یہاں حب رسول شگفتہ وشیفتہ ہے۔ عقیدت والہانہ و فدایانہ ہے اور عظمت رسول دل کی گہرائیوں میں اتری ہوئی ہے۔ لیکن یہ عقیدت و عظمت غلو و ابلاغ سے یکسر پاک ہے اسی لیے عقائد وہابیہ کی رد میں ’’امتناع النظیر خاتم النبیین‘‘کے مسئلہ پر مولانا فضل حق کی منشا کے مطابق مثنوی نہ لکھ سکے۔ وہ اس لیے بھی کہ اس مسئلہ میں توقیر رسولa کے درپردہ تحقیر الٰہ کا احتمال تھا۔غالبؔ جب کہ پکے موحد اور ’’لا موجود الا ھو‘‘ کے زبردست حامی تھے وہ بھلا اس ہتھکنڈے اور چال کو سمجھ کر مولاناکے حکم کی کیسی پیروی کرتے۔ وہ تو شیخ ابن العربی کے فلسفۂ وحدۃ الوجود کے قائل تھے اور آپ کے قول :
انہ لیس للعبد فی العبودیۃ نہا یۃ حتٰی یصل الیھا ثم یرجع رباً کما انہ لیس للرب حد ینتہی الیہ ثم یعود عبداً فالرب رب غیر نہایۃ والعبد عبد غیر نہایت۔
یعنی عبد کے لیے عبودیت کی کوئی انتہا نہیں کہ اس کو پالے اور پھر رب بن جائے جس طرح کہ رب کے لیے کوئی حد نہیں کہ وہ ختم ہوجائے اور عبد بن جائے۔ اس لیے رب رب ہے بغیر نہایت اور عبد عبد ہے لانہایت۔
اَلْعَبْدُ عَبْدُ وَ اِنْ تَرقیٰ ۔ بندہ بندہ ہے گو وہ لاکھ ترقی کرے
وَالرَّبّ رَبُّ وَان تنزل۔ رب رب ہے گو وہ کتنا ہی نزول کیوں نہ کرے
(میر ولی الدین: قرآن اور تصوف، دہلی ص ۶۲)
کی صداقت تسلیم کرتے تھے۔مولانافضل حق نے سیّداسمٰعیل شہیدکی تردیدمیں ’’امتناع النظیر‘‘ کے مسئلہ کو منطقیانہ بنیاد پر پیش کیا اور عوام الناس کے سامنے اس مسئلہ کی یوں تصریح کی کہ: خاتم النّبیین کا مثل ممتنع بالذات ہے اور جس طرح خدا اپنا مثل پیدا نہیں کرسکتا۔ اسی طرح خاتم النّبیین کا مثل بھی پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ غالبؔ سمجھ گئے تھے کہ اللہ جو مختار کل ہے اس مسئلہ کی بنیاد پر مجبور محض کا تصور اس کی ذات سے جڑ سکتاہے۔ اس لیے انھوںنے مولانا فضل حق کے کہنے پر ایسی مثنوی لکھی جس میں عظمت رسول اور اللہ تعالیٰ کی قادریت کا پورا پورا خیال رکھا گیا اور مولانا کے عقیدے کی گول مول تصریح کر دی گئی جس سے مولانا بڑے جزبز ہوئے۔ لیکن غالبؔ کے نزدیک تو ایمان کی شرط اللہ تعالی کی ربوبیت کے ساتھ محمد کی عبدیت کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس لیے انھوںنے اس مثنوی میں اس مسئلہ کو کچھ اس ڈھنگ سے پیش کیا تھا:
اس موجودہ عالم میں ایک خاتم کے سوا دوسرا خاتم پیدا نہیں ہو سکتا، لیکن خدا قادر ہے کہ ایک ایسا ہی عالم پیدا کر دے اس میں خاتم النبیین کا مثل جو اس دوسرے عالم کا خاتم النبیین ہو خلق فرما دے۔
(حالی: یادگار غالبؔ : علی گڑھ ص ۷۶)
اس پر فضل حق صاحب غالبؔ پر غصہ ہوئے تھے۔بالآخر ازراہ مروت غالبؔ نے اپنی مثنوی اگرچہ ’’امتناع النظیر‘‘ کے مسئلہ کے مطابق لکھ دی لیکن بعد کے اشعار ان کے خیالات کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ بقول حالی:
پھر اس کے بعد جو کچھ لکھا وہ مولانا کے جبرسے لکھا ہے ۔ اس کو مرزا کے اصل خیالات سے کچھ تعلق نہیں۔ (ایضاً ص ۷۸)
یوں غالبؔ نے اپنی بشری کوتاہیوں کے باوصف لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے تقاضے پوری طرح نبھانے کی سعی فرمائی۔ انھوںنے مدینۃ النبی کے بالمقابل بیت اللہ کو پس پشت ڈالا نہ نبوت کے سامنے ربوبیت کو کم تر جانا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور محمدرسول اللہ کی عبدیت کے قائل تھے اور ان دونوں کے مراتب کا بہر حال خیال رکھا کرتے تھے۔ عظمت رسول کی عقیدت میں وہ محمد مصطفیa کے لیے شان خداوندی
کے مرتبہ کا تصور نہیں کر سکتے تھے اس لیے کہ وہ وحدۃالوجود کے قائل تھے۔ انھوںنے
اپنے خطوط میں بارہا اس نکتہ پر زور دیا ہے کہ شرک فی الذات، شرک فی الصفات اور
شرک فی الافعال قدرت میں تو آدمی خطرے سے بچ سکتا ہے لیکن شرک فی الوجود نہایت لطیف نکتہ ہے اس میں شرک سے بچنا امر محال ہے۔ غالبؔ اس باریکی کو سمجھے ہوئے تھے اس لیے مولانا فضل حق کے مسئلہ ’’امتناع النظیر‘‘ کے مسئلہ میں مثنوی لکھنے کے لیے پس و پیش کررہے تھے۔ بہرحال! یہ حقیقت ہے کہ غالبؔ کی ’’عود ہندی‘‘ میں بسی ہوئی عظمت رسول کی بھینی بھینی خوشبو نے ’’اردوئے معلی ‘‘ کو معطر و مطہر کر دیا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر سیّد یحییٰ نشیط