ہائیکو کے مزاج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ چند بنیادی باتیں جاپانی تہذیب کی بارے میں بھی سمجھ لی جائیں۔ جاپان کا مذہب شنتو مذہب ہے شنتو کے معنی ہیں دیوتاؤں کا راستہ، یہ مذہب صدیوں کی معاشرت اور تاریخی عوامل کے نتیجے میں رفتہ رفتہ پرورش پا کر جاپانی معاشرے کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ مذہب جاپانی معاشرے تک محدود ہے اور اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ مذہبی نقطہ نظر سے جاپانی معاشرہ عاقبت با حیات بعد الممات پیر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کے لیے یہی دنیا سب کچھ ہے۔ یہی آغاز ہے اور یہی انجام ہے۔ اس معاشرے میں تعلیم کی سو فی صد شرح کے ساتھ ذات پات کا مخصوص نظام بھی قائم ہے۔ اپنے مذہب، معاشرت اور تہذیب پر ہر جاپانی فخر کرتا ہے اور اسی لیے اپنی قوم سے حد درجہ پیوستہ ہے۔ اس کے لیے دنیا میں دو قسم کے انسان بستے ہیں۔ ایک جاپانی اور دوسرا غیر جاپانی۔ نا تو ہے یہ معاشرہ سمورائی تصورات پر قائم ہے۔ شفتو دیوتاؤں کا راستہ ہے اور شہنشاہ "تن نو"جس کے معنی ہیں آسمان کا شہنشاہ۔ جاپانی معاشرے کی نظریاتی بنیادیں شہنشاہیت پر قائم ہیں۔ سمورائی تصورات میں شرم، بہادری اور نیک نامی معاشرتی و تہذیبی اقدار کا درجہ رکھتے ہیں۔ "بن بو" بھی اس میں شامل ہے۔ "بن" حصول علم ہے اور "بو" فنِ حرب ہے اور تجس کی علامت تلوار ہے۔ یہ وہ تصورات ہیں جن میں عالم گیر اخوت، آفاقیت، اخلاقی یا روحانی اقدار کا کوئی تصور نہیں ہے اور اسی لیے ان کے ہاں کوئی بڑا مفکر جیسے گوتم بدھ یا کنفیوشش پیدا نہیں ہوئے اور نہ ان کے ہاں مولانا رومی، گوئٹے، غالب، اقبال یا ٹیگور جیسے شاعر پیدا ہو سکے۔ انھیں اثرات کی وجہ سے فکر و فلسفہ یا ما بعد الطبعیاتی تصورات جاپانیوں کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتے اور اسی لیے ان کی شاعری بھی کسی گہری فکر کسی گہرے فلسفے یا تصورات کا اظہار نہیں کرتی۔ انہی تہذیبی اثرات نے ان کے مزاج کی تشکیل کی ہے جس کا اظہار نہ صرف "ہائیکو" میں ہوتا ہے بلکہ ان کی دوسری اصناف سخن میں بھی ہوتا ہے اور اسی لیے الیکو شاعری ویسی ہے جیسی وہ ہمیں نظر آتی ہے یعنی عام زندگی کے عام تجربوں کا دلچسپ اظہار، اس پس منتظر کے ساتھ اب ہم ہائیکو کی طرف آتے ہیں۔ ہائیکو جاپانی شاعری کی وہ مقبول صنف سخن ہے جو ہیت کے اعتبار سے علی الترتیب ۵-۷-۵ تہجی رکنوں (Syllables) کے تین مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے اور موضوع کے اعتبار سے ان تجربات، مشاہدات اور خیالات کا اظہار کرتی ہے جن سے عام زندگی کا ایک نیا پہلو، کسی خیال کا نیا رخ اور کسی بات کی نئی جہت سامنے آتی ہے۔ عام تجربے کے اسی نئے پن کی وجہ سے ہائیکو پڑھ کر یا سن کر استعجاب کے ساتھ لطف و مسرت حاصل ہوتے ہیں۔ اختصار ہائیکو کا حسن ہے، کنایہ اس کا جوہر ہے اور اظہار کی جامعیت اس کا فن ہے۔
اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جاپانی شاعری میں آج سے تقریباً سو سال پہلے ہائیکو
الگ صنف سخن کی حیثیت نہیں رکھتی تھی ۔ یہ اس طویل نظم کا ابتدائی حصہ تھی جسے جاپانی
شاعر ہی میں ہائی کائی " کہتے ہیں اور اسی لیے اسے " ہوس کو" کہا جاتا تھا یعنی ہائی کائی
کا ابتدائی حصہ۔ اس ابتدائی حصے کی یہ اہمیت تھی کہ اس سے طویل نظم کا مزاج اور اس کی جہت متعین ہو جاتی تھی۔ جیسے عربی شاعری میں غزل قصیدے کی تشبیب کا حصہ تھی اور بعد میں ایک الگ صنف سخن بن گئی اسی طرح ہائیکو بھی انیسویں صدی کے اواخر میں ما سا کاشیکی (۱۹۰۲-۶۱۸۶۷) کے زیر اثر ۱۸۹۰ء میں، ہائی کائی سے الگ ہو کر ایک علیحدہ صنف سخن کے طور پر ابھری اور تیزی سے مقبول ہو گئی۔ اس صنعت سخن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ جب ۱۹۳۰ء میں جاپان اور چین کے درمیان جنگ چھڑی تو حکومت وقت نے اپیل کی کہ ہائیکو شعراء اپنی شاعری سے جنگ کی حمایت اور حکومت کی مدد کریں۔ بہت سے شعرا نے حکومت کا ساتھ دیا لیکن کیو سو یونیورسٹی ہائیکو ایسوسی ایشن کے بہت سے شعرا نے تعاون نہیں کیا تو بارہ شاعر گرفتار کر کے جیل بھیج دیئے گئے۔ یہی صورت ۱۹۴۱ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران پیش آئی جب ۱۳ ہائیکو شاعر گرفتار ہوئے۔ پاکستان کے ہائیکو شعراء کو میرا خیال ہے ابھی خوف زدہ ہونے کی اس لیے ضرورت نہیں ہے کہ ابھی تو ہمارے ہاں اس کی ہیئت کا مسئلہ بھی طے نہیں ہوا ہے اور ابھی یہ صنف سخن پورے طور پر ہماری صنف سخن بھی نہیں بن پائی ہے۔ اس وقت تو میں صرف اتنی بات اور کہنا چاہتا ہوں کہ جیسے غزل اردو کی مقبول صنف سخن ہے اسی طرح ہائیکو جاپانی شاعری کی مقبول صنف سخن ہے اور گذشتہ سو سال میں اس صنف نے مختلف مغربی اثرات مثلاً رومانیت، فطرت پسندی، اشاریت اور پرولتاریت وغیرہ کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جدید ہائیکو انجمن کے شعرا نے معاصر زندگی کے تجربوں سے ہائیکو کو ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ ان شعرا نے موسم سے متعلق موضوعات کو ترک کر کے نظم آزاد کے اثرات کو ہائیکو میں شامل کیا لیکن یہ تین مصرعے جدید زندگی کی پیچیدگیوں کا بوجھ نہ اٹھا سکے۔
جاپانی نقادوں کا زاویہ نظریہ ہے کہ ہائیکو نظم کسی بھی زبان میں لکھی جا سکتی ہے لیکن وہ اسی وقت ہائی کو کہلائے گی جب ہیئت و موضوع کی اس روایت کو سامنے رکھا جائے جو جاپانی شاعر سامنے رکھتے ہیں۔ بہر حال یہ بات واضح ہے کہ زندگی کے بھرپور گہرے تجربے، ہائیکو کی ہیئت کی وجہ سے بیان نہیں کیے جاسکتے۔ یہ صنف سخن زندگی کے چھوٹے چھوٹے تجربوں کے اظہار تک محدود رہے گی اور یہی اس کا دائرہ ہے اور اسی دائرے میں ہائیکو شاعر اپنی کامیابی کا علم بلند کر سکتا ہے۔ ہمارے شاعر دو مصرعوں میں زندگی کے بڑے تجربوں، وسیع احساس اور گہرے جذبوں کا ہمیشہ سے اظہار کرتے رہے ہیں اس لیے زندگی کے عام اور ننھے منے اچھوتے تجربوں کو وہ آسانی کے ساتھ ہائیکو کے تین مصرعوں میں بیان کر سکتے ہیں۔ پھر اردو زبان میں قافیوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے اور تہجی رکن (Syllables) ہماری وزن و بحور والی شاعری سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اسی لیے ہائیکو کی ہیئت کے سلسلے میں ہمیں سوچ سمجھ کر پہلے سے طے کرنا ہو گا کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ بہر حال اردو شعرا کے لیے ہائیکو میں شاعری کرنا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ جو بات سامنے آئے اسے تین مصرعوں میں بیان کر دیا جائے۔ مشکل اس لیے کہ ہائیکو کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تجربے کی تازگی ہو اور شاعر دنیا کو ایک ذرا مختلف انداز سے دیکھ رہا ہو۔ ہائیکو کی تکنیک کے سلسلے میں، میں خاص طور پر اپنے شعرا کی توجہ ایک پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ ہائیکو جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں تین مصرعوں پرمشتمل ایک مختصر نظم ہے۔ اگر ہمارے شعرا ان تین مصرعوں کو دو حصوں میں واضح طور پر تقسیم کریں۔ پہلے جھتے میں کہی جانے والی بات ذہن کو ایک سمت میں لے جائے اور دوسرا حصہ اسے بظاہر دوسری طرف لے جائے تا کہ تخیلی فاصلہ دونوں حصوں میں باقی رہے لیکن جب تینوں مصرعے ایک ساتھ پڑھے جائیں تو ان کے اتصال سے ایک ایسا نیا پہلو سامنے آئے جس سے پڑھنے والا واقف تو تھا لیکن اس نے اس بات کو اس انداز سے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ دونوں حصوں کے موضوعات بظاہر الگ الگ ہوں لیکن تخیلی سطح پر ان میں ربط موجود ہو۔ دونوں حصوں میں تخیلی فاصلہ نہ اتنا زیادہ ہو کہ بات مبہم ہو جائے اور نہ اتنا واضح کہ بات سپاٹ ہو جائے اور لطف سخن جاتا رہے۔ ایک حصے سے ایک تصویر ابھرے اور دوسرے سے دوسری تصویر ابھرے اور دونوں تخیل کی سطح پر اس طرح مربوط و پیوستہ ہوں کہ ایک حصے سے دوسرے حصے کی تفہیم پیدا ہو۔ پہلا حصہ دوسرے کی اور دوسرا حصہ پہلے کی اہمیت بڑھائے۔ اردو شعرا اپنی ہائیکو میں صنائع بدائع کا بھی استعمال کر سکتے ہیں کہ یہ ان کی میراث ہے۔ موسم کے ذکر سے ایک طرف جاپانی ہائیکو کی روایت سے رشتہ جوڑا جا سکتا ہے اور شعر میں کیفیت و اثر کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی موسم ہمارے مشاہدے کا حصہ ہیں اور ہمارے شاعروں نے ہمیشہ بہار و خزاں کو زندگی کا اشارہ بنایا ہے۔ تہجی رکن (Syllable) انگریزی و فرانسیسی کی طرح، اردو زبان کی ساخت کا حصہ نہیں ہے لیکن ہمارے شعراء مختلف بحور کے رکن کو توڑ کر ہائیکو میں استعمال کر سکتے ہیں۔
میں نے اردو ہائیکو کے وہ تینوں مجموعے پڑھے ہیں جو جاپان ثقافتی مرکز نے شائع کیے ہیں اور جن میں طبع زاد و ترجمہ شدہ ہائیکو شامل ہیں۔ ان سب میں ایک بات تو یہ مشترک ہے کہ یہ جاپانی ہائیکو کی طرح تین مصرعوں پر شتمل ہیں۔ بعض شاعروں نے پہلے اور تیسرے مصرع میں قافیے کا التزام کیا ہے بعض نے تینوں مصرعوں کو قافیے سے آزاد رکھا ہے۔ اکثر شعرا کے ہاں دوسرا مصرع پہلے مصرع سے بڑا ہے۔ بعض کے ہاں تینوں مصرعے مختلف لمبائی کے ہیں، بعض کے ہاں پہلا مصرع لمبا ہے اور دوسرا چھوٹا اور تیسرا درمیانی ہے۔ کہیں تینوں مصرعے برابر ہیں۔ یہ صورت ترجمے والی ہائیکو میں بھی ملتی ہے اور طبع زاد میں بھی۔ طبع زاد ہائیکو میں اکثر شعرا نے پہلے اور تیسرے مصرع میں قافیے کا اہتمام کیا ہے۔ ان مجموعوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سوائے تین مصرعوں کے اردو ہائیکو میں ہیئت کی سطح پر کوئی چیز مشترک نہیں ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہائیکو شعرا مل کر اس مسئلے پر تبادلہ خیال کریں اور اس کی ہیئت کو کوئی ایسی صورت دینے کی کوشش کریں جس سے ہائیکو کا مزید کامیاب تجربہ اردو شاعری میں کیا جاسکے۔ جہاں تک موضوعات کا تعلق ہے تو اس میں ہر موضوع آسکتا ہے لیکن بنیادی طور پر ہائیکو کسی بڑے موضوع کے اظہار کا ذریعہ نہیں بن سکتی البتہ عام تجربے کے کسی نئے پہلو، نئے رخ اور نئی جہت کا اظہار کامیابی سے کر سکتی ہے۔ تین مصرعوں کو دو ٹکروں میں بانٹے کا عمل مشہور انگریزی شاعر ایزرا پاؤنڈ نے بھی کیا تھا اور کامیاب و پر اثر ہائیکو لکھے تھے میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو ہائیکو کی ہئیت متعین کرنے کے لیے شعراء کا ایک اجلاس بلایا جائے جس میں تبادلہ خیال کر کے خصوصیت سے اس کی ہیئت اور مسائل پر بحث کی جائے۔ اب تک ہمارے ہاں ہائیکو کے نام سے جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ ہائیکو سے ملتی جلتی کوئی چیز ہے۔ ہائیکو نہیں ہے۔
۱۸ نومبر ۶۱۹۸۷
تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی