اردو نعت گوئی کا تاریخی ارتقاء

اردو نعت گوئی کا تاریخی ارتقاء


نعت "عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف و توصیف کے ہیں لیکن عربی فارسی، اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں لفظ نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف توصیف اور مدح کے لیے مخصوص ہو گیا ہے"۔ اب جب بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ پارۂ شاعری ہے جس میں سرورِ کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وصفات کی توصیف و مدح کی گئی ہو۔ نعت کے لیے کوئی مخصوص ہیئت مقرر نہیں ہے۔ یہ کسی بھی صنف سخن کی ہیئت میں لکھی جاسکتی ہے۔ یہ صنف سخن قصیدہ اور مثنوی بھی ہو سکتی ہے۔ غزل، قطعہ، رباعی یا کوئی اور صنف سخن بھی ہو سکتی ہے۔
نعت گوئی کا آغاز سب سے پہلے عربی زبان میں ہوا اور عربی سے اس کا رواج فارسی اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں ہوا۔ رسول پاک سے محبت ہمارے مذہب کا حصہ ہے۔ خود خدا نے قرآن پاک میں بار بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف کی ہے۔ یہ توصیف بھی نعت کے ذیل میں آتی ہے مسلم شریف میں یہ حدیث درج ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایمان نہیں لایا جب تک میں اس کے بیٹے، والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ حُبِ رسول جزو ایمان ہے اور یہی حبِ رسول نعت گوئی کی بنیاد ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے
ہی سے نعت گوئی کا رواج شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا ۔
پہلے نعت گو شاعر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ 
تھے۔ اسی سلسلے میں ایک اور نام کعب بن زہیر کا ہے جنھوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں نعتیہ قصیدہ پیش کیا۔ عربی نعت گوئی میں ایک بہت اہم اور ممتاز نام ساتویں صدی ہجری کے محمد بن سعید بصیری کا ہے جن کا قصیدہ بردہ ساری دنیائے اسلام میں آج بھی مخصوص محفلوں میں عقیدت و محبت سے سنا جاتا ہے اور جس کے سینکڑوں تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ نعت گوئی کا یہ سلسلہ آج بھی عربی شاعری میں جاری ہے۔
عربی نعت کے زیر اثر فارسی زبان میں بھی نعت گوئی کا آغاز ہوا۔ فردوسی کے شاہنامہ میں نعتیہ اشعار موجود ہیں۔ ابوسعید ابوالخیر رم (۳۴۴۰) کی رباعیات میں نعتیہ کلام موجود ہے ۔ حکیم سنائی  (۵۳۵ ) کے ہاں بھی نعتیہ کلام ملتا ہے۔ فرید الدین عطار کے علاوہ نظامی کی مثنویاتِ خمسہ میں نعت گوئی اپنے کمال پر نظر آتی ہے۔ نظامی کی نعتوں میں وہ زور کلام موجود ہے کہ آج آٹھ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود نظامی کے اشعار دل میں اتر جاتے ہیں۔ مولانا روم کی تو ساری مثنوی نعت کے ذیل میں اس لیے آتی ہے که روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سرائیت کیے ہوئے ہے۔ سعدی شیرازی (۱۳۹۱) کی ذات گرامی عشق رسول سے سرشار تھی اسی لیے انھوں نے جو کچھ کہا وہ جریدۂ عالم پر ثبت ہو گیا۔ بلغ العلیٰ بکمالہ ، کشف الدجی بجمالہ تو آج تک ساری دنیائے اسلام میں سب کی زبان پر رواں ہے۔ امیر خسرو برِعظیم پاک و ہند کی وہ عظیم اور زندہ جاوید شخصیت ہیں جن کا نام ہمارے خون کے ساتھ گردش کر رہا ہے۔ ان کی نعتیں آج بھی محفلِ حال و قال اور محفلِ میلاد میں شوق سے سنی جاتی ہیں۔ ان کا یہ شعر تو ضرب المثل بن گیا ہے، یہ نعتیہ غزل آپ بھی سنیے

آفاق با گردیده ام مہرِ بتان در زیده ام
بسیار خوبان دیده ام  امّا تو چیزی دیگری

اے چہرہ زیبائے تو رشک بتان آذری
هر چند و صفت می کنم در حسن زاں زیباتری

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی 
تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

تو از پری چابک تری، و ز برگ گل نازک تری
از هر چه گویم بہتری حقا عجائب دلبری

عالم ہمہ یغمائے تو خلق جہاں شیدائے تو 
آن نرگس شہلائے تو آورده رسم کافری

خسرو غریب است و گدا افتاده در شهر شما 
باشد که از بهر خدا سوئے غریباں بنگری

حضرت امیر خسرو کے بعد مولانا جامی، عرفی اور قدسی کے نام نامی آتے ہیں، جن کا کلام آج بھی محفل سماع و میلاد میں سن کر عاشقان رسول اشک بار ہو جاتے ہیں۔ حضرت قدسی کی وہ غزل، جس کا مطلع

مرحبا سیدی مکی مدنی العربي 
دل و جان باد فدایت چه عجب خوش لقبی

آج بھی ہمارے کانوں میں رس گھولتا ہے۔

عربی و فارسی شاعری کی اس عظیم روایت نے اردو نعت گوئی کو بھی شدت سے متاثر کیا اور جب سے اردو شاعری کا آغاز ہوا نعتیہ شاعری کسی نہ کسی صورت میں ہمیں ملتی ہے۔ نعتیہ اشعار حسن شوقی کے ہاں بھی ملتے ہیں اور قلی قطب شاہ کے ہاں بھی۔ ملا وجہی اور نصرتی کے ہاں بھی ملتے ہیں اور ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی کے ہاں بھی۔ گذشتہ چار پانچ سو سال کے عرصے میں لکھے جانے والے معراج نامے، نور نامے، تولد نامے، وفات نامے آج بھی کثیر تعداد میں مختلف کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ نعتیہ شاعری سودا و میر درد کے ہاں بھی اپنا رنگ دکھاتی اور دلوں کو گرماتی ہے اور نظیر اکبر آبادی اور غالب کے ہاں بھی۔ لیکن وہ شعرا جنھوں نے خصوصیت کے ساتھ نعت گوئی کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بنایا ان میں کرامت علی خان شہیدی (متوفی ۱۲۵۶ هـ) کا نام نعت گوئی کی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 

تمنا ہے درختوں پر ترے روضے کے جا بیٹھے 
قفس جس وقت ٹوٹے طائر روح مقید کا 
خدا منھ چوم لیتا ہے شہیدی کسی محبت سے 
زبان پر میری جس دم نام آتا ہے محمدؐ کا 

کم و بیش اسی دور کا ایک اور نام مولوی غلام امام شہید کا ہے۔ شہید سراپا عشق تھے اور انھوں نے مختلف اصناف سخن مثلاً قصیدہ، غزل، مثنوی، خمسہ، ترجیع بند میں صرف اور صرف نعتیہ کلام لکھا۔ جذب و شوق اور قدرت اظہار نے ان کی شاعری کو پُر اثر بنا دیا ہے۔ شہید نے میلا د بھی لکھا تھا جو میلادِ شہید کے نام سے آج بھی محفل میلاد میں پڑھا جاتا ہے۔
ان کے یہ دو شعر سنیے :

بو سے کی تمنا ہے جو مینائے فلک کو
جھکتا ہے سوئے گنبد خضرائے مدینہ

قسمت یہ دکھاتی ہے حسرت کی نظر سے
ہم دیکھتے ہیں اس کو جو دیکھ آئے مدینہ 

بحر طویل میں شہید نے جو نعتیہ قصید لکھا تھا وہ بھی پڑھنے اور سننے کے لائق ہے۔

"از مقدم نور خدا، شمس الضحی بدر الضحٰی ، نجم الهدى خير خیر الورا، بحر عطا ابر سخا، کانِ حیا، کوہِ وفا، شانِ علا، شمعِ بقا، مہرِ ضیا، ماہِ صفا، شاہِ ذمن".

حکیم مومن خان مومن (متوفی ۶۱۸۵۱) اردو میں منفرد عشقیہ شاعری کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لیکن انھوں نے نعتیہ شاعری میں جس انداز سے عشق رسول کا اظہار کیا ہے وہ بھی منفرد و ممتاز ہے۔ مومن نے کل نو قصیدے لکھے، جن میں سے ایک حمد میں ہے، ایک نعت میں، اور چار خلفائے راشدین کی مدح میں ہیں۔ ان کے علاوہ ایک مثنوی، ایک تضمین اور کچھ رباعیاں بھی نعت میں لکھی ہیں۔ عشقیہ شاعری کی وہ لَے جو مومن کی غزل میں ملتی ہے نعت میں ایک ایسا والہانہ جوش اور گداز بن جاتی ہے کہ پڑھنے والا عشق رسول کی کیفیت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
ویسے تو امیر مینائی کے سارے کلام میں نعتیہ اشعار ملتے ہیں لیکن "محمد خاتم النبیین" ان کا نعتیہ دیوان ہے جو ۱۸۷۲ء میں شائع ہوا۔ امیر مینائی کے نعتیہ کلام میں جذب و کیف اور عقیدت و عشق نے وہ اثر و تاثیر پیدا کیا ہے کہ ان کا کلام سننے والے کی روح میں اتر جاتا ہے۔
نعت گو شعرا میں محسن کاکوروی سب سے الگ حیثیت کے مالک ہیں۔ انھوں نے ساری عمر صرف اور صرف نعتیہ شاعری کی، 

یہ ہے خواہش کروں میں عمر بھر تیری ہی مداحی نہ اٹھے بوجھ مجھ سے اہل دنیا کی خوشامد کا

سوز و گداز، فکر آفرینی اور فنی شعور کے اعتبار سے محسن کا کور روی نعت گوئی میں ایک منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کا قصیدہ لامیہ ایک ایسا سدا بہار تحفہ ہے جسے بڑھ کر مشام جاں معطر ہو جاتے ہیں۔ 

نہ کوئی اس کا مشابہ ہے نہ ہمسر نہ نظیر 
نہ کوئی اس کا مماثل نہ مقابل نہ بدل
اوجِ رفعت کا تمر نخل دو عالم کا ثمر 
بحر وحدت کا گہر چشمہ کثرت کا کنول
بحر توحید کی ضد اوجِ شرف کا مہ نو 
شمع ایجاد کی لَو بزم رسالت کا کنول
مرجعِ روحِ امیں زیب دو عرش بریں 
حامی دین متین ناسخ ادیان و ملل
سب سے اعلیٰ تری سر کار ہے سب سے افضل 
میرے ایمان مفصل کا یہی ہے محمل
ہے تمنا کہ رہے نعت سے تیری خالی 
نہ مرا شعر یہ قطعہ نہ قصیدہ نہ غزل
آرزو ہے کہ رہے دھیان ترا تا دم مرگ 
شکل تیری نظر آئے مجھے جب آئے اجل
روح سے میری کہیں پیار سے یوں عزرائیل 
که مری جان مدینے کو جو چلتی ہے تو چل

محسن کاکوروی کے ہم عصر اور ان کے بعد کے شعراء میں مولانا الطاف حسین حالی بھی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے نعت کو امت مسلمہ کی اصلاح و بیداری کے لیے استعمال کیا۔ یہی وہ لَے ہے جو علامہ اقبال کی شاعری میں ایک نئے انداز سے جلوہ گر ہوئی۔ ویسے تو انھوں نے غزل کی ہیئت میں بھی نعت لکھی ہے لیکن "مسدس مدو جزر اسلام" میں، جو مسدسِ حالی کے نام سے معروف ہے، انھوں نے ولادت سے متعلق جو اشعار لکھے ہیں وہ آج بھی دلوں کو گرماتے اور زبان زد خاص و عام ہیں۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

اور اس کے کئی بند تو آپ نے سنے ہوں گئے اب یہ نعت بھی سن لیجیے، 

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پر تری آکے عجب وقت پڑا ہے
وہ دین، ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آگے پڑا ہے
جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا
اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے
فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
کر حق سے دعا امتِ مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھِرا ہے
امت میں تری نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکن
دلدادہ ترا ایک سے ایک ان میں پڑا ہے

اس دور کے دوسرے نعت گو شعرا میں یوں تو بہت سے نام ہیں لیکن شاہ نیاز بریلوی (متوفی ۶۱۸۳۴) بیدم شاہ وارثی اور احمد رضا خان بریلوی (متوفی ۴۱۹۲۱) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ شاہ نیاز کا کلام کیفیت عشق میں ڈوبا ہوا ہے۔ بیدم شاہ وارثی عشق مجسم بن کر سامنے آتے ہیں اور حضرت احمد رضا خان بریلوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات اور حیات و سیرت کو کیفیتِ عشق سے ملا کر ایک نیا رنگ عطا کرتے ہیں۔ ان کا دیوان حدایق بخشش تین حصوں میں شائع ہو کر عشاقِ رسول کے دلوں میں شمع محبت و عقیدت روشن کر چکا ہے۔ ان کا سلام جس کا مطلع یہ ہے، 

مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزم رسالت پہ لاکھوں سلام

آج بھی ہر خاص و عام کی زبان پر ہے ۔ علامہ اقبال کا سارا کلام مدحت رسول کا مؤثر اظہار ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں دین اسلام کی روح کو اس طرح نعت کا رنگ دیا ہے کہ خود اقبال ملت اسلامیہ کی
نشاۃ الثانیہ کی علامت بن گئے ہیں۔ بال جبریل کی یہ غزل سنیے جس میں سوز و گداز بھی ہے جو نعت کی جان ہے اور حیاتِ نو کی وہ آرزو بھی جس سے علامہ اقبال کی ساری شاعری عبارت ہے، 

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و با یزید تیرا جمال بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پاگئے
عقلِ غیاب و جستجو، عشقِ حضور و اضطراب

یہ تعارف نا مکمل رہ جائے گا اگر مولانا ظفر علی خان کا ذکر نہ کیا جائے۔ مولانا کے ہاں نعت گوئی میں موضوعات کا تنوع بھی ہے اور اسالیب کی وسعت بھی۔ ان کی نعتیں محفلوں میں عام طور پر محویت کے ساتھ سنی جاتی ہیں۔ ان کے کلام میں عشق رسول سے پیدا ہونے والی کیفیت روح کو اس طرح گر مادیتی ہے کہ عشق رسول، نعت سننے والے کا جزو احساس بن جاتا ہے۔ ان کی یہ نعت سنیے، 

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تم ہی تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم ہی تو ہو
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ اَلست سے
اس نور اولیں کا اجالا تم ہی تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تم ہی تو ہو
جو ماسوا کی حد سے بھی آگے گزر گیا
اے رہ نورد جادۂ اِسریٰ تم ہی تو ہو
گرتے ہووؤں کو تھام لیا جس کے ہاتھ نے
اے تاج دارِ یثرب و بطحا تم ہی تو ہو

اس دور میں اور اس کے بعد جن دوسرے شعراء نے نعت گوئی میں نام پایا ان میں امجد حیدر آبادی، اکبر وارثی میرٹھی، سہیل اقبال، حفیظ جالندھری، بہزاد لکھنوی، احمد سہارنپوری اور ماہر القادری کے نام نمایاں اور ممتاز ہیں۔ امجد حیدر آبادی شاعری کی آواز کو رہنما کی آواز جانتے ہیں جس سے خدا کی آواز آتی ہے۔ اثر و تاثیر ان کے کلام کا جوہر ہے ۔ اکبر وارثی میرٹھی نے سیرت محمدؐ کو معاشرے کے عام فرد تک نہایت پُر اثر انداز میں پہنچایا ہے۔ یا نبی سلام علیک ، یا رسول سلام علیک ، ان کا وہ سلام ہے جو آج بھی گھر گھر پڑھا جاتا ہے ۔ "میلادِ اکبر" ان کی وہ مقبول زمانہ تصنیف ہے جو ہزاروں بار شائع ہو چکی ہے۔ حفیظ جالندھری انھیں کے شاگرد تھے جنھوں نے شاہنامۂ اسلام چار جلدوں میں لکھ کر حقِ شاعری ادا کیا ہے۔ شاہنامۂ اسلام نعتیہ ادب میں ایک ممتاز و منفرد درجہ رکھتا ہے۔ حفیظ جالندھری کی یہ تصنیف تاریخ بھی ہے اور سیرت بھی۔ اس میں جذبہ ایمانی کا درس بھی ہے اور اصلاحِ احوال کی تلقین بھی۔
بہزاد لکھنوی کی نعتوں میں جذبہ عشق کا والہانہ پن دلوں میں اتر جاتا ہے۔ احمد سہارنپوری کی عشقیہ شاعری اپنی سادگی و پرکاری کی وجہ سے دلوں کو متاثر کرتی ہے۔ ماہر القادری کا کلام بھی عشق رسول میں ڈریا ہوا ہے۔ ان کے ہاں محبت و عقیدت کے حدود ہیں۔ اسی لیے ان کا کلام عشق کے جذبے کا پر اثر اظہار ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نعت گوئی کی مقبولیت ہمارے دور میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب عام طور پر جلسوں اور تقریبوں میں تلاوت کلام پاک کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر بھی نعت گوئی کی سر پرستی کی جا رہی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن سے نعتیہ مشاعرے اور کلام نشر کیے جاتے ہیں۔ آج کی نعتیہ شاعری میں حالی اور اقبال کی لَے بھی شامل ہے اور محسن کا کوروی اور احمد رضا خان بریلوی کی عشقیہ سرشاری بھی۔ جدید نعت میں موضوع و ہیت کا تنوع بھی قابل ذکر ہے۔ نعت گو شعراء کی ایک طویل فہرست ہے حفیظ تائب بھی شامل ہیں اور مظفر وارثی بھی، محشر رسول نگری بھی اور احمد ندیم قاسمی بھی۔ ان کے علاوہ یوسف ظفر، منور بدایونی، عبد العزیز خالد، حنیف اسعدی، صبا اکبر آبادی عارف عبد المتین، حافظ لدھیانوی، طفیل ہوشیار پوری، انجم رومانی، نصرت قریشی، عاصی کرنالی، شیر افضل جعفری، ناصر زیدی یزدانی جالندھری، ذوقی مظفر نگری، اقبال عظیم، صمد انصاری، رشید الزمان خلش اور جعفر بلوچ وغیرہ بھی شامل ہیں۔
یہ فہرست یقینا ادھوری اور نامکمل ہے۔ اس میں بہت سے نام شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نعت گوئی کے فن اور تاریخ کا وسعت اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔
نعت گوئی کا یہ ذوق نئی نسل کے شعراء میں بھی پروان چڑھ رہا ہے اور اسی لیے میرے خیال میں نعت گوئی کا مستقبل روشن ہے۔

(۲۹ اکتوبر ۶۱۹۸۷)

تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR