کیفی اعظمی
1919 - 2002
کیفی اعظمی (ولادت 14 جنوری، 1919ء، وفات 10 مئی، 2002ء) کا پورا نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں ہوئی۔ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں شاعری شروع کر چکے تھے۔ ان کی پہلی نظم اس طرح تھی: مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر جی خوش تو ہوگیامگر آنسو نکل پڑے اک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے کیفی اعظمی صاحب کا اترپردیش کے ضلع اور شہربہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔کیفی کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور شہر بہرائچکے محلہ قاضی پورہ میں رہتے تھے،اور اس طرح کیفی کے بچپن کے کئی سال بہرائچ کی سرزمین پر گزرے ہیں۔ اور بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملاقات کرتے تھے،اور شفیع بہرائچی کی دکان پر ادبی محفل کا حصہ بنتے تھے۔ جہاں بہرائچ کے مشہور شاعر وصفی بہرائچی ،جمال بابا،شوق بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،عبرت بہرائچی ،اظہار وارثی وغیرہ شرکت کرتے تھے۔ 1943ء میں کیفی بمبئی اپنے ایک دوست کی دعوت پر آئے تھے۔ یہاں انہیں قریب دس سال کی جدوجہد کے بعد انہیں بالی وڈ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔