Skip to content
کیفی اعظمی کیفی اعظمی

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے وہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے جو کہی گئی ہے مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہے کہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے شب انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھی یہ چراغ بجھ رہے ہیں مرے ساتھ جلتے جلتے
کیفی اعظمی

کیفی اعظمی

View profile

کیفی اعظمی (ولادت 14 جنوری، 1919ء، وفات 10 مئی، 2002ء) کا پورا نام اطہر حسین رضوی تھا۔ ان کی پیدائش اتر پردیش کے اعظم گڑھ میں ہوئی۔ وہ محض گیارہ سال کی عمر میں شاعری شروع کر چکے تھے۔ ان کی پہلی نظم اس طرح تھی: مدت کے بعد اس نے جو الفت سے کی نظر جی خوش تو ہوگیامگر آنسو نکل پڑے اک تم کہ تم کو فکر نشیب و فراز ہے اک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے کیفی اعظمی صاحب کا اترپردیش کے ضلع اور شہربہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔کیفی کے والد سید فتح حسین رضوی نانپارہ کے قریب نواب قزلباش کے تعلقہ نواب گنج میں تحصیل دار تھے اور شہر بہرائچکے محلہ قاضی پورہ میں رہتے تھے،اور اس طرح کیفی کے بچپن کے کئی سال بہرائچ کی سرزمین پر گزرے ہیں۔ اور بعد میں بھی کیفی کا بہرائچ آناجانا بنا رہا جس میں وہ اپنے بچپن کے دوستوں سے ملاقات کرتے تھے،اور شفیع بہرائچی کی دکان پر ادبی محفل کا حصہ بنتے تھے۔ جہاں بہرائچ کے مشہور شاعر وصفی بہرائچی ،جمال بابا،شوق بہرائچی ،ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالی،عبرت بہرائچی ،اظہار وارثی وغیرہ شرکت کرتے تھے۔ 1943ء میں کیفی بمبئی اپنے ایک دوست کی دعوت پر آئے تھے۔ یہاں انہیں قریب دس سال کی جدوجہد کے بعد انہیں بالی وڈ میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR