جاوید احمد غامدی
اٹھتی ہے موج یورشِ غم کا خروش ہے
اٹھتی ہے موج یورشِ غم کا خروش ہے
اس پر بھی دیکھتا ہوں کہ دریا خموش ہے
ہاتھوں میں کیا ہے لمحہ موجود کے سوا
عالم یہ وہ ہے جس میں نہ فردا نہ دوش ہے
علم وادب نه حسن طبیعت نہ ذوق و شوق
تہذیب کا کمال یہی ناے و نوش ہے
یہ سرزمین وہ ہے کہ دھونی رمائیے
پھر جس کو دیکھیے وہی حلقہ بگوش ہے
آتی تو آسماں سے ہے کیا جانیے مگر
ابلیس کی صدا کہ نوائے سروش ہے
کھلتے ہیں پھول پھر بھی برہنہ ہے شاخ شاخ
سونپا تھا جس کو باغ وہی گل فروش ہے
جاوید اس فضا میں کہاں احتساب خویش
جس شخص کو بھی دیکھیے آئینہ پوش ہے