جاوید احمد غامدی
اب نئی منزلوں کے خواب کہاں
اب نئی منزلوں کے خواب کہاں
ہر قدم پر نیا سراب کہاں!
لذتِ غم کی بے خودی ہے فقط
ساقی و مطرب و شراب کہاں
ایک غوغا ہے آں سوئے افلاک
پوچھتے ہیں مگر جواب کہاں
اب کوئی شمع آرزو ہی سہی
ظلمت شب میں آفتاب کہاں
قعرِ دریا کو کھینچ لایا ہے
موجہ عشق میں حباب کہاں
ایک عالَم کتاب خواں ہے مگر
ایک بھی صاحب کتاب کہاں
آبلوں کا لہو ہے کانٹوں پر
اس چمن میں کوئی گلاب کہاں
اس تمدُّن میں اب حیا کیسی
رہ گیا ہے کوئی حجاب کہاں