Skip to content
جاوید احمد غامدی جاوید احمد غامدی

اب نئی منزلوں کے خواب کہاں

اب نئی منزلوں کے خواب کہاں ہر قدم پر نیا سراب کہاں! لذتِ غم کی بے خودی ہے فقط ساقی و مطرب و شراب کہاں ایک غوغا ہے آں سوئے افلاک پوچھتے ہیں مگر جواب کہاں اب کوئی شمع آرزو ہی سہی ظلمت شب میں آفتاب کہاں قعرِ دریا کو کھینچ لایا ہے موجہ عشق میں حباب کہاں ایک عالَم کتاب خواں ہے مگر ایک بھی صاحب کتاب کہاں آبلوں کا لہو ہے کانٹوں پر اس چمن میں کوئی گلاب کہاں اس تمدُّن میں اب حیا کیسی رہ گیا ہے کوئی حجاب کہاں
جاوید احمد غامدی

جاوید احمد غامدی

View profile

جاوید احمد غامدی کی پیدایش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے1972ء میں انگریزی ادب میں بی۔ اے آنرز (پارٹ ون) کیا اور دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے۔ قرآن و حدیث کے علوم و معارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دادا نور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ غامدی صاحب 1980ء سے دینی علوم پر علمی اور تحقیقی کام انجام دے رہے ہیں۔ اسلامی محقق و دانشور کے علاوہ غامدی صاحب کا ایک ادبی تعارف بھی ہے جو ان کی شخصیت کے جمالیاتی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ اور ان کا شعری مجموعہ کلام ’’خیال و خام‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ یہ مجموعہ اُن کے ادبی ذوق کا مظہر ہے۔

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR