جاوید احمد غامدی
رہتی ہے اگر گردش دوراں کوئی دن اور
رہتی ہے اگر گردش دوراں کوئی دن اور
دیکھیں گے یہی آدم و یزداں کوئی دن اور
شاید اسی فرمان پر قائم ہے جہاں اب
رہنے دو اسے دست وگریباں کوئی دن اور
تہذیب کی یلغار میں ، ہے یہ بھی غنیمت
ناچار ہی رہ جائیں مسلماں کوئی دن اور
تیرہ ہیں مہ و مہر تو ہم اپنے لہو سے
کر دیتے ہیں یہ بزم چراغاں کوئی دن اور
بڑھتا ہی رہا درد ستم گر کی دوا سے
کیا خوب تقاضا ہے کہ درماں کوئی دن اور
ہوتی ہے اگر گرمی محفل کی تمنا
کر لیتے ہیں تنہائی کو مہماں کوئی دن اور
اس دور میں سرمایۂ اربابِ نظر بھی
اب ہوگا فراہی کا دبستاں کوئی دن اور