جاوید احمد غامدی
امن کا نام لبوں پر ہے سناں پہلو میں
امن کا نام لبوں پر ہے سناں پہلو میں
اک زباں منہ میں ہے اور ایک زباں پہلو میں
اب تو لگتا ہے کہ تہذیب کا حاصل ہے یہی
ہاتھ میں جام ، کوئی حور جناں پہلو میں
قافلہ ہے، نہ جرس، گرم سفر ہوں پھر بھی
ساتھ چلتی ہے تو اک ریگ رواں پہلو میں
سیر دیکھیں گے، ذرا دیر کو آئے تھے، مگر
دل نہیں، یہ تو نکل آیا جہاں پہلو میں
یوں تو قرآن بھی ہے خانقہوں کی زینت
ساتھ رہتا ہے، مگر سر نہاں پہلو میں
اسی امید پہ کھویا تھا کہ پالیں گے اسے
دل نے چھوڑا نہ کوئی اپنا نشاں پہلو میں
لوٹ آتی ہے، نوا ہو کہ فغاں ہو میری
یہ ترا دل ہے کہ اک سنگ گراں پہلو میں