Skip to content
کشور ناہید کشور ناہید

ہوا کچھ اپنے سوال تحریر دیکھتی ہے

ہوا کچھ اپنے سوال تحریر دیکھتی ہے کہ بادلوں کو بھی مثل زنجیر دیکھتی ہے مجھے بلاتا ہے پھر وہی شہر نا مرادی کہ آرزو آبلوں میں تصویر دیکھتی ہے جو کشتیوں میں نہ بیٹھ پائے وہ گھر نہ پہنچے سفر کی تائید شام تقصیر دیکھتی ہے بہت دنوں میں ستم کے دریا کا زور ٹوٹا سرشت شب بھی برہنہ تعزیر دیکھتی ہے سمندروں کا عروج پھر ریت بن گیا ہے شہاب ثاقب میں رات تفسیر دیکھتی ہے ہوا چلی تھی پہ شہر جاں کے تھے در مقفل یہ آنکھ اپنے ہی خواب تاخیر دیکھتی ہے سبو لیے تشنگی کھڑی تھی یہ جانتی تھی کہ جاں فروشوں کو قوس شمشیر دیکھتی ہے نیابت شہر ان کے ہاتھوں میں اب نہ ہوگی کمان داروں کو شب کی زنجیر دیکھتی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR