کشور ناہید
یہ کیا خواب تمہارے نکلے اور عذاب ہمارے
یہ کیا خواب تمہارے نکلے اور عذاب ہمارے
چھلکی چھلکی آنکھیں لیکن دل پایاب ہمارے
یہ کیا شہر کے پھول بھی پوچھیں رنگ بہار کی خصلت
یہ کیا خون ہمارا پہنیں خود احباب ہمارے
یہ کیا بہتے دریا آنکھیں جلتے صحرا پاؤں
یہ کیا بجھائے اب کے دلوں میں بھی مہتاب ہمارے
یہ کیا تجھ سے پوچھ کے اب میں اپنا حال بتاؤں
یہ کیا اپنا رزق بھی تیرا اور سیلاب ہمارے
یہ کیا جن کو دیکھنا چاہیں اور نہ دیکھیں ان کو
یہ کیا آنکھیں بھول نہ پائیں سب آداب ہمارے
یہ کیا مہر و محبت نکلیں قہر دیار کے قصے
یہ کیا آنکھ جو دیکھے اس پر لب غرقاب ہمارے
میرے آنگن میری کھیتی مجھ کم ذات سی اکھڑ
تم زندہ کہ ٹوٹ کے بکھریں کب اعصاب ہمارے