کشور ناہید
آگے سرک رہے ہیں کہ سکتہ بھی ہے عجب
آگے سرک رہے ہیں کہ سکتہ بھی ہے عجب
دیوار و در کو شوق تماشا بھی ہے عجب
شاید اداس شاخوں سے لپٹا ہوا ملے
اپنی گلی میں اس کا ٹھکانہ بھی ہے عجب
بکھرے حروف جوڑ کے لکھ دو کوئی تو نام
اس دل کے دکھ عجب ہیں مسیحا بھی ہے عجب
حرف وصال حرف گماں تک نہ بن سکا
تہذیب جاں میں غم کا مداوا بھی ہے عجب
بھیجی ہیں اس نے پھولوں میں منہ بند سیپیاں
انکار بھی عجب ہے بلاوا بھی ہے عجب