Skip to content
امجد اسلام امجد امجد اسلام امجد

حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے

حضور یار میں حرف التجا کے رکھے تھے چراغ سامنے جیسے ہوا کے رکھے تھے بس ایک اشک ندامت نے صاف کر ڈالے وہ سب حساب جو ہم نے اٹھا کے رکھے تھے سموم وقت نے لہجے کو زخم زخم کیا وگرنہ ہم نے قرینے صبا کے رکھے تھے بکھر رہے تھے سو ہم نے اٹھا لیے خود ہی گلاب جو تری خاطر سجا کے رکھے تھے ہوا کے پہلے ہی جھونکے سے ہار مان گئے وہی چراغ جو ہم نے بچا کے رکھے تھے تمہی نے پاؤں نہ رکھا وگرنہ وصل کی شب زمیں پہ ہم نے ستارے بچھا کے رکھے تھے مٹا سکی نہ انہیں روز و شب کی بارش بھی دلوں پہ نقش جو رنگ حنا کے رکھے تھے حصول منزل دنیا کچھ ایسا کام نہ تھا مگر جو راہ میں پتھر انا کے رکھے تھے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR