Skip to content
امجد اسلام امجد امجد اسلام امجد

شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں

شام ڈھلے جب بستی والے لوٹ کے گھر کو آتے ہیں آہٹ آہٹ دستک دستک کیا کیا ہم گھبراتے ہیں اہل جنوں تو دل کی صدا پر جان سے اپنی جا بھی چکے اہل خرد اب جانے ہم کو کیا سمجھانے آتے ہیں جیسے ریل کی ہر کھڑکی کی اپنی اپنی دنیا ہے کچھ منظر تو بن نہیں پاتے کچھ پیچھے رہ جاتے ہیں جس کی ہر اک اینٹ میں جذب ہیں ان کے اپنے ہی آنسو وائے کہ اب وہ اہل دعا ہی اس محراب کو ڈھاتے ہیں آج کی شب تو کٹ ہی چلی ہے خوابوں اور سرابوں میں آنے والے دن اب دیکھیں کیا منظر دکھلاتے ہیں ساری عمر ہی دل سے اپنا ایسا کچھ برتاؤ رہا جیسے کھیل میں ہارنے والے بچے کو بہلاتے ہیں نا ممکن کو ممکن امجدؔ اہل وفا کر سکتے ہیں پانی اور ہوا پر دیکھو کیا کیا نقش بناتے ہیں

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR