Skip to content
امجد اسلام امجد امجد اسلام امجد

جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی

جو دن تھا ایک مصیبت تو رات بھاری تھی گزارنی تھی مگر زندگی، گزاری تھی سواد شوق میں ایسے بھی کچھ مقام آئے نہ مجھ کو اپنی خبر تھی نہ کچھ تمہاری تھی لرزتے ہاتھوں سے دیوار لپٹی جاتی تھی نہ پوچھ کس طرح تصویر وہ اتاری تھی جو پیار ہم نے کیا تھا وہ کاروبار نہ تھا نہ تم نے جیتی یہ بازی نہ میں نے ہاری تھی طواف کرتے تھے اس کا بہار کے منظر جو دل کی سیج پہ اتری عجب سواری تھی تمہارا آنا بھی اچھا نہیں لگا مجھ کو فسردگی سی عجب آج دل پہ طاری تھی کسی بھی ظلم پہ کوئی بھی کچھ نہ کہتا تھا نہ جانے کون سی جاں تھی جو اتنی پیاری تھی ہجوم بڑھتا چلا جاتا تھا سر محفل بڑے رسان سے قاتل کی مشق جاری تھی تماشا دیکھنے والوں کو کون بتلاتا کہ اس کے بعد انہی میں کسی کی باری تھی وہ اس طرح تھا مرے بازوؤں کے حلقے میں نہ دل کو چین تھا امجدؔ نہ بے قراری تھی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR