Skip to content
امجد اسلام امجد امجد اسلام امجد

کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے

کسی کی آنکھ میں خود کو تلاش کرنا ہے پھر اس کے بعد ہمیں آئنوں سے ڈرنا ہے فلک کی بند گلی کے فقیر ہیں تارے! کہ گھوم پھر کے یہیں سے انہیں گزرنا ہے جو زندگی تھی مری جان! تیرے ساتھ گئی بس اب تو عمر کے نقشے میں وقت بھرنا ہے جو تم چلو تو ابھی دو قدم میں کٹ جائے جو فاصلہ مجھے صدیوں میں پار کرنا ہے تو کیوں نہ آج یہیں پر قیام ہو جائے کہ شب قریب ہے آخر کہیں ٹھہرنا ہے وہ میرا سیل طلب ہو کہ تیری رعنائی چڑھا ہے جو بھی سمندر اسے اترنا ہے سحر ہوئی تو ستاروں نے موند لیں آنکھیں وہ کیا کریں کہ جنہیں انتظار کرنا ہے یہ خواب ہے کہ حقیقت خبر نہیں امجدؔ مگر ہے جینا یہیں پر یہیں پہ مرنا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR