Skip to content
جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی

جی میں آتا ہے کہ پھر مژگاں کو برہم کیجیے

جی میں آتا ہے کہ پھر مژگاں کو برہم کیجیے کاسۂ دل لے کے پھر دریوزۂ غم کیجیے گونجتا تھا جس سے کوہ بے ستون و دشت نجد گوش جاں کو پھر انہیں نالوں کا محرم کیجیے حسن بے پروا کو دے کر دعوت لطف و کرم عشق کے زیر نگیں پھر ہر دو عالم کیجیے دور پیشیں کی طرح پھر ڈالیے سینے میں زخم زخم کی لذت سے پھر تیار مرہم کیجیے صبح سے تا شام رہیے قصۂ عارض میں گم شام سے تا صبح ذکر زلف برہم کیجیے دن کے ہنگاموں کو کیجیے دل کے سناٹے میں غرق رات کی خاموشیوں کو وقف ماتم کیجیے دائمی آلام کا خوگر بنا کر روح کو ناگہانی حادثوں کی گردنیں خم کیجیے غیظ کی دوڑی ہوئی ہے لہر سی اصنام میں جوشؔ اب اہل حرم سے دوستی کم کیجیے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR