Skip to content
جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی

قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے

قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے چلے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی ہجوم کشمکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے ہوائیں زور کتنا ہی لگائیں آندھیاں بن کر مگر جو گھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کو مگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے سمجھتی ہیں مآل گل مگر کیا زور فطرت ہے سحر ہوتے ہی کلیوں کو تبسم آ ہی جاتا ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR