Skip to content
جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی

نمایاں منتہائے سعئ پیہم ہوتی جاتی ہے

نمایاں منتہائے سعئ پیہم ہوتی جاتی ہے طبیعت بے نیاز ہر دو عالم ہوتی جاتی ہے اٹھی جاتی ہے دل سے ہیبت آلام روحانی جراحت بہر قلب زار مرہم ہوتی جاتی ہے کنارا کر رہا ہے روح سے ہیجان سرتابی کہ گردن جستجو کے شوق میں خم ہوتی جاتی ہے جنوں کا چھا رہا ہے زندگی پر اک دھندلکا سا خرد کی روشنی سینے میں مدھم ہوتی جاتی ہے نسیم بے نیازی آ رہی ہے بام گردوں سے عروس مدعا کی زلف برہم ہوتی جاتی ہے نمایاں ہو چلا ہے اک جہاں چشم تصور پر نظر شاید حریف ساغر جم ہوتی جاتی ہے گرہ یوں کھل رہی ہے ہر نفس ذوق تماشا کی کہ ہر ادنیٰ سی شے اب ایک عالم ہوتی جاتی ہے فضا میں کانپتی ہیں دھندلی دھندلی نقرئی شکلیں ہر اک تخیئل پاکیزہ مجسم ہوتی جاتی ہے نہ جانے سینۂ احساس پر یہ ہات ہے کس کا طبیعت بے نیاز شادی و غم ہوتی جاتی ہے سمجھ میں آئیں کیا باریکیاں قانون قدرت کی عبادت کثرت معنی سے مبہم ہوتی جاتی ہے خجل تھا جس کی شورش سے تلاطم بحر ہستی کا مرے دل میں وہ ہلچل جوشؔ اب کم ہوتی جاتی ہے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR