Skip to content
جوش ملیح آبادی جوش ملیح آبادی

اس بات کی نہیں ہے کوئی انتہا نہ پوچھ

اس بات کی نہیں ہے کوئی انتہا نہ پوچھ اے مدعائے خلق مرا مدعا نہ پوچھ کیا کہہ کے پھول بنتی ہیں کلیاں گلاب کی یہ راز مجھ سے بلبل شیریں نوا نہ پوچھ جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ پیش نظر ہے پست و بلند رہ جنوں ہم بے خودوں سے قصۂ ارض و سما نہ پوچھ سنبل سے واسطہ نہ چمن سے مناسبت اس زلف مشکبار کا حال اے صبا نہ پوچھ صد محفل نشاط ہے اک شعر دلنشیں اس بربط سخن میں ہے کس کی صدا نہ پوچھ کر رحم میرے جیب و گریباں پہ ہم نفس چلتی ہے کوئے یار میں کیونکر ہوا نہ پوچھ رہتا نہیں ہے دہر میں جب کوئی آسرا اس وقت آدمی پہ گزرتی ہے کیا نہ پوچھ ہر سانس میں ہے چشمۂ حیوان و سلسبیل پھر بھی میں تشنہ کام ہوں یہ ماجرا نہ پوچھ بندہ ترے وجود کا منکر نہیں مگر دنیا نے کیا دیئے ہیں سبق اے خدا نہ پوچھ کیوں جوشؔ راز دوست کی کرتا ہے جستجو کہہ دو کوئی کہ شاہ کا حال اے گدا نہ پوچھ

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR