Skip to content
میر ببر علی انیس میر ببر علی انیس

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح تمام خلق ہے خواہان آبرو اے رب چھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح ہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عود سلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں پڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR