Skip to content
میر ببر علی انیس میر ببر علی انیس

کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے

کوئی انیس کوئی آشنا نہیں رکھتے کسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے فقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرے کچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے مسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تار چراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے وہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاں سخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے مسافران عدم کا پتہ ملے کیونکر وہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے تپ دروں غم فرقت ورم پیادہ روی مرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے کھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئی جو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے جہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر وہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے انیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو جو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR