Skip to content
مرزا محمد رفیع سودا مرزا محمد رفیع سودا

اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی

اے آہ تری قدر اثر نے تو نہ جانی گو تج کو لقب ہم نے دیا عرش مکانی یک خلق کی نظروں میں سبک ہو گیا لیکن کرتا ہوں میں اب تک تری خاطر پہ گرانی ٹک دیدۂ تحقیق سے تو دیکھ زلیخا ہر چاہ میں آتا ہے نظر یوسف ثانی معمور ہے جس روز سے ویرانۂ دنیا ہر جنس کے انساں کی یہ ماٹی گئی چھانی اک وامق نو کا ہے سمجھ چاک گریباں کرتی ہے جو رخنہ کوئی دیوار پرانی بلبل ہی سسکتی نہ تھی کچھ باغ میں تجھ بن شبنم گلوں کے منہ میں چواتی رہی پانی ہے گوش زدہ خلق مرا قصۂ جانکاہ جب سے کہ نہ سمجھے تھا تو چڑیا کی کہانی جوں شمع مجھے شرم ہے زنار کی اے شیخ مالا نہ جپوں رات کو بے اشک فشانی جس سمت نظر موج سراب آوے تو یہ جان ہووے گی کسی زلف چلیپا کی نشانی کیا کیا ملے لیلیٰ منشاں خاک میں سوداؔ گو اپنے بھی محبوب کی دیکھی نہ جوانی

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR