Skip to content
مرزا محمد رفیع سودا مرزا محمد رفیع سودا

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے

غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیب صبح بہار گل پہ شب تار کر چلے اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہ تسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقاب پروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے آزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سے اس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے اٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کے پہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے لو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تم دو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے اندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھر ہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہ چاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے پیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچ انصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR