Skip to content
مرزا محمد رفیع سودا مرزا محمد رفیع سودا

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا

چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے یوسف کی طرح میں خواب دیکھا کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اس کے لیے یاں خراب دیکھا دل تو نے عبث لکھا تھا نامہ جو ان نے دیا جواب دیکھا بے جرم و گناہ قتل عاشق مذہب میں ترے صواب دیکھا کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحت ہستی میں تو ہم عذاب دیکھا جس چشم نے مجھ طرف نظر کی اس چشم کو میں پر آب دیکھا حیران وہ تیرے عشق میں ہے یاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کا سوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کیوں کر نہ بکوں میں ہاتھ اس کے یوسف کی طرح میں خواب دیکھا کچھ میں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اس کے لیے یاں خراب دیکھا دل تو نے عبث لکھا تھا نامہ جو ان نے دیا جواب دیکھا بے جرم و گناہ قتل عاشق مذہب میں ترے صواب دیکھا کچھ ہووے تو ہو عدم میں راحت ہستی میں تو ہم عذاب دیکھا جس چشم نے مجھ طرف نظر کی اس چشم کو میں پر آب دیکھا حیران وہ تیرے عشق میں ہے یاں ہم نے جو شیخ و شاب دیکھا بھولا ہے وہ دل سے لطف اس کا سوداؔ نے یہ جب عتاب دیکھا

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR