William Wordsworth

غالب کا نعتیہ کلام

William Wordsworth
غالب کا نعتیہ کلام


لفظ نعت اگرچہ لغت میں تعریف و وصف کردن، کے معنی میں آیا ہے مگر اصطلاحاً وہ اس کلام (خصوصاً کلام منظوم) کے لیے مخصوص ہوگیا ہے جس میں حضرت رسول خدا محمد کی تعریف و مدحت اور آپ کی ذات قدسی صفات سے اظہار شوق و محبت ہو۔ اس سے ظاہر ہے کہ مدح اور اظہار محبت نعت کے خاص اجزائے ترکیبی ہیں۔

یہ درست ہے کہ مدّاحی کو عموماً اسلام پسند نہیں کرتا۔ خود آں حضرت کا ارشاد ہے کہ لا تطرونی کما اطرف النصاریٰ عیسیٰ بن مریم۔ یعنی مجھے حد سے زیادہ نہ بڑھائو۔ جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰؑ بن مریم کو بڑھایا۔ سب جانتے ہیں کہ تعریف کرنے سے عام طور پر مدّاح میں دنائت اور ممدوح میں نخوت پیدا ہوتی ہے۔ تاہم اس کا مقصد یہ نہیں کہ صحیح تعریف، جو جائز حدود کے اندر ہو، وہ بھی ممنوع ہے۔ احادیث و سیر سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہؓ نے نعت کے اشعار پڑھے اور حضورنے نہ صرف ان کو روا رکھا، بلکہ ان کی تحسین اور ان کے لیے دُعائے خیر فرمائی۔ جب ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب نے آپ کی ہجو لکھی ’’تو اس کے جواب میں حضرت حسانؓ بن ثابت نے اپنا مشہور نعتیہ قصیدہ پیش کیا۔ جب وہ اس شعر پر پہنچے

ھجوت محمدا فاحبت عنہ

وعند اللّٰہ فی ذاک الجزاء-۱

تو آپ نے فرمایا! جزاک علی اللّٰہ الجنۃ تمھاری جزا خدا کے یہاں جنت ہے اور جب شعر پڑھائے

فان ابی و والدتی وعرضی

لعرض محمد منکم وقاء-۲

تو ارشاد ہوا

وقاک اللّٰہ ھوم المطلع۔ خدا تمھیں قیامت کے ہول سے بچائے۔ رہا آپ سے محبت کرنا تو ظاہر ہے کہ اس کے بغیر ایمان ہی ناقص ہے۔ صحاح میں ہے کہ جو شخص حضورa کو اپنے ماں باپ، اولاد اور تمام دنیا سے زیادہ دوست نہ رکھے، وہ مومن ہی نہیں ہے اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جس کسی کو دوسرے سے حبّ فی اللہ ہو، تو چاہیے کہ وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار بھی کردے۔

عرفا کا قول ہے کہ محبت کے محرکات تین ہوتے ہیں: جمال، کمال اور نوال۔ اگر ہم کسی کو دوست رکھتے ہیں تو اس لیے کہ وہ صاحب جمال ہے اور جمال سے متاثر ہونا تقاضائے فطرت ہے، یا باکمال ہے اور کمال کا گرویدہ ہونا اصل آدمیت ہے، یا اس کا ہم پر احسان ہے اور احسان شناسی شان شرافت ہے۔ اب یہ ایک دارند، تو تنہاداری۔ آپ کے جمال ظاہری کے بارے میں یہ صحابہؓ کرام کی شہادت ہمارے سامنے ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: مارأیت احسن من النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان الشمس تجری فی وجہہ یعنی میں نے حضورa سے زیادہ کوئی حسین نہیں دیکھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کے چہرۂ انور میں آفتاب گردش کررہا ہے۔ حضرت حسانؓ کہتے ہیں:

خلقت مبراء من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء-۳

واحسن منک لم ترقط عینی

واجمل منک لم تلد النساء-۴

صحیحین اور ترمذی میں اسی قسم کی روایات حضرت انسؓ و جابرؓ سے بھی منقول ہیں۔ آپ کے کمالات و فضائل کے متعلق صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ دوست تو دوست، دشمن بھی آپ کو صادق و امین مانتے تھے۔ آج بھی ہزاروں انصاف پسند غیرمسلم آپ کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں۔ رہا آپ کا بذل و نوال، اس کے ذکر سے احادیث و سیر کے دفتر معمور ہیں۔ سچ پوچھیے تو آپ کی تبلیغ و دعوت اور اپنی امت سے غیرمعمولی شفقت آپ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ یہی وجوہ تھے کہ لوگوں نے ہر زمانے اور ہر خطۂ ارض میں نعت گوئی کو اپنے لیے طغرائے امتیاز اور اس نسبت کو اپنے حق میں سرمایۂ نازجانا۔ اگر عربی، فارسی، ترکی، پشتو، چینی، جاوی، ملایشی، سودانی، حبشی زبانوں اور پھر ہمارے برصغیر ہندوپاک کی زبانوں اردو، ہندی، دکنی، گجراتی، بنگالی، پنجابی، کشمیری، سندھی وغیرہ کا تمام نعتیہ کلام جمع کیا جائے تو بیسیوں ضخیم مجلّدات تیار ہوسکتے ہیں۔

غالب کے نعتیہ کلام پر بحث کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نعت کی تاریخ پر ایک اجمالی نظر ڈال لی جائے۔

کسی علم یا فن کی عظمت و اہمیت اس کے موضوع کی عظمت و اہمیت کے تابع ہوتی ہے تو جس فن کا موضوع خود سرور عالم کی ذات بابرکات ہو، اس کی برتری میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ یہ سب مسلّم۔ مگر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلا نعت گو کون تھا۔ یوں تو تمام صحف سماوی میں خصوصاً قرآن مجید میں آپ کی نعت کے مضامین ملتے ہیں، لیکن ہم یہاں نعت کے اصطلاحی مفہوم سے بحث کررہے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ شرف سب سے پہلے عمّ رسول ابوطالب کے حصے میں آیا۔ ذیل کے اشعار تذکروں میں ان کی جانب منسوب ہیں

وابیض یستسقی الغمام بوجہہ

شمال الیتامیٰ عصمۃ للارامل

فاصبح فینا احمد فی ارومۃ

تقصر عنہ سورۃ المتطاول

فایدہٗ رب العباد بنصرہٖ

واظہر دینہ حقہٗ غیر باطل

یعنی آپ ایسے نورانی شکل والے ہیں جن کے چہرے کے وسیلے سے لوگ طلب باراں کرتے ہیں۔ یتیموں کے فریاد رس، بیوائوں کے محافظ احمد صلی اللہ علیہ وسلم، ہمارے اندر ایسے درخت کی جڑ سے تعلق رکھتے ہیں جس تک دراز دستوں کی دراز دستی پہنچنے سے قاصر ہے۔ پروردگار نے اپنی نصرت سے آپ کی تائید فرمائی اور اس دین کو غالب کیا جس کی صداقت یقینی ہے۔

اگرچہ اکثر اہل علم ان اشعار کی نسبت پر شبہ کرتے ہیں، مگر کم از کم پہلے شعر کے استناد میں کوئی کلام نہیں۔ صحیح بخاری کے باب الاستسقاء میں اس کو ابوطالب ہی سے منسوب کیا گیا ہے۔

اصحابِ رسول میں جن بزرگوں نے نعت نگاری میں نام پایا ان کی تعداد خاصی ہے، مثلاً حضرت ابوبکر، عمر، علی، ابوہریرہ، حسان بن ثابت، ضرار بن الخطاب، عبداللہ بن رواحہ، عبدالرحمن بن ابی بکر، عدی بن حاتم الطائی، عمرو بن معدی کرب، کعب بن زہیر، کعب بن مالک، لبید بن ربعیہ، خنساء، عاتکہ رضی اللہ عنہم۔-۵ جگہ کی تنگی اجازت نہیں دیتی کہ ان سب کی نعتوں کے اقتباس پیش کیے جائیں۔ تاہم ان میں سے بعض کا کلام بطورِ نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔

حسان بن ثابت-۶

الا ابلغ ابا سفیان عنی

فانت مجوّف، نخب بواء،

بان سیوفنا ترکتک عبداء

و عبدالدار سادتہا الاماء،

ہجوت محمدا فاجبت عنہ

و عنداللّٰہ فی ناک الجزاء،

اتہجوہ واست لہٗ بکفوء

فشر کما لخیرکما الفداء،

ہجوت مبارکا براء حنیفا

امین اللّٰہ شیمۃ الحیاء،

فمن یہجو رسول اللّٰہ منکم

ویمحہ و ینصرہ سواء،

فان ابی و والدتی و عرضی

لعرض محمد منکم وقاء،

ہاں ابوسفیان-۷ کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ تو محض بے عقل، بزدل اور ناکارہ ہے۔ ہماری تلواروں نے تجھے اور قبیلہ عبدالدار کو (جن پر لونڈیاں حکومت کرتی ہیں) غلام بنا چھوڑا۔ تو نے محمد رسول اللہ کی ہجو کی، جس کا میں ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں اور خدا کے یہاں میری جزا مقرر ہوچکی ہے تو آں حضرت کی کیا ہجو کرتا ہے، جب کہ تو ان کی برابر کا نہیں۔ تو بد ہے اور وہ نیک۔ تجھ کو ان پر سے قربان کر دیا جائے تو روا ہے۔ تو نے ایسی ذات کی برائی کی جو بابرکت۔ نیکوکار راست باز اور خدا کی امین ہے اور جس کا شیوہ شرم و حیا ہے۔ تم میں سے کوئی رسول مقبول کی ہجو و منقصت کرے یا مدح و نصرت، کوئی پروا نہیں۔ کیوںکہ میرے ماں باپ اور خود میری عزت رسول اللہ کی عزت کی حفاظت کی خاطر تمھارے مقابلے میں سپرہیں۔

ضرار بن الخطاب

یا نبی الہنیٰ الیک لجاحیّہ

یا قریش ولات حین لجاء

حین ضاقت علیہم سعتہ الارض

و عاداہم الہ السمائٖ

اے ہدایت کرنے والے نبی! قریش کا قبیلہ آپ سے پناہ کا طالب ہوا (حالاںکہ پناہ کا وقت گزر چکا) جب کہ اس پر زمین کی وسعت تنگ ہوگئی اور آسمان کا مالک اس سے انتقال لینے پر آمادہ ہوا۔

کعب بن زہیر-۸

انبئت ان رسول اللّٰہ اوعدنی

والعفو عند رسول اللّٰہ مامول

فقداتیت رسول اللّٰہ معتزرا

والعزر عند رسول اللّٰہ مقبول

مہلابداک الذی عطاک نافلۃ

القرآن فیہا مواعیظ و تفصیل

لاتا خذنی باقوال الوشاء ولم

انذب وان کثرت فی الاقاویل

ان الرسول لنور یستضاء بہ

مہندھن سیوف اللّٰہ مسلول

مجھے خبر دی گئی کہ رسولِ خدا نے مجھے تعزیز کی دھمکی دی ہے مگر مجھ کو آپ کی ذات سے عفو کی امید ہے۔ میں آپ کے یہاں عذر لے کر آیا ہوں اور جانتا ہوں کہ آپ کے حضور میں عذر قبول کیا جاتا ہے۔ ٹھہریے خدا جس نے آپ کو نصیحت و ہدایت والا قرآن عطا کیا ہے آپ کا بھلا کرے۔ آپ سخن چینوں کی باتوں پر میری گرفت نہ فرمائیے۔ اگرچہ کہنے والوں نے میرے خلاف بہت کچھ کہا ہے مگر میں بے قصور ہوں۔ رسول خدا ایسا نور ہیں جس سے سب روشنی حاصل کرتے ہیں اور آپ خدا کی تیغوں میں سے برہنہ تیغ ہندی ہیں۔

کعب بن مالک

وردناہ بنوراللّٰہ یجلو

دجی الظلماء عناد الغطاء

رسول اللّٰہ یقدمنا بامر

من امر اللّٰہ احکم بالقضاء

ہم بدر کے مقام پر خدا کے اس نور کے ساتھ اترے جو سیاہ رات کی تاریکی کو منور کرتا ہے۔ یعنی رسول اللہ جو خدا کے حکم سے (جس کی استواری تقدیر ہوچکی ہے) ہمارے پیش رو ہیں۔

عہد صحابہ کے بعد ہر زمانے میں عربی شعرا نعت لکھتے اور سرکار نبوی میں خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔ مگر ہم یہاں بخوف طوالت ان کے ذکر اور کلام سے قطع نظر کرتے ہیں۔

عربی کے بعد فارسی اور اردو میں نعت رسول کا معتدبہ ذخیرہ محفوظ ہے۔ ایران و ہند میں اکثر اہل ذوق نے ذکر حبیب کا محبوب مشغلہ اختیار کیا اور ملک و ملت سے قبول عام کا صداقت نامہ لیا۔ متقدمین، متوسطین اور متاخرین میں کم ایسے افراد ہوںگے، جن کا کلام نعت سے خالی ہو۔ البتہ اس امر کا افسوس ہے کہ قدما میں بعض مشہور شعرا مثلاً رودکی، فرخی، منوچہری، انوری، ظہیر وغیرہ جن کے قصیدے فارسی ادب کا مایہ ناز سرمایہ ہیں، ان میں سے کسی کے ہاں نعت نبوی میں دو شعر بھی نہیں ملتے۔

یوں تو دوادین یا مثنویات میں تبرکاً یا رسماً چند شعر اکثر شعرا کے یہاں مل جاتے ہیں، مگر صرف اتنی کوشش کی کسی شخص کو نامور نعت نگاروں کی صف میں جگہ پانے کا مستحق قرار نہیں دے سکتی۔ ایسے فارسی مشاہیر جنھوںنے نعت گوئی کو حاصل حیات جانا اور جنھیں زمانے نے کامل فن مانا، ان کی تعداد بھی خاصی ہے اور ان کی تخلیقات بھی کمیت اور کیفیت، دونوں لحاظ سے قابلِ قدر ہیں۔ ان میں سب سے پہلے ابوالمجد مجدد بن آدم سنائی غزنوی (ف۵۴۵ھ) کا نام آتا ہے۔ فارسی شعرا میں تین صوفی شاعر سب سے زیادہ بلند رتبہ گزرے ہیں سنائی، عطّار اور رومی۔ خود رومی فرماتے ہیں:

عطار روح بود و سنائی دو چشم او

ما از پے سنائی و عطّار آمدیم

سنائی سے ایک ضخیم دیوان (جو قصائد، غزلیات اور رباعیات پر مشتمل ہے) اور سات مثنویاں، جن میں حدیقہ الحقیقہ زیادہ مشہورہیں،یادگارہیں۔ انھوںنے توحید و زہدیات سے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ نعت بھی خوب ہے، فرماتے ہیں:

اے سنائی! گرہمی جوئی زلطف حق سنا

عقل را قربان کن، اندر بارگاہ مصطفاً

آگے چل کر کہتے ہیں کہ رسول پاک کے ہوتے ہوئے ظاہری عقل کی پیروی ایسی ہی ہے جیسے سورج کی موجودگی میں کوئی سہا کا نام لے۔ نبوت کے شفاخانے میں جائو تو نہار منھ جائو (یعنی فلسفہ کی غذا کھائے بغیر) کیوںکہ نبض کی صحیح تشخیص نہار منھ ہی کی جاتی ہے۔

اسی عہد کے ایک دوسرے نامور شاعر سیّد حسن غزنوی ہیں (ف ۵۵۶ھ تقریباً) موصوف کا ترجیع بند جو انھوں نے مدینہ منورہ میں حاضر ہوکر مواجہ شریف میں پڑھا، اپنے اندر ذوق و شوق کی ایک دنیا رکھتا ہے۔ اس کا مطلع ہے:

یارب! ایں مائیم و ایں صدر رفیع مصطفاستؐ

یارب! ایں مائیم و ایں فرق عزیز مجتباست

اس کی بیت عقیدت کی دلیل اور مقبولیت کی سند ہے۔

سلّموا یا قوم بل صلّو علی الصدرالامین

مصطفیٰ ماجاء الّا رحمۃ للّعالمین

خاقانی شروانی (ف۵۹۵ھ) کو نعت نگاروں میں جو بلند مقام حاصل ہے، اس سے متعلق کچھ کہنا تحصیل حاصل ہے۔ ناقدین کا فیصلہ ہے کہ عرب میں حسان بن ثابت، ایران میں خاقانی شروانی اور ہندوستان میں محسن کاکوری کے پایے کا نعت گو پیدا نہیں ہوا۔ اسی لیے خاقانی کو حسان العجم اور محسن کو حسان الہند کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ خاقانی نے نعت میں متعدد طویل الذیل قصائد اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔ اس کے ہاں خیالات کی تلاش، عقیدت کا جوش، تراکیب کی ندرت اور بیان کا زور لاجواب ہے۔ اس کے وہ نعتیہ قصائد جو جسیات میں شامل ہیں یا وہ جو اس نے روضۂ مقدسہ پر حاضر ہوکر پیش کیے تھے، تعریف سے مستثنیٰ ہیں۔ خوف طوالت سے ہم یہاں اس کا کوئی پورا قصیدہ نقل کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اس موقع کے چند اشعار جب کہ وہ مدینہ طیبہ سے بالین مزار اقدس کی خاک بطور ارمغان لے کر آیا ہے۔ ہدیۂ قارئین کرتے ہیں۔ خیال کی لطافت اور تشبیہات اور استعارات کی بداعت کے ساتھ جوش عقیدت کی فراوانی، غرض کون کون سی چیز کی تعریف کی جائے۔ ایک ایک خوبی پر روح وجد کرنے لگتی ہے۔

صبح وارم کآفتابے درنہان آوردہ ام

آفتابم کز دم عیسیٰ نشان آوردہ ام

عیسیم کزبیت معمور آمدہ وزخوان خلد

خوردہ قوت و زلّۂ اخواں زخوان آوردہ ام

ہیں، صلاے خشک بے پیران تردامن کہ من

ہر دو قرص گرم و سرد آسمان آوردہ ام

طفل ذی مکتب بردناں، من زمکتب آمدہ

بہر پیراں زآفتاب و مہ دونان آوردہ ام

گرچہ عیسیٰ وار زیبخا بار سوزن بردہ ام

گنج قاروں بین کز آنجا سوزیان آوردہ ام

آگے چل کر کہتا ہے کہ میں حرم نبوی میں حاضر ہوا۔ میزبان (رسولِ خدا)

حجرۂ خاص میں آرام فرما ہیں اور باہر فیض عام کا دسترخوان بچھا ہوا ہے۔ اب پاسبان-۹ کی اور اپنی روداد سناتا ہے:

دوست خفتہ در شبستان است و دولت پاسباں

من بچشم دسر سجود پاسباں آوردہ ام

پاسباں گفتا ’’چہ داری نورہاں؟‘‘ گفتم: ’’شما

کان زر دارید، ومن جاں نور ہاں آوردہ ام‘‘

پاسبان نے پوچھا تھا کہ اس دربار میں آئے ہو تو کوئی تحفہ بھی لائے ہو۔ خاقانی کہتا ہے کہ کان زر (ذات نبوی) تو یہاں ہے۔ میرے پاس کیا تھا جو تحفہ میں پیش کرتا۔ البتہ جان حاضر ہے۔

نئی نئی تراکیب اور نادر نادر استعاروں کے بعد صاف صاف بتاتا ہے

یعنی امسال سر بالین پاک مصطفیؐ

خاک مشک آلودہ بہر حرز جاں آوردہ ام

اس خاک پاک کی قیمت بھی سن لیجیے

کیسیت خاقانی کہ گویم خوں بہاے جان اوست

خون بہائے جان صد خاقاں و خاں آوردہ ام

پھر کھل کر کہتا ہے کہ میں نے یوںہی کہہ دیا تھا میں تو کسی قیمت پر بھی اسے دینے کو تیار نہیں ہوں:

وقف بازوے من است ایں حرز نفروشم بکص

گرچہ اول نام دادن برزباں آوردہ ام

نظامی گنجوی (ف۵۹۹ھ) کی نعتیں بھی جو ان کے خمسہ میں پائی جاتی ہیں، فارسی زبان کے شاہ کاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ مولانا ایک واجب الاحترام صوفی اور ایک نامور معلم اخلاق ہیں۔ ان کی اخلاقی، عشقیہ، تمثیلیہ اور رزمیہ مثنویاں ادبیاتِ عالیہ میں محسوب ہیں اور اکابر شعرا نے ان کی تقلید کی کوشش کی ہے۔ ان مثنویات میں جہاں نعت کا موقع آیا ہے مولانا نے خوب خوب دادِ سخن دی ہے۔ مخزن الاسرار میں کہتے ہیں

اے مدنی برقع و مکی نقاب

سایہ نشیں چند بود آفتاب

گر مہی، از مہر تو موئے بیار

درگلی، از باغ تو بوئے بیار

منتظراں رابلب آمد نفس

اے زتو فریاد، بفریاد رس

پانصد و ہفتاد نہ بس بود خواب

روز بلند است، بمجلس شتاب

کہتے ہیں سرکار بہت آرام فرماچکے۔ ۵۷۰ سال تھوڑے نہیں ہوتے۔ دن چڑھ گیا ہے۔ اب مجلس میں تشریف لائیے اور امت کے حال پر نظر فرمائیے۔

دشمنان اسلام کی جفاکاری اور ملت کی ناچاری کا نقشہ ایسے مؤثر انداز میں کھینچا ہے کہ ممکن نہیں کوئی پڑھے اور اس پر اثر نہ ہو۔

عطّار، رومی، سعدی اور خسرو نے بھی نعت لکھی ہے اور خوب لکھی ہے مگر وہ بات نہیں،جوخاقانی یا نظامی کے یہاں ہے۔ یہاں تک کہ مولانا جامی کا عہد (۸۱۷۔۸۹۸ھ) آجاتا ہے۔ وہ ایک متبحر عالم، ممتاز صوفی اور نامور شاعر تھے۔ بعض متشرقین کا تو یہ خیال ہے کہ ان کے بعد خاک ایران سے کوئی بڑا شاعر اُٹھا ہی نہیں۔ ان کے کلام اور خاص کر مثنویات میں نعت رسول کی بہت پاکیزہ اور نفیس مثالیں ملتی ہیں۔ خصوصاً یوسف زلیخا ذات اقدس سے ان کا خطاب جوش و اثر میں جواب نہیں رکھتا۔

زمہجوری برآمد جان عالم

ترحّم یا نبی اللہ! ترحّم

نہ آخر رحمۃ للّعالمینی

زمحروماں چرا غافل نشینی؟

اسی طرح ’’تحفت الاحرار‘‘ میں ان کا استغاثہ بے حد مؤثر اور دردانگیز ہے:

اے بسرا پردۂ بثرب بخواب

خیز کہ شد مشرق و مغرب خراب

متاخرین شعرائے فارسی میں بھی بڑے بڑے اہلِ کمال گزرے، جن میں سے بعض کو نعت گوئی میں یدطولیٰ حاصل تھا ان میں فیضی اور عرفی کو جو مرتبہ حاصل ہے، وہ دوسرے معاصرین کو نہیں۔

فارسی شاعری کے آخری دور میں دو عالی رتبہ شاعر پیدا ہوئے، جنھوںنے نعت میں بھی بیش بہا سرمایہ چھوڑا ہے یعنی قاآنی اور غالب۔ قاآنی (۱۲۰۰۔۱۲۷۰ھ) قصیدے کا استاد اور زبان کا بادشاہ ہے۔ اس کی نعت کا زور دیکھنا ہو تو اشعار ذیل ملاحظہ ہو:

شاہے کہ برسراست زلولاک افسرش

تشریف کبریاست زدا دار دربرش

اقبال دبخت شاطر میدان رفرفش

خورشید و ماہ خادم شبیرؑ و شبرشؑ

شام ابد حبینبۂ موے مجعدش

صبح ازل طلیعۂ روے منورش

شب چہرہ سیاہ بلال مؤذنش

مہ غرۂ جبین براق تکاورش

تابر سر خطایم و خط عطا کنند

سوگندمی دہم بخداوند قنبرش

مرزا غالب قاآنی کے معاصر ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب قاآنی کا کلام ہندوستان پہنچا اور غالب کی نظر سے گزرا تو انھوں نے ارادہ کرلیا کہ میں آیندہ یہی رنگ اختیار کروںگا مگر عمر نے مہلت نہ دی۔ سچ پوچھیے تو خدا کو کچھ اچھا کرنا تھا ورنہ غالب کی انفرادیت مجروح ہوگئی ہوتی اور ان کی شاعری نری لفاظی کی نذر ہوجاتی ۔ اُردو میں غالب کا نعتیہ کلام نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ فارسی میں جو نعتیں انھوں نے لکھی ہیں، وہ ایک طرف ان کی استادی کی برہان اور دوسری طرف عقیدتمندی کی جان ہیں۔ فارسی زبان پر ان کی غیر معمولی قدرت اور شاعری میں ان کی فوق العادہ صلاحیت کا ناقدان سخن اور ارباب فن نے ہمیشہ اعتراف کیا ہے۔ ان کے ہم عہد اور زمانہ مابعد کے تذکروں اور نیز آج تک-۱۰کے انتقادی سرمایے پرنظرڈال جائیے جس پرہمارے دعوے کی تصدیق ہوسکتی ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ قدرت کی طرف سے شعروادب کا ایک غیرمعمولی ملکہ لے کر آئے تھے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

تانہ بخشد، خداے بخشذہ

خود انھوں نے اپنے اس ملکہ کا کئی موقعوں پر فخریہ ذکر کیا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں

سخن آفرینی خداے گیتی آراے راستایم کہ تانہاں

خانۂ ضمیرم را از فراوانی رنگارنگ معنی بہ لعل و گہر

اپناشت، بازویم راترازوے مرجاں سنجی و خامہ ام

ہنگامۂ گہرپاشی ارزانی داشت

ان کی نظم و نثر فارسی و اردو میں اس کے قسم کے فخریہ مضامین بکثرت ہیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ فخر بیجا تھا۔ دوسرے انھیں خوبی قسمت سے اوائل عمر ہی میں ہر مزد (عبدالصمد) جیسا باکمال استاد مل گیا۔ مولانا حالی کا بیان -۱۱ ہے کہ ’’اس میں شک نہیں کہ عبدالصمد فی الواقع ایک پارسی نژاد آدمی تھا اور مرزا نے اس سے کم و بیش فارسی زبان سیکھی تھی چناںچہ مرزا نے جابجا اس کے تلمذ پر اپنی تحریروں پر فخر کیا ہے۔‘‘ خود عبدالصمد کو بھی اپنے نادر عصر شاگرد پر ناز تھا۔ جیسا کہ اس نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا-۱۲  ’’اے عزیز،

چہ کسی کہ باایں ہمہ آزاد یہاگاہ گاہ بخاطرمی گزری۔‘‘

اس کے علاوہ اساتذہ فارسی کی نظم و نثر کو ہمیشہ مطالعے میں رکھتے تھے اور انھیں اساتذہ مذکورہ کی تخلیقات سے کامل ممارست اور ان کے اسالیب سے پوری مناسبت ہوگئی تھی۔ ان کے زمانے میں فارسی زبان عموماً معیارِ لیاقت اور نشان شرافت سمجھی جاتی تھی۔ تاہم اس عہد میں بھی کم لوگ تھے جو ان کی برابر زبان کے نکات پر نظر رکھتے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ زبان کے معاملے میں خود کو بھی مجتہد نہیں، بلکہ مقلد مانتے اور اہلِ ہند کی فارسی پر چیں بکیں ہوتے تھے۔ ملّا غیاث الدین رامپوری، محمد حسین دکنی، قتیل فرید آبادی، واقف بٹالوی و امثالہم پر مرزا غالب کے ایرادات کی یہی بنیاد ہے۔

ایک خاص چیز جس نے ان کی فنکارانہ خصوصیات کو آگے بڑھایا اور ان کے جوہر کمال کو چمکایا۔ وہ اس زمانے کی دلّی کا علمی و ادبی ماحول تھا۔-۱۳ جس کا مرزا نے بڑی فراخ دلی سے اعتراف کیا ہے۔

اے کہ راندی سخن از نکتہ سرایان عجم

چہ بمامنت بسیار نہی از کم شاں

ہندرا خوش نفسانند سخنور کہ بود

باد در خلوت شاں مشک فشاں ازدم شاں

مومن و نیّر و صہبائی و علوی وانگاہ

حسرتی اشرف و آزردہ بود اعظم شاں

غالب سوختہ جاں گرچہ نیرزد شمار

ہست دربزم سخن ہم نفس و ہمدم شاں

یہ سپہر سخن کے ستارے جب کسی بزم میں مل بیٹھتے ہوںگے تو بقول شخصے آسمان کو بھی زمین پر رشک آتا ہوگا۔‘‘ ان میں (ایک آدھ کو چھوڑ کر) سب کے سب مرزا کے ادبی مرتبے پر معترف تھے۔ تاہم ان ناقدین فن کی وجہ سے انھیں اپنے فن کو بار بار جانچنے اور سنوارنے کا کافی موقع ملا۔ غالب نے جو کہا تھا:

غالب بفن گفتگو، نازو بدیں ارزش کہ او

ننوشت در دیواں غزل تا مصطفی خاں خوش نکرد

تو یہ محض شاعری ہی نہ تھی۔

یہ سب حقائق اپنی جگہ مسلم، لیکن جن اوصاف نے غالب کو علیٰ کلّ غالب بنادیا وہ ان کی تقلید سے نفرت، مجتہدانہ رنگ طبیعت، غیرمعمولی قوت متخیّلہ اور حیرت انگیز قوت آخذہ تھی۔چوںکہ اس موضوع پرکافی لکھاجاچکاہے اس لیے ہم تفصیل سے قطع نظرکرتے ہیں۔

جیسا کہ غالب نے خود کہا ہے-۱۴ انھوںنے اوّل اردو زبان میں شعر کہنا شروع کیا تھا، فارسی کی طرف وہ بعد کو مائل ہوئے۔ تاہم اردو کا سلسلہ بھی آخر تک چلتا رہا۔ ان کی ابتدائی اور فارسی غزلوں میں رنگ بیدل نمایاں ہے۔ دس گیارہ برس کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔ نہ مزاج میں غیرمعمولی پرواز، نہ بازوئوں میں طاقت پرواز، نہ کوئی حوصلہ بڑھانے والا، نہ صلاح دینے والا، تاہم ان کی نظر کی داد دیجیے کہ انھوں نے اپنے لیے جو نمونہ منتخب کیا، وہ بیدلؔ کا تھا۔

متاخرین شعراے فارسی کا ذکر کرتے ہوئے علامہ شبلی نے چند امور پر خاص زور دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہندوستان آکر فارسی شاعری نے ایک خاص جدّت اختیار کی۔ یہ جدّت ’’تازہ گوئی‘‘ ہے۔ جس کے بارے میں عبدالباقی رقمطراز ہے

مستعدادن و شعر سنجان ایں زماں را اعتتقاد آن ست کہ تازہ گوئی کہ دریں زماں درمیانۂ شعرا مستحسن است و شیخ فیضی و مولانا عرفی شیرازی وغیرہ بہ آں روش حرف زدہ اند، بہ اشارہ و تعلیم ایشاں (حکیم ابوالفتح) بود‘‘

عرفی سے متعلق اس کا بیان ہے کہ ’’مخترع طرز تازہ ایست کہ الحال مستعدان و اہل زبان و سخن سنجان تتبع اومی نمایند۔‘‘

یہ طرز جس کی خصوصیات جدّت ادا، نازک خیالی، مضمون آفرینی، لطافت استعارات اور زور کلام ہیں ہندوستان میں خوب پھلا پھولا اور واقع یہ ہے کہ یہاں کے سلاطین و امرا نے جو شعر کے نکتہ سنج اور شعرا کے قدردان تھے، ان کی ترقی میں خاصی مدد دی۔ آگے چل کر مولانا کہتے ہیں کہ مضمون آفرینی میں طرز خاص جلال اسیر، شوکت بخاری، قاسم دیوانہ کا کارنامہ ہے اور ’’بیدل اور ناصر علی وغیرہ اسی گرداب کے تیراک ہیں۔‘‘ (شعرالعجم)

اوپر کی عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ مولاناے موصوف بیدل کی شاعری کے قائل نہ تھے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیدل کے یہاں اس قدر اشکال و اغلاق ہے کہ کلام کا بڑا حصہ معما بن کر رہ گیا ہے۔ ان کی غزل میں (اور غزل ہی اس عہد کی سب سے مقبول صنف ہے) اور دوسرے اصناف میں تصوف اور فلسفے کے مسائل بڑی نزاکت اور بداعت کے ساتھ نظر آتے ہیں، وہ حقائق کائنات، خصوصاً خودی، زمان و مکان، تجدد امثال، دنیا، عقبیٰ حشر، تجریر و تفرید پر ایسے نئے نئے پیرایوں میں بحث کرتے ہیں کہ قاری دنگ رہ جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ بیان کی ندرت، استعارات کی رنگارنگی، جدید تراکیب کی لطافت، بحور کا ترنم ان کے یہاں بدرجۂ کمال ملتا ہے، جس کی مثال دوسروں کے کلام میں کمیاب ہے۔

غالب کی مشکل پسند اور نادرہ کار طبیعت نے اسی رنگ کو شروع شروع میں پسند کیا۔ چناںچہ ان کے ابتدائی کلام میں بیدل کا تتبع نمایاں ہے۔ انھوںنے متعدد جگہ بیدل کو خراج عقیدت پیش کیا ہے مثلاً:

اسد! ہرجا سخن میں طرح باغ تازہ ڈالی ہے

مجھے رنگ بہار ایجادی بیدل پسند آیا

گر ملے حضرت بیدل کا خط لوح مزار

اسد آئینۂ پرواز معافی مانگے

مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالب!

ساز پر رشتہ پے نغمہ بیدل باندھا

دل کار گاہ فکرو اسد بینواے دل

یاں سنگ آستانہ بیدل ہے آینہ

لیکن چند سال بعد ہی وہ اس رنگ سے دست بردار ہوگئے۔ تاہم شروع کی فارسی اور اردو غزلیات میں ایسے اشعار کی خاصی تعداد ملتی ہے، جیسے:

بہ شغل انتظار مہوشاں در خلوت شبہا

سر تار نظر شد رشتہ تسبیح کوکبہا

کندگر فکر تعمیر خرابی ہاے ما گردوں

نیابد خشت مثل استخواں بیروں زقا لبہا

چناں گرم است بزم از جلوۂ ساقی کہ پنداری

گداز جوہر نظارہ درجام است مستاں را

زلکنت می تپد نبض رگ لعل گہر بارش

شہید انتظار جلوہ خویش است گفتارش

بساطے نیست بزم عشرت قربانی مارا

مگر بافند از تار دم ساطور قصابش

زتار شمع نیز آہنگ ذوق نازمی بالد

بشرط آنکہ سازی ازپر پروانہ مضرابش

رفتم از کار و ہماں درفکر صحرا گردیم

جوہر آئینہ زانوست خار پاے من

اس ضمن میں اردو کے یہ چند شعر ملاحظہ ہوں:

جنوں گرم انتظار و نالہ بے تابی کمند آیا

سویدا تابلب زنجیر سے درد سپند آیا

فضاے خندہ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا

فراغت گاہ آغوش وداع دل پسند آیا

مگر ہو مانع دامن کشی ذوق خود آرائی

ہوا ہے نقش بند آینہ سنگ مزار اپنا

رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم

برگ گل ریزۂ مینا کی نشانی مانگے

وحشت شور تماشا ہے کہ جوں نکہت گل

نمک زخم جگر بال فشانی مانگے

شبنم آساکو، مجال سبحہ گردانی مجھے

ہے شعاع مہر زنّار سلیمانی مجھے

بلبل تصویر ہوں بیتاب اظہار تپش

جنبش فال قلم جوش پریشانی مجھے

لیکن جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا آخر ان کے ذوق سلیم نے اس طرز سے ابا کیا۔-۱۵ وہ ایک خط میں لکھتے ہیں:

قبلہ ابتداے فکر سخن میں بیدل و اسیر و شوکت کی طرز پر ریختہ لکھتا تھا۔-۱۶ چناںچہ ایک غزل کا مقطع تھا:

طرز بیدل میں ریختہ لکھنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے

پندرہ برس کی عمر سے پچیس برس کی عمر تک مضامین خیالی لکھا گیا۔ دس برس میں بڑا دیوان جمع ہوگیا۔ آخر جب تمیز آئی تو اس دیوان کو دور کیا۔ اوراق یک قلم چاک کیے۔

دس پندرہ شعر واسطے نمونہ دیوان حال میں رہنے دیے

دوسرے خط میں تحریر کرتے ہیں-۱۷

ناصر علی اور بیدل اور غنیمت، ان کی فارسی کیا۔ ہر ایک کا کلام بنظر انصاف دیکھیے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔

کلیات فارسی کے خاتمے پر صاف صاف فرماتے ہیں-۱۸

ہر چند منش کہ یزدانی سروش است، در سر آغاز نیز پسندیدہ گوے و گزیدہ جوے بود۔ اما بیشتر از فراخ روی پے جادہ ناشناساں برداشتے وکثری رفتار آناں رالغزش مستانہ انگاشتے۔ تاہمدراں تگاپوپیش خراماں رانجستگی ارزش ہمقدمی کہ درمن یافتد مہر بجنبید، و دل از آزرم بدرد آمد۔ اندوہ آوار گیہاے من خوردندد آموزگارانہ درمن نگرستند۔ شیخ علی حزیں

بہ خندۂ زیرلبی بیرابہردیہاے مرادد نظرم جلوہ گر ساخت و زہر نگاہ طالب آملی و برق چشم عرفی مادّہ آں ہرزہ جنبش ہاے نارداد پاے رہ پیماے من بسوخت۔ ظہوری بہ سرگرمی گیرائی نفس حرزے بہ بازو و توشہ برکمرم بست۔ونظیری لاابالی خرام بہنجارخاصۂ خودم بہ چالش آورد۔-۱۹

یوں تو مرزا غالب نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس پر ان کی پرواز تخیل اور ندرتِ بیان کی چھاپ ہے۔ لیکن بقول حالی ان کو چند موضوعات سے خاص مناسبت تھی۔ یعنی تصوف، حب اہل بیت، فخر، شوخی و ظرافت، رندی و بیباکی، بیان رنج و مصیبت، شکایت و زارنالی، اظہار محبت و ہمدردی، حسن طلب۔ ہم ان پر نعت و حبِ رسولa کا اضافہ کرنے کی جرأت کرتے ہیں-۲۰ کیوںکہ انھوں نے مثنوی و قصیدہ و غزل کی شکل میں اس موضوع پر جو لکھا ہے وہ یقینا ان کے سچے جوش طبیعت کا آینہ ہے۔ مرزا نے سلاطین و امرا کی مدح میں بڑی بڑی نکتہ سنجیاں کی ہیں، مگر ظاہر ہے کہ ان میں نعت کا سچا جذبہ اور خلوص کہاں! ان کا نعتیہ کلام حسن عقیدت اور جدّت تخیل کے امتزاج کا نہایت پاکیزہ اور لطیف نمونہ کہے جانے کا مستحق ہے۔

سب سے پہلے مثنویات کو لیجیے ان میں مثنوی ششم کا عنوان ہے ’’بیان نموداری شان نبوت و ولایت کہ درحقیقت پر تو نور الانوار حضرت الوہیت است‘‘ ہوا یہ کہ مولوی محمد اسماعیل دہلوی نے اپنی کتاب تقویت الایمان میں لکھ دیا

اس شہنشاہ کی تو شان یہ ہے کہ ایک آن میں حکم کُن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن اور فرشتے، جبریل اور محمدa کے برابر پید کرڈالے اور ایک دم میں سارا عالم عرش سے فرش تک الٹ پلٹ کر ڈالے اور ایک اور ہی عالم اس جگہ قائم کردے کہ اس کے تومحض ارادے ہی سے ہر چیز ہوجاتی ہے۔

اس پر دوسرے خیال کے علما خصوصاً مولانا فضل حق خیر آبادی اور مولانا فضل رسول بدایونی نہایت برافروختہ ہوئے اور بحث و مناظرہ کا دروازہ کھل گیا۔ آخرالذکر حضرات کی دلیل یہ تھی کہ آںحضرتa کا مثل پیدا نہیں ہوسکتا۔ کیوںکہ آپ خاتم النّبیین اورعقلاًخاتم صرف ایک ہی ہوسکتاہے۔لہٰذا آپ کامثل ممتنع بالذات ہے یعنی یہ قدرت الٰہی میں آتا ہی نہیں۔ دوسرے الفاظ میں جس طرح حق تعالیٰ کا اپنا مثل پیدا کرنا، یا اپنے آپ کو فنا کردینا ذاتی طور پر ممتنع ہے، یہ بھی ممتنع ہے۔ ظاہر ہے کہ عقل دو خاتموں کے وجود کا تصور ہی نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ اس سے معاذاللہ امکان کذب الٰہی لازم آتا ہے جو خود محال ہے۔ ان کے برخلاف مولوی محمد اسماعیل کہتے تھے کہ خاتم النبیین کا مثل ممتنع بالغیر ہے۔ مراد یہ ہے کہ تحت قدرت تو ہے، مگر چوںکہ آپ کی خاتمیت کے منافی ہے، اس لیے آپ کا مثل پیدا نہیں ہوگا، یا نہیں ہوسکتا۔

چوںکہ مولانا فضل حق سے غالب کے دوستانہ تعلقات تھے۔ انھوں نے فرمایش کی کہ ایک مثنوی لکھو جس میں ندا، استمداد، تبرک بہ آثار صالحین، عرس، فاتحہ وغیرہ کے جواز کے ساتھ عقیدہ امتناع نظیر-۲۱ پر خاص زور دیا جائے۔ غالب ایک دوست کی فرمایش کیوںکر ٹال سکتے تھے۔ چناںچہ یہ مثنوی وجود میں آئی۔ چند شعر ملاحظہ ہوں

ندا۔

 ’’یامحمد‘‘جاں فزاید گفتش

یاعلی‘‘مشکل کشاید گفتش

استمداد۔

  چوں اعانت خواہی ازیزدان پاک

یامعین الدین‘‘اگر گوی چہ باک

محفل میلاد۔

  در سخن در مولد پیغمبرؐ است

بزمگاہ دلکش و جاں پروراست

 

آثارشریف۔

  نکہت موے مبارک جانفراست

بارگ جانش ہمی پیوند ہاست

ہر کرا دل ہست و ایمان نیزہم

چوں نہ درزد عشق بانقش قدم

کے شیند دردل آں بدگہر

کش دلے ازسنگ باشد سخت تر

 

عرس وغیرہ۔

 عرس وایں شمع و چراغ افروختن

عود در مجمربہ آتش سوختن

کزپے ترویح روح اولیاست

در حقیقت آں ہم ازبہر خداست

غرض ان مسائل کے بعد اصل مسئلے پر آتے ہیں۔

دیں کہ می گولیی توانا کردگار

چوں محمد دیگرے آرد بکار

باخداوند دو گیتی آفریں

ممتنع نبود ظہورے ایں چنیں

نغزگفتی، نغز ترباید شففت

آنکہ پنداری کہ ہست اندر نہفت

گرچہ فخر دودہ آدم بود

ہم بقدر خاتمیت کم بود

قدرت حق بیش ازیں ہم بودہ است

ہرچہ اندیشی کم از کم بودہ است

لیک دریک عالم ازروے یقیں

خود نمی گنجد دو ختم المرسلیں

یک جہاںتاہست،یک خاتم بس است

قدرت حق را نہ یک عالم بست است

خاتم النّبیین کی یکتائی کا اقرار کرتے ہوئے انھوںنے ایک دوسرا پہلو اختیار کیا، اور بتایا کہ اگرچہ خاتمیت دوئی کی متحمل نہیں، تاہم خدا چاہے تو اس پر قادر ہے کہ بہت سے عالم پیدا کردے اور ہر عالم کا ایک جدا خاتم ہو۔ اس طرح انھوںنے اپنے نزدیک دونوں فریقوں میں مفاہمت کی کوشش کی۔

خواہد از ہر ذرّہ آرد عالمے

ہم بود ہر عالمے را خاتمے

ہر کجا ہنگامہ عالم بود

رحمتہ للّعالمینے ہم بود

لیکن مولانا فضل حق اس مفاہمت پر راضی نہ ہوئے، ان کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ اس سے بھی خاتم کی یکتائی کے عقیدے پر زد پڑتی ہے۔ آخر غالب نے نہایت خوب صورتی سے یہ دکھایا کہ خاتم النّبیین یا ختم المرسلین میں الف لام استغراق کا فائدہ دیتا ہے اور تمام انبیا و مرسلینؑ پر (وہ جس عالم میں بھی ہوں) اس کا اطلاق ہونا ہے۔ نیز آںحضرتa کی اولیت جو دونوں فریق کو مسلّم ہے عقلاً انقسام پزیر نہیں ہوسکتی۔ اسی کے ساتھ یہ جو کچھ

حق تعالیٰ نے کیا، اپنے اختیار سے کیا۔ اس میں معاذ اللہ مجبوری کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس لیے ذات نبوی:

منفرد اندر کمال ذاتی است

لاجرم مشلش محال ذاتی است

چوںکہ اس مثنوی میں فقہی اور کلامی مباحث آگئے ہیں، جن کا آنا ناگزیر تھا۔ اس لیے شعریت کی کمی ہے اور نعت کا اسلوب ہلکا۔

اس کے برخلاف مثنوی یازدہم جس کا نام ابرگہریار ہے، ان کی تمام مثنویوں میں امتیازی درجہ رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اوّل ان کا ارادہ اس مثنوی میں غزوات نبوی بیان کرنے کاتھا،مگرزمانے نے فرصت نہ دی اور مثنوی ناتمام رہی۔ اب یہ توحید، مناجات، نعت، بیانِ معراج، منقبت کے عنوانات پر مشتمل ہے اور اس میں شک نہیں کہ جو کچھ انھوںنے لکھاہے،اس میںتخیل کی بداعت اور بیان کی لطافت ذروہ کمال تک پہنچ گئی ہے۔

توحید میں وحدت کی ترانہ سنجی اور مناجات میں حق سبحانہ سے رندانہ شوخی کے بعد وہ نعت اور بیان معراج کی طرف متوجہ ہوئے ہیں اور بڑے نفیس و نادر پیرایے اختیار کیے ہیں۔ ہم ان میں سے دو عنوانات سے یہاں بحث کریںگے۔ اوّل تمہیداً قلم سے خطاب ہے، جس کا پیرایہ شاعرانہ تخیل کا بڑا دلکش نمونہ ہے۔ پھر نعت شروع کرتے ہیں

محمد کز آینہ روے دوست

جزنیش ندانست دانا کہ اوست

یعنی رسول مقبول کی یہ شان ہے کہ آپ کی ذات کے بارے میں جو حق تعالیٰ کا مظہراتم و اکمل ہے، عارفوں نے زیادہ سے زیادہ بس اس قدر جانا کہ آپ ہیں، مگر آپ کی حقیقت کیا ہے، یہ کوئی نہ جان سکا۔

زراز نہاں پردہ برزدہ

ز ذات خدا معجزے سرزدہ

آپ ہی نے راز وحدت کا پردہ اُٹھایا۔ دراصل آپ کی ذات ایک معجزہ تھی جو خود خدا سے صادر ہوا۔ یہ صحیح ہے کہ شقّ القمر، نطق حجر، مشی شجر اور بہت سے معجزے آپ سے سرزد ہوئے، مگر آپ خود ایک معجزہ تھے، جو حضرت حق سے سرزد ہوا۔ اسی لیے مولاناے روم نے فرمایا

دردل ہر کس کہ از ایماں مزہ ست

روے و آواز پیمبر معجزہ ست

مشہور ہے کہ کسی صحبت میں جہاں علامہ اقبال بھی تشریف رکھتے تھے صفات باری پر بحث ہو رہی تھی۔

معراج ۲۷؍ رجب ۱۲؍بعثت نبوی کو ہوئی تھی۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا۔ اور تاریخ مذکور کو آسمان پر چاند نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہمارے شعرا نے اس ’’نورانی‘‘ رات کے تاریک ہونے کی بڑی نادر توجیہیں کی ہیں۔ مرزا غالب کا شبدیز قلم بھی اس تگ و دو میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ فرماتے ہیں:

ہمانا در اندیشۂ روزگار

شبے بود سرجوش لیل و نہار

شبے دیدہ روشن کن دل فروز

زاجزاے خود سرمۂ چشم روز

وہ رات دیدہ و دل کو روشن کرنے والی تھی۔ اس لیے اگر اس کو دن کی آنکھوں کا سرمہ کہا جائے تو بے جا نہیں۔ آگے چل کر کہتے ہیں کہ وہ رات عید کی برکات کی فہرست تھی، جس پر اس قدر مدیں کھینچی تھیں کہ سفیدی نظر سے چھپ گئی تھی۔ ایسی راتیں ہر روز نہیں آتیں۔ ایک ہی دن تھا جس کو قسمت سے یہ رات ملی تھی۔ جب دن ڈوب گیا تو لیلاے شب نے رسم عرب کے مطابق اپنا محمل سجایا۔ سیاہ ریشمی برقع سے اس کا چہرہ یوں جلوہ گر تھا، جیسے پتلی سے نور نظر۔ وہ ایک ماہوش دلبر تھی سج کے زیوروں میں آفتاب کی حیثیت محض ایک گوہر کی تھی۔ اگر زیور میں سے ایک گوہر کم ہوجائے تو اس سے اس دلبر کے حسن میں کیا فرق آئے۔ اس کی تابش کا یہ حال تھا کہ عجب نہ تھا کہ چشم کور اہل قبور کا حال دیکھ لے، یا مخلوق خط سرنوشت پڑھ لے، اس روز سے اگر رخسار کی تشبیہ شب سے دینے کا دستور پڑجاتا، تو بعید نہ تھا (غرض اسی طرح ۲۹ اشعار میں نئی نئی تشبیات اور توجہیات پیش کرتے چلے گئے ہیں) یہی کیفیت تھی کہ پیش گاہ ایزدی سے حضرت جبریلؑ حاضر ہوئے اور معراج کی نوید لائے۔

شعرا کا دستور ہے کہ جب شوخی پر آتے ہیں تو انبیا اور ملائکہ جیسی مقدس ہستیوں پر بھی طعن کرجاتے ہیں۔ غالب بھی مستثنیات میں نہیں، لیکن یہ ادب کا محل تھا۔ کہتے ہیں:

تمناے دیرینہ کردگار

بوے ایزداز خویش امیدوار

خیال نازک بھی ہے اور مزلتہ الاقدام بھی۔ تشریح نگار کو ڈر ہے کہ مبادا قدم پھسلے اور وہ سوئے ادب کی دلدل میں جاگرے۔ بظاہر مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسولِ پاکa کی ذات خالق کی دیرینہ آرزو تھی۔ گویا اس کو اپنی ذات سے جو امیدیں وابستہ تھیں۔ ان کا تحقق آںحضرتa کے وجود سے عمل میں آیا۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ جس طرح حسن آینہ جو، اور تماشا طلب ہوتا ہے، حسن مطلق بھی اپنی جلوہ گری کی دید کے واسطے ایک آئینے کا مقتضی تھا اور وہ ’’روشن آئینہ ایزدی‘‘ ذات محمدیa کے سوا اور نہیں۔ ہماری ناقص رائے میں یہ نادر تخیل اس انوکھے اسلوب کے ساتھ دوسرے شعرا کے یہاں ملنا مشکل ہے۔

تن از نور پالودہ سرچشمۂ

ولے ہمچو مہتاب درچشمۂ

تن اطہر نور کا مصفا سرچشمہ ہے، جس کی مثال چاند کے عکس کی ہے جو چشمے میں نظر آئے یعنی کثیف میں رہتے ہوئے بھی کثافتوں سے دور اور لطافتوں سے معمور، جیسے چاند پانی میں رہ کر پانی سے تر نہیں ہوتا۔

بود در دنیا و از دنیا نبود

اس کے بعد فرماتے ہیں

بہ رفتار صحرا گلستاں کنے

بہ گفتار کافر مسلماں کنے

بدنیا زدیں روشنائی دہے

بعقبیٰ ز آتش دہائی دہے

بخوے خوش اندوہ کاہ ہمہ

بہ آمرزش اُمید گاہ ہمہ

لب نازنینش گزارش پزیر

جہاں آفرینش سپارش پذیر

خہے قبلۂ آدمی زادگاں

نظر گاہ پیشین فرستاد گاں

کسائی دہ نسل آدم بخویش

روائی دہ نقد عالم بخویش

بلندی دہ کعبہ بالائے او

گرامی کن سجدہ سیماے او

یمن روشن از پر توروے او

ختن بستۂ چین گیسوے او

زخونے کہ در کر بلاشد سبیل

ادا کرد وام زمان خلیلؑ

یعنی کربلا میں آپ کے پیاروں کا جو خون بہایا گیا، وہ دراصل اس قرض کی ادائی تھی، جو حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے واجب الادا تھا۔ آگے چل کر کہتے ہیں

بہ معراج رایت بگردوں برے

بدیں شبروان برشبیخون برے

معراج میں جو شرف آپ کو عطا ہوا، اس سے آپ کی رفعت کا علم آسمان تک پہنچ گیا اور مدعیان باطل کو کامل ہزیمت نصیب ہوئی۔

معراج کا نام آنا تھا کہ شاعر کی فکر بلند جوش نشاط میں آسمان کے تارے توڑ لائی۔ ہوا یہ کہ:

سخن تادم از ذکر معراج زد

بہ من چشمک خواہش تاج زد

سخن نے (یہاں ’’تجیم‘‘ کے طور پر سخن کو انسان فرض کیا ہے ) معراج نبوی کا بیان کرتے وقت مجھ سے اشارۃً خواہش کی کہ آج تو اس مبارک تقریب کی خوشی میں میرے لیے ایک تاج ضرور ہے، شاید اس نے مجھے نادار سمجھ کر رسوا کرنا چاہا ہو، مگر میں نے اس کی فرمائش کو ٹالنا مناسب نہ سمجھا۔ چناںچہ میں نے طے کرلیا کہ منزل قمر سے خانہ مشتری تک چھان ڈالوں، آفتاب کی کرنیں اور ستاروں کے ریزے چنوں، شب معراج (جس کی آج تعریف لکھنا ہے) کی نچھاور بٹور کر آسمان سے زمین پر لائوں اور ان موتیوں اور جواہرات کا تاج بنائوں اور سخن کے حوالے کروں، تاکہ اس کا سربلندی میں آسمان سے باتیں کرے۔ اب یہاں سے معراج کا بیان شروع ہوتا ہے

مہین پردہ دار در کبریا

کشایندہ پردہ بر انبیا

ہمایوں ہماے پیام آورے

بہ آوردن نامہ نام آورے

روان و خرد راروانی بدو

نبیؐ را دم رازدانی بدو

امینے نخستین خرد نام او

زسر جوش نور حق آشام او

فروزاں بہ فرّ فروغ یقین

چناں کز محمد دل ازوے جبین

نوید کا مضمون سننے کے قابل ہے۔ حضرت جبریلؑ اس طرح عرض کرتے ہیں:

خداوند گیتی خریدار تست

شب است ایں، ولے روز بازار تست

روز بازار پینٹھ کے دن کو کہتے ہیں جب کہ گائوں میں بڑی چہل پہل ہوتی ہے۔ مجازاً گرم بازاری، رونق۔ یعنی چلیے، خداے پاک آپ کا خریدار (طالب) ہے۔ اگرچہ اس وقت ہر طرف رات کی ظلمت ہے، مگر یہی آپ کے کمال عروج کی ساعت ہے۔ شعر کے زور اور آمد کی تعریف نہیں ہوسکتی۔ مصرع ثانی میں تو ضرب المثل بننے کی صلاحیت ہے۔

چنیں لنگر ناز سنگیں چرا

نۂ طور، اظہار تمکیں چرا

کساں جلوہ برطورگر دیدہ اند

زراہ تو آں سنگ برچیدہ اند

یہ درست کہ دوسروں (مراد حضرت موسیٰؑ) نے طور پر تجلی الٰہی دیکھی تھی، مگر آپ کی راہ سے ایسے روڑے (مراد طور) دور کردیے گئے ہیں۔

بدور تو شد لن ترانی کہن

فصاحت مکرر نہ سنجد سخن

ترا خواستاراست یزدان پاک

ہر آینہ از لن ترانی چہ باک

آپ کے دور میں لن ترانی کی رسم پرانی ہوگئی۔ کیوںکہ فصاحت تکرار کلام کو پسند نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ جب خود خدا نے آپ کو بلانا ہے، تو لن ترانی کا کیا اندیشہ ہے۔

آگے دو شعروں میں شاعر نے عجیب بات عجیب پیرایے میں کہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انتقال ذہن حیرت انگیز ہے:

نگویم کہ یزداں ترا عاشق است

ولے زاں طرف جذبۂ صادق است

جہان آفریں را خور و خواب نیست

تو فارغ بہ بستر چہ خسپی، بایست

شعرا اکثر اس قسم کے مضامین باندھے آتے ہیں کہ (عاشق ہے خدا بھی رسول مدنی پر) مگر ایمان کی بات یہ ہے کہ عشق جس کو اطبانوع من الجنون کہتے ہیں، اس کی نسبت اس ذات اقدس کی طرف اگر کفر نہیں، تو جہالت ضرور ہے۔ غالب کی سلامت طبع کی داد دیجیے کہ وہ عشق کے ذکر سے تحاشی کرتے ہوئے صرف اتنا کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ کی جانب سے طلب جذبۂ صادق پر مبنی ہے (اس میں شک کیا ہے)۔ پھر کہتے ہیں کہ (خداے پاک نہ سوتا ہے، نہ کھاتا ہے) آپ اطمینان سے کیا سو رہے ہیں۔ اُٹھیے آپ کو بلاتا ہے۔ آخری جملہ یعنی وہ نہ سوتا ہے، نہ کھاتا ہے، بظاہر سوئِ ادب پر دال ہے، لیکن حضرت حق تعالیٰ شانہ کے بارے میں حقیقت نفس الامری سے متجاوز نہیں۔ جب کہ ھویعطم ولا یطعم۔-۲۲ نیز لاتاخذہ سنۃ ولا نوم خود اس-۲۳ کا ارشاد ہے۔ اس مژدۂ جانفزا کے بعد فرستادۂ ایزدی نے آپ کی سواری کے لیے براق کی پیش کش کی۔ چند شعر براق کے وصف میں بھی ملاحظہ فرمائیے اور شاعر کی لطافت و بداعت کو سراہیے:

بہ ہمچشمی ہور ساغر سمے

بہ ہمدوشی حور گیسو دُمے

سبک خیزیش خندہ زن برنسیم

کہ درجنبش انگیز د از گل شمیم

ہم از باد صبح سبک خیز تر

ہم از نکہت گل دل آویز تر

براق از قدم خار در راہ سوخت

پیمبر بہ دم ماسوی اللہ سوخت

براق کی گرم خرامی کا یہ حال تھا کہ راہ کے کانٹے جل گئے اور آںحضرتa کے انفاس کی حرارت کی یہ کیفیت تھی کہ ماسواللہ کی ہستی تحلیل ہوکر رہ گئی۔ اس کے بعد مختلف آسمانوں کی سیر، ہر آسمان کے سیاروں کا نظارہ، سیاروں کی انفرادی خصوصیات کا فلک ثوابت پر بروج کا منظر اور آخر میں فلک الافلاک (عرش) کا بیان، طلسمات کا سا محیرّالعقول سماںپیش کرتاہے۔تفصیل میں طوالت کاخوف ہے جستہ جستہ چنداشعارسن لیجیے۔

جب حضور کی سواری فلک دوم پر پہنچی جو عطارد (منشی فلک) کا مسکن ہے تو وہ (عطارد) غالب کی شکل میں جلوہ گر ہو کر مدح سرا ہوا۔ گویا جو نعت عطارد کی زبان سے ہے، وہ دراصل خود غالب کی طرف سے نذر عقیدت ہے کیوںکہ غالب اور منشی فلک ایک ہی ہستی کے دو نام ہیں:

کہ اے ذرۂ گرد راہ تومن

زخود رفتہ جلوہ گاہ تو من

نظر محو حسن خدا داد تو

ستم کشتۂ غمزۂ واد تو

خراج تو برگنج گلشائیاں

نثار تو پارنج مشائیاں

جہان آفرین را گرایش بتو

گنہ بخشی اش رانمایش بتو

سرمن کہ برخط فرمان تست

نجاتش ز دوراں بدوران تست

دریں رہ ستایش نگار توام

بہ بخشایش امیدوار تو ام

آخری مرحلہ عرش معلّٰی کاتھاجس کے وصف میںشاعربلند پروازیوں زمزہ سنج ہے:

زہے نامور پایۂ سرفراز

سرا پردۂ خلوتستان راز

سررشتۂ نازش چون و چند

بہ پیوند ہستی بداں پایہ بند

یہ وہ مقام ہے جس کی عظمت کے روبرو کیفیت دونوں سپرانداختہ نظر آتی ہیں:

بود گرچہ برتر ز افلاکیاں

دلے لرزد از نالۂ خاکیاں

دل بینوالے گرآید بدرد

شیند بداں پایۂ پاک گرد

صداے شکست کمر گاہ مور

در بینجاست ہیچ و درآں پردہ شور

اگرچہ عرش الٰہی رتبے میں ملائکہ مقرّبین سے بھی بلند ہے مگر ادھر کسی خاکی (انسان) نے فریاد کی، ادھر وہ کانپ اُٹھا۔ یہاں کسی غریب کا دل دکھا، وہاں اس کی فضا گردآلود ہوگئی۔ چیونٹی جیسی حقیر مخلوق کیا اور اس کی پامالی کیا، زمین پر کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی لیکن عرش اعظم پر اس سے ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے۔

عرش سے بھی آگے وہ سالک منازل قرب بڑھتا ہے اور وہاں پہنچتا ہے، جہاں سے جہت و مقام، زمان و مکان پیچھے رہ جاتے ہیں:

بہ الّا رسید و زلا درگزشت

رسیدن ز پیوند جادرگزشت

یہی وہ منزل ہے جہاں ایک طرف شاعر کا ناطقہ بند اور دوسری طرف شارح اپنی نارسائی کا گلہ مند۔ خود زبان سرمدی نے اس موقع پر اپنے موجز و معجز انداز میں کہا تو اس قدر کہا: فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ۔ یعنی مالک نے اپنے بندے کو وہ راز بتائے جو بتانا تھے۔

مثنویات کے بعد نعتیہ قصائد کا جائزہ لیجئے۔ نعت شریف میں غالب کے یہاں صرف ڈھائی قصیدے ملتے ہیں۔ دو خالصتاً نعت میں اور ایک نعت و منقبت میں مشترک۔ ان کے قصائد کو پڑھ کر ہر شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ان میں قصیدے کے تمام لوازم بدرجہ احسن موجود ہیں۔ تشبیب کا زور، گریز کا لطف، مدح کا جوش اور حسن طلب کا ہوش اور اس لحاظ سے یہ قصائد دربار اکبری کے شعرا کے قصائد سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان کا حسن عقیدت اور زور طبیعت قدم قدم پر نمایاں ہیں۔ پہلے قصیدے کی تمہید میں اپنے مصائب کا ذکر کرنے کے بعد حاسد پر طعن کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آندھی جو غبار راہ کو اُٹھائے پھرتی ہے، اپنے ہی ہنگاموں میں گرفتار ہوتی ہے نادان سمجھتے ہیں کہ اسے غبار سے کدورت ہے۔ اسی طرح میں اپنے ہی حال میں مبتلا ہوں۔ حاسد ناحق میرا شکوہ گزار ہے۔ وہ لاکھ میرا ہم فن سہی مگر میں نے اپنی شاعری کی بدولت ننگ ہم فنی کا داغ دھو دیا ہے۔ البتہ اس کو میری شہرت کمال سے جو دُکھ پہنچا، اس کا قدرت کی طرف سے مجھے یہ بدلا ملا کہ دنیا کے سامنے عرض ہنر کرتا ہوں جو میرے لیے سزا سے کم نہیں ہے۔

چو بادتند کہ مہنگامہ سخ خویشتن است

ستیزہ بودش باغبار پنداری

ملال خاطر حاسد زمن بداں ماند

کہ گرد رہ بہ ہوا پیچدباز سبکساری

چہ ننگ اگر سخن ہمفن است چون سخن

زدودہ ام زورق داغ ننگ ہمکاری

مرا کہ عرض ہنر دوزخ پیشمانی ست

ہمیں بس است مکافات حاسد آزاری

اس کے بعدنہ صرف معاصرین بلکہ اسلاف پراپنی برتری کادعویٰ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں

شد آنکہ ہمقدماں راز من غبارے بود

زرفتگاں بگزشتم بہ تیز رفتاری

مسنج شوکت عرفی کہ بود شیرازی

مشواسیر زلالی کہ بود خو انساری

بہ سومنات خیالم در آئے، تابینی

رواں فروز برد دوشہاے زنّاری

بساط روے زمیں کار گاہ ارژنگی

بتان دیرنشیں شاہدان فرخاری

یعنی میری متخیّلہ سومنات کے مندر سے مشابہ ہے، جس میں برہمنوں کے برودوش پر بتوں کی حسین مورتیاں (مراد خوب صورت خیالات) سجی ہوئی ہیں، جن کے جلوے سے روح منور ہوجاتی ہے۔

یہاں سے گریز شروع ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ میری سانس سے دوزخ بھڑکتا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ دشمنان نبیa کو جلائو اور میرے پیرہن سے جنت کی مہک آتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے حضورa کی مداحی کا شرف میسر ہے۔

شہنشہے کہ دبیران دفتر جاہش

بہ جبرئیلؑ نویسند عزت آثاری

عدوکشے کہ زچاک کنار توقیعش

دویدہ تا دل خسرو جراحت کاری

آپ کے دفتر جاہ کے منشی حضرت جبریلؑ کو خط لکھتے ہیں تو القاب میں’’عزت آثار‘‘ تحریر کرتے ہیں۔ (قاعدہ تھا کہ سلاطین کی طرف سے امرا کو فرامین میں ’’عزت آثار‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے)۔ آپ سے عداوت رکھنا مخالف کی ہلاکت کا سبب ہے۔ دیکھو ادھر خسرو پرویز نے آپ کا نامہ مبارک چاک کیا، ادھر اس کے فرزند شیرویہ نے اس کا شکم چاک کرکے قصہ پاک کیا۔ پھر وہ وحدت الوجود کی سرمستی چھا جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ حضور کو حق تعالیٰ سے جدا نہ سمجھنا چاہیے۔

چناں بود کہ بہ بیند بخواب کس خودرا

از و مشاہدۂ حق بعین بیداری

یکایک خیال آتا ہے کہ یہ بے راہ روی کب تک! اب شروع کا سہرا لیتا اور قاعدے سے داد مدح کرتا ہوں۔ کعبہ آپ کی بساط عزت بننے والا تھا۔ جب ہی تو خالق عالم نے اس کا نگران اور جناب خلیلؑ نے اس کا معمار بننا قبول کیا۔

سخن یکے ست ولے درنظرز سرعت سیر

کند چو شعلۂ جوّالہ نقطہ پرکاری

آپ کی نعت کی بات ایک ہے مگر سب نے اپنی بساط کے مطابق نئے نئے پیرایے اختیار کیے ہیں جیسے شعلۂ جوّالہ ایک نقطہ ہوتا ہے مگر گھمانے سے دائرہ بن جاتا ہے۔ آخر میں پھر مخالفوں کے جو روستم کی شکایت ہے۔ یہ شکایت رسمی و روایتی نہیں معلوم ہوتی۔ انداز صاف بتا رہا ہے کہ واقعی اور حقیقی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان ظالموں نے ڈول اور رسّی کو تو کنویں میں چھوڑ دیا اور کنویں کی من پر میرا سبو توڑ دیا ہے۔ لطف یہ ہے کہ میری تدبیر کے تیر سے وہ محفوظ ہیں اور میں الٹا مجروح۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر نے تیر کے پیکان کو سوفا کی خاصیت بخش دی ہے۔ دوسرا قصیدہ جو شکوہ و زور میں پہلے سے بڑھا ہوا ہے سنّت الشعرا کے مطابق فخر و تعلّی سے شروع کیا ہے۔ تعلّی کے بعد بڑی خوبی سے اپنے ایام عیش رفتہ کو یاد کرتے ہیں۔ روانیٔ کلام، شوکت بیان، الفاظ کا تقابل، مصرعوں کا توازن دیدنی ہے

پیمانہ رابہ نرخ چمن دادمے بہار

آینہ را بموج شفق بستمے نگار

شوقم جریدۂ رقم آرزوے بوس

ذوقم قلمرد ہوس مژدۂ کنار

از چشم و دل نہاد مرا بود تاج و تخت

ازرنگ و بو بساط مرا بود پود وتار

وقت مرا روانی کوثر در آہستین

بزم مرا طراوت فردوس درکنار

ہموارہ ذوق و مستی و لہو و سرور و سور

پیوستہ شعر و شاہد و شمع و مے و قمار

اب دوسرا رخ بھی دیکھیے۔ یعنی عسرت بعد عشرت اور حور بعد الکور۔

اکنوں منم کہ رنگ برویم نمی رسد

تارخ بخون دیدہ نشویم ہزار بار

نقشم بنامہ نیست بجز سرنوشت داغ

تام بجامہ نیست بغیر از تن نزار

پایم بگل زحسرت کشت کنار جوے

خارم بہ دل زیاد ہما آہنگی ہزار

خوکردنم بہ وحشت شبہاے بیکسی

برداز ضمیر دہشت تاریکی مزار

ہم تن زضعف وقف شکن ہائے بیحساب

ہم دل زرنج داغ الم ہاے بیشمار

آگے والے اشعار سے پتا چلتا ہے کہ یہ قصیدہ دہلی کی جدائی اور سفر کلکتہ کی یادگار ہے۔

پیمودہ ام دریں سفر از پیچ و تاب عجز

درہر قدم ہزار بیابان و کوہسار

داغے بدل زفرقت دہلی نہادہ ام

کش غوطہ دادہ ام بہ جہنم ہزار بار

بخت از سواد  کشور بنگالہ طرح کرد

برخویش رخت ماتم ہجران آن دیار

یعنی دہلی کے فراز میں میری قسمت نے سواد-۲۴ بنگالہ کی بدولت ماتمی لباس پہن رکھا ہے۔

گریز۔ آیا بود کہ از اثر اتفاق بخت

دیوانہ را بوادی یثرب فتد گزار

مدح۔ ہم مزد سعی بخشم و ہم مژدہ سکوں

از بوسہ پاے خویش کنم بردرش فگار

میرے پائوں جو راہ مدینہ میں چلے ہیں، ان کو سعی کا انعام اور سکون کا مژدہ دیتے ہوئے میں اس قدر چوموں کہ زخمی ہوجائیں۔ یہاں غالب نے نام پاک (احمد) سے ایک نکتہ نکالا ہے۔ کہتے ہیں کہ احمد سے اگر میم جو معبود اور عبد میں حجاب ہے، نکال دیں تو احد رہ جائے۔ اسم اقدس احد میں الف اللہ کا ہے اور ح+د جن کے اعداد ۸+۴=۱۲ ہوتے ہیں ائمہ اہل بیت کی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ حضرات ائمہ کا ظہور احمد سے ہے اور ان سب پر اللہ کا سایہ ہے:

ہم گوہر تراز فروغ خود آبرو

ہم صانع ترا بہ وجود تو افتخار

جنت بکار گاہ دلائے تو حلّہ باف

رضواں ببارگاہ رضاے تو پیش کار

بے رخصت دلاے تو طاعات مدعی

بیمرذ ہمچو کوشش دہقاں بہ شورہ زار

بے عشرت رضاے تو اوقات زندگی

تنگ دتبہ چودیدۂ مورودہان مار

آخر میں لکھتے ہیں کہ میرا جی چاہتا تھا کہ حضور کی مدح کے شاہد کے جیب و دامن کو موتیوں سے بھردوں اور سو کی بجائے سو ہزار ابیات معرض تحریر میں لائوں، مگر ادب مانع آتا اور دعا کی جانب توجہ دلاتا ہے۔

اگلے قصیدے میں تعلّی شاعرانہ سے آغاز کیا ہے اور بتایا ہے کہ میرے کلام میں اور گوہر و لعل میں فرق کیا ہے۔

ہاں وایہ پرستاں زجواہر مشمارید

تلخاب رگ قلزم و خونابہ کاں را

گوہر کدۂ راز بود عالم معنی

و ز لفظ گہر ریزہ بود وادی آں را

کیوں نہ ہو۔ آخر میں مدّاح کس کا ہوں!

دیں پایہ درآنست سخن راکہ ستایم

ممدوح خداوند زمیں راوزماں را

عام روایت ہے کہ جسم اطہر کا سایہ نہ تھا۔ غالب کہتے ہیں:

از فرط محبت کہ بداں جان جہاں داشت

نگذاشت قضا سایہ آں سرورواں را

نازم بہ کسانے کہ بہ تشبیہ خم تیغ

دیدند برابر دے تو ماہ رمضاں را

قائدہ ہے کہ مسلمان رمضان کا چاند دیکھ کر تلوار دیکھتے ہیں۔

حکما خرق افلاک کے منکر تھے، مگر حضورa کے سفر معراج نے ان کے زعم کو باطل کردیا:

رفتار تو آں کرد بافلاک زشوخی

کزچاک بود خندہ بر افلاک کتاں را

اقتباسات خاصے طویل ہوگئے۔ لیکن جی چاہتا ہے کہ آخر کے چند اشعار، جن میں شاعر نے اپنی عمر گزشتہ کی کوتاہیوں کا ماتم کیا اور سچ مچ اپنا دل نکار کر دکھ دیا ہے، مزید نقل کردیے جائیں۔ یہ حصہ نہایت مؤثر اور دل گداز ہے:

فریادر سا داد زبے برگی ایماں

کایں نخل بتاراج فنارفت خزاں را

درخویشتن ایماں شمرم لیک ازاں دست

کاندر تن محبوب شمارند میاں را

میرے اندر ایمان تو ہے لیکن برائے نام، جیسے حسینوں کے جسم میں کمر۔

از عمر چہل سال بہ ہنگامہ سرآمد

سرمایہ ببازیچہ تلف گشت دکاں را

(اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصیدہ ۱۲۵۲ھ میں سپردِ قلم کیا ہے جب غالب کی عمر ۴۰ سال کی تھی)

روز آخرومن ست پے و قافلہ بس دور

درباختہ ام ازغم رہ تاب وتواں را

زیں روے کہ طاعت نکنم، لیک خداوند

ازمن نہ بردمایۂ آرایش خواں را

ہرگہ کہ خورم ناں، تنم از شرم گدازد

چندانکہ زخویش آب کشم دست و دہاں را

میری یہ کوتاہی کہ نفس، عبادت سے جی چراتا ہے اور خدا کی یہ کریمی کہ اس پر بھی برابر رزق دیے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روٹی کھاتا ہوں تو شرم گناہ سے پانی پانی ہوجاتا ہوں۔

درجلوہ پرستم رخ و گیسوے صنم را

درشیوہ پسندم روش و کیش مغاں را

درقاعدۂ سجدہ سراز پانہ شناسم

در روزہ زشوال ندانم رمضاں را

گیرم کہ نہادم بود از سجدہ لبالب

اے واے گراز ناصیہ جویند نشاں را

شرع آں ہمہ خودبین و من ایں مایہ سکبر

کزساقی کوثر طلبم رطل گراں را

مانا کہ میرا تمام وجود سجدے سے معمور ہے، لیکن اگر حشر میں پیشانی سے سجدے کا نشان مانگا گیا تو کیوںکر بنے گی۔ شریعت تو اس قدر خودبین، اور میں ایسا نادان کہ ساقی کوثر سے جام شراب کی درخواست کررہا ہوں۔ ساقی کوثر کا نام آتے ہی شاعر حضرت علیؓ کی منقبت پر، اور قصیدہ چند شعر کے بعد اختتام پر آگیا۔

غالب کی فارسی غزلیات میں نعت کا سرمایہ بہت کم ہے۔ صرف ایک غزل کے تین شعر اور ایک پوری غزل نعت میں ہے۔

اے خاک درت قبلۂ جان و دل غالب

کز فیض تو پیرایہ ہستی ست جہاں را

تانام تو شیرینی جاں دادہ بہ گفتن

درخویش فرد بردہ دل از مہر زباں را

برامت تو دوزخ جاوید حرام است

حاشا کہ شفاعت نکنی سوختگاں را

آپ کے نام مبارک نے میری گفتار میں روح کی سی شیرینی بھر دی ہے یہی وجہ ہے کہ دل نے زبان کو پیار سے اپنے اندر سمو لیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کی امت پر خلود فی النار حرام ہے، اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ آپ کی شفاعت آڑے آئے۔ خدا نہ کرے کہ آپ ہم تباہ حالوں کی شفاعت نہ فرمائیں۔

ذیل کی پوری غزل نعت میں ہے اور جوش عقیدت، تاثیر اور سلامت میں نہایت بلند پایہ ہے۔ تقریباً ہر شعر میں کسی آیت یا حدیث کی ترجمانی کی گئی ہے، اور خوبی یہ کہ شعریت میں ذرّہ بھر کمی نہیں ہے:

حق جلوہ گر ز طرز بیان محمد است

آرے کلام حق بہ زبان محمد است-۲۵

آینہ دار پر تو مہر است ماہتاب

شان حق آشکار زشان محمد است-۲۶

تیر قضا ہر آینہ درترکش حق است

امّا کشاد آن زکمان محمد است-۲۷

دانی اگر بمعنی لولاک وارسی

خود ہرچہ از حق است ازآن محمد است-۲۸

ہر کس قسم بدانچہ عزیز است می خورد

سوگند کردگار بجان محمد است-۲۹

واعظ حدیث سایۂ طوبیٰ فروگزار

کاینجا سخن زسرور روان محمد است-۳۰

بنگرد دو نیمہ گشتن ماہ تمام را

کال نیمہ جنبشے زبنان محمد است-۳۱

درخود ز نقش مہر نبوت سخن رود

آں نیز نامور ز نشان محمد است-۳۲

غالب ثناے خواجہ بہ یزداں گزاشتم

کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است

یہاں بے محل نہ ہوگا اگر غالب کی تضمین جو انھوں نے قدسی کی مشہور و مقبول نعتیہ غزل پر کی تھی بغیر تشریح درج کردی جائے۔ یہ تضمین صفائی اور روانی کے ساتھ مرزا کے اسادانہ انداز کا عمدہ نمونہ ہے اور جیسا کہ تضمین کا اقتضا ہے۔ اصل اور مرزا کے مصرعے باہم پورے دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ یہ خمسہ ان کے متداول دیوان میں موجود نہیں ہے۔-۳۳

کیستم تابخروش آوردم بے ادبی

قدسیاں پیش تو در موقف حاجت طلبی

رفتہ از خویش بہ ایں زمزمہ زیرلبی

مرحبا سیّد مکی، مدنی العربی

دل و جاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی

اے کہ روے تو دہد روشنی ایمانم

کافرم کافر، اگر مہر منیرش خوانم

صورت خویش کشید است مصور دانم

من بیدل، بجمال تو عجب حیرانم

اللہ اللہ! چہ جمال است بدیں بوالعجمی

اے گل تازہ کہ زیب چمنی آدم را

باعث رابطۂ جان و تنی آدم را

کردہ در یوزۂ فیض تو غنی آدم را

نبستے نیست بذات تو بنی آدم را‘‘

برتر از آدم عالم، توچہ عالی نسبی

اے لبت رابسوے خلق زخالق پیغام

روح رالطف کلام تو کند شیریں کام

ابر فیضی کہ بود از اثر رحمت عام

نخل بستان مدینہ ز تو سرسبز مدام‘‘

زاں شدہ شہرہ آفاق بہ شیریں رطبی

خواست چوں ایزد دانا کہ بساطے از نور

گسترد درہمہ آفاق چہ نزدیک، چہ دور

حکم اصدار تو در ارض عرب یافت صدور

ذات پاک تو چودر ملک عرب کردظہور‘‘

زاں سبب آمدہ قرآں بہ زبان عربی

وصف رخش تو اگر دردل ادراک گزشت

نہ ہمین است کہ از دائرہ خاک گزشت

ہمچو آں شعلہ کہ گرم ازتہ خاشاک گزشت

شب معراج عروج تو زافلاک گزشت‘‘

بہ مقامے کہ رسیدی، نہ رسد ہیچ نبی

چہ کنم چارہ کہ پیوند خجالت گسلم

من کہ چوں مہر درخشاں نبود نور دلم

من کہ از چشمۂ حیواں نبود آب و گلم

نسبت خود بہ سگت کردم و بس منفعلم‘‘

زانکہ نسبت بہ سگ کوے توشدبے ادبی

دل زغم مردہ و غم بردہ زماصبر و ثبات

غمگساری کن و بنماے بما راہ نجات

داد سوز جگر ماچہ دہل نیل و فرات

ماہمہ تشنہ لبانیم، توئی آب حیات

رحم فرما کہ زحدمی گزرد تشنہ لبی

غالب غم زدہ رانیست دریں غمزدگی

جزبہ امید ولاے تو تمناے بہی

ازتب و تاب دل سوختہ غافل نشوی

سیّدی انت حبیبی و طبیب قلبی

آمدہ سوے تو قدسی پے درماں طلبی

 

حواشی

-۱۔    توُ نے محمدؐ کی ہجو کی جس کا میں ان کی طرف سے جواب دے رہا ہوں اور خدا کے یہاں میری جزا مقرر ہوچکی ہے۔

-۲۔    میرے ماں باپ اور خود میری عزّت آںحضرتa کی عزت کی حفاظت کی خاطر تم لوگوں کے مقابلے میں سپر ہیں۔

-۳۔    آپ تمام برائیوں سے پاک پیدا کیے گئے ہیں۔ گویا آپ کی تخلیق آپ کی مرضی کے مطابق ہوئی ہے۔

-۴۔    آپ سے زیادہ حسین میری آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ سے زیادہ خوبصورت فرزند کسی عورت کے بطن سے پیدا نہیں ہوا۔

-۵۔    ملاحظہ ہو حسن الصّحابہ فی شرح اشعار الصّحابہ۔ الجزء الاوّل۔

-۶۔    شاعر رسول جو کفار قریش کے مخالف پروپیگنڈے کا حضور کی طرف سے جواب دیتے تھے اس زمانے میں پریس کا وجود نہ تھا۔ اس لیے شعرا کی زبانیں ہی پبلسٹی کا کام دیتی تھیں۔

-۷۔    ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب۔

-۸۔    کعب بن زہیر بن ابی سلمہ مشہور شاعر اور اسلام کے سخت مخالف، غلبۂ اسلام کے بعد گرفتاری کے خوف سے بھاگ گئے تھے۔ پھر اپنے بھائی بکیر کی تحریک پر حاضر دربار رسالت ہوئے اور یہ قصیدہ پڑھا۔ آخر قصور معاف ہوا اور مشرف بہ اسلام ہوئے۔ یہ قصیدہ بانت سعاد کہلاتا ہے۔ کیوںکہ انھیں الفاظ سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔

-۹۔    دولت اقبال کے معنی میں ہیں۔ شاعر نے ’’اقبال‘‘ کا در و دولت کا پاسبان قرار دیا ہے۔

-۱۰۔ایران حال کے ایک نامور اور فاضل اہل قلم آقائے علی اصغر حکمت کا اعتراف ملاحظہ ہو: انھوں نے دہلی میں یوم غالب پر یہ رباعی پڑھی تھی:

غالب کہ شہاب شعر او ثاقب بود

استاد ہزار طالب وصائب بود

درملک سخن چوں اسد اللّٰہیٰ بافت

برجملہ سخنوران ازان غالب بود

-۱۱۔یادگار غالب: ۱۳                 ۱۲۔ یادگار غالب: ۱۵

-۱۳۔حالی کہتے ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا مرزا کے عصر میں موجود ہونا ان کی شاعری کے حق میں بعینہ ایسا تھا جیسا عرفی و نظیری کے حق میں خانخاناں، ابوالفتح، فیضی اور ابوالفضل کا ان کے زمانے میں ہونا۔ (یادگار غالب: ۱۷۹)

-۱۴۔یادگارِ غالب: ۹۸

-۱۵۔یہ کہنا کہ غالب نے طرز بیدل کو اپنے لیے کار مشکل جان کر چھوڑا یا سعیٔ لاطائل سمجھ کر، نادرست معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک دونوں رائیں حقیقت سے دُور ہیں۔ دراصل عمر پختہ ہونے پر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ رنگ نہ ہند میں مقبول ہوسکتا ہے، نہ ایران میں۔

-۱۶۔عودہندی: ۱۵۰ (بنام شاکر)  -۱۷۔ عودہندی: ۳۵

-۱۸۔کلیات فارسی: ۵۵۲

-۱۹۔اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ وہ عرفیؔ وغیرہ کے مقلّد محض تھے۔ وہ خود کہتے اور بجا کہتے ہیں کہ قدرت نے میرے نہانخانہ ضمیر کو فراوانی رنگارنگ معنی سے مالامال کیا ہے۔ سبک متاخرین کی رعایت کرنا یا محاورہ اہل زبان کا پابند ہونا دوسری بات ہے۔

-۲۰۔انھوںنے تمام عبادات اور فرائض و واجبات میں سے صرف دو چیزیں لے لی تھیں، ایک توحید وجودی، دوسرے نبی اور اہل بیت نبی کی محبت، اور اسی کو وہ وسیلۂ نجات سمجھتے تھے۔ (یادگار غالب: ۶۷)

-۲۱۔مولانا خیر آبادی کی مشہور تصنیف ’’امتناع النظیر‘‘ اسی بحث سے متعلق ہے۔

-۲۲۔خدا سب کو کھلاتا ہے خود نہیں کھاتا۔

-۲۳۔ اس کو اونگھ اور نیند نہیں ستاتی۔ (قرآن مجید)

-۲۴۔ سواد آبادی اور سیاہی کو کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اہل بنگالہ کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔

-۴۵۔ ماینطق عن الہویٰ ان ھو الّا وحی یوحیٰ اپنی خواہش سے نہیں بولتے آپ کا کلام وحی الٰہی ہے جو آپ پر بھیجی جاتی ہے۔

-۲۶۔ (اذرء واذکراللہ) اللہ والوں کی یہ شان ہے کہ ان کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔

-۲۷۔ (مارمیت اذ رمیت والکن اللّٰہ رمیٰ) آپ نے دشمنوں پر (خاک یا تیر) نہیں پھینکا بلکہ خدا نے پھینکا۔

-۲۸۔(لولاک لما خلقت لافلاک) اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔

-۲۹۔(العمر کانہم لفی سکرتہم یعمہون علیہ) آپ کی جان کی قسم، منکر اپنی مستی میں مدہوش تھے۔

-۳۰۔ (مارأیت احسن من النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم) میں نے آںحضرتa سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا۔

-۳۱۔(اقتربت الساعتہ وانشق القمر) قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔

-۳۲۔ (کان الخاتم مثل زر الحجلتہ) آپ کی مہر نبوت تخم کبک سے مشابہ تھی۔

-۳۳۔ ماخوذاز ’’حدیث قدسی‘‘مجموعۂ مخمسات برغزل قدسی۔

 

استفد من نور اللغة والذكاء الاصطناعي۔

استفد من القواميس، المدققات الإملائية، ومحللات الأحرف، خطوة ثورية للطلاب، المعلمين، الباحثين، والأشخاص المرتبطين بمختلف المجالات والصناعات۔

لغات

سَهِّل العملية العلمية والبحثية من خلال القواميس الباكستانية والدولية المختلفة۔

استخدم

مدقق إملائي

حدد وصحح الأخطاء الإملائية في مختلف اللغات۔

استخدم

التعرّف الضوئي على الحروف

حوّل الصور إلى نص قابل للتعديل باستخدام تقنية التعرف الضوئي على الحروف المتقدمة۔

استخدم