نیاز فتح پوری
1884 - 1966
نیاز فتح پوری ندوی (تخلص: نیاز محمد خان 1884ء – 1966ء) برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشا پرداز، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ نیاز سن 1884ء میں یوپی کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، مدرسہ عالیہ رام پور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے حاصل کی۔ 1922ء میں اردو کا معروف ادبی و فکری رسالہ، "نگار" جاری کیا۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں 1962ء میں بھارت نے نیاز کو "پدما بھوشن" کے خطاب سے نوازا۔ 31 جولائی 1962ء کو وہ ہجرت کر کے کراچی آ گئے۔ حکومت پاکستان نے بھی نیاز کو "نشان سپاس" سے نوازا۔ نیاز فتحپوری بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقّاد، محقق، مفکّر، عالم دین، ماہر نفسیات، صحافی، مترجم اورعقلیت پسند مجاہد قلم تھے جن کی عبقری شخصیت میں علم کے کتنے ہی سمندر موجزن تھے۔ ان کی تحریریں ہزاروں صفحات پر اتنے گوناگوں ادبی وعلمی موضوعا ت پر پھیلی ہوئی ہیں کہ اس حوالہ سے اردو میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ نیاز فتحپوری کا شمار دور اوّل کے ان چند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو زبان میں مختصر افسانے کو متعارف کرایا اور بڑے تواتر کے ساتھ کہانیاں لکھیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’’اک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر‘‘ 1915 میں چھپا تھا۔ ان سے چند سال پہلے راشد الخیری، سجّاد حیدر یلدرم اور پریم چند نے چند کہانیاں لکھی تھیں۔ لیکن عام طور پر نقّاد اس بات پرمتفق ہیں کہ نیاز کے افسانوں سے ہی اردو میں رومانی تحریک کا آغاز ہوا۔ لیکن نیازصرف افسانہ نگار یا شاعر نہیں تھے۔ ان کی ادبی اورعلمی سرگرمیوں کا میدان بہت وسیع تھا جس کا تقاضہ تھا وہ اک ایسا جامع رسالہ نکالیں جس کے ذریعہ وہ اپنے علم کے اتھاہ گہرے پانیوں سے تشنگان علم و ادب کو جرعہ جرعہ سیراب کرتے رہیں چنانچہ انھوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے ’’نگار‘‘ نکالا۔ 24 مئی 1966ء کو کراچی میں کینسر کے مرض میں ان کا انتقال ہوا۔