منشی پریم چند
1880 - 1937
منشی پریم چند اردو کے مشہور ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے ہے، لیکن ادبی دنیا میں پریم چند کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ 1880ء میں منشی عجائب لال کے وہاں ضلع وارانسی مرٹھوا کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ ناول کے علاوہ پریم چند کے افسانوں کے گیارہ مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ ان کی افسانہ نگاری کا آغاز 1907ء سے ہوا جب انھوں نے ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ لکھا۔ 1936 تک انھوں نے سیکڑوں کہانیاں لکھیں لیکن اردو میں ان کی تعداد تقریباً 200 ہے کیونکہ بہت سی ہندی کہانیاں اردو میں منتقل نہیں ہوسکیں۔ افسانوں کا ان کا پہلا مجموعہ ’’سوز وطن‘‘ نواب رائے کے نام سے چھپا تھا۔ اس پر ان سے سرکاری باز پُرس ہوئی اور کتاب کے سبھی نسخے جلا دیئے گئے۔ اس کے بعد انھوں نے پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کیا۔ ان کے دوسرے مجموعوں میں پریم پچیسی، پریم بتیسی، پریم چالیسی، فردوس خیال، خاک پروانہ، خواب وخیال، آخری تحفہ، زاد راہ، دودھ کی قیمت، اور واردات شامل ہیں۔ پریم چند کا انتقال 08 اکتوبر 1936 میں ہوا۔ ’’اعلیٰ ترین افسانہ وہ ہوتا ہے جس کی بنیاد کسی نفسیاتی حقیقت پر رکھی جائے برا شخص بالکل ہی برا نہیں ہوتا، اس میں کہیں فرشہ ضرور چھپا ہوتا ہے۔ اس پوشیدہ اور خوابیدہ فرشتہ کو ابھارنا اور اس کا سامنے لانا ایک کامیاب افسانہ نگار کا شیوہ ہے۔‘‘ منشی پریم چند