خواجہ حسن نظامی
1955 - 1879
مصور فطرت خواجہ حسن نظامی سلسلہ چشتیہ کے صوفی اور اردو زبان کے ادیب تھے۔ آپ کے مضامین مخزن میں چھپتے رہے۔ آپ نظام الدین اولیاء کے عقیدت مند تھے اور پیری مریدی کا سلسلہ بھی رکھتے تھے۔ آپ کی پیڈائش (1879) حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ میں دہلی میں ہوئی۔ آپ کے والد سید امام، درگاہ سے وابستہ تھے۔. آپ کے والد حافظ سید عاشق علی نظامی تھے، والدہ سیدہ چہیتی بیگم تھیں۔ ان کا شجرہ حضرت علی مرتضیٰ سے ملتا ہے۔ فرصت کے اوقات لکھنے لکھانے کا کام کرتے۔ رفتہ رفتہ ان کے مضامین رسالوں اور اخباروں میں چھپنے لگے۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ (رعیت) سے ہوا۔ اخبار (منادی) میں ان کا روزنامچہ شائع ہوتا رہا۔ خود میرٹھ سے ایک اخبار (توحید) نکالا۔ خواجہ صاحب اچھے اور منفرد انشاپرداز تھے سیاسی لیڈر بھی تھے اور بے باک مقرر اور خطیب بھی۔ پیری مریدی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بے شمار لوگ حلقہ مریدی میں داخل ہوئے۔ خواجہ حسن نظامی کی تصانیف چالیس کے لگ بھگ ہیں جن میں سیپارہ دل، بیگمات کے آنسو، غدر دلی کے افسانے، مجموعہ مضامین حسن نظامی، طمانچہ بر رخسار یزید، سفر نامہ ہندوستان اور کرشن کتھا مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ صاحب کی تصانیف کی تعداد چالیس ہے جبکہ ایک تحقیق کے مطابق یہ تعداد تین سو کے لگ بھگ ہے۔ خواجہ صاحب بہت زودگو انسان تھے ایک مقام پر آپ نے خود کہا ہے کہ مہینے میں ایک کتاب تو ہوجاتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی اردو ادب کے تاریخ میں کئی حیثیتوں سے یاد رکھے جائیں گے۔ روزنامچہ کو باقاعدہ صنف کی حیثیت انہوں نے ہی دی۔ قلمی چہروں کا سلسلہ بھی انہوں نے ہی شروع کیا۔ بحیثیت صحافی ان کا نام بہت بلند ہے کہ ان کی سرپرستی اور ادارت میں سب سے زیادہ روزنامے، ہفتہ واراخبار اور ماہانہ جرائد شائع ہوئے۔ نظام المشائخ، روزنامہ رعیت، ماہانہ دین دنیا، منادی، ماہنامہ آستانہ ان تمام اخبارات و رسائل سے خواجہ حسن نظامی کی کسی نہ کسی طور پر وابستگی رہی ہے۔ خواجہ حسن نظامی ایک مؤرخ بھی تھے۔ 1857 کے انقلاب پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں جو کتابیں لکھی ہیں وہ تاریخ کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں۔ بیگمات کے آنسو، غدر کے اخبار، غدر کے فرمان، بہادر شاہ ظفر کا مقدمہ ، غدر کی صبح و شام، محاصرہ دہلی کے خطوط ان کی نہایت اہم کتابیں ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے ہر موضوع پر لکھا، شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر ان کی کوئی تحریر نہ ملے۔ انہوں نے آپ بیتی بھی لکھی، سفرنامے بھی لکھے، سفرنامہ حجاز مصر و شام، سفرنامہ ہندوستان، سفرنامہ پاکستان، قابل ذکر کتابیں ہیں۔ ’گاندھی نامہ‘ اور ’یزید نامہ‘ بھی ان کی اہم کتابوں میں سے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے انشائیے بھی لکھے۔ جھینگر کا جنازہ، گلاب تمہارا کیکر ہمارا، مرغ کی اذان، مچھر، مکھی، الّو ان کے مشہور انشائیے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کا اسلوب سب سے الگ تھا۔ وہ ایک صاحب طرز انشا پرداز تھے، اپنے اسلوب کے موجد بھی اور خاتم بھی۔ خواجہ حسن نظامی کا انتقال 13 جولائی 1955 میں ہوا۔ وہ بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی میں مدفون ہیں۔