حافظ محمود شیرانی
1880 - 1946
حافظ محمود خان شیرانی (پیدائش: 5 اکتوبر 1880ء– وفات: 14 فروری1946) اردو زبان کے مایہ ناز محقق اور شاعر (اگرچہ ان کی شاعری نہایت کم ہے اور اس میدان میں انھوں نے کم ہی رغبت دکھائی) تھے۔ اُردو تحقیق کو جدید سائنسی اُصولوں پر وضع کرنے میں حافظ محمود شیرانی کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اُردو کے کلاسیکی سرمایہ کو سامنے لانے میں اُن کے نمایاں کردار کو اُنھوں نے واضح کیا۔ حافظ محمود شیرانی کا کمال یہ تھا کہ اُنھوں نے اُردو تحقیق میں بنیادی مآخذ کی اہمیت کو واضح کیا۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور اور اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریس کی۔ ان کے وفات کے بعد شائع ہونے والے مقالے مقالاتِ حافظ محمود شیرانی میں ان کے فرزند لکھتے ہیں کہ بعض اوقات علامہ اقبال بھی ان سے بعض اصلاحات کے متعلق دریافت کیا کرتے تھے نیز اورینٹل کالج سے جب انھیں برخاست کیا جا رہا تھا تو علامہ اقبال نے ان کی قابلیت کو دیکھ کر ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گزارش کی، جسے بعد میں منظور کیا گیا۔ اردو ادب کے علاوہ وہ قدیم چیزوں کو جمع کرنے کا بھی شوق رکھتے تھے۔ ان کی وفات ٹونک میں ہی ہوئی ان کے خاندان والے تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے آئے۔