ڈپٹی نذیر احمد
1836 - 1912
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد (ریاست حیدرآباد سے انھیں غیور جنگ کا خطاب دیا گیا تھا جسے انھوں نے قبول نہیں کیا) (پیدائش: 1836ء یا 6 دسمبر 1831ء وفات: 3 مئی 1912ء) ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبد الغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔ مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔ مولوی صاحب نے انگریزی میں بھی خاصی استعداد پیدا کر لی اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ (تعزیرات ہند) کے نام سے کیا جو سرکاری حلقوں میں بہت مقبول ہوا اور آج تک استعمال ہوتا ہے۔ اس کے صلے میں آپ کو تحصیلدار مقرر کیا گیا۔ پھر ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ نظام دکن نے ان کی شہرت سن کر ان کی خدمات ریاست میں منتقل کرا لیں جہاں انھیں آٹھ سو روپے ماہوار پر افسر بندوبست مقرر کیا گیا۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد مولوی صاحب نے اپنی زندگی تصنیف و تالف میں گزاری۔ اس علمی و ادبی میدان میں بھی حکومت نے انھیں 1897ء شمس العلماء کا خطاب دیا اور 1902ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ 1910ء میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈی۔ او۔ ایل کی ڈگری عطا کی۔ آپ کا انتقال 3 مئی 1912ء میں ہوا۔ آپ اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جائے ہیں۔ ’مراۃ العروس ‘ان کا سب سے مشہور ناول ہے۔ جس کے کردار اکبری اور اصغری آج بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔یہ ناول جب شائع ہوا تھا تو حکومت نے ایک ہزار روپے انعام سے نوازا تھا۔1869 میں شائع ہوئے والے اس ناول کو زیادہ تر لوگ اردو کا پہلا ناول مانتے ہیں۔ ’ابن الوقت ‘ بھی نذیر احمد کا بہت مشہور ناول ہے ،جس میں مغربی تہذیب و تمدن کی نقالی پر طنز کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس میں سر سید احمد خان کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔مگر ڈپٹی نذیر احمد نے اس کی تردید کی ہے کیوں کہ وہ خود سر سید کی تحریک سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ سر سید کے مشن کی تبلیغ اور ترویج کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ وہ سر سید کے تمام نظریات اور تصورات کے قدرداں تھے اور مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے پلیٹ فارم سے اہم قومی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ناولوں کے علاوہ جو اہم علمی کام کئے ہیں ان میں قرآن کا ترجمہ، قانون انکم ٹیکس، قانون شہادت بہت اہم ہیں ۔ ڈپٹی نذیر احمد کی بیشتر کتابیں بہت مقبول ہوئیں اور ان کی کتابوں کا انگریزی کے علاوہ پنچابی، کشمیری، مراٹھی، گجراتی، بنگلہ، بھاکا وغیرہ میں ترجمے ہوئے۔ ’مراۃ العروس ‘ کا ترجمہ انگریزی میں 1903 میں لندن سے شائع ہوا۔ 1884 میں ’توبۃ انصوح‘ کا ترجمہ سر ولیم میور کے دیباچہ کے ساتھ شائع ہوا۔