عاصی کرنالی
1927 - 2011
شیخ وزیر محمد کے فرزند عاصیؔ کرنالی کا پیدائشی نام شریف احمد ہے۔ 2 جنوری 1927ء کو کرنال مشرقی پنجاب، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ایم اے اُردو، ایم ا ے فارسی تھے۔ ذریعہ معاش درس و تدریس تھا۔ گورنمنٹ ملت کالج ملتان کے پرنسپل رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی ۔1947 میں ہجرت کر کے ملتان آئے۔بھر پور اور متحرک زندگی گزاری۔سکول ٹیچر کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی بھی ان کے شاگردوں میں سے ہیں۔11 شعری مجموعوں اور مجموعی طور پر 19 کتابوں کے خالق ہیں ۔ ان کی نعتوں کے مجموعے نعتوں کے گلاب کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ آپ نے ’’اُردو حمد و نعت پر فارسی روایت کا اثر‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ تحقیق پیش کرکے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ پیدائشی نام شریف احمد تھا مگر اپنے شعری تخلص عاصی کرنالی سے شہرت پائی۔ والد کا نام شیخ وزیر محمد تھا۔ تقسیم ہند 1947ء میں کرنال سے ہجرت کرکے پاکستان آئے اور ملتان میں اقامت اختیار کرلی۔ عاصی کرنالی نے 84 سال کی عمر میں 20 جنوری 2011ء کو ملتان میں وفات پائی۔ وہ قبرستان خانیوال روڈ ملتان میں آسودہ خاک ہیں۔