نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے

نویدِ امن ہے بیدادِ دوست، جاں کے لیے؂۱ رہی نہ طرزِ ستم کوئی آسماں کے لیے بلا سے! گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے رکھوں کچھ اپنی ہی مژگانِ خوں فشاں کے لیے وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناسِ خلق اے خضر نہ تم کہ چور بنے عمرِ جاوداں کے لیے رہا بلا میں بھی، میں مبتلائے آفتِ رشک بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لیے فلک نہ دور رکھ اُس سے مجھے، کہ میں ہی نہیں دراز دستیٔ قاتل کے امتحاں کے لیے مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے گدا سمجھ کے وہ چپ تھا، مری ؂۲جو شامت آئے اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے دیا ہے خلق کو بھی، تا اسے نظر نہ لگے بنا ہے عیش تجمُّل حسین خاں کے لیے زباں پہ بارِ خدایا! یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے نصیرِ دولت و دیں اور معینِ ملّت و ملک بنا ہے چرخِ بریں جس کے آستاں کے لیے زمانہ عہد میں اُس کے ہے محوِ آرائش بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے ؂۱غزل میں نواب تجمل حسین خاں فرخ آبادی سے متعلق مدحیہ اشعار ہیں۔ نواب صاحب کا انتقال ۹ نومبر ۱۸۴۶ کو ہوا تھا۔ غزل نسخہ کراچی مکتوبہ ۳۰ اگست ۱۸۴۵ میں نہیں ہے لہذا اسے ۳۰ اگست ۱۸۴۵ تا ۹ نومبر ۱۸۴۶ کی فکر کردہ تسلیم کرنا چاہیے۔ دیوانِ ذوقؔ مرتبہ آزادؔ میں درج ہے کہ یہ غزل نواب اصغر علی خاں نسیمؔ رام پوری مقیم دہلی کے طرحی مشاعرہ منعقدہ ۱۸۴۵ میں پڑھی گئی تھی۔ ذوقؔ، مومنؔ، داغؔ وغیرہ بھی موجود تھے۔ گویا مشاعرہ ۱۸۴۵ء میں بعد از ۳۰ اگست منعقد ہوا تھا۔ ظاہر ہے غزل بھی اسی زمانے میں کہی گئی ہو گی۔ —نسخۂ رضا ؂۲یہ عجیب بات ہے کہ نسخۂ حمیدیہ اور نسخۂ نظامی میں، نیز متعدد دوسرے قدیم نسخوں میں، یہ مصرع ایک ہی طور پر مہمل چھپا ہے، یعنی: ؏ گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری خوشامد سے —حامد علی خاں
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR