مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں ؂۱کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگرِ لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے پھر گرمِ نالہ ہائے شرر بار ہے نفَس مدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق سامانِ صد ہزار نمک داں کیے ہوئے پھر بھر رہا ہوں ؂۲خامۂ مژگاں بہ خونِ دل سازِ چمن طرازیٔ داماں کیے ہوئے باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب نظارہ و خیال کا ساماں کیے ہوئے دل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب عرضِ متاعِ عقل و دل و جاں کیے ہوئے دوڑے ہے پھر ہر ایک گل و لالہ پر خیال صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں نامۂ دلدار کھولنا جاں نذرِ دل فریبیٔ عنواں کیے ہوئے مانگے ؂۳ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیے ہوئے چاہے ہے پھر کسی کو مقابل میں آرزو سرمے سے تیز دشنۂ مژگاں کیے ہوئے اک نوبہارِ ناز کو تاکے ہے پھر نگاہ چہرہ فروغ مے سے گلستاں کیے ہوئے پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں سر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ ؂۴رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کیے ہوئے ؂۱بعض حضرات بہ اضافت ”بزمِ چراغاں“ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ ”بزم کرنا“ کوئی اردو محاورہ نہیں۔ یہاں مُراد یہ ہے کہ جوشِ قدح سے بزم کو چراغاں کیے ہوئے مدت گزر چکی ہے۔ —حامد علی خاں ؂۲نسخۂ مہر میں ”ہے“۔ —جویریہ مسعود ؂۳نسخۂ رضا میں ”ڈھونڈے ہے“ بجائے ”مانگے ہے“۔—جویریہ مسعود ؂۴نسخۂ مہر میں ”کے“۔ —جویریہ مسعود
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR