ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے ؂۱ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پر وہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟ نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا اگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے مگر ؂۲لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے ؂۳خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے ؂۱یہ شعر نسخۂ مہر کے علاوہ کسی اور نسخے میں نہیں ملا۔ مہر صاحب نے نوائے سروش میں اس شعر کو متن میں جگہ تو دی ہے مگر تشریح نہیں لکھی۔ میرا خیال ہے کہ غالبؔ سے اس کی نسبت مشکوک ہے۔ —جویریہ مسعود ؂۲نسخۂ حمیدیہ (اور مہر) میں یہاں لفظ ”اگر“ ہے، دوسرے تمام نسخوں میں ”مگر“، صرف طباطبائی نے حمیدیہ کی املا قبول کی ہے۔ ممکن ہے کہ حمیدیہ میں یہ لفظ کتابت کی غلطی ہو۔ —اعجاز عبید مزید: نسخۂ مہر میں یہاں ”مگر“ کی جگہ ”اگر“ چھپا ہے لیکن نسخۂ حمیدیہ، نسخۂ عرشی، نسخۂ مالک رام، نسخۂ نظامی، نسخۂ حسرت موہانی، نسخۂ بیخود دہلوی اور دیگر تمام پیشِ نظر، قدیم و جدید نسخوں میں ”مگر“ ہی چھپا ہے اور اِس میں احتمالِ معنوی نے ایک مزید لطف بھی پیدا کر دیا ہے۔ تمام مہیا شہادتوں سے یہاں ”مگر“ ہی غالبؔ کا لفظ معلوم ہوتا ہے البتہ نسخۂ طباطبائی (لکھنؤ ۱۹۶۱) میں نسخۂ مہر ہی کی طرح ”اگر“ چھپا ہے۔ اُس نسخے میں اغلاطِ کتابت کی کثرت ہے۔ غالباً ان دونوں ہی نسخوں میں ”اگر“ غلطِ کاتب ہے۔ علاوہ ازیں نسخۂ مہر میں کاتب نے اِس غزل کے اشعار کی ترتیب بے مُحابا بدل ڈالی ہے۔ —حامد علی خاں ؂۳یہ مشہور شعر نسخۂ مہر اور نسخۂ طاہر کے علاوہ کسی اور نسخے میں نہیں ملا۔ گمان غالبؔ ہے کہ یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا ہے ۔ نیز مہر صاحب نے نوائے سروش میں اس شعر کو متن میں جگہ تو دی ہے مگر تشریح نہیں لکھی۔ ( جویریہ مسعود)
مرزا اسد اللہ خان غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب

نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ اردو زبان کے نامور ترین شعرا میں سرفہرست ہیں۔ آپ 27 دسمبر 1796 میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ 15 فروری 1869 میں غالب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اردو شاعری میں مرزا غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انھوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ غالب ایک فلسفی ذہن کے مالک تھے۔ انھوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے ہیں۔ غالب انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھا دیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیں۔ اور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔ غالب کی شاعری اس اعتبار سے بہت بلند ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعر ی کے انھیں عناصر نے اُن کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔ لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے۔ وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔ بحیثیتِ شاعر وہ اتنے مقبول ہیں کہ اُن کے اشعار زبان زدِ خلائق ہیں۔ اور بحیثیتِ نثر نگار بھی وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے ان کا پایہ سب سے بلند ہے کہ ایسے زمانے میں جب رنگینی و قافیہ پیمائی، انشا پردازی کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی ، انھوں نے نثر میں بھی ایک نئی راہ نکالی ۔ سادہ و پرکار، حسین و رنگین۔ یہی نمونۂ نثر آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئے۔ اردو میں غالب پہلے شخص ہیں جو اپنے خطوظ میں اپنی شخصیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کی شاعری سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ حالی نے انھیں حیوان ظریف کیوں کہا ہے۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کی طبیعت میں ظرافت تھی۔ غالب کے کلام سے غالب کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس غالب کی ہے جو خیال کی دنیا میں رہتا ہے۔ لیکن خطوط میں وہ غالب ہمیں ملتا ہے جس کے قدم زمین پر جمے ہیں۔ جس میں زندگی بسر کرنے کا ولولہ ملتا ہے۔ جو اپنے نام سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اپنے آپ کو ذلیل نہیں کرتا۔ غالب کی زندگی سراپا حرکت و عمل ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک بے تکلفی ،بے ساختگی اور حقیقت پسندی کی موجودگی اس کے خطوط سے چھلکی پڑتی ہے۔ اخفائے ذات اور پاس حجاب کا وہ کم از کم خطوط میں قائل نظر نہیں آتا۔ غالب نے اپنے مکاتیب میں اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھ دیا ہے اور اس انداز میں لکھا ہے کہ اگر اس مواد کو سلیقے سے ترتیب دیا جائے تو اس سے غالب کی ایک آپ بیتی تیار ہوجاتی ہے۔ اس آب بیتی میں جیتا جاگتا غالب اپنے غموں اور خوشیوں، اپنی آرزوں اور خواہشوں، اپنی محرومیوں اور شکستوں اپنی احتیاجوں اور ضرورتوں، اپنی شوخیوں، اپنی بذلہ سنجیوں کے ساتھ زندگی سے ہر صورت نباہ کرتا ہوا ملے گا۔ شبلی نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ، ” اردو انشا پردازی کا آج جو انداز ہے اور جس کے مجدد اور امام سرسید مرحوم تھے اس کا سنگِ بنیاد دراصل مرزا غالب نے رکھا تھا۔“

More poems from same author

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR